Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 27)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 27)
Ehsaas By Raheela Bano
رات کا آخری پہر شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔وہ اندھادھند بھاگتے ہوئے اسے آوازیں دے رہا تھا۔۔۔۔
اِزنا۔۔۔۔اٍزنا۔۔۔۔ کہاں ہو ۔۔۔؟
میں آگیا ہوں ۔۔۔۔ تمہیں کچھ نہیں ہو نے دوں گا ۔۔۔ وہ پاگلوں کی طرح بھاگتے ہوئے۔۔۔ اسے پکارے جا رہا تھا۔۔۔۔ جیسے اسے یقین ہو کہ وہ یہیں پر ہے۔۔۔ سنسان قبرستان میں پھیلے ہوئے گھنے درخت انکی شاخیں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ کہیں بھی نہیں تھی۔۔۔ انہوں نے سارا قبرستان چھان مارا تھا۔۔۔۔
قبرستان میں وہ تینوں بغیر کسی خوف کے کھڑے تھے۔۔۔
وہ اپنے بیٹے کی آنکھوں میں اسکی محبت تو دیکھ چکا تھا۔۔۔ جان گیا تھا کی اس میں اب اسکی جان بستی تھی۔۔۔ لیکن وہ اسے اتنی شدید محبت کرتا ہے ۔۔۔۔۔ اسکا ادراک اب ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
خُبیب گھر چلتے ہیں۔۔۔۔ اسنے یہ کہتے ہوئے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
خُبیب سکندر ۔۔۔نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی تھی۔۔۔۔۔یااللہ ۔۔۔اسکی حفاظت کرنا۔۔۔۔ وہ کہیں مشکل میں ہے۔۔۔ اسے کچھ ہو گیا یہ سوچتے ہی اسے اپنے جسم میں سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
بھائی گھر جا کر سی سی ٹی وی چیک کرتے ہیں ۔۔۔ وہاں سے ہی شاید کچھ پتہ چل جائے۔۔۔
ہارون سکندر نے بھی۔۔۔ اسکی تائید میں گردن ہلائی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ تو کبھی بھی اکیلی گھر سے باہر نہیں نکلتی۔۔۔۔ تمہارے ڈر کی وجہ سے وہ تمہاری موم کو بھی انکار کر دیتی تھی۔۔۔. تو وہ آج کیسے اکیلی نکل گئی ۔۔۔۔ ؟
کہیں نور کے بھائی نے تو نہیں۔۔۔۔ اسنے اپنے دل میں سوچا تھا۔۔۔۔ پر وہ کون ہے؟
کہاں ہے۔۔۔ ؟
وہ کبھی بھی اتنی بڑی حماقت نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ خود ہی اپنی
سوچ کی نفی کی تھی۔۔۔۔ اسکا کردار آئینے کی طرح شفاف اسکے سامنے تھا۔۔۔. اسکا ساحر بس میں ہی ہوں۔۔۔۔
اسے اب اپنا دل پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔ وہ اپنے دل کو جکڑے ہوئے کھڑا تھا۔۔۔۔ ہارون سکندر نے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔۔ باپ کے سینے کو پاکر وہ مضبوط انسان سسک پڑھا تھا۔۔۔۔ ہارون سکندر کو اسکے آنسو اپنے دل پر گرتے ہوئے محسوس ہوئے۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو دلاسہ کس طرح دے وہ تو اسے بھی بہت عزیز تھی۔۔۔۔
**************************************
ایک گھنٹے کا سفر آدھے گھنٹے میں طے کر کے وہ گھر پہنچے تھے ۔اب وہ سی سی وی ٹی وی پر نظریں جمائے کھڑے تھے۔بلکل خُبیب سکندر کی گاڑی جیسی گاڑی تھی۔۔۔۔ جنت نے خود کو چادر میں کور کر رکھا تھا۔۔۔۔
گاڑی کادروازہ کھلنے پر وہ پیچھے کو ہوئی لیکن جلدی سے اسےکسی نے گاڑی میں کھینچا تھا۔۔۔ گاڑی میں موجود لوگ نظر نہیں آرہے تھے۔۔۔
میں ان لوگوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔ ہارون سکندر کی گرج دار آواز رات کے اس پہر گھر کی درو دیواریں کانپ گئی تھیں۔۔۔ حدید ۔۔۔ ایس پی سلمان کا نمبر ملاؤ۔۔۔۔ وہ غصے میں دھاڑے تھے۔۔۔۔ ڈیڈ میرا خیال ہے ہمیں فلحال پولیس کو انوالو نہیں کرنا چاہئے۔۔۔حدید نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
حدید پھر سے سی سی وی ٹی وی پر ایک ایک چیز کو غور سےدیکھ رہا تھا۔۔۔پھر وہ ہی منظر اسکی آنکھوں کے سامنے تھا کس طرح اسے کھینچا تھا۔۔۔۔
یہ دیکھتے ہی خُبیب سکندر گھٹنوں کے بل بیٹھتا چلا گیا اسے یوں لگا اسکے پاؤں سےکسی نے زمین کھینچ لی ہے۔۔۔جسم یخ ٹھنڈا جیسے اسکی جان نکلنے لگی ہو۔۔۔۔۔ جان نکلنا کیا ہوتا ہے اسے اصل میں آج پتہ چلا تھا۔۔۔
آواز کہیں گلے میں ہی دب گئی تھی۔۔۔ بھائی بھابھی دونوں ہاتھ خالی ہیں۔۔۔۔ انکا موبائل گھر میں ہی ہو گا ۔۔۔۔اب وہ تیزی سے کھڑا ہوتے۔۔۔۔ اپنے روم کی طرف بھا گا تھا۔۔۔۔ ہارون سکندر اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر خود پریشان ہو رہا تھا۔۔۔۔
رشید۔۔۔ہارون سکندر نے اسے پکارا تھا۔جو انکا خاص ملازم تھا۔۔۔ آس پاس کی تمام مسجدوں میں قرآن خوانی شروع کروا دو جب تک میری بچی کا پتہ نہیں چل جاتا۔۔۔ قرآن خوانی ایک لمحے کے لئے بند نہیں ہونی چاہئے۔۔۔۔
تم سب بھی
ایت کریمہ کا ورد کرو ۔۔۔
فوزیہ تم بھی پڑوس میں سب کو مسیج بھجوا دو گھر میں دن نکلتے ہی ایت کریمہ کا ورد شروع کروا دو۔۔۔۔ فوزیہ سکندر نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔
**************************************************
وہ دونوں جب روم میں داخل ہوئے تو۔۔۔موبائل کان کو لگائے بیل دے رہے تھے ۔۔۔
ڈریسنگ ٹیبل پر پڑا موبائل دیکھ کر اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے اٹھایا تھا اتنی ہمت نہیں تھی کہ اوپن کر لے۔۔۔۔ خود کو مضبوط کر رہا تھا پر کوشش ناکام۔۔۔
وہ کرچی کرچی بکھر رہا تھا۔۔۔بس اسکا خیال آتے ہی۔۔۔ دل اچھل کر باہر آنے کو تھا۔۔۔۔ آنکھیں خشک صحرا کی طرح ہو گئی تھیں ۔۔۔خود پر ضبط کرتے ہوئے موبائل آن کیا تھا۔۔۔ وٹس اپ پر ۔۔۔۔ایک ان ناؤن نمبر دیکھ کر جلدی سے اوپن کیا تھا۔۔۔
میں باہر تمہارا ویٹ کر رہا ہوں جلدی آؤ۔۔۔۔ اسنے میسج پڑھتے کرب سے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔ پھر کھول کر دوبارہ میسج کو دیکھا ۔۔۔ نظر نیچے فلائٹ پر پڑی۔۔۔ تو اسے اوپر کی طرف کرتے آپ تو شام کی فلائٹ سے آ رہے تھے ۔۔۔ میں بس چادر اوڑھ کر آئی۔۔۔ وہ باربار اسکے لکھے میسج کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ نمبر دیکھے بغیر ہی وہ بس اتنا ہی بول سکا تھا۔۔۔۔۔
حدید ۔۔۔۔ اس نمبر کو ٹریس کرواؤ ۔۔۔۔ وہ شیر کی طرح دھاڑا تھا۔۔۔۔
جو کوئی بھی میں اسے چھوڑوں گا نہیں ۔۔۔۔ خُبیب سکندر کی بیوی کو اغواہ کر لیا اسکی اتنی ہمت ۔۔۔۔ اسنے میری غیرت کو للکارا ہے۔۔۔۔
غصے اور اشتعال سے اسکا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔۔۔اسکی گردن کی رگیں تک اجاگر ہو رہی تھیں ۔۔۔ وہ بے بسی کے عالم میں اپنی مٹھیاں بھینچ گیا تھا۔۔ زندگی میں کبھی خود کو اتنا بے بس محسوس نہیں کیا تھا۔۔۔۔ جتنا وہ آج محسوس کر رہا تھا۔۔۔بھائی یہ بھی سوچنے والی بات ہے کہ بھابھی کا نمبر اسکے پاس کیسے آیا۔۔۔۔؟
کوئی بہت قریبی ہے۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے اسکی آواز ہلک میں ہی کہیں دب گئی تھی۔۔۔
ڈیڈ۔۔۔۔ نے کہا ہے کوئی بھی قدم انکے پوچھے بغیر نہیں اٹھانا۔۔۔۔۔حدید انکو اتنے غصے میں دیکھ کر گویا ہوا۔۔۔۔جس کا اسنے کوئی اثر نہیں لیا تھا۔۔۔
میرا موبائل کہاں ہے۔۔۔ ؟
وہ اب جیبوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ کمرے سے ایک دم بھاگا تھا۔۔۔۔ بھائی ۔۔۔۔ بھائی رک جائیں ۔۔۔۔ وہ بھی اسکے پیچھے ہی بھاگا تھا۔۔۔۔
سامنے ہارون سکندر کو دیکھتے ہی اسکے قدم رکے تھے۔۔۔۔ تم دونوں کسی بھی صورت باہر نہیں جاؤ گے۔۔۔۔ اغواہ کار ضرور کال کریں گے۔۔۔۔
ڈیڈ پلیز ۔۔۔۔ وہ پتہ نہیں کس ہال میں ہوگی وہ چیخا تھا۔۔۔۔ ڈیڈ یہ نمبر ۔۔۔۔ حدید نے جنت کا موبائل ہارون سکندر کی طرف بڑھایا۔۔۔۔ جو اسنے تیزی سے پکڑا تھا۔۔۔۔
دیکھو تم دونوں میری بات غور سے سنو۔۔۔ کوئی بہت قریب سے ہمیں جانتا ہے ۔۔۔ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہو گا۔۔۔۔ ڈیڈ آپ مجھے مت روکیں وہ شیر کی طرح دھاڑا تھا۔۔۔۔
دیکھو خُبیب جنت انکے قبضے میں ہے ۔۔۔۔ ہمارے کسی بھی اٹھائے گئے قدم سے کہیں جنت کو نقصان نہ پہنچا دیں جب تک اسکی کوئی خبر نہیں آتی۔۔۔۔۔۔
ڈیڈ ۔۔۔۔ آدھا دن گزر گیا ۔۔۔۔۔ ساری رات گزر گئی ۔۔۔ ابھی تک کوئی کال نہیں آئی ۔۔۔۔
پلیز مجھے سب اپنے طریقے سے ہینڈل کرنے دیں۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے وہ
موبائل ہارون سکندر کے ہاتھ سے لیتا تیزی سے باہر کی سمت بڑھا تھا۔۔۔
ڈیڈ بھائی کا موبائل وہ ان سے موبائل پکڑتے خود بھی خُبیپ سکندر کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔۔ وہ کسی بھی صورت میں اپنے بھائی کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔۔۔
ہارون سکندر اپنی نم آنکھوں سے اپنے دونوں کو بیٹوں کو دیکھ جاتےدیکھ رہے تھے۔۔۔۔ پھر نظر فوزیہ سکندر کو دیکھا جو ہاتھ میں تسبیح پکڑے رو رہی تھی۔۔۔۔
سکندر صاحب۔۔۔۔ ہماری تو کسی کے ساتھ دشمنی نہیں ہے ہو سکتا ہے کہیں یہ حرکت جنت کے خاندان والوں نے نہ کی ہو ۔۔۔۔ آپ ایک بار ان سے مل لیں ۔۔۔۔
یہ تم کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔؟
اور مجھے تو اسکے خاندان والوں کا پتہ ہی نہیں ہے نہ ہی میں نے اس سے پوچھا تھا۔۔۔۔
ہو سکتا ہےخُبیب کو اسنے بتایا ہو ۔۔۔ فوزیہ سکندر اپنی رندھی ہوئی آواز میں بولی تھیں۔۔۔
ہارون سکندر ۔۔۔ مجسم حیرت کی تصویر بنے نظریں پھیر کر اپنی بیوی کو دیکھا ۔۔۔۔۔جسکی بات قابل غور تھی۔۔۔۔
ہارون سکندر ۔۔۔ ایک طویل سانس لیتے صوفے کی پشت سے سر ٹکاتے اپنی آنکھیں موند گئے تھے۔۔۔سوچوں کامرکز وہ چھوٹی سی لڑکی تھی۔۔۔ جس سے زندگی کڑے سے کڑے امتحان لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔ یا اللہ تیرے خزانے میں کس چیز کی کمی ہے۔۔۔۔ تو تو بڑا مہربان ہے۔۔۔۔ ہمیں کوئی ایسا راستہ دیکھا دے ۔۔۔
تیرے کرم کے رستے تو ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔۔۔۔ بس اس بچی پر اپنا کرم کرنا ۔۔۔۔ اسکی حفاظت کرنا۔۔۔ وہ سوچتے ہوئے خود کلامی والے انداز بول رہے تھے۔۔۔
سکندر صاحب ہمارے بیٹے پر مشکل وقت ہے ۔۔۔ ہمیں ہمت سے کام لینا ہو گا ۔۔۔۔ورنہ ہمارے بیٹے کو کون سنبھالے گا۔۔۔۔ اللہ کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔۔۔۔
ہمیں اس وقت اسکی رسی مضبوطی سے تھامنی چاہئے۔۔۔۔ اٹھیں خدا کے حضور نفل پڑ ھ کر دعا مانگتے ہیں۔۔۔۔
ہارون سکندر نے اپنی آنکھیں بند کئے ہی اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
**************************************
کل سے جنت بھوکی پیاسی کمرے میں بند تھی ۔۔۔۔ کمرے میں اب ہلکی ہلکی روشنی جو روشن دانوں سے آ رہی تھی۔۔۔۔اپنے پاس پڑھے رات کے کھانے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
پتہ نہیں گھر والے کیا سوچ رہے ہوں گے۔۔۔۔؟
مجھے تلاش بھی کر رہے ہونگے کہ نہیں۔۔۔۔
مجھ جیسی غریب لڑکی کو وہ اتنی اہمیت کیوں دیں گے۔۔۔۔؟
میرا شوہر وہ کیا سوچ رہا ہوگا ۔۔۔۔؟
وہ پہلے ہی مجھ سے متنفر تھے۔۔۔۔ اب تو ایک دن گزر گیا ہے۔۔۔۔ اسکے خشک ہونٹوں سے سسکی بلند ہوئی تھی۔۔۔۔
”یااللہ ”مجھے زلت نہ دینا بس موت دے دنیا۔۔۔۔ “
کون ہے وہ مہربان شخص جو پل پل میری حفاظت کر رہا ہے۔۔۔میں تمہارا خیرخواہ ہوں ۔۔۔۔ میں نے کہیں گھر کا ایڈریس دے کر غلطی تو نہیں کر دی۔۔۔۔
دشمن تو گھر کو جانتا ہے گھر سے ہی تو مجھے اٹھے کے لائے ہیں۔۔۔ اگر انہیں پتا ہوتا تو وہ مجھ سے کیوں پوچھتے ۔۔۔۔۔؟
روتے ہوئے خود ہی اپنی سوچ کو جھٹکا تھا۔۔۔۔۔ ؟
پاس پڑا پانی کاگلاس منھ کو لگاتے ایک ہی سانس میں ختم کر دیا تھا۔۔۔۔ اپنے ساتھ اس ننھی سی جان کا خیال کرتے ۔۔۔۔ پاس پڑا باسی کھانا اپنے آگے رکھا تھا۔۔۔۔ ٹھنڈا سالن ۔۔۔۔۔ خشک روٹی جگ سے پانی گلاس میں ڈال کر وہ روٹی کا ایک نوالہ لیتی اوپر سے ایک گھونٹ پانی کا پیتی۔۔۔۔
سالن اس خوف سے نہیں کھا رہی تھی کہ اس میں کچھ ملایا ہی نہ ہو۔۔۔۔
آنکھوں کے اندر ٹہرا پانی مچلنےلگا۔۔۔۔ وہ پھر شدت سے رونے لگی تھی۔۔۔۔میں تو سوچ رہی تھی کہ غموں کی دھند چھٹ گئی ہے۔۔۔۔ بھلا میری ماں کے دکھ مرتے دم تک ختم نہیں ہوئے تھے تو میرے کیسے ختم ہو سکتے ہیں۔۔۔؟
وہ کھانے کی پلیٹ پیچھے کو کرتی خود کو اچھی طرح کور کرتے زمین پر ہی اس بستر میں لیٹ گئی تھی جو اس مہربان شخص نے لا کر دیا تھا۔۔۔۔وہ اب خالی نظروں سے چھت کو گھور رہی تھی۔۔۔۔۔ طبعیت میں بوجھل پن اس قدر بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
وہ ٹھیک ہی کب تھی۔۔۔۔۔؟
اسکی سانسیں تو اس شخص کو دیکھتے رواں ہوتی تھیں۔۔۔ ابھی تو انکی آنکھوں میں میری محبت کے دیپ جلے تھے۔۔۔
یا اللہ میری محبت انکے دل سے نہ نکالنا۔۔۔ وہ اپنے منھ پر ہاتھ رکھتے سسک پڑھی تھی۔۔۔
نظروں کے سامنے انکا عکس جلملایا تھا۔۔۔۔ بے جان وجود میں جیسے جان سی بھر گئی تھی۔۔۔۔ اتنی دیر میں دروازہ کھلنے کی آواز آئی وہ ایک دم اٹھ کے بیٹھ گئی دو عورتیں کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔۔۔
اٹھو تمہیں بی بی جی ۔۔۔۔ بلا رہی ہیں۔۔۔۔
ایک نے زور سے ٹھوکر ماری اس سے پہلے وہ ٹھوکر اسکے پیٹ پر لگتی جنت نے جلدی سے کروٹ بدلی تھی۔۔۔ جو بری طرح اسکی ریڑھ کی ہڈی میں لگی تھیں درد سے اسکی سسکی بلند ہوئی تھی۔۔۔۔
ان میں سے ایک عورت نے اسے بازو سے پکڑا تھا۔۔۔۔ وہ سہمی ہوئی نظروں سے ان دونوں عورتوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ چھوڑو مجھے میں خود ہی چلی جاؤں گی۔۔۔۔ اسکی وحشی گرفت پر اسنے کپکپاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اسکی آنکھوں پر پٹی باندھو۔۔۔۔۔ دوسری عورت اسکی آنکھوں پر پٹی باندھ رہی تھیں۔۔۔۔
اسے اپنا سانس رکتا محسوس ہوا۔۔۔
اب وہ اسے بے رحمی سے اسکے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹنے لگی تھیں۔۔۔۔ جنت کی سسکیاں بلند ہوئی تھیں ۔۔۔ کوئی ہے جو مجھے بچا لے ۔۔۔ اسکی درد ناک چیخیں گونج رہی تھیں۔۔۔ چھوڑ دو اسے ۔۔۔ آواز جانی پہچانی سی لگی تھی۔۔۔۔ اسکی سسکیاں تھمی تھیں۔۔۔۔
آنکھیں کھولو اسکی ۔۔۔۔ آنکھیں کھلتے ہی جنت کی نظر جب اپنی تائی پر پڑی تو اسے ہر چیز گھومتی نظر آئی۔۔۔۔ سر چکرانے لگا۔۔۔
آپ۔۔۔ ہونٹوں نے ہلکی سی جنبش کی تھی۔۔۔ آواز کہیں گلے میں ہی دب گئی تھی۔۔۔
اسے اس عورت کے سامنے جھکنا نہیں تھا۔۔۔ مضبوط بلکل چٹان کی طرح جس کے ساتھ ٹکرا کر یہ خود ہی گر جائے۔۔۔۔
اسنے اپنی رکی ہوئی سانسیں گہرے گہرے سانس لے کر بحال کی تھیں۔۔۔۔
وہ اب آگے بڑھتے اسکے بال دبوچ گئی تھی۔۔۔ تم بھی اپنی ماں کی طرح ڈرپوک ہو۔۔۔۔ میرے بارے میں اپنے سسرال والوں کو نہ بتا کر تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔۔۔۔
تمہیں تو مجھے اس دن ہی مار دینا چاہئے تھا۔۔۔۔ یہ سایہ اب میرے سر پر نہ منڈلا رہا ہوتا ۔۔۔۔۔اسنے جنت کے بالوں پر اپنی گرفت مزید سخت کی تھی۔۔۔
جس پر جنت نے ضبط کیا تھا۔۔۔۔ ؟
تمہاری ماں کی طرح تمہارے سسرال والوں کو تمہاری بھی کوئی خبر نہیں ملے گی ۔۔۔۔اب یہاں سے تمہاری لاش ہی جاسکتی تم یہاں سے بھاگ نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔
ایک صورت پر تمہیں رہائی مل سکتی ہے۔۔۔اگر تم اپنے شوہر سے طلاق لے لو۔۔۔ پھر تم عیش کی زندگی بسر کرو گی۔۔۔ نہیں تو سیدھی موت ۔۔۔۔۔ جنت کے تو اسکی بات سن کر ہی اوسان خطا ہوئے تھے۔۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ بولتی تمہاری اس عادت سے مجھے اتنی چڑ ہے۔۔۔ کہ تم پوری بات غور سے نہیں سنتی بیچ میں ہی بول پڑتی ہو۔۔۔ پہلے پوری بات غور سے سنتے ہیں۔۔۔ پھر اسکے مطابق جواب دیتے ہیں۔۔۔
اس ساحر کے لفظ اسکی سماعتوں سے ٹکرائے تھے۔۔۔اب اسے جو بھی بولنا تھا سوچ سمجھ کے بولنا تھا۔۔۔سو وہ اب ہمت سے بولی تھی
پہلی بات اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے دوسری بات آپ نے بس اتنی سی بات کے لئے مجھے اغواہ کروا یا ہے۔۔۔۔
مجھے مار کر آپ کو کیا ملے گا۔۔۔۔؟
میں کونسا سونے کی چڑیا ہوں ۔۔۔۔ مجھے مارنے سے آپ کے ہاتھ خزانہ لگ جائے گا۔۔۔۔ وہ اسے دیکھتے مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔ اسکی بات پر اسکے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑی تھی۔۔۔
*****************************************
