Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 28)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 28)
Ehsaas By Raheela Bano
جنت بغور اب اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسکی بات پر اسکے چہرے پر کئی رنگ آئے تھے۔۔
آپ کیا کہہ رہی تھی کہ آپ مجھے مارنا چاہتی تھیں ۔۔۔ پر کیوں۔۔۔ ؟
میری امی نے اور میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے۔۔۔۔؟
میری امی تو دنیا سے چلی گئی ہے۔۔۔۔ مجھ سے آپ کس چیز کا بدلہ لے رہی ہیں۔۔۔۔
کاش ۔۔۔۔!!
میرا آپ سے سامنا ہی نہ ہوا ہوتا۔۔۔۔
کیوں نہ ہوا ہوتا وہ ایک دم چیخی تھی۔۔۔۔؟
تمہاری موت نے میرا سامنا کروایا ہے۔۔۔۔ ایک طرف آپ مجھے کہہ رہہیں ہیں کہ میں اپنے شوہر سے طلاق لے لوں ۔۔۔ دوسری طرف آپ میری موت کی خواہش مند ہیں۔۔۔
کیا طلاق دلوا کر مجھےموت دیں گی۔۔۔۔۔ ؟
اگر ایسی بات ہے تو میں کسی صورت بھی اپنے شوہر سے طلاق نہیں لوں گی۔۔۔ مجھے موت قبول ہے۔۔۔۔وہ یہ کہتے ہوئے ہلک کہ بل چیخی تھی۔۔۔
اسکی بات پر تو سلطانہ صاحبہ کو آگ ہی لگ گئی تھی۔۔۔ تمہاری اتنی ہمت کہ تم سلطانہ بیگم کو انکار کرو آج تک کسی نے میرے سامنے انکار نہیں کیا۔۔۔۔۔وہ غصے سے اسکا منھ دبوچ گئی تھی۔۔۔۔ جنت نے اسکے ہاتھ کو زور سے جھٹکا دیا تھا۔۔۔۔
ہمت تو ابھی آپ نے میری دیکھی ہی نہیں ہے۔۔۔ رہی انکار کی بات تو میں کوئی آپکی زر خرید غلام نہیں ہوں۔۔۔جو آپ کے سامنے انکار نہیں کر سکتی ۔۔۔ بات اگر موت کی ہے ۔۔۔۔تو ۔۔۔مجھے اسکا کوئی ڈر نہیں۔۔۔۔اگر اللہ نے آپ کے ہاتھ سے لکھی ہے ۔۔۔۔ تو میں آپ سے اپنی زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گی۔۔۔
اور میری امی کے ساتھ ایسا کیا کیا تھا۔۔۔ جو انہیں گھر چھوڑنا پڑا۔۔۔ وہ اب شیرنی بنی اسکے مدمقابل آئی تھی۔۔۔
تمہاری امی تمہاری طرح بے وقوف نہیں تھی۔۔۔۔ جو موت کو گلے لگاتی ۔۔۔۔ وہ موت کے خوف سے ہی تو گمنامی کی زندگی گزارتی رہی۔۔۔
اور تم روز مجھ سے زندگی کی بھیک مانگو گی۔۔۔۔ استری گرم کر کے اسکے پورے جسم پر لگاؤ۔۔۔ وہ چیختے ہوئے بولی تھی۔۔۔ جنت اپنی طرف بڑھتی عورتوں کو خوف ذدہ آنکھوں سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔ میں مر جاؤں گی لیکن تم جیسی گھٹیا عورت سے بھیک نہیں مانگوں گی۔۔۔۔
لگتا ہے تمہیں جان پیاری نہیں ہے۔۔۔۔
اس نے جنت کو بالوں بے دردی سے پکڑا تھا۔۔۔ جنت اب بلا کسی خوف سے اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔
۔
**********************************
تین دن ہو گئے تھے ۔۔۔ جنت کا کوئی پتہ نہیں چلا تھا۔۔۔۔ خُبیب سکندر ۔۔۔۔جسے ہوش ہی نہیں تھی دن کب نکلتاہے۔ رات کب ہوتی ہے۔۔۔سگریٹ کے گہرے کش لگا کر دھواں فضا میں چھوڑ رہا تھا۔۔۔۔اندر عجیب سی بے چینی اور بے قراری تھی۔۔۔۔
ان تین دنوں میں اس نے کھانے کو چھوا تک نہیں تھا جب اسکا خیال آتا۔۔۔ہاتھ وہی رک جاتا پتہ نہیں اسنے کچھ کھایا بھی ہو گا کہ نہیں۔۔تین دنوں میں ایک ہی سوٹ میں ملبوس تھا۔۔۔۔ جو آج ہارون سکندر۔۔۔۔۔نے زبردستی چینج کروایا تھا۔۔۔۔
وہ بن آب مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا۔۔۔۔۔ کمرے میں آتا تو سانسیں رکتی محسوس ہوتی ۔۔۔۔ وہ لان میں ہی بیٹھا تھا۔۔۔ وہ اسے اپنے آس پاس محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
آنسو سیل رواں کی طرح آنکھوں سے بہہ رہے تھے وہ اپنی بیوی کو یاد کرتے ہوئے تڑپ تڑپ کر رو رہا تھا۔۔۔۔آج وہ کھل کر رونا چاہتا تھا تو وہ رو رہا تھا۔۔۔وہ اپنے اندر مچلتا سیلاب آنکھوں سے ایک ایک بوند بہا رہا تھا۔۔۔
ٹیبل سے سگریٹ کی ڈبی اٹھا کر ایک اور سگریٹ نکلالتے لائیٹر سے سلگا ئی تھی۔۔۔دھوئیں کے مرغولے ادھر ادھر نکلتے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ جیسے ان میں سے کچھ کھوج رہا ہو ۔۔۔۔
پھر ایک گہرا کش فضا میں چھوڑا تو منظر دھندلا دھندلا سا دیکھائی دینے لگتا۔۔۔۔۔ اسکے کتنے ہی روپ اسکے سامنے آئے تھے۔۔۔وہ ایک بعد ایک سگریٹ سلگائے دھواں فضا میں چھوڑتا۔۔۔۔وہ اپنے وجود کی تمام خوبصورتیوں سمیت اپنے آس پاس محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ اسے ہونٹوں پر مسکان ۔۔۔۔ اسکی نم آنکھیں جو اسکے سرد لہجے پر برس پڑتی ۔۔۔۔
اب تو اسکا گھور کر دیکھنا بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔اسکی یاد نے شدت پکڑی تھی ۔۔۔۔جیسے اس سے پوچھ رہی ہو آپ مجھے تلاش نہیں کر رہے اگر کرتے تو میں مل جاتی۔۔۔اسنے فضا میں ہاتھ مارا جیسے وہ اسکے سامنے کھڑی ہے ۔۔۔ وہ اسے پکڑ لے گا۔۔۔۔لیکن کچھ بھی تو اسکے ہاتھ میں نہیں آیا۔۔۔۔درد سے دل پھٹنے لگا۔۔۔ اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔
یااللہ میری اِزنا کی حفاظت کرنا ۔۔۔۔اسکی عزت کی حفاظت کرنا یہ لفظ تو کسی ورد کی طرح اسکی زبان پر تھے ۔۔۔۔ اتنی پاور ہونے کے باوجود وہ اپنی بیوی کو ابھی تک ڈھوند نہیں سکا تھا۔۔۔وہ بے بسی کی آخری انتہا پر تھا۔۔۔
ان تین دنوں میں اغواہ کاروں نے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔۔۔۔ اگر کرتے تو وہ اپنی بیوی کے بدلے میں انکو پیسوں میں تول دیتا۔۔۔۔ وہ سم کا تمام ڈیٹا نکلوا چکا تھا۔۔۔ لیکن پولیس کو اس معاملے میں انوالو نہیں کیا تھا۔۔۔ کہیں وہ لوگ اِزنا کو نقصان نہ پہنچا دے ۔۔۔۔ اغواہ کرنے والا بھی کوئی عام انسان نہیں ہوگا۔۔۔ جس نے خُبیب سکندر کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔۔۔۔جس کی پاور سارا شہر جانتا تھا۔۔۔۔
لیکن اسکی سانسیں اپنی بیوی میں اٹکی ہوئی تھیں۔۔۔
”یا اللہ ۔۔۔”اب میں اس وقت تک تیرے سجدے سے سر نہیں اٹھاؤں گا ۔۔۔۔۔جب تک میری بیوی کی کوئی خبر نہیں مل جاتی۔۔۔۔ اب وہ تیزی سے اپنے روم میں وضو کرنے کے لئے بڑھا تھا۔۔۔
*********************************
ہارون سکندر ۔۔۔۔ جو پولیس کو اس کیس میں انوالو کرنا نہیں چاہتے تھے۔اپنے بیٹے کی وجہ سے اب وہ کسی طریقے سے بھی جنت تک پہچنا چاہتے تھے ۔۔۔۔جو پتہ نہیں کب سے سجدے میں سر رکھے ہوئے تھا۔۔۔ پورا دن گزر گیا ۔۔۔ اور رات بھی کافی بیت چکی تھی۔۔۔۔لیکن ابھی تک وہ سجدے کی حالت میں تھا۔۔۔۔۔
ایس پی سلمان کے ہمراہ وہ جب مطلوبہ جگہ پہنچے تو وہاں تو کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک بوہڑ کا درخت جس کے نیچے چند لوگ چارپائیوں پر بیٹھے ہوئےتھے۔۔۔ پولیس کی بھاری نفری کو دیکھ کر وہ پریشان ہوئے۔۔۔
غریب خستہ حالت میں کوئی تقریباً پچاس سال کا آدمی ایک ٹیبل پر چو لہا رکھے۔۔۔ چائے بنا رہا تھا۔۔۔۔ سپاہیوں نے جب اسے ہتھ کڑی لگائی ۔۔۔۔ صاحب ۔۔۔۔
میرا قصور کیا ہے۔۔۔۔۔؟
مجھے میرا گناہ تو بتائیں۔۔۔۔۔وہ ہارون سکندر کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اتنی دیر میں ایک بارعب شخص ہارون سکندر کے مقابل آیا۔۔۔ اس کو لے جانے سے پہلےآپ مجھے اس کاجرم بتائیں۔۔۔۔۔ ایس پی سلمان۔۔۔ جو چپ کھڑا تھا وہ اب بولے تھے اغواہ کے کیس میں۔۔۔ دیکھیں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔میں اس گاؤں کا نمبردار ہوں۔۔۔۔ میں اسکی پوری گارنٹی دیتا ہوں ۔۔۔ یہ شخص تو چڑیا کو دھوپ میں نہیں دیکھ سکتا انسان کو تو کیا دکھ دے گا۔۔۔۔آپ نے جو بھی بات کرنی ہے میرے آفس میں آ کر کریں۔۔۔۔
دیکھیں صاحب ۔۔۔۔ آپ میری بات کا یقین کریں ۔۔۔۔ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔
ہارون سکندر کو اس حالت میں دیکھ کر ہی ترس آرہا تھا۔۔۔۔
دیکھیں ہارون صاحب آپ ہمیں ہماری کاروائی مکمل کرنے دیں ۔۔۔۔ایس پی سلمان جو بن پوچھے ہی اسکی بات سمجھ گئے تھے ۔۔۔۔ اپنے دوست کی نرم طبعیت سے واقف تھا۔۔۔۔ اس لئے زرا سخت لہجے میں بولا۔۔۔۔
دیکھیں ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔۔ وہ نمبردار دوبارہ گویا ہوا۔۔۔۔ آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔ اگر یہ بے گناہ ہوا ۔۔۔۔ تو۔۔۔ میں خود اسکو چھوڑ کر جاؤں گا۔۔۔۔
یہ میرے گاؤں کا بندہ ہے میں اپنے گاؤں کے ہر اچھے اور برے لوگوں سے واقف ہوں۔۔۔۔ میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ چلتا ہوں۔۔۔ وہ بڑے رسان سے بولا۔۔۔
مون ۔۔۔۔ گاڑی نکالو ۔۔۔۔ وہ یہ کہتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔۔۔۔
ہارون سکندر ۔۔۔۔موبائل پر بیل جیب سے موبائل نکالا تھا۔۔۔۔ جیسے ہی موبائل اوپن کیا۔۔۔۔ حدید کی اوپر نیچے اتنی کالز پریشان ہوا تھا۔۔ ۔۔
*************************
عقل ٹھکانے آئی تمہاری جنت سلطانہ بیگم ۔۔۔۔ کی آواز پر چونکی اس نے اسکے جسم کوجگہ جگہ سے جلایا تھا۔۔۔ دل تو کر رہا تھا اس عورت کی جان لے لے۔۔۔۔ اسے تو ویسے ہی زہنی مریضہ لگی تھی۔۔۔۔ وہ نہ ہی تو لیٹ سکتی تھی نہ ہی بیٹھ سکتی تھی۔۔۔ وہ دو دن شدید تکلیف میں تھی۔۔
انکل نے کہا تھا ۔۔۔ ایک دن اور صبر کر لے ۔۔۔۔یہاں سے نکلنا بہت مشکل ہے ورنہ اپنی جان پر کھیل کر بھی تمہیں ضرور کسی محفوظ مقام پر لے جاتا۔۔۔۔
ان کی بہت پاور ہے جگہ جگہ گارڈز ہیں ۔۔۔ یہاں تو چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی ۔۔۔ میں نے اپنے بیٹے کو آپ کے بتائے ہوئے پتے پر بھجوایا ہے۔۔۔۔
کوئی ہے جو آپ کے گھر کی پل پل کی خبر دے رہا ہے ۔۔ اس لئے میں نے فون نہیں کیا بلکہ اپنے بیٹے کو بھجوایا ہے ۔۔۔۔ کہ وہ لوگ محتاط ہو جائیں۔۔۔
کچھ بھی ہو جائے آپ نے کچھ نہیں بولنا۔۔۔۔
لیکن اسے دیکھتے ہی جنت کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔۔۔۔دل کر رہا تھا کہ اسکی آنکھیں ہی نوچ لے ۔۔۔۔۔ اگر پیچھے مڑ کر دیکھتی تو سچ میں ہی نوچ لیتی ۔۔۔۔ اسنے رخ پلٹ کر دیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔۔
پھر کیا سوچا ہے۔۔۔۔؟
مجھے سمجھ نہیں آ رہی کے جب میرا آپ لوگوں سے واسطہ ہی نہیں ہے۔۔۔
تو پھر آپ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہی ہیں۔۔۔۔۔؟
میری امی کو گھر سے نکال دیا۔وہ مجھے بچانے کے لئے دربدر ہوئی پتہ ہے ۔۔۔۔۔ وہ سکول میں پڑھاتی تھیں ۔۔۔ مجھے نو سال تک پھولوں کی طرح رکھا۔۔۔ پھر انہیں فالج ہوا تو میں انہیں اپنے ان چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے کھلاتی پلاتی تھی۔جنت کے ہونٹوں سے سسکی برامد ہوئی تھی۔۔۔۔
میں آپ کے پاس مدد کے لئے آئی نہیں تھی ۔۔۔میری ماں نے مجھے ملنے کے لئے بھیجا تھا۔۔۔ وہ بھی۔۔ اماں کے کہنے پر میں نے اپنی سوچ کے مطابق آپ سے پیسوں کی ڈیمانڈ کر دی ۔۔۔۔ تو آپ نے مجھے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا۔۔۔۔
اس وقت میں نے بڑی غلطی کر دی مجھے مدد آپ سے نہیں اپنے تایا سے مانگنی چاہئے تھی۔۔۔ خیر وقت تھا گزر گیا ۔۔۔ اللہ کو جس طرح منظور تھا۔۔۔ ہم نے صبر کیا۔۔۔اور میری صابر ماں نے مجھے آپ کے کالے کرتوتوں کا نہیں بتایا تھا۔۔۔۔۔ کوئی نہ کوئی فرشتہ اللہ ہماری مدد کے لئے بھیج دیتا تھا۔۔۔۔
اور دیکھو۔۔۔۔۔ آج میری جس گھر میں شادی ہوئی ہے انکی پاور آپکی پاور سے کہیں زیادہ ہے ۔۔۔۔
وہ جنت کی بات پر پاگلوں کی طرح ہنسی تھی۔۔
کیا فائدہ انکی پاور کا ۔۔۔ ؟
کہ وہ تمہیں ابھی تک ڈھونڈ ہی نہیں سکے ۔۔۔۔ ان کے تو وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔
کہ تمہیں میں نے اغواہ کیا ہے ۔۔۔؟
وہ نہیں جانتے اللہ تو جانتا ہے ۔۔۔۔ جانتی ہیں آپ یہ صبر بھی ایک قسم کی بددعا۔۔۔۔ ہمارا صبر ہی آپکو جلا کے راکھ کر دے گا۔۔۔۔ جس جائیداد کے پیچھے آپ نے مجھے اغواہ کیا ہے۔۔۔ اگر آپ مجھے کہتی میں یہ حسن بھائی پر وار دیتی ۔۔۔۔
لیکن جو ظلم آپ نے میرے ساتھ کیا ہے ۔۔۔۔ ؟
اسکا حساب میرا اللہ آپ سے لے گا۔۔۔۔۔۔ اسنے اپنے آنسوؤں کو بہنے نہیں دیا تھا۔۔۔۔
”توبہ ۔۔۔۔۔توبہ ۔۔۔۔یااللہ ۔۔۔”
کیسی عورت ہے ۔۔۔۔ ؟
جسے خدا کا کوئی خوف نہیں ۔۔۔بس جائیداد کے پیچھے ہماری زندگی تباہ کر دی ۔۔۔۔۔ اسنے خدا سے دعا مانگی تھی ۔۔۔ کہ میرا کبھی اس عورت سے واسطہ نہ پڑے ۔۔۔
لیکن اللہ نے شاید اسکی یہ دعا قبول نہیں کی تھی ۔۔۔۔ اس عورت کے ہاتھوں مزید زلیل ہونا لکھا تھا۔۔۔۔ اسنے قہر بار نظروں سے اسے دیکھا جس نے اسے گزرے ہوئے ماہ وسال یاد کروا دیئے تھے۔۔۔جسے یاد کرکے وہ راتوں کو سو نہیں سکتی تھی۔۔۔۔
اسے وہ دن یاد آیا۔۔۔ جب وہ اپنی امی کی انگلی پکڑے سکول سے گھر آئی تھی۔۔۔۔ گھر آتے ہی جیسے ہی امی پنکھا چلا کر بیٹھنے لگی زمین پر گر گئی ۔۔۔ وہ روتے ہوئے اپنی امی کو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اٹھانے لگی۔۔۔۔لیکن ۔۔۔ وہ تو اس سے ہل ہی نہیں رہی تھیں ۔۔۔۔
پھر وہ بھاگ کر اماں کے گھر گئی اماں کو بلا کے لائی اماں کے ساتھ ابا بھی آگئے ۔۔۔ اماں نے امی کو اٹھایا ۔۔۔ ابا بھاگ کر ڈاکٹر کو بلا کر لائے۔۔۔
تو ڈاکٹر نے نے انجیکشن لگا کر کہا آپ انہیں ہاسپٹل لے جائیں انہیں فالج کا اٹیک ہوا ہے۔۔۔۔ اماں ڈاکٹر کی بات سن کر رونے لگی۔۔۔۔ پھر ابا نے گاڑی منگوائی ہم امی کو لیکر ہاسپٹل آگئے۔۔۔ کتنے دن امی ہاسپٹل رہی پھر امی کو گھر لے آئے ۔۔۔
پھر اماں اور ابا ذیادہ تر گھر ہی رہتے ۔۔۔۔ اماں مجھے تیار کر کے سکول بھیج دیتی۔۔۔۔ مجھے ساتھ ساتھ گھر کا کام سکھاتی ۔۔۔۔ امی جب مجھے کام کرتے دیکھتی تو رونے لگتی ۔۔۔۔ پھر ایک دن ابا کی طبعیت خراب ہوئی وہ بھی دنیا سے چل بسے ۔۔۔۔ ابا کے مرنے کے بعد انکی دنیا ہی اجڑ گئی۔۔ اسکے بعد میرے لئے ہر دن ایک نئی مشکل لے کر آتا ۔۔۔۔ میں آپ کے در پر نہیں آئی۔۔۔
جانتی ہوں سب کچھ میرے بابا کا ہے ۔۔۔ کوٹ میں جا کر اپنا حق لے سکتی تھی۔۔۔۔ لیکن نہیں لیا۔۔۔ جس وقت کی غرض تھی ۔۔۔۔ اس وقت نہیں لیا۔۔۔۔اب بھی میں لعنت بھیجتی ہوں۔۔۔۔وہ غصے میں پھنکاری تھی ۔۔۔
بڑا گھمنڈ ہے تمہیں اپنی ذات پر ۔۔۔۔ سلطانہ بیگم کو اتنی سخت سزا کے بعد بھی اسکا اتنا اعتماد آگ لگا گیا تھا۔۔۔۔ماں تو تمہاری بزدل تھی۔۔۔ بزدل نہیں تھی ۔۔۔۔ انہوں نے میری زندگی کے بدلے میں سب کچھ آپ کو بھیک میں دے دیا تھا۔۔۔۔
اور آپ لوگ میری ماں کی دی ہوئی بھیک کھا رہے ہیں۔۔۔ میرا صبر تو آپ دیکھ چکی ہیں ۔۔۔ اور میں آپ کے دئیے گئے زخموں کی وجہ سے آپ سے ڈر جاؤں گی ۔۔۔۔ یہ آپ کی بھول ہے ۔۔۔۔
جو زخم آپ نے ہماری روح پر لگائے ہیں۔۔۔۔ یہ درد اسے بہت کم ہے۔۔۔۔
اب اسکے چہرے کی اڑی رنگت دیکھ کر جنت کو اپنے اندر لگی آگ ٹھنڈی پڑتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔ جس طرح اسنےاسکے بدن کو جلایا تھا۔۔۔۔ وہ اپنی باتوں سے اسے دوگنی آگ لگا چکی تھی۔۔۔۔ اب وہ رات کو بھی اٹھ اٹھ کر سوچے گی۔۔۔۔ کہ کسی بے گناہ کو سزا دینا کیسا ہوتا ہے۔۔۔۔؟
موبائل پر بار بار کال سے وہ باہر کی سمت بڑھی تھیں۔۔۔ جنت نے اب سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔
کیسی عورت ہے ۔۔۔؟
جس کے اندر خوف خدا نہیں ۔۔۔ کہ وقت بہت بڑا ناصح ہے۔۔۔
اس نے اللہ کے خوف سے جھرجھری لیتے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔
*******************************
