930K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehsaas (Episode 15)

Ehsaas By Raheela Bano

جنت کچن سمیٹ کر جب روم میں آئی تو وہ بیڈ پر بغیر چینج کئے جوتوں سمیت اوندھے منھ لیٹے ہوئے تھے ۔

ان ڈیڑھ ماہ میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ وہ اتنی بے ترتیبی سے لیٹے ہوں ۔۔۔

کہیں ان کی طبعیت تو خراب نہیں ہے ۔ایک دم زہہن میں سوال اٹھا تھا۔۔۔۔

”یہ نہ ہو کہ ڈانٹ دیں۔۔۔”

یہ سوچتے ہوئے ۔۔۔۔ان تک آئی تھی۔۔۔۔ وہ ایک سائیڈ پر منھ کئے بےحس و حرکت لیٹے ہؤے تھے۔۔۔۔جنت نے تکیہ سیدھا کرتے ہوئے جیسے ہی بازو پکڑا۔۔۔۔ وہ آگ کی طرح تپ رہے تھے۔۔۔۔

انہیں تو اتنا تیز بخار ہے۔ وہ اپنا بخار بھولے انکی سیوا میں لگ گئی تھی۔۔۔۔

پہلے تو اپنی پوری طاقت کے ساتھ انہیں سیدھا کرتے تکیہ انکے سر کے نیچے رکھا ۔۔۔انکو بے حس وحرکت دیکھ کر اسکے ہاتھ پاؤں پھول گئےتھے۔۔۔اب اسکے جوتے اتار کر بیڈ کے نیچے ہی دھکیل دیئے تھے۔۔۔۔

خُبیب سکندر ۔۔۔۔۔ جو اسکے ہاتھوں کا لمس محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔ اتنی ہمت نہیں تھی کہ کچھ بول کر میڈیسن کا بتادے۔۔۔۔ آنکھیں بھی نہیں کھل رہی تھیں۔۔۔۔بس خاموشی سے لیٹا اسے محسو س کر رہا تھا۔۔۔

جو سینے پر سر رکھے ہو ئے بول رہی تھی یا اللہ انہیں کچھ بھی نہ ہو میرے ان کے سوا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے اب تو موم اور ڈیڈ بھی نہیں ہے۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے بول رہی تھی۔۔۔۔ اور وہ اسے سن رہا تھا۔۔۔۔۔

وہ جلدی سے اٹھتےفریج میں سے ٹھنڈا پانی ایک باؤل میں ڈال کر لائی۔۔۔انکی بند آنکھوں کو دیکھ کر دل دہل گیا تھا۔۔۔۔چہرا بخار کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔

آپ بول کیوں نہیں رہے۔۔۔۔؟

وہ رندھی آواز میں بولی۔۔۔۔جواب نہ پا کر اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے

ٹھنڈے پانی کی پٹی اسکے ماتھے پر رکھی۔۔۔۔۔۔کتنی دیر وہ ایسے ہی پٹیاں کرتی رہی ۔۔۔۔ ساتھ ساتھ ماتھے کو چھو کر دیکھتی۔۔۔۔آپ بول کیوں نہیں رہے۔۔۔۔؟

خُبیب سکندر ۔۔۔۔ اسکی آواز سن رہا تھا۔۔۔ لیکن لب ہلنے سے انکاری تھے۔۔۔۔

وہ پہلے سے خود کو کافی بہتر محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔آنکھیں اسنے ہنوز بند ہی رکھی تھیں۔۔۔

**********************************************

جنت جلدی سے سوپ بنا کر لائی تھی۔۔۔۔ اب ٹھنڈا ہونے کے لئے رکھا تھا۔۔۔۔ پوچھ لیتی ہوں ٹھنڈا پینا ہے یا گرم وہ سوپ کی ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئےجنت نے گھڑی پر ٹائم دیکھا۔۔۔ دو بج رہے تھے۔۔۔۔انہیں اسی طرح بے سدھ پڑے دیکھ کر سوچا کرن بھابھی کو بلا لاتی ہوں۔۔۔۔

اس ٹائم اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ جاکر کرن بھابھی کو ڈسٹرب کرے۔۔۔۔ جنت نے ماتھے کو چھوا ابھی بھی تپ رہا تھا۔۔۔۔

پھر سے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرنے لگی۔۔۔۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے ڈوپٹے سے خُبیب سکندر کا چہرا صاف کر دیتی اس خوف سے کہ کہیں وہ اپنی حالت دیکھ کر اسے ڈانٹے نہ۔

کب سے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کر رہی تھی۔۔۔۔اب جا کر خُبیب سکندر نے آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔اب اس نے اپنے سہارے سے پیچھے تکیہ رکھ کر بٹھایا تھا۔۔۔۔

آپ تھوڑا سا پانی پی لیں جنت نے گلاس اسکے ہونٹوں کو لگایا جو دو گھونٹ پی کر گردن نفی میں ہلائی تھی۔۔۔۔آپ یہ تھوڑا سا سوپ بھی پی لیں ۔۔۔میں پھر آپ کو دوائی دوں گی۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے اشارے سے کوٹ اتارنے کا کہا تھا۔۔۔۔

جنت نے سوپ کا پیالہ واپس رکھتے کوٹ اتار کر وہی کرسی کی بیک پر رکھ دیا جس پر وہ بیٹھی تھی۔۔۔۔پانی سے شرٹ بھی گیلی ہو چکی تھی۔۔۔۔

یہ شرٹ بھی گیلی ہے اتار دوں۔۔۔ جنت ڈبڈبائی آواز میں بولی۔۔۔۔اس کے لہجے میں درد محسوس کرتے خُبیب سکندر پرسکون سا ہوا تھا۔۔۔۔جنت جواب کے انتظار میں اسے ایک ٹک دیکھ رہی تھی۔۔۔۔دونوں کتنی دیر پلک جھپکے بغیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔۔۔۔پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ جنت نے نظریں نہیں جھکائیں تھیں۔۔۔۔خُبیب سکندر نے ہلکا سا اسکے گالوں کو چھوا تھا۔۔۔۔ جس پر وہ اپنے حواسوں میں پلٹی تھی۔۔۔

اب وہ شرمندہ سی سوپ کا پیالہ پکڑے کپکپاتے ہاتھوں سے چمچ انکے منھ کی طرف بڑھایا ۔۔۔اگر وہ اپنے ہاتھ سے چمچ نہ پکڑتا تو شاید سوپ اس پر ہی گرا دیتی ۔۔۔۔۔میں پہلے سے بہتر ہوں۔۔۔۔ یہ مجھے دو میں خود پی لوں گا۔۔۔۔

نہیں میں پلا دیتی ہوں۔۔۔۔ وہ سوپ کا پیالہ پکڑے بیڈ پر انکے پاس جگہ بناتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔۔وہ چمچ کے ساتھ اسے وقفے وقفے سے پلا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ تھوڑا سا پینے کے بعد اس نے منع کر دیا تھا ۔۔۔۔

اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔آپ کو میں کچھ اور بنا لاتی ہوں۔۔۔جنت سوپ کا پیالہ ۔۔۔۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی۔۔۔ خُبیب سکندر نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔میں آپکو میڈیسن دیتی ہوں۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے اپنے کوٹ کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔ اب سر اور جسم میں شدید درد سے اس سے بولا بھی نہیں جارہا تھا۔۔۔۔

جنت نے گلاس میں پانی ڈالتے ہوئے کوٹ میں سے میڈیسن نکال کر ان سے پوچھ پوچھ کر منھ میں ڈالتی ہوئی اسے پانی پلا رہی تھی۔۔۔۔

اب آپ لیٹ جائیں جنت اسے سیدھا کرتے ہوئےاٹھی تھی۔۔۔ خُبیب نے اشارے سے تکیہ درست کرنے کا کہا تھا۔۔۔۔جنت نے جلدی سے تکیہ درست کیا کہ کہیں مقابل غصے میں اسے ڈانٹ نہ دے۔۔۔خُبیب سکندر اب اپنے ہاتھ سے ماتھے کو مسلنے لگا۔۔۔

سر میں درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔وہ وہی کرسی پر بیٹھ کر سر دبانے لگی۔۔۔۔اے سی کی سپیڈ تیز کر دو ۔۔۔۔ جنت ریموٹ پکڑے اسکے منھ کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔وہ مجھے نہیں کرنی آتی وہ ریموٹ خُبیب سکندر کو پکڑاتے ہوئےصاف گوئی سے بولی تھی۔۔۔۔خُبیب سکندر نے سپیڈ بڑھا کر ریموٹ اسے پکڑیا تھا۔۔۔۔۔آپ پر چادر اڑھا دوں ۔۔۔۔ وہ ریموٹ پکڑتے ہوئے بولی۔۔۔۔

خُبیب سکندر نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔ اب وہ چادر سینے تک دیتی خود کرسی پر بیٹھ کر سر دبانے لگی تھی۔۔۔۔۔

انہیں تو روشنی میں نیند نہیں آئے گی۔۔۔ساتھ ہی وہ لائٹ آف کرتے وہ واپس کرسی پر بیٹھتے اسکا سر دبانے لگی تھی۔۔۔۔۔

****************************************

خُبیب سکندر ۔۔۔۔ ٹیبل پر پینسل تیزی سے گھما رہا تھا۔۔۔۔۔ڈیڈ کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ جلدی آفس آ گیا تھا۔۔۔ دوسرا عادل صاحب ۔۔۔۔کو بھی ٹائم دیا تھا دو گھنٹے سے بیٹھا ان کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ابھی تک وہ آئے نہیں تھے۔۔۔۔

سر میں اب بھی ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا۔۔۔۔صبح سب کے منع کرنے کے باوجود بھی وہ آ گیا تھا۔۔۔۔ ہر دس منٹ کے بعد اپنی بیوی کے میسج پڑھ کر گہرا مسکرایا تھا۔۔۔۔

رات کس طرح اسکی فکر میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ صبح اسے سوتا چھوڑ کر ہی آ گیا تھا اگر وہ جاگ رہی ہوتی تو اس کے لئے آنا مشکل ہو جاتا۔۔۔۔

کہیں سے نہیں لگتا تھا کہ وہ سولہ سالہ لڑکی ہے پوری عورتوں کی طرح سمجھ رکھتی ہے۔۔۔۔

اور اس کے ساتھ ساتھ سخت جان بھی تھی۔۔۔۔ کس طرح رات اسے سیدھا کیا تھا۔۔۔۔

پھر بھی پتہ نہیں اسکے لئے میرےدل میں نرم گوشہ کیوں نہیں پیدا ہوتا۔۔۔۔؟

موبائل پر بیل ہونے سے اسنے موبائل پر اسکا نمبر دیکھ کر کال ریسیو کی تھی۔۔۔۔

دوسری طرف بس سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔ وہ سمجھ گیا تھا۔۔۔۔ کہ وہ اسکے خوف کی وجہ سے نہیں بول رہی۔۔۔

بولو۔۔۔۔

خُبیب سکندر اپنا لہجہ بہت حد تک نرم رکھتے ہوئے کہد۔۔۔۔۔جو شاید نہ چاہتے ہوئے بھی سخت ہو جاتا تھا۔۔۔۔۔ وہ آپ کی طبعیت ٹھیک ہے وہ روتے ہوئے بمشکل بولی تھی۔۔۔ ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔

تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔؟

یہ سنتے ہی وہ اور تیزی سے رونا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔رونے کی آواز سن کر اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے چپ کیسے کروائے۔۔۔۔۔؟

آپ بول کیوں نہیں رہے وہ اور شدت سے رونے لگی تھی۔۔۔۔ ؟

اچھا چپ خاموشی سے میری بات سنو۔۔۔۔ میں رات کو نو بجے سے پہلے آ جاؤں گا تم تیار رہنا ہم کھانا باہر کھائیں گے۔۔۔پپ۔۔۔۔ پر مجھے تو بخار ہے۔۔۔وہ اور بھی زیادہ شدت سے رونے لگی۔۔۔۔۔ اچھا اب چپ بھی کرو وہ بچوں کی طرح اسے بہلانے لگا۔۔۔۔ایک گیسٹ آ رہے ہیں میں ان سے مل کر پھر بات کروں گا ۔۔۔اب تم والدہ کے پاس چلی جاؤ۔۔۔۔

یہ کہتے ہوئےاس نے کال کاٹ دی تھی۔۔۔۔

اتنی دیر میں عادل صاحب ۔۔۔۔۔۔ہلکی سی ناک کرتے روم میں انٹر ہو ئے تھے۔۔۔۔۔

سوری بیٹا۔۔۔۔ اصل میں میرے ماموں بھی یہی رہتے تھے۔ ان کی تو ڈیتھ ہو گئی تھی ۔۔۔ لیکن انکی ایک بیٹی تھی۔۔۔سو چا ۔۔۔۔ پہلے اس سے مل لیتا ہوں۔۔۔۔ لیکن وہاں جا کر پتہ چلا کہ وہ گھر اسنے بیچ دیا ہے۔۔۔اور وہ کہیں اور شفٹ ہو گئی ہے۔۔۔۔بس اسی وجہ سے دیر ہو گئی ۔۔۔۔

اب تم بتاؤ اتنا ضروری کیا کام تھا۔۔۔۔؟

جو اتنی ایمر جنسی میں بلا یا ہے۔۔۔۔

انکل ۔۔۔۔کوئی اتنی خاص بات نہیں آپ بیٹھیں اس نے کھڑے ہو کر انہیں بیٹھنا کا کہا خود کرسی کی بیک پکڑے کھڑا تھا۔۔۔۔آپ کو کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی آنے میں ۔۔۔۔۔ نہیں بیٹا ۔۔۔۔ماشااللہ مجھے یہ سب دیکھ کر بڑی خوشی ہو رہی ہے۔۔۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور کامیابیوں سے نوازے۔۔۔ اس سے قبل وہ کچھ کہتے خُبیب سکندر نے بلند آواز میں کہا۔۔۔ آمین ۔۔۔۔

کہو بیٹا میں تمہارے کس کام آسکتا ہوں۔۔۔۔ ؟

انکل ۔۔۔۔۔ اصل میں مجھے آپ کی فیور چاہئے۔۔۔۔

سب سے پہلے تو معزرت کہ میں نے آپکو زحمت دی ڈیڈ ہوتے تو میں خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔۔۔۔۔

”کیا مطلب وہ کہاں ہیں ۔۔۔؟”

عادل صاحب پریشانی سے گویا ہوئے۔۔۔۔ خُبیب سکندر انکی پریشانی کو بھانپتے جلدی سے بولا وہ عمرے کرنے گئے ہیں ۔۔۔۔

عادل صاحب ۔۔۔اسکی بات سن کر کچھ پر سکون ہوئے تھے۔۔۔۔

بتاؤ۔۔۔۔

”میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں۔۔۔۔ ؟”

انکل اصل میں مجھے دس محنتی اور قابل اعتبار لڑکے چاہئے۔۔انکا اتنا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں بس تھوڑا بہت لکھنا پڑھنا جانتے ہوں۔۔۔۔

ان کو رہائش کھانا پینا فری۔۔۔۔ اور تنخواہ بھی معقول ہو گی۔۔۔۔

ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔۔ اسکا بندوبست ایک ہفتے میں ہو جائے گا۔۔۔۔۔ اور دوسری بات ۔۔۔۔ جو میں نے گاؤں کے بلکل ساتھ زمین خریدی تھی۔۔۔ اسنے نقشہ نکالتے ہوئے عادل صاحب کی طرف بڑھایا۔۔۔ میں چاہتا ہوں اس میں آڑھائی اڑھائی مرلے کے دس گھر آپ تیار کروا دیں۔۔۔۔

اس نقشے کے مطابق۔۔۔۔

بیٹا اتنے گھروں کا تم کیا کرو گے۔۔۔۔۔۔ ؟

گاؤں میں تمہارا اپنا گھر تو تقربیاً مکمل ہو چکا ہے وہ بھی تم دیکھنے نہیں آئے ۔۔۔انکل میں چاہتا ہوں مجھ سے پہلے وہ گھر میرے ڈیڈ دیکھیں۔۔۔

اگر آپ کی ڈیڈ کے ملاقات ہو جائے تو آپ ان سے کچھ بھی زکر نہیں کریں گے۔۔۔۔

بیٹا آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔۔۔

اتنے گھر کیوں بنوا رہے ہو ۔۔۔؟

انکل ضروت مندوں کے لئے۔۔۔۔ میرا مقصد زندگی میں پیسہ کمانا ہی نہیں نیکی کمانا بھی ہے۔۔۔۔۔ اتنی دیر میں ملازم چائے کافی سارے لوازمات کے ساتھ لے کر آیا تھا۔۔۔۔

بیٹا۔۔۔ یہ آپ نے اتنا تکلف کیوں کیا۔۔۔۔؟

میں نے جلدی گاؤں کے لئے نکلنا ہے۔۔۔ابھی کہاں ابھی تو کھانا بھی کھانا ہے۔۔۔؟

وہ چائے کا کپ انہیں پکڑاتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔۔نہیں بیٹا اگر زندگی رہی تو کھانا پھر کبھی کھاؤں گا۔۔۔۔

اسے عادل صاحب پہلی ہی ملاقات میں بہت اچھے لگے تھے۔۔۔۔ بے لوث محبت اپنائیت اور مروت کوٹ کوٹ کے بھری تھی۔۔۔ ایسے ہی بے لوث لوگ اسے اٹریکٹ کرتے تھے۔۔۔۔

اچھا بیٹا میں چلتا ہوں وہ چائے کا کپ رکھتے ہو ئے۔۔۔ اسے گلے سے لگایا تھا۔۔۔

خُبیب سکندر بھی نقشہ اٹھاتے ہوئے گاڑی تک انکے ساتھ آیاتھا۔۔۔

*******************************************

جنت رو رو کے بھی تھک گئی تھی رونے کی وجہ سے سر میں درد ہو رہا تھا۔۔۔۔سب اپنے اپنے کمروں میں سو چکے تھے۔۔۔۔

اور وہ لاؤنج میں صوفے پر بیٹھی خُبیب سکندر کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔یااللہ کس سے شکوہ کروں۔۔۔۔۔ کوئی بھی تو میرا اپنا نہیں۔۔۔۔ یا اللہ مجھے صبر کرنا سکھا دے ۔۔۔۔۔

رو رو کر بھی تھک جاتی ہوں۔۔۔ یااللہ میں نے اپنی زندگی میں دکھوں کہ سوا کچھ نہیں پایا۔۔۔۔اتنی سی عمر میں دل نے اتنی چو ٹیں کھا لی ہیں۔۔۔۔ اور دکھ سہنے کی ہمت نہیں رہی۔۔۔۔

یا اللہ۔۔۔ کیا میرے دکھوں کی رات اتنی طویل ہے جو ختم ہونے پر نہیں آ رہی۔۔۔۔؟

صبر کا پھتر دل پر رکھ کر پھر رہی ہوں۔۔۔ پھر بھی دن نہیں بدل رہے۔۔۔۔ ہر آنے والا دن ایک نئی مشکل لے کر آتا تھا۔۔۔۔ اب تو شاید میں ہنسنا ہی بھول گئی ہوں۔۔۔۔

امی مجھے خاموش پا کر میرا جینا حرام کر دیتی تھیں ۔۔۔۔ اور میں انکو خوش کرنے کے لئے پاگلوں کی طرح۔۔۔۔ہنستی رہتی تھی۔۔۔۔ اب کسی نے کبھی پوچھا ہی نہیں ان آنکھوں میں نمیکی وجہ ۔۔۔۔۔کبھی اس کے شوہر نے محسوس نہیں کی کسی دوسرے سے کیا توقع۔۔۔ اسنے ڈوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو صاف کئےتھے۔۔۔۔۔

اب وہ تھک ہار کر روم میں آ گئی تھی۔۔۔۔ کمرے کی لائٹ تو آن تھی یہ آف کس نے کی۔۔۔۔۔ ؟

ہو سکتا ہے میں نے کر دی ہو ۔۔۔۔

اب لائٹ آن کرکے خود کو ڈریسنگ مرمر میں دیکھ ر ہی تھی۔۔۔ رونے سے کاجل پھیل کر ساری آنکھیں کالی ہو گئی تھیں۔۔۔۔وہ جو میرون سوٹ پہن کر بڑے اہتمام تیار ہوئی تھی۔۔۔۔ اپنی ساری تیاری بے کار لگی تھی۔۔۔۔

وہ چوڑیاں اتار کر غصے سے ڈریسنگ ٹیبل پر پھینک رہی تھی۔۔۔۔۔ مجھے تو لگتا ہے میری قسمت کو ویسے ہی گرہن لگا ہوا ہے۔۔۔۔۔ اب مجھے گرہن زدہ قسمت کے ساتھ ہی جینا ہے۔۔۔۔ آنسو جو اسکے گلابی گالوں پر موتیوں کی طرح ٹوٹ کر گر رہے تھے۔۔۔۔

”کہتے ہیں روتی عورت پر یقین نہیں کرنا چاہئے ۔۔۔۔ ”

خُبیب سکندر کی آواز پر اسنے چونک کر دیکھا۔۔۔۔

یہ کب آئے۔۔۔؟

جو مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

”پھر تو آپ نے یہ بھی سنا ہو گا کہ ہنستے مرد پر بھی یقین نہیں کرنا چاہئے ۔۔۔۔”

اور ویسے بھی میں عورت نہیں ہوں لڑکی ہوں۔۔۔۔۔ وہ تپ کر بولی تھی۔۔۔۔۔ اسکے عورت کہنے پر اس کے تن بدن کو آگ لگ گئی تھی۔۔۔۔ جس پرخُبیب سکندر ۔۔۔کی مسکراہٹ ایک دم سمٹی تھی اسکے بگڑے ہوئے تیور دیکھ کر سٹل ہوا تھا۔۔۔۔۔ وہ بڑے اعتماد سے کھڑی تھی۔۔۔۔ وہ اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے۔۔۔۔۔ واش روم کا دروازہ دھاڑ سے بند کر گیا تھا۔۔۔۔

جس پر جنت نے اپنے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں زور سے میچی تھیں۔۔۔۔

********************************************