Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 6)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 6)
Ehsaas By Raheela Bano
جب سے اسے ہوش آیا تھا ۔وہ مسلسل رو رہی تھی ۔خُبیب سکندر ۔۔۔۔اسے روتا دیکھ کر اسکے قریب آیا تھا۔۔
اب کیا مسٔلہ ہے۔۔۔۔؟
وہ دانت پیستے ہوئے بولا۔۔۔ مم۔۔میرا اصل نام اِزناصدیق ہے ۔میری امی مجھے پیار سے جنت کہتی تھیں۔ انکل نے ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ ڈیڈ نے کہا تھا۔۔۔کہ نکاح نامے پر اصل نام لکھا جائے گا۔۔۔ وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بمشکل بتا رہی تھی۔
ڈیڈ کو یہ کیوں نہیں بتایا کہ تم بھکارن ہو۔۔۔۔؟
خُبیب سکندر۔۔۔ کے بھکارن کہنے پر جنت تڑپ کر بیڈ سے نیچے اتری تھی۔۔۔۔۔ بھکارن ہوں کسی کوٹھے کی زینت نہیں تھی جو آپ کے قدموں میں ڈال دی گئی ہوں۔۔۔ جنت سے بار بار اپنے لئے لفظ بھکارن برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔خُبیب سکندر ۔۔۔۔نے اسکے منھ زور دار تھپڑ جڑ دیا تھا۔ جنت چکراتے سر کے ساتھ قدم پیچھے کو لیتے ہوئے دیوار کے ساتھ جالگی تھی۔۔خُبیب سکندر ایک ہی جست میں اس تک پہنچا تھا۔۔۔
ایک ہاتھ دیوار پر رکھتے دوسرے ہاتھ سے اسکے ہونٹ بے دردی سے مسل رہا تھا۔۔جنت کی سسکیاں گلے میں ہی گھونٹ دی تھیں۔اگر اب زبان چلائی تو کاٹنے میں دیر نہیں لگاؤں گا۔۔۔
جنت کے منھ سے لفظ کو ٹھے والی سن کر پاگل ہی تو ہو گیا تھا۔۔۔۔ اسنے جنت کو بازو سے گھسیٹتے ہوئے۔۔۔ساتھ والے روم میں لے جا کر بیڈ پر دھکا دیا تھا۔
آج کے بعد تم اس کمرے میں رہو گی۔۔۔ کو شش بھی مت کرنا میرے کمرے میں آنے کی ورنہ پل نہیں لگاؤں گا تمہاری جان لینے میں۔۔۔۔۔وہ دھاڑ سے دروازہ بند کرتے روم سے باہر کی سمت بڑھا تھا۔۔۔جنت وہی بیڈ پر اوندے منھ لیٹے زارو قطار رو رہی تھی۔
یا اللہ کیا میں ساری زندگی ایسے ہی روتی رہوں گی۔۔۔۔؟
میرے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔۔۔۔ اگر انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا تو میں کہاں جاؤں گی۔۔۔۔۔ ؟
اماں نے کہا تھا ۔۔۔۔ کچھ بھی ہو جائے شوہر کا گھر نہیں چھوڑنا۔۔۔۔۔ نہیں میں سب سہہ لوں گی۔۔۔پر اب یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔ اتنی دیر میں آذان شروع ہوگئی تھی ۔وہ بیٹھ کر آذان سننے لگی۔۔۔ یااللہ بس اس پہر میری یہ ہی دعا ہے کہ مجھے بے سہارا نہ کر نا۔۔۔۔ روتے ر وتے اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔
کتنی دیر رونے کے بعد وہ اپنے آنسو صاف کرتے نماز کے لئے اٹھی تھی۔۔۔۔ ان چار سالوں میں صبح کا اجالا اسکے لئے روشنی نہیں تاریکی بن کےہی نکلتا تھا۔۔۔۔
**********************************************
جنت کمرےکو ستائشی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔اتنا خوبصورت کمرہ اسنے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔۔۔ وہ تو اماں کے گھر کو بہت خوبصورت سمجھتی تھی۔۔۔
اسنے رات اس محل نما گھر کو دیکھتے ہوئے ماشااللہ کہا تھا۔۔۔۔۔ وہ کمرے کی ایک ایک چیز کو گھوم کر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ کمرے میں بلیک اور گرےرنگ کا جہازی سائیذ کا بیڈ ۔۔بلیک کلر کی دو بڑی بڑی کرسیاں ۔ ان کے درمیان میں شیشے کا ٹیبل جس پر بڑا سا گلدان رکھا ہوا تھا۔۔۔بیڈ کی ایک سائیڈ پر ڈریسنگ ٹیبل۔۔۔۔ اور کمرے میں گرے پردے بہت ہی خوبصورت لگ رہے تھے۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔؟
وہ فوزیہ سکندر کی آواز پر چونکی تھی۔
اسلام و علیکم ! آنٹی جنت سے کوئی جواب نہیں بن پا رہا تھا ۔اس نے مسکراتے ہوئے جلدی سے سلام کیا۔۔۔۔۔
وعلیکم اسلام ! فوزیہ سکندر۔۔۔ نے اس کے چہرے پر انگلیوں کے نشان دیکھتے نظریں چرائیں تھیں۔تم اس کمرے میں کیا کر رہی ہو ۔۔۔خُبیب اٹھ گئے ہوں گے۔تم اسکے پاس جاؤ اسے کسی چیز کی ضروت تونہیں۔۔۔اور آئیندہ اسکی موجودگی میں تم مجھے اس کے کمرے کے علاوہ کہیں بھی نظر نہ آنا۔۔۔
وہ آنٹی۔۔۔۔آج کے بعد تم مجھے آنٹی نہیں موم کہو گی۔۔۔۔۔فوزیہ سکندر اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی بول پڑی تھی۔ جی کہتے ہویے جنت نے نظریں جھکائیں تھیں۔
چلو شاباش !اب اپنے روم میں جاؤ۔۔۔ وہ مم۔۔۔میرے پاس ڈوپٹہ نہیں ہے۔ جنت اٹکتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔ او ۔۔۔۔ہو ۔۔۔ چلو میں کچھ کرتی ہوں۔۔۔۔۔ ایسا کرو تم خُبیب سے کہہ کر منگوا لینا۔۔۔۔۔ بیگم صاحبہ ۔۔۔۔بڑے سر آپکو بلا رہے ہیں ملازمہ انہیں بلانے آئی تھی۔ چائے بنا دی ہے انکی۔۔۔۔ وہ ملازمہ سے پوچھ رہی تھیں۔۔۔ جی میں دے آئی ہوں۔۔۔۔ میں نے بنانے کے لئے کہا تھا دینے کے لئے نہیں۔۔۔ او گاڈ۔۔۔۔۔ اب وہ غصہ ہونگے۔۔۔ فوزیہ سکندر ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے جلدی سے اپنی گولڈن ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔۔۔
جنت نے انگلیاں مروڑتے ہوئے وال کلاک پر ٹائم دیکھا دن کے دس بج رہے تھے۔۔۔۔۔ ہو سکتا ہے وہ اب روم میں نہ ہوں۔۔۔ اپنے دل کو تسلی دیتے ہوئے وہ روم کی طرف بڑھی تھی۔
**********************************
خُبیب سکندر۔۔۔۔ڈریسنگ مر مر کے سامنے کھڑا اپنے بال سیٹ کر رہا تھا۔۔۔ اچانک دروازہ کھلنے کی آواز پر چونک کر دیکھا تھا۔ اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر اس کا میٹر ہی گھوم گیا تھا۔۔۔وہ جیسے ہی اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔
مم مجھے مارنا مت وہ دونوں ہاتھ اپنے منھ پر رکھ گئی تھی۔۔۔خُبیب سکندر نے اسکے اس طرح ایکٹ پر سلگتی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔۔
وہ جو اب تھر تھر کانپ ر ہی تھی۔خُبیب سکندر نے اسے بازو سے پکڑتے اپنی طرف کھینچا تھا۔۔ مم۔۔۔ مجھے موم نے کہا ہے ۔۔ کہ میں آپ کی موجودگی میں کمرے میں رہوں میں آپ کو۔۔۔۔تت۔۔۔تنگ نہیں کک۔۔۔کروں گی۔آپ جج۔۔۔جو۔۔۔ کہیں گے۔۔۔ مم۔۔۔میں ۔۔۔وہ کروں گی۔۔
وہ اٹک اٹک کر بمشکل رندھی ہوئی آواز میں بولی تھی۔ مجھے ایسی لڑکی کی ضرورت ہے ۔جو میرا کام بغیر کہے کرے۔۔۔ خُبیب سکندر اسکی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں د یکھتے ہوئے بولا۔ پہلی بار وہ اسے اتنی قریب سے دیکھ رہا تھا گلابی پھولے پھولے گال۔۔۔۔ گول فیس پرچھوٹی سی ناک۔۔۔ گلابی ہونٹ وہ سچ میں کوئی شہزادی لگ رہی تھی۔
لیکن اس وقت اسے زہر کی حد تک بری لگ رہی تھی۔۔۔ اس نے جھٹکے سے اسکی بازو کو چھوڑا تھا۔ جنت گرتے گرتے بچی تھی۔۔ دور ہو جاؤ میری نظروں سے۔۔۔۔خُبیب سکندر دبی آواز میں چیخا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے مم۔۔۔ میں آپ کا ہر کام آپ کے کہے بغیر کروں گی۔۔۔۔ وہ اپنے آنسو ہتھیلیوں سے صاف کرتے بولی۔۔۔۔
خُبیب سکندر ۔۔۔۔ نے اس چھٹانک بھر کی لڑکی کو دیکھا۔ جو اسکے مقابل آئی تھی۔۔۔اسنے ایک ہی جست میں اس کا جبڑا دبوچا تھا۔ اس کمرے میں ر ہنے کا مطلب جانتی ہو۔
جنت نے اسکی بات کامطلب سمجھے بغیر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔۔اسکے اس طرح سر ہلانے پر خُبیب نے بے دردی سے بیڈ پر دھکا دیا۔۔۔ کمرے کو لاک کرتے ہوئے وہ بیڈ کی طرف بڑھا ۔۔۔۔ جنت اسے غصے میں دیکھ کر اپنے دونوں ہاتھ منھ پر رکھ گئی تھی۔۔۔۔
**********************************
دو گھنٹے ہونے کو تھے جنت کی حالت اب کچھ سنبھلی تھی۔ تھی فوزیہ سکندر پریشان سی کرن کو دیکھ رہی تھی۔ موم پریشانی کی بات نہیں ۔۔۔ بس خوف کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی ہیں۔۔۔ یہ آپ کے چہرے پر نشان کس چیز کا ہے ۔
وہ میں گر گئی تھی۔ جنت اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ فوزیہ سکندر کو اس چھوٹی سی لڑکی پر بہت تر س آیا تھا۔۔۔ جو اسکے بیٹے کے خوف سے جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔
اسکا بیٹا غصے والا تو تھا۔۔۔۔لیکن اتنا بے رحم ہو گا یہ اسنے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔
دھاڑ سے دروازہ کھلنے کی آواز پر فوزیہ سکندر نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔ خُبیب سکندر کو اندر آتے دیکھ کر جنت بری طرح سہم گئی تھی۔۔۔۔
خُبیب سکندر کو دیکھتے فوزیہ سکندر نے ایک قہر بھری نظر اس پر ڈالتے روم سے باہر کی طرف بڑھی ۔۔۔۔اسکے پیچھے کرن اپنا میڈیکل باکس اٹھا ۔۔۔۔کر جانے لگی تھی۔۔۔ دونوں کے قدم خُبیب سکندر کی آواز پر تھمے تھے۔۔
میری اجازت کے بغیر میرے کمرے میں کوئی بھی داخل ہوا مجھ برا نہیں ہو گا۔۔۔۔اور باقی سب کو بھی بتا دینا۔۔۔ فوزیہ سکندر اپنے بیٹے کی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھ کر مرنے والی ہوئی تھی ۔
اس سے زیادہ سننے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔ وہ اپنے آنسو ضبط کرتے ہو ئے کمرے سے باہر کی سمت تیزی سے بڑھی۔۔۔موم ۔۔۔۔ کرن بھی تیزی سے دروازہ بند کرتے ہوئےانکے پیچھے بڑ ھی تھی۔۔۔۔
**********************************
خُبیب سکندر کا غصہ کسی طور پر بھی کم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ اسنے پاس پڑا گلاس اٹھا کردیوار پر مارا تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل کی ساری چیزیں زمین پر پھینک دی تھیں۔
جنت اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے شدت سے رو ہی تھی۔ خُبیب سکندر نے ایک نظر بیڈ پر بیٹھے نازک وجود کو دیکھا۔ جس پر وہ بڑی بے رحمی سے اپنا سارا غصہ اتار چکا تھا۔
اس کا ہچکولے لیتا وجود اسکے طیش میں مزید اضافہ کر گیا تھا۔ اگر تمہارے رونے کی آواز میرے کانوں میں پڑھی۔۔۔۔ میں تمہارہ اس سے بھی برا حال کروں گا ۔۔۔ جنت اسے اپنے قریب آتے دیکھ کر کھسکتے ہوئے بیڈکراؤن کے ساتھ جالگی تھی۔
بیڈ پر اپنا ایک گھٹنہ رکھتے ہوئے اسنے اسکو بازو سے بے دردی سے کھینچا۔۔۔ جنت اسکی بے رحمی پر تڑپ گئی تھی۔ شاور لیا ہے ۔خُبیب سکندر نے سرد لہجے میں پوچھا ۔۔۔ جس پرجنت نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
کیوں۔۔۔۔۔؟
وہ میں جا رہی ہوں۔۔۔ وہ کپکاتے لبوں سے بولی تھی۔
تھوڑی دیر تک بیوٹیشن آنے والی ہے۔ میں دو گھنٹوں تک تمہیں لینے آؤں گا۔۔ اگر تیار نہ ہوئی تو اگلی سزا کے لئے تیار رہنا۔۔۔یہ کہتے ہوئے سائیڈ ٹیبل سے گاڑی کی چابی اٹھا کر دھاڑ سے دروازہ بند کرتے باہر کی سمت بڑھا۔۔۔
*************************************************
خُبیب جب واپس آیا تو بیڈ پر بیٹھی اپنی بیوی کو دیکھا جو ہاتھ میں میکسی پکڑے رو رہی تھی۔۔ اور بیو ٹیشن دیوان پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے موبائل دیکھنےمیں مصروف تھی۔
انکو اس طرح بیٹھے دیکھ کر اس کا پارہ چڑھ گیاتھا۔۔۔ بیو ٹیشن خُبیب سکندر کو غصے میں دیکھ کر کھڑی ہوئی تھی۔وہ سر میم کو ڈریس سے ایشو ہے ۔اس لئے وہ تیار نہی ہو ر ہیں۔ یہ بات تم مجھے کال کر کے بھی بتا سکتی تھی۔
جاؤ اب لیکن سر۔۔۔۔ کہا نہ جاؤ۔۔۔۔ وہ بیوٹیشن کی بات سنے بغیر بولا ۔۔۔۔ جنت کی اب جان لبوں پر آئی تھی۔ بیوٹیشن اپنا سامان اٹھا کر غصے سے روم سے باہر کی طرف دروازہ کھلا چھوڑکر ہی بڑھ گئی تھی۔
دروازہ بند کرو خُبیب سکندر ۔۔۔۔نے اسے حکم صادر کیا تھا۔ جنت دروازہ بند کر کے جب واپس پلٹی تو اس نےکال کر کے موبائل بیڈ پر پٹخا تھا
اب تمہیں اس ڈریس سے کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔؟
خُبیب سکندر ۔۔۔جھنجلا کے بولا تھا۔
اسکا گلا بہت بڑا ہے۔ اور بازو بھی بہت باریک ہیں۔میں اتنا بیہودہ ڈریس نہیں پہنوں گی وہ اسے ڈریس دیکھاتے ہوئےاٹل لحجے میں بولی۔
اس کے اٹل لہجے پر اسنے اسے گھور کر دیکھا تھا۔ میں تمہیں پارلر چھوڑوں گا اور وہی تمہارا ڈریس آجائے گا۔۔۔۔چلو اٹھو۔۔۔۔ جلدی کرو فنکشن شروع ہو گیا ہے ۔
مجھے بھوک لگی ہے ۔میں نے کل سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔ وہ اسے نرم پڑتا دیکھ کر بولی۔ نقاہت سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔کہا نہ جلدی کرو راستے میں کچھ لے دونگا۔۔۔ وہ اس کے زرد چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
میرے پاس ڈوپٹہ بھی نہیں ہے۔میں ڈوپٹے کے بغیر باہر نہیں جاؤں گی۔۔۔
وہ جتنی جلدی کر رہا تھا۔ یہ بھکارن اتنی ہی دیر کروا رہی تھی۔وہ اسے بازو سے پکڑتے دو قدم آگے بڑھا ہی تھا۔۔۔ کہا نہ میں ڈوپٹے کے بغیر باہر نہیں جاؤں گی اب کی بار وہ چیختےہوئے ضدی لہجے میں بولی تھی ۔
لہنگے کے ساتھ کا ڈوپٹہ ہے نہ وہ لے کر جلدی سے آؤ میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس پر سختی کر کے اسے لیکر اسکی آنکھوں میں کسی بھی قسم کا خوف ہو۔۔۔۔جو اسے دیکھتے ہی اس پر طاری ہو جاتا تھا۔
اب بھی وہ اسے سہمی سہمی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ سنا نہیں ہے کیا کہا ہے میں نے وہ بہت حد تک اپنا لہجہ نرم رکھتے ہوئے بولا۔۔۔
اسکی بات سنتے وہ تیزی سے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی تھی۔
***********************************************
