Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 4)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 4)
Ehsaas By Raheela Bano
آج ماں جی۔۔۔۔۔خُبیب کو دیکھنے آ ئیں تھیں۔۔۔۔ہارون سکندر ۔۔۔ نے خُبیب سے نکاح کی رضامندی اپنی قسم ڈال کر لی تھی۔۔۔اس بات سے اسے لاعلم رکھا کہ اس کا نکاح کس لڑکی سے کرنا ہے۔۔۔دوسری طرف ماں جی ۔۔۔۔جنت کو منانے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔۔۔آج وہ خُبیب کو دیکھنے آئی تھیں۔۔۔
ماں جی ۔۔۔۔ کی باتوں کے سحر میں سب اسقدر جکڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔فوزیہ سکندر ۔۔۔۔اب صحیح معنوں میں پریشان ہوئی تھیں ۔۔۔خُبیب کی ابھی تک آمد نہیں ہوئی تھی۔ شام کے پانچ بج گئے تھے۔۔۔۔ پتہ نہیں یہ لڑکا کیا چاہتا ہے۔۔۔؟
ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی۔۔۔ اسلام و علیکم۔۔۔۔!! کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا۔۔۔ باپ بیٹا دونوں بڑی شان سے آرہے تھے۔۔۔ فوزیہ سکندر نے بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس اپنے خوبرو شہزادے کو دیکھا۔۔۔جو اپنی عمر سے اسے بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔!! سلام کا جواب دیتے ہوئے ماں جی نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا تھا۔۔۔۔۔
غرض نئیں تیری دولت نال
نہ ہی تیرے مکھڑے نال
جے توں من دا سُچا ہووے
دھی ویاواں تیرے نال
ماں جی کے شعر پر سب نے واہ واہ کی کرن اورعینا زور زور سے تالیاں بجا نے لگی۔۔۔ آپ اس بات کی فکر ہی نہ کریں۔۔۔ میرے بھائی جیسا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے عینا یہ کہتے ہوئے ماں جی کے گلے لگی تھی ۔۔۔ میری بیٹی جیسا بھی دنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ماں جی کا بولتے ہوئے لہجہ نم ہوا تھا۔۔۔۔
اس میں شک نہیں ماں جی۔۔۔۔ فوزیہ سکندر مسکراتے ہوئے بولی تھیں ۔خُبیب سکندر ۔۔۔۔نے اپنی ماں کو دیکھا۔۔۔۔ جسکو بہت کم لوگ پسند آتے تھے۔۔۔
ماں جی پھر ہاں سمجھیں عینا چہک کر بولی تھی۔۔۔۔
“ہاں پچے ۔۔۔۔ “
یہ سنتے ہی کمرہ تالیوں کی آواز سے گو نجا تھا۔۔۔۔ مٹھائی ۔۔۔ماں جی یہ منھ میٹھا کریں۔۔۔ عینا نے برفی کا پیس ماں جی۔۔۔۔ کے منھ میں ڈالا تھا۔۔۔ پھر باری باری سب کا منھ میٹھا کروانے لگی۔۔۔
بھائی کا تو منھ میٹھا کروا دو۔۔۔۔۔۔ ماں جی۔۔۔۔ بڑے پیار سے خُبیب کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔ماں جی بھیا کو میٹھا پسند نہیں ہے ۔۔۔وہ اپنی دائیں آنکھ ونک کرتے بولی۔۔۔۔
اسے کیوں نہیں پسند۔۔۔۔۔؟
ادھر لاؤ میں کھلاتی ہوں ۔۔۔۔وہ اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ماں جی آپ بیٹھیں۔۔۔۔ یہ ایسے ہی مزاق کر رہی ہے۔۔۔ خُبیب سکندر اسے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔
ماں جی۔۔۔۔ ان کے کمرے میں مٹھائی کبھی ختم ہی نہیں ہوئی اب بھی جا کر دیکھ لیں پڑی ہوگی۔۔۔
بس شادی کی مٹھائی کھلانے میں لیٹ کر دی حدید سکندر کا قہقہ بلند ہوا تھا۔۔
ماں جی ان سب کو چھوڑیں میری بات سنیں۔۔۔ اس سنڈے کو بارات لیکر آ جائیں ۔۔۔۔۔عینا کے تو پاؤں ہی زمین پر نہیں لگ رہے تھے۔
میری بچی۔۔۔۔میری طرف سے بے شک کل ہی لے آؤ۔۔۔۔ ماں جی نے بڑی خوشدلی سے کہا تھا۔
ڈیڈ۔۔۔ ڈیٹ بھی ابھی فکس کر دیں۔۔۔ عینا چٹکی بجاتے ہوئے بولی۔۔۔ حدید نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔
“ٹھیک ہے ماں جی۔۔۔”
میں اپنے داماد سے مشورہ کرکے آپکو ڈیٹ بتا دونگا۔۔۔۔ہارون سکندر۔۔۔۔ کی بات پر سب کی مسکراہٹ ایک دم سمٹی تھی۔ڈیڈ۔۔۔۔وہ ہر کام میں لیٹ کرواتے ہیں۔عینا اور حدید بیک وقت بولے تھے۔فوزیہ سکندر۔۔۔۔ انکی بات کامطلب سمجھتے ہوئے گہرا مسکرائی تھیں۔۔۔۔
خُبیب سکندر ۔۔۔۔۔ ان سب کو الجھتا دیکھ کر باہر کی سمت بڑھا تھا۔۔۔۔
***************************************
جنت تم رو کیوں رہی ہو ۔۔۔۔ ؟
اٹھ شاباش!
چل منھ دھو کے آ ۔۔۔۔۔ دیکھ تیرے نکاح میں تین دن رہ گئے ہیں۔۔۔۔
وہاں بیٹھ کے روتی نہ رہنا اپنے شوہر کو کپڑے جوتے اور کھانا ٹائم پر دینا۔۔ اگر وہ کبھی تم پر غصہ کرے تو برداشت سے کام لینا۔۔۔۔ اپنے شوہر کا دل جیتنے کی کوشش کرنا۔۔۔شادی کے بعد تمہارا سب کچھ تمہارا شو ہر ہو گا۔۔۔۔
دیکھو سب تم سے کتنی محبت کرنے لگے ہیں ان کی قدر کرنا۔۔۔ اب تم نے اس گھر کی بڑی بہو ہونا ہے۔۔۔
ایک شوہر کو اور اسکے گھر والوں کو سنبھالنا ہے۔۔۔ اور سنو ۔۔۔۔ میلی کچیلی نہ رہنا۔۔۔ شوہر کے آنے سے پہلے لپ اسٹک لگا کہ اچھی طرح تیار ہونا۔۔۔۔ جب بھی وہ گھر آئے اس کے احترام میں کھڑی ہونا۔۔۔ اس سے تمہارے شوہر کے دل میں تمہاری محبت بڑھے گی۔۔۔
سن رہی ہو نہ میری بات۔۔۔۔اماں اسے نرمی سے سمجھا رہی تھیں۔
جنت صبح شام اماں کی نصیحتیں سن سن کر تھک گئی تھی۔۔۔۔اماں مجھے ڈر لگ رہا ہے وہ اتنے بڑے لوگ ہیں۔۔۔۔۔ مجھ جیسی غریب لڑکی سے اپنے بیٹے کی شادی کیوں کر رہے ہیں۔۔۔۔؟ اور وہ بھی اتنی جلدی۔۔۔۔ جنت شدت سے رو دی تھی۔۔۔ اپنی اماں پر بھروسا رکھ۔۔۔
تین بیٹیوں کی شادی کی ہے زمانہ دیکھا ہے۔۔۔ اتنی پرکھ ہے تیری اماں کو۔۔۔۔
نہیں اماں میرا یہ مطلب نہیں ہے۔ انکل تو بہت اچھے انسان ہیں جس طرح انہوں نے میری امی کا اور میرا خیال رکھا وہ میری جان بھی مانگیں تو میں حاضر ہوں۔۔۔ لیکن میں انکے بیٹے کی بات کر رہی ہوں۔۔۔۔۔
وہ مجھ جیسی لڑکی سے شادی کیوں کریں گے۔۔۔۔۔؟
وہ تو کسی بھی امیر لڑکی سے شادی کر سکتے ہیں۔۔۔۔ جنت بچے ناشکری نہ کرو۔۔۔۔ اللہ کو ناشکرے لوگ پسند نہیں ۔۔
اللہ تمہیں اس اندھیری کوٹھری سے روشن محل میں بھیج رہا ہے۔۔۔ اس محل کی قدر کرنا۔۔۔ اور ہر لمحے اللہ کا شکر آدا کیا کرو۔۔۔ اماں اب اسے سختی سے ڈانٹ رہی تھیں۔۔۔۔ اتنا سمجھانے کے بعد بھی اسکی سوئی وہی اٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔
تمہیں ان سب کی محبت دیکھائی نہیں دے رہی۔۔۔۔ کیسے تمہاری نند تمہارا منھ چوم چوم کر آدھی ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ جنت اماں کی باتیں سن کر بلک بلک کر رونے لگی۔۔۔۔ اس کا دکھ کسی کو دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔
ابھی اسکی ماں کو دنیا سے گئے دس دن ہوئے تھے۔وہ کس طرح سہاگ کا جوڑا پہن کر سجے گی ۔۔۔وہ یہ سوچ کر ہی مرنے والی ہو رہی تھی۔اوپر سے اماں کی باتیں سن سن کر اس کا خون خشک ہو رہا تھا۔
جنت۔۔۔ اماں کی آواز پر اس نے کرب سے آنکھیں بند کی تھیں۔ وہ مذید کچھ سننا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ اماں میں نہانے جارہی ہوں ۔۔۔۔ وہ یہ کہتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھی۔
***************************************
آج خبیب سکندر کی مہندی تھی پورے گھر کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ۔۔۔۔ ہارون سکندر۔۔۔۔ خود ہر چیز کو دیکھ رہے تھے۔ آخر انکے بڑے بیٹے کی شادی تھی۔۔۔ انہوں نے خُبیب سکندر کو ہر معاملے سے دور رکھا تھا۔۔۔۔۔
حدید نے تو صاف جواب دیا تھا کہ وہ کسی کام کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔۔۔۔
اس کی ابھی تک تیاری ہی کمپلیٹ نہیں ہوئی تھی۔۔۔ مہمان آنا شروع ہو گئے تھے۔
گھر کا کوئی بندہ ابھی تک تیار نہیں تھا۔ یہ خُبیب سب کیسے مینج کرتا تھا۔۔۔ جسے وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کے بس حکم دیتا تھا۔۔۔۔۔ آج اسے شدت سے احساس ہوا کہ یہ سب کتنا مشکل ہے۔آج ہارون سکندر کو اسکی سختی کہیں نہ کہیں صیحیح لگی تھی۔۔۔ہر بندہ اس کے ڈر سے ٹائم پر تیارتو ہو جاتا تھا۔
ڈیڈ ۔۔۔۔ وہ خبیب کی آواز پر پیچھے کی طرف مڑا تھا ۔۔۔ ماشااللہ۔۔۔۔۔ ہارون سکندر۔۔۔۔نے اسے گلے لگاتے ہوئے ماتھے پر لب رکھے تھے۔۔۔۔۔
ڈیڈ ۔۔۔۔ آپکے ارحم صاحب اپنی فیملی کے ساتھ آئے ہیں۔ تم ان سےملے نہیں۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔ انداز سرد اور سپاٹ تھا۔۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔؟
میری نظر میں انکی کوئی اوقات نہیں۔۔۔۔۔یار اتنا اچھا انسان ہے ۔۔۔ہارون سکندر ۔۔۔۔۔ نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔۔ لازمی تو نہیں جو آپ کی نظر میں آچھا ہے ۔وہ میری نظر میں بھی ہو۔۔۔ خُبیب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ۔۔ میں سمجھا نہیں خُبیب۔۔۔۔۔۔ ہارون سکندر۔۔۔۔ نےاپنی آنکھیں ٹیڑھی کر کے اسے دیکھا۔۔۔۔ڈیڈ جائیں آپ ایک تو میری ہر بات پر آپ سوچ میں پڑھ جاتے ہیں۔ اسنے تاسف سے سر جھٹکا تھا۔۔۔۔
اتنی دیر میں ارحم انکی طرف آتا دیکھائی دیا تھا۔۔ اسے دیکھتے ہی خُبیب کے ماتھے پر کئی بل سمٹے تھے۔۔۔۔۔
اور بھئی ہارون ۔۔۔۔ تمہارا بیٹا تو بہت بڑا آدمی ہے۔ سلام نہ دعا۔۔۔۔ اسکا یہ ہی انداز خُبیب سکندر کو برا لگتا تھا۔۔۔یہ آپکی ہی کی دعائیں ہیں ارحم صاحب۔۔۔۔ اپنے بیٹے کو بھی بتا دیا کرو۔۔۔۔ ارحم صاحب نے خُبیب کو دیکھتے ہوئے طنزیہ کہا تھا۔۔۔۔ میرا بیٹا بہت سمجھدار ہے ارحم صاحب۔۔۔۔ مجھ سے زیادہ پرکھنے کی صلاحیت رکھتاہے۔
دونوں میں کچھ ایسا تو ہوا ہے ۔جو خُبیب بتا نہیں رہا تھا ۔اسے کہیں نہ کہیں گڑ بڑ لگ رہی تھی۔۔ اس نے اپنے بیٹے کو کھو جتی نظروں سے دیکھا۔ جس کے چہرے کی سرخی بتا رہی تھی کہ وہ بڑے ضبط سے کھڑا ہے۔۔۔۔
اتن دیر میں حدید جو شور مچاتا ہوا آیا تھا بھائی آپ رسم سے پہلے ہی اسٹیج تک آ گئے ہیں۔۔۔۔ چلیں میرے ساتھ ہم بھنگرے کے ساتھ آپ کو لے کر آئیں گے ۔۔۔۔کیوں ارحم انکل۔۔۔۔۔؟
کاش ۔۔۔۔. !!
ارحم انکل آپ کی بیٹی ہوتی۔۔۔۔ میں نے آپ کا داماد بننا تھا۔۔۔۔وہ ارحم صاحب ۔۔۔۔۔ کے چہرے کے تاثرات دیکھے بغیر خُبیب سکندر کو بازو سے پکڑتا ہوا آگے بڑھا تھا۔۔
***********************************************
مہندی کا فنکشن ختم ہوگیا تھا۔۔۔گھر کے تمام افراد سونے کے لئے اپنے اپنے روم میں چلے گئے تھے۔۔۔۔ خُبیب سکندر ۔۔۔۔۔ وہی اسٹیج پر بیٹھا اپنے ڈیڈ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ جو بار بار اپنے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھ رہے تھے ۔
اسکے ڈیڈ نے کتنی محنت کی تھی۔۔۔۔۔ اس نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے گھر میں نوکر چاکر دولت کی ریل پیل دیکھی تھی۔۔۔۔۔ اس نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اسکےڈیڈ نے اتنا کٹھن وقت دیکھا تھا۔
کس طرح ارحم صاحب نے سب مہمانوں کے سامنے اس کا. تعارف کروایا تھا۔۔۔ کہ اسکے باپ کو اسنے جیل سےآزاد کروایا تھا۔جو چوری کے الزام میں پکڑا ہوا تھا۔ ورنہ بیچارہ جیل میں ہی گل سڑھ جاتا۔۔۔۔ جیل سے لیکر بزنس تک کا سفر سارا اس طرح بتا رہے تھےجیسے بزنس کے لئے ساری رقم انہوں نے دی تھی۔
خُبیب تو اس کے پاس آکر ہی پچھتا رہا تھا۔۔۔۔آج تک انکے ڈیڈ نے کبھی ایسا کچھ عیاں نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔یہ وہ باتیں تھیں جو اسکے سینے میں دفن تھیں۔۔ جن کے بارے میں اسنے کبھی اپنے ڈیڈ سے پوچھا نہیں تھا۔۔۔
لیکن اپنے ڈیڈ سے عشق کرنے لگا تھا۔۔۔۔ اپنے ڈیڈ کے نخرے اٹھاتا تھا۔۔۔۔ اسکےبالوں میں مالش کرتا گھنٹوں گھنٹوں انکے منع کرنے کے باوجود بھی انکی ٹانگیں دباتا۔۔۔ اپنی موم سے بھی غصہ ہو جاتا تھا۔۔۔۔ کہ وہ ڈیڈ کا خیال نہیں رکھتی ہیں۔۔۔
اس بات کا شکوہ وہ والدہ سے بھی کر دیتا تھا۔۔۔۔جب جب وہ ارحم صاحب کو دیکھتا تھا۔۔۔ اسے اپنے ڈیڈ کا ماضی یاد آ جاتا تھا۔۔۔۔وہ اپنے ڈیڈ کی نرم دلی سے واقف تھا۔۔۔ کتنی بار وہ اپنی نرم دلی کی وجہ سے نقصان بھی اٹھا چکے تھے۔۔۔
پھر وہ اپنے ڈیڈ کے گاؤں گیا تھا۔۔۔ اس گھر کو دیکھا جو اسکے ڈیڈ نے رحیم صاحب کوبیچا تھا۔۔۔۔ پھر رحیم صاحب۔۔۔۔ اسکو کھیتوں میں لیکر گئے پھر انہوں نے ڈیڈ کے بچپن کے دوست عادل صاحب سے ملوایا۔۔۔۔ جو بہت اچھے انسان تھے۔
انہوں نے بتایا کس طرح اسکے ماموں نے تنخواہ مانگنے پر چوری کا الزام لگا کر جیل بھیجوایا تھا۔۔۔۔بتاتے ہوئے اسکی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔ خُبیب نے پورا دن اسکے ڈیرے میں گزارا تھا ۔۔۔ پھر اسکے بعد وہ عادل صاحب کے ساتھ ٹچ رہا۔۔۔۔ اپنے ڈیڈ کے گاؤں میں کافی زمین خرید چکا تھا۔۔
اور وہاں گھر کے لئے جگہ خریدی تھی۔۔لیکن ابھی گھر تعمیر نہیں کروایا تھا۔۔کتنا دل تھا کہ وہ اپنی شادی میں عادل صاحب کو بلاتا لیکن نہیں بلایا صرف اس وجہ سے کہ کہیں اس کے ڈیڈ کا بھرم نہ ٹوٹ جائے۔
اس نے کرب سے اپنے ڈیڈ کو دیکھا تھا۔۔۔پھر ایک نظر اس سجے ہوئے گھر کو دیکھا۔۔۔۔ بیوی اور اولاد کے سوا انکے پاس کوئی رشتہ نہیں تھا۔
ڈیڈ ۔۔۔۔خُبیب سکندر نے تڑپ کر پکارا تھا۔۔۔ اسکی تڑپ پر ہارون سکندر نے اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔
اپنے ڈیڈ کی آنکھیں نم دیکھ کر وہ تڑپ گیا تھا۔۔۔۔ہارون سکندر کے آنسوؤں میں روانی آئی تھی۔۔۔ڈیڈ آپ رو کیوں رہیں ہیں۔۔۔۔۔۔؟
ہارون سکندر نے اپنے آنسو صاف کئے تھے۔
آج مجھے اپنی اماں شدت سے یاد آرہی ہیں ۔۔۔۔ ہارون سکندر شکستہ لہجے میں بولا خُبیب سکندر ۔۔۔۔ نے تڑپ کر اپنے باپ کو گلے لگا یا تھا۔ ڈیڈ ہم سب ہیں نہ آپ کے پاس۔۔۔۔وہ ٹوٹے ہوئے لحجے میں بولا۔۔۔میری اماں کو میری شادی کا بہت شوق تھا ۔۔۔۔ میں تین سال کا تھا۔۔۔ جب میرا باپ اس دنیا سے رخصت ہوا۔۔۔۔ پندرہ سال کی عمر میں اماں بھی تنہا چھوڑ کر چلی گئی۔وہ کٹھن رات میں آج تک نہیں بھولا۔۔۔
اپنی اماں کو میں کبھی بھولا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔ لیکن آج پتہ نہیں کیوں بڑی شدت سے یاد آرہی ہیں۔۔۔؟
ڈیڈ ہم کسی دن اماں کی قبر پر چلیں گے۔۔۔ کس قبرستان میں ہے ۔خُبیب سکندر ۔۔۔ انکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا۔۔
اچھا چلیں گے کسی دن۔۔۔۔ مجھے نیند آرہی ہے اور تم بھی آرام کرو ۔۔۔۔صبح جلدی اٹھنا ہے۔۔۔وہ اپنے ازلی سنجیدہ لحجے میں کہتے ہوئے اپنے روم کی طرف بڑھے۔۔۔
اپنا درد وہ پھر چھپا گئے تھے۔
خُبیب سکندر کی نظروں نے دور تک انکا تعاقب کیا تھا۔
****************************************
