930K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehsaas (Episode 22)

Ehsaas By Raheela Bano

جب وہ دونوں ہاسپٹل پہنچے تو سامنے احمر کو دیکھتے اسکی طرف بڑھے تھے۔۔۔۔۔حدید سکندر ابھی تک آپریشن تھٹیر میں تھا۔۔۔۔۔

احمر کو اسقدر پریشان ۔۔۔۔اور۔۔۔ اسکی شرٹ پر خون لگا دیکھ کر ہارون سکندر ۔۔۔۔کے قدم لڑکھڑائے تھے۔۔۔۔خُبیب سکندر نے جلدی سے انہیں تھاما تھا۔۔۔۔۔

احمر ۔۔۔ حدید ۔۔۔۔ وہ ایک دم سناٹوں میں گھرا اپنی کپکپاتی آواز میں بس اتنا ہی کہہ سکا۔۔۔۔ احمر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔ حوصلہ رکھیں اللہ بہتر کرے گا۔ وہ بہت حد تک خود کو مضبوط رکھے کھڑا تھا۔۔۔۔

وہ اپنی نم آنکھوں سے ہارون سکندر کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ جنکی آنکھوں میں آنسو روانی سے بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔

کرن کہاں ہے۔۔۔۔ ؟

ہارون سکندر نے اپنی نم زدہ آنکھوں سے احمر کو دیکھا تھا۔ وہ آپریشن تھیٹر میں ہی ہے ۔۔۔۔

ڈاکٹر کچھ بھی نہیں حدید کے متعلق بتا رہے تھے بس اتنے کہہ دیتے دعا کریں۔۔۔

میں مسجد جا رہا ہوں ۔۔۔ وہ خُبیب سکندر کو کہتے تیزی سے باہر کی طرف بڑھے۔۔۔

خُبیب سکندر ۔۔۔۔۔۔ نے موبائل نکال کر اِزنا کو میسج ٹائپ کرتے بتایا تھا اور اسے منع کیا تھا۔۔۔۔ کہ موم کو نہ بتائے۔۔۔۔میسج سینڈ کرتے موبائل جیب میں ڈالا تھا۔۔۔۔

ایک ٹک آپریشن تھیٹر کے دروازے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ یا اللہ میرے بھائی کو کچھ نہ ہو۔۔۔۔ اسک ٹانگیں اسکے جسم کا ساتھ چھوڑ رہی تھیں۔۔۔۔

احمر تم نے بتایا کیوں نہیں تھا۔۔۔۔۔؟

وہ اب احمر سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔ بس پریشانی میں مجھے کچھ سوجا ہی نہیں میں موبائل رکھ کر بھول گیا تھا۔۔۔۔۔

اور جب آپ کی کال آئی۔۔۔ اس وقت میں ڈاکٹر سے بات کر رہا تھا۔۔۔

میرے ذہہن میں تھا کے شاید کرن بھابھی۔۔۔۔ نے کال کر دی ہوگی۔۔۔اتنی دیر میں حدید کی ساس بھی آ گئی تھی۔۔۔۔۔ آپ لوگوں کو ٹائم مل گیا اسنے خُبیب سکندر کو بڑی ناگواری سے دیکھا۔۔۔۔

کیا مطلب ہے آپکی بات کا۔۔۔۔ ؟

خُبیب سکندر کا تو اسکی بات سن کر ہی دماغ مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔۔۔

آنٹی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔۔ ؟

اسے پہلے خُبیب سکندر بولتا۔۔۔ احمر نے کہا تھا۔۔۔۔ ان کو تو کرن بھابھی نے بتایا ہی نہیں۔۔۔۔۔ وہ تو خُبیب بھائی کامجھ سے رابطہ ہوا تو میں نے انہیں بتایا۔۔۔۔ ویسے بھی اس میں غلطی کرن بھابھی کی ہے ۔۔۔۔۔

انہوں نے جب آپ کو بتایا تھا تو گھر بھی بتانا چاہئے تھا۔۔۔۔

اور آپ نے بھی بتایا نہیں وجہ پوچھ سکتا ہوں ۔۔۔۔ احمر کو اتنا تپا دیکھ کر خُبیب سکندر نے آنکھ کے اشارے سے خاموش رہنے کا کہا۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ عورت کوئی تماشہ کرے۔۔۔۔

احمر اپنے سسرال والوں کی نرم طبعیت سے واقف تھا۔۔۔۔

”کسی نے صحیح کہا ہے۔۔۔۔ جس طرح کسی کے ہاتھ میں پیسہ نہیں ٹکتا اسی طرح کسی کو اچھے لوگ راس نہیں آتے”

یہ ہی حال اس عورت کا تھا۔۔۔جو انکی نرمی کا فائدہ اٹھا رہی تھی۔۔۔۔

احمر نے ایک سلگتی نظر اس پر ڈالتے عینا کو کال کی تھی۔۔۔ کہ وہ آنٹی کو لیکر جلدی ہاسپٹل پہنچے۔۔۔۔۔

اتنی دیر میں نرس کو باہر آتے دیکھ کر وہ دونوں اسکی طرف بڑھے تھے ۔۔۔۔

اب میرا بھائی کیسا ہے۔۔۔۔ ؟

خُبیب سکندرنے رندھی ہوئی آواز میں پوچھا۔۔۔۔ بس دعا کریں ۔۔۔۔ یہ کہتے ہی نرس آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔ وہ وہی زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔

********************************

خُبیب سکندر ۔۔۔۔ کبھی اپنی موم کو دیکھتا کبھی عینا کو جنہوں نے رو۔۔۔۔رو۔۔۔۔ کر اپنا برا حال کر لیا تھا۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ انکو کس طرح دلاسہ دے۔۔۔۔ والدہ جو تسبیح پکڑے بے آواز آنسو بہا رہی تھیں۔۔۔

ڈیڈ ابھی تک مسجد میں ہی تھے ۔۔۔۔ کتنا وقت گزر گیا تھا۔۔۔۔۔ صبح کا ملجگا سا اندھیرا تھا۔روشنی پوری طرح نہیں پھیلی تھی۔۔۔۔ اس کا اپنا دل پھٹنے کو ہو رہا تھا۔۔۔۔ وجود ایسے ہو گیا تھا جیسے اس میں جان ہی نہ ہو۔۔۔

خُبیب تمہارے ڈیڈ کہاں ہیں۔۔۔۔ ؟

فوزیہ سکندر یہ پوچھتے ہوئے بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔۔۔۔ وہ اپنی موم کو اس طرح روتے دیکھ کر تڑپ ہی گیا تھا۔۔۔ اب اسنے احمر کو گھور کر دیکھا تھا۔۔۔۔ جس نے فون کر کے انہیں بلایا تھا۔۔۔۔حدید میں تو ویسے ہی انکی جان بستی تھی۔۔۔۔

وہ اس سے دو سال ہی چھوٹا تھا لیکن ۔۔۔۔موم ہمشہ اسے کہتی تھی تم بڑے ہو یہ تمہارا چھوٹا بھائی ہے تم نے اس کا خیال رکھنا ہے۔۔۔۔ وہ بچپن سے ہی اسکا خیال ایک بڑے بھائی کی طرح رکھتا آ رہا تھا۔۔۔

وہ بھی اپنے نخرے ایسے اٹھواتا تھا جیسے پتہ نہیں اس سے کتنا چھوٹا ہو۔۔۔۔

اسنے آگے بڑھ کر اپنی موم کو گلے لگایا تھا۔۔۔. خُبیب تم نے اسکا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے نہ کہ وہ بڑا ہو گیا ہے۔۔۔ وہ اسکے سینے پر سر رکھتے تڑپ تڑپ کر رونے لگی۔۔۔۔

خُبیب سکندر ۔۔۔۔ نے کرب سے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔

کاش۔۔۔!!

وہ اسے روک لیتا نہ جانے دیتا ۔۔۔۔

موم۔۔۔۔ کرن کی آواز پر چونکا تھا۔۔۔۔

موم اور ڈیڈ کہاں ہیں ۔۔۔۔

حدید ۔۔۔ آپ دونوں کو بلا رہے ہیں ۔۔۔۔

فوزیہ سکندر۔۔۔۔۔ اپنے بے جان وجود کو گھسیٹتی۔۔۔۔ آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھی۔۔۔۔ خُبیب سکندر ۔۔۔۔ ہارون سکندر کو مسجد سے بلانے کے لئے آگے بڑھا۔۔۔جانتا تھا کہ وہ خدا کے حضور سجدے میں گر کر بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگ رہے ہونگے۔۔۔۔۔

*******************************************

ہارون سکندر۔۔۔۔ اپنے بیٹے کو پٹیوں میں جکڑے دیکھ کر تڑپ گیا تھا۔۔۔۔ وہ جب چھوٹے تھے تو انکو کبھی چھوٹی سی چوٹ نہیں آنے دی تھی ۔۔۔۔

اپنے بچوں کو پھولوں کی طرح پالا تھا۔۔۔۔اس نے تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو کبھی اس حالت میں دیکھا گا۔۔۔۔ اسکے سارے حوصلے پست ہو گئے۔۔۔

ڈیڈ ۔۔۔ حدید کی آواز پر اپنی نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرا تھام لیا۔۔۔۔۔ ڈیڈ ۔۔۔۔۔اسکے ہونٹوں نے بے آواز جنبش کی، ہارون سکندر کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے کرب چہرے پر عیاں تھا۔۔۔۔

اپنے بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر ٹوٹ گیا تھا۔۔۔۔۔ کتنے بکرے ذبح کر کے اپنے ہاتھ سے تقسیم کئے تھے۔۔۔۔۔ اسکی تو کل دنیا ہی اسکے بچے تھے۔۔۔۔اسنے زمانے کی دھوپ کے ہر رنگ سےبچایا تھا۔۔۔۔

ڈیڈ آپکی دعاؤں نے مجھے بچا لیا۔۔۔۔ وہ آنکھیں کھول کر اپنے ڈیڈ کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔

وہ اپنے ڈیڈ کی حالت دیکھ کر خود رو پڑا تھا۔۔۔۔ ڈیڈ اب تو آپ مجھے اپنی گود میں نہیں اٹھا سکیں گے۔۔۔۔۔۔ وہ یہ کہتے ہوئے ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔۔۔اسکی بات سن کر سب ہی مسکرائے تھے۔۔۔

ہارون سکندر ۔۔۔۔ نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔۔ تم نے مجھے اٹھانے کے قابل چھوڑا ہے۔۔۔

جانتے ہو یہ رات میں نے کیسے کاٹی ہے۔۔۔۔ ؟

حدید تمہیں ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔۔ کرن کےناگواری سے بولنے کا سب نے نوٹس لیا تھا۔۔۔۔ جس نے ریسٹ کرنی ہے وہ کر لے لیکن موم اور ڈیڈ یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے۔۔۔۔ خُبیب بھائی آپ ڈاکٹر سے بات کریں مجھے ہاسپٹل نہیں رہنا۔۔۔

میں اب ٹھیک ہوں , وہ کرن کو نظر انداز کرتے بولا۔۔۔۔خُبیب سکندر ۔۔۔ کو کچھ دال میں کالا کالا لگا تھا۔۔۔۔ وہ کئی دنوں سے نوٹ کر رہا تھا کہ وہ پریشان ہے ۔۔۔۔ پوچھا بھی تھا لیکن سر درد کا بہانہ بنا کر ٹال گیا۔۔۔۔

اب ان دونوں کے انداز سے لگ رہا تھا کے کوئی بڑی بات ہے۔۔۔ مزاح اسکے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔۔۔۔۔ وہ اپنی باتوں سے روتے بندے کو ہنسانا جانتا تھا۔۔۔۔ ڈیڈ اکثر کہتے تھے میرا ایک بیٹا روتوں کو ہنساتا ہے اور دوسرا بیٹا ہنستے ہوئے کو رولاتا ہے۔۔۔۔ جس پر وہ چڑ جاتا تھا۔۔۔۔۔

بھیا مجھے گھر چھوڑ آئیں گڑیا روتی ہوگی۔۔۔۔ عینا کی آواز پر وہ چونکا تھا۔۔۔۔ ڈیڈ پہلےمیں آپ لوگوں کے لئے ناشتہ لے آؤں پھر اسے چھوڑ آؤں گا ۔۔۔۔وہ یہ کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔

***************************************

حدید سکندر۔۔۔۔ کے ایکسیڈنٹ نے سب گھر والوں کہ ہلا کے رکھ دیا تھا۔۔۔۔ جنت جو گھر میں اکیلی تھی ۔۔۔۔ وہ ہر دوسرے منٹ بعد خُبیب سکندر کو میسج کر کے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔۔

رات سے صبح ہو گئی ۔۔۔۔ وہ کبھی بیٹھ جاتی پھر کبھی ٹہلنے لگتی ۔۔۔۔کسی طرح سے سکون نہیں محسوس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ دل اندر ہی اندر بیٹھا جارہا تھا۔۔۔۔ ابھی تک حدید بھائی کی کوئی خبر نہیں آئی تھی۔۔۔۔

وہ بوجھل دل سے کبھی وال کلاک کو دیکھتی کبھی وہ مو بائل کو دیکھتی۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں اسکا دل کا دل کر رہا تھا چیخیں مار مار کر روئے۔۔۔۔؟

دل گبھرانے پر اسنے آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔۔ کتنی دیر وہ آنکھیں بند کر کے بیٹھی رہی۔۔۔ موبائل پر میسج بیپ پر اسنے موبائل اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔

اسنےجلدی سے میسج اوپن کرکے دیکھا۔۔۔۔ حدید کو ہوش آگیا ہے اب وہ خطرے سے باہر ہے۔۔۔ میسج پڑھ کر اسنے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔

طبعیت پہلے ہی خراب تھی۔۔۔جاگنے کی وجہ سے سر درد کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔۔۔کچھ کھانے پینے کو دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔ چائے کی شدید طلب محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔ انکے ساتھ اسے بھی چائے کی عادت سی ہوگئی تھی۔۔۔

اگر نہ پیتی تو سر میں درد سا محسوس ہوتا۔۔۔۔جیسے ہی اٹھی ۔۔۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔۔۔ وہ بےبسی سے سر تھام کر بیڈ پر ہی بیٹھ گئی۔۔۔۔ کچھ نہ کھانے کی وجہ سے جسم میں بھی جان نہیں رہی تھی۔۔

اور اتنی ہمت نہیں تھی۔۔۔ کہ وہ اٹھ کر ملازمہ کو ہی چائے کا کہہ وہ دے۔۔۔۔اب وہ تکیہ سیدھا کر کے لیٹ گئی تھی۔۔۔۔ آنکھوں پر بازو رکھ کر سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔ لیکن خُبیب سکندر کا خیال آتے ہی وہ اسے سوچنے لگی ۔۔۔۔

وہ تین چار دنوں سے بس دو گھنٹے ہی سو پاتے تھے۔۔۔مسلسل جاگ جاگ کر بیمار ہی نہ ہو جائیں ۔۔۔۔ جیسے ہی اسنے رخ پلٹا سامنے انہیں دیکھ کر حیران ہوئی تھی ۔۔۔

یہ کب آئے ۔۔۔۔؟

وہ ایکدم بیڈ سے نیچے اتری تھی۔۔۔۔ وہ رات والے ہی ٹراؤزر شرٹ پہنے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔رتجگے کی سرخی آنکھوں میں نمایاں تھیں ۔۔۔۔

حدید بھائی اب کیسے ہیں ۔۔۔۔۔؟

موم ڈیڈ بھی آگئے ہیں میں ناشتہ لگواؤں۔۔۔۔۔ وہ ایک ہی سانس میں بول رہی تھی۔۔۔ ہاں وہ ٹھیک ہے ۔۔۔۔ موم اور ڈیڈ اسی کے پاس رکے ہیں۔۔

ا نہوں نے کچھ کھایا پیا ہے ۔۔۔۔ آپ ناشتہ کروا کر آئے ہیں ۔۔۔۔۔ ہاں میں نے انہیں بازار سے ناشتہ لا دیاتھا پتہ نہیں انہوں نے کیا ہے کی نہیں۔۔۔۔

اور والدہ ۔۔۔۔۔وہ میرے ساتھ ہی آئی ہیں ۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں انہیں دیکھتی ہوں۔۔۔

آپ بھی تھوڑی سی ریسٹ کر لیں ۔۔۔ میں اتنی دیر میں آپکا ناشتہ تیار کرواتی ہوں۔۔۔۔ پھر آپکو اٹھا دوں گی۔۔۔۔ جنت انکا ہاتھ پکڑے بیڈ تک لائی تھی۔۔۔۔۔۔ مجھے ریسٹ نہیں کرنی ۔۔۔ایک کپ چائے پلا دو میں اتنی دیر میں فریش ہو کر آیا وہ یہ کہتے ہوئے واشروم کی طرف بڑھے تھے۔

جنت جو بے جان سا وجود لئے لیٹی تھی۔۔انہیں دیکھ کر لگا ۔۔۔جیسے اس میں جان آگئی تھی۔وہ چائے بنانےکے لئے روم سے کچن کی طرف بڑھی۔۔۔۔

*******************************

خُبیب سکندر ۔۔۔ نے ناشتہ کرنے سے صاف انکار کر دیاتھا۔۔۔ جنت زبردستی اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا کر کھلا رہی تھی۔۔۔

کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔؟

ایک تو آپ نے ریسٹ نہیں کی۔۔۔۔ اوپر سے ناشتہ بھی نہیں کر رہے اس طرح تو آپ کی طبعیت خراب ہو جائے گی۔۔۔والدہ کو بھی بڑی مشکل سے ناشتہ کروایا ہے ۔۔۔.۔۔میرا نہیں خیال کے موم اور ڈیڈ نے بھی ناشتہ نہیں کیا ہو گا۔۔۔۔؟

انہیں گھر بھیج دیں وہ بھی ریسٹ کر لیں گے۔۔۔۔ رات سے جاگ رہے

ہیں۔

تھک گئے ہوں گے۔۔۔۔

میں نے حدید بھائی کے لئے یخنی بنائی ہے ۔۔۔۔آپ جاتے ہوئے یہ بھی لیتےجانا۔۔۔۔

نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ یہ بد زائقہ یخنی تم خود ہی پینا ۔۔۔وہ بخار کے دوران اسے بھی پلا چکی تھی۔۔۔۔

آپ ہی حدید بھائی سے بات کریں ۔۔۔۔ وہ کیوں ضد کر رہے ہیں ۔۔۔۔؟

کل صبح بھی ان کے اور کرن بھابھی کے درمیان اچھا خاصہ جھگڑا ہوا تھا۔۔۔ وہ بہت غصے میں آفس گئے تھے۔۔۔۔میں نے کرن بھابھی کو بھی بہت سمجھایا تھا۔۔۔۔ لیکن انہوں نے بھی میری بات نہیں سنی ناراض ہو کر اپنے گھر چلی گئی ۔۔۔۔

موم اس وقت سو رہی تھیں اور ڈیڈ بھی گھر نہیں تھے۔۔۔ میں نے حدید بھائی کو کال کی تو انہوں نے مجھے منع کر دیا تھا کہ میں گھر میں کسی سے زکر نہ کروں۔۔۔۔ وہ شام کو اسے لے آئیں گے۔۔۔

”کیا۔۔۔۔۔”

وہ اسکی بات پر چونکا تھا۔۔۔اب ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسکی آدھی ادھوری بات پر جھنجھلا کر رہ گیا تھا۔۔۔۔۔ وہ ناراض ہو کر چلی گئی گھر میں کسی کو پتہ ہی نہیں۔۔۔۔

جھگڑا کس بات پر ہوا تھا۔۔۔۔ جو بات تمہیں بتانی چاہئے وہ بتائی نہیں ہے ۔۔۔۔ اب میں تمہاری اتنی لمبی تقریر کا کیا مطلب سمجھوں۔۔۔۔؟

بتا تو رہی ہوں انکی لڑائی ہوئی ہے۔۔۔۔ وہ اب بھی اسکی بات کا مطلب نہیں سمجھی تھی۔۔۔۔

میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ اسکا جھگڑا کس بات پر ہوا تھا۔۔۔۔اب کی بار وہ غصے میں بولا تھا۔۔۔

اتنا غصہ کیوں کر رہے ہیں۔۔۔۔؟

پتہ تو ہے میری معصوم جان سے برداشت نہیں ہوتا۔۔۔وہ سینڈوچ انکے منھ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ بس مجھے اور نہیں کھانا وہ باتوں میں لگا کر اسکا پیٹ فل کر چکی تھی۔۔۔

اب چائے کا کپ اسکی طرف بڑھایا۔۔۔۔اسنے صرف اسکو ناشتہ کروانے کے لئے باتوں میں الجھایا ہوا تھا۔۔۔

وہ حدید کے جھگڑے والی بات پر الجھ کر رہ گیا تھا۔۔۔ اور اسے ناشتہ کروانے کی پڑی تھی۔۔۔۔

کرن بھابھی اسلام آباد کسی ہاسپٹل میں جاب کرنا چاہ رہی ہیں۔۔۔ لیکن حدید بھائی نے صاف انکار کر دیا ہے ۔۔۔ اتنی سی بات کے لئے تم نے میرا پورا ایک گھنٹہ ضائع کر دیا۔۔۔۔ آئیندہ مجھے جب بھی بات بتانی ہو تو پہلے وجہ بتاؤ کرو ۔۔۔۔۔نا کہ اتنی لمبی تقریر۔۔۔۔۔ وہ یہ کہتے ہوئے اسکے ماتھے پر لب رکھتے تیزی سے باہر کی سمت بڑھا۔۔۔۔ اور وہ اپنے ماتھے کو چھوتے ہوئے مسکرائی تھی۔۔۔۔۔

******************************************