Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 13)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 13)
Ehsaas By Raheela Bano
جنت ڈھاڑ سے دروازہ کھولتی کمرے میں داخل ہوئی ,سامنے خُبیب سکندر کو دیکھتے بھاگ کر اس سے لپٹ گئی تھی۔۔۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا۔۔۔۔ کہ وہ خود اسکے قریب آئی تھی ۔۔۔۔۔یہ دیکھیں میرا رزلٹ کارڈ میں نے ٹاپ کیا ہے۔۔۔۔؟
جتنی تیزی سے وہ اسکے ساتھ لپٹی تھی اتنی ہی تیزی سے الگ ہوئی تھی۔۔۔۔ اب شرم سے سرخ پڑھتے ۔۔۔۔ جلدی سے ہاتھ میں پکڑے گفٹس کو دیکھتے۔۔۔۔۔بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔اِزنا میرے سامنے یہ بچوں جیسی حرکتیں مت کیا کرو۔۔۔۔۔وہ خفگی سے بولا۔۔۔۔اب وہ منھ پھلائے۔۔۔۔اسے اشارے سے پوچھتےہوئے گفٹ کھولنے لگ گئی ۔۔۔۔۔
یہ گولڈ کا بریسلٹ مجھے موم نے دیا ہے۔۔۔۔ اب وہ بریسلٹ اسے دیکھا رہی تھی اب دوسری ڈبیا کو کھول کر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔یہ دیکھیں یہ چین ہے۔۔۔۔یہ سب گولڈ کا ہے۔۔۔ جیسے جیسے عمرہ کرنے کے لئے انکے دن قریب آ رہے تھے ۔۔۔۔
اتنا ہی وہ اداس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔اسکا بولنا اسے بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔یہ سب رکھ کے لائٹ آف کر دو۔۔۔ جنت نے اسکی نگاہوں کا مطلب سمجھتے۔۔۔۔ہوئے خوف سے جھرجھری لی تھی۔
خُبیب سکندر نے اسےدیکھ کر سختی سے اپنے لب بھنچے تھے۔۔۔۔
جانتا تھا وہ کم عمر ہے اس وجہ سے وہ اپنے جزبات کو بہت حد تک کنٹرول میں رکھتا تھا۔۔لیکن اب اسکی جھرجھری اسکے طیش و اشتعال میں اضافہ کر چکی تھی۔۔۔۔۔وہ اسے غصے میں دیکھتے ویسے ہی چیزیں سائیڈ ٹیبل کے دراز میں رکھتی لائٹ آف کرنے کے لئے اٹھی تھی۔۔۔۔ پہلے مجھے اے سی کا ریموٹ پکڑا دو۔۔۔۔ لہجہ اتنا سخت تھا کہ جنت کے چہرے پر خوشی کے رنگ ایک دم سمٹے تھے۔۔ یہ دودھ کا گلاس تم نے ابھی تک نہیں پیا۔۔۔۔ اسکی نظر ٹیبل پر ڈھکے ہوئے دودھ کے گلاس پر پڑھی تھی۔۔۔
میرا دل نہیں کر رہا۔۔۔میرا پیٹ بھرا ہوا ہے مجھے الٹی آ جائے گی۔۔۔۔۔جنت دھیمے لہجے میں بولی۔۔۔۔اسکی نم نگاہوں کو دیکھتے
خُبیب سکندر اپنی گھنی بئیرڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے غصے پر قابو پا رہا تھا۔۔۔۔
*******************************************
خُبیب سکندر آفس سے جب واپس آیا تو۔۔۔۔۔ اسے لاؤنج میں صوفے پر بیٹھے دیکھ کر اسکے قدم وہی تھمے تھے ۔
یہ اس ٹائم لاونج میں کیا کر رہی ہے۔۔۔۔ ؟اسنے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھا۔۔۔ رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔۔۔
جنت اسے دیکھ کر فوراً کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اسکے ہاتھ سے موبائل گاڑی کی چابی اور والٹ پکڑا تھا۔۔۔۔ وہ آتے ہی تینوں چیزیں اسے پکڑاتا تھا۔۔۔ اس نے اسکی نم نگاہوں کو دیکھا سوجی ہوئی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ سارا دن روتی رہی ہے۔۔۔۔۔
جتنا مرضی رو لو مگر پڑھنے کی اجازت تمہیں کسی قیمت پر نہیں دونگا۔۔۔۔ صحت اچھی ہونے پر وہ مزید خوبصورت لگنے لگی تھی۔۔۔۔پرپل سوٹ اسکے گورے گلابی رنگ پر بہت جچ رہا تھا۔۔۔۔اس کا کندن سراپا۔۔۔۔جسے دیکھتے ہی وہ بہکنے لگتا تھا۔۔۔
پریوں جیسا حسن رکھنے والی لڑکی اس میں ایک اچھی بیوی کے تمام گن موجود تھے۔۔۔۔پر لفظ بھکارن اسکے زہہن میں آجاتا تو قربت کے لمحات میں بھی اسے خود سے دور جھٹک دیتا تھا۔۔۔۔اب بھی اسکی سیاہ آنکھوں میں سرخی اتری تھی۔۔۔۔۔اب وہ اسے طعنہ نہیں دیتا تھا۔۔۔۔
یہ درد اپنے اندر ہی محسوس کرتا تھا۔۔۔۔ ضمیر کئی بار ملامت کرتا۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔ کہ وہ اس لڑکی سے رشتہ نبھا رہا ہے یا ڈیڈ کو دی گئی قسم۔۔۔۔ضمیر سے آواز آئی تم قسم نبھا رہے ہو رشتہ نہیں۔۔۔۔
وہ ریزہ ریزہ بکھر رہا تھا۔۔۔۔۔
میں نے کھانالگا دیا ہے وہ نم لہجے میں بولی۔۔۔وہ کب گئی اور کب آئی سوچوں نے ایسا جکڑا کہ وہ بت بنا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
”یہ سوچیں بھی نہ مقناطیس کی طرح ہیں جب چپک جائیں تو جھٹکنی ہی پڑ تیں ہیں۔۔”
وہ میں کہہ رہی تھی کھانا لگا دیا ہے۔۔۔وہ دوبارہ گویا ہوئی ۔۔۔۔مجھے بھوک نہیں ہے وہ یہ کہتے ہوئے روم کی طرف بڑھا۔۔۔جنت اسے جاتے دیکھ کر کچن کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
********************************
خُبیب سکندر احمر کی کال پر گھر میں کسی کو بتائے بغیر ہاسپٹل آیا تھا۔۔۔احمر جو باہر کھڑا اسکا انتظار کر تھا اسے دیکھتے ہی اسکی طرف بڑھا۔۔۔سوری خُبیب بھائی دونوں کی ڈیتھ ہو گئی ہے اناللہ وااناالیہ راجعون۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے بلند آواز میں کہا بھائی وہ اپنے بیٹے کی موت کا صدمہ سہہ نہیں پائی ۔۔۔ موقع پر ہی دم توڑ گئی ۔۔۔۔۔
آپ ان کے گھر والوں کو اطلاع کر دیں۔۔۔ میرا پیشنٹ ویٹ کر رہے ہیں۔ میں چلتا ہوں۔۔۔
”احمر سنو ۔۔۔۔ ”
ایمبولینس کا ارینج کر دو۔۔۔۔ جی ٹھیک ہے خُبیب بھائی۔۔۔۔ میں کال کرکے آپکو بتا دونگا۔۔۔۔
اب خُبیب کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے ۔۔۔؟
کیوں نہ اس کے بارے میں ایک بار کسی مسجد کے امام صاحب سے بات کر لوں ۔۔۔ اسے یاد آیا تھا موم ڈیڈ کو بتا رہی تھیں کہ اسنے اپنی امی کو خود ہی غسل دیا تھا۔۔۔۔ اور کفن بھی خود سلا ئی کیا تھا۔۔۔ دوسری طرف اسنے اِزنا کو کال کی تھی ۔۔۔جو اسنے پہلی بیل پر ہی اٹھا لی تھی۔۔۔۔
تمہیں عورتوں کا کفن سلائی کرنا آتا ہے میں کفن بھیج رہا ہوں تم چار پانچ گھنٹوں تک سلائی کر دینا۔۔۔۔۔ اور سنو ۔۔۔ گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ خود بھی آجانا۔۔۔یہ کہتے ہوئے کال کٹ کرتے ۔۔۔۔ موبائل جیب میں ڈالا تھا۔۔۔۔۔
اس تقریباً چودہ, پندرہ سالہ لڑکے کا چہرا اسکی نظروں کے سامنے لہرایا تھا۔۔۔
”یا اللہ ۔۔۔”اس دنیا میں لوگ اتنے بھی دکھی ہیں۔۔۔۔ بیٹا میرے پاس گھر نہیں ہے میں بس جھونپڑی میں رہتی ہوں۔۔۔۔ وہ خوف سے لرز گیا تھا۔۔۔۔
” یا اللہ ”
”مجھے حق اور ناحق دونوں سے بچانا وہ خوف سے لرز اٹھا تھا۔۔۔۔”
******************************************
خُبیب سکندر۔۔۔۔ ان دونوں کی تدفین کے بعد مفتی صاحب کے پاس ہی بیٹھا تھا۔۔۔۔جن کے جنازے میں مفتی صاحب اور تمام نمازیوں نے شرکت کی تھی۔اس نے بھی عصر کی نماز باجماعت آدا کی تھی۔۔۔ اور انکے پاس دس بارہ بزرگ بیٹھے ترجمے سے قرآن پاک پڑھ رہے تھے۔۔۔۔وہ انکے جانے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔وہ جانے کی بجائے اور ہی مسئلوں پر بات کرنے لگ گئے تھے۔۔۔۔
مفتی صاحب۔۔۔۔۔وہ خُبیب سکندر ۔۔۔ کی آواز پر اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔۔
مجھے لگتا ہے یہ جو علماء کرام ہیں انہوں نے بھی خود کو سوشل میڈیا اور مسجدوں تک ہی محدود کر لیا ہے۔۔۔ہو سکتا ہے کہ آپکو میری بات سے اختلاف ہو۔۔۔۔ خُبیب سکندر اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
وہاں بیٹھے سب ہی اسکی بات پر چونکے تھے۔۔۔۔۔چونکے تو مفتی صاحب بھی تھے ۔لیکن اپنے ہاتھ میں پکڑی تسبیح ایک سائیڈ پر رکھتے مسکراتے ہوئے اسکی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے خُبیب صاحب۔۔۔۔
یہ آپکی غلط سوچ ہے۔۔۔۔پھر آپ مجھے بتائیں آپکی تقریروں میں آپکے بیانوں میں یا سوشل میڈیا پر ان بیچاری عورتوں کو جو پردے میں مانگتی ہیں۔۔۔ انکا کبھی ذکر کیوں نہیں آیا شاید کسی کا دھیان ہی نہیں گیا۔۔۔۔۔ یاسب انکو بھکاری سمجھ کر یا یہ کے مانگنا بری عادت ہے۔۔۔ یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہوں۔۔۔پر ہو سکتا ہے وہ سچ میں مجبور ہوں۔۔۔ لیکن یہ ہماری بیٹیاں بہنیں مائیں ان پر ایسا وقت آیا ہے کہ انہیں پردے میں مانگنا پڑھ رہا ہے ۔۔۔۔اگر انہوں نے ما نگنا ہی ہو تو وہ ویسے بھی مانگ سکتی ہیں۔۔۔۔۔پردے میں کیوں۔۔۔۔؟ کبھی ہم نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا۔۔۔۔
آپ لوگ تبلیغ کے لئے نکلتے ہیں ان کی مدد کے لئے کیوں نہیں۔۔
آج والا واقعہ آپ کے سامنے ہی ہے۔۔۔۔۔ خُبیب صاحب۔۔۔۔ اس دنیا میں لوگ اتنے اتنے دکھ لئے پھرتے ہیں۔۔۔۔آپ سنیں تو آپ کی روح کانپ جائے۔۔۔
میں جو آپ کے سامنے بیٹھا ہوں نہ ۔۔۔۔ میں نے بڑے ہی غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔۔۔ماں مر گئی ۔۔۔۔ باپ نے دوسری شادی کر لی۔۔۔۔۔۔ گلہ نہیں کروں گا ماں ماں ہی ہوتی ہے۔۔۔میرے والد صاحب نے مجھے درس میں داخل کروا دیا۔۔۔۔۔
وہ مہنے بعد مجھے خود ہی ملنے آجاتے خرچہ پانی مجھے دے جاتے۔۔۔۔
ایک دن اچانک مجھے میرےقاری صاحب نے بلایا اور کہا کہ تمہیں لینے آئے ہیں۔۔۔تمہارے ابا فوت ہوگئے ہیں ۔۔۔۔ اس وقت میں دس سال کا تھا ۔۔۔۔اسی سال میں نے قرآن حفظ کیا تھا۔۔۔۔ یہ خبر میرے لئے قیامت بن کر ٹوٹی تھی ۔۔۔ گھر جا کر پتہ چلا کہ سانپ نے کاٹا تھا۔۔۔۔ وہ اسکے بعد دو ماہ زندہ رہے مجھے کسی نے بتانا ہی گوارہ نہیں سمجھا ۔۔۔۔ میرا باپ مجھے یاد کرتے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔۔۔میری دو بہنیں( سو تیلی) ایک تین سال کی اور ایک ایک سال کی تھی۔۔۔۔۔
عدت کے بعد۔۔۔
میرے سو تیلے ماموں میری ماں کو اپنے ساتھ لے گئے۔۔۔۔ میرے سگے ماموں مجھے واپس درس میں چھوڑ گئے۔۔۔۔ حفظ کے بعد پھر میں نے درس نظامی کیا۔۔۔۔
لیکن جب عید آتی سب بچے اپنے گھروں کو جاتے تو ایک آس ہوتی۔۔۔ شاید مجھے بھی کوئی لینے آئے۔۔۔۔۔مفتی صاحب کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔۔۔۔ اب وہ شدت غم سے بول بھی نہیں پا رہے تھے۔
خُبیب سکندر ۔۔۔۔۔انہیں نم آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہاں بیٹھے ایک بزرگ نے کہا۔۔۔۔بیٹا یاد رکھنا جتنا تم دنیا میں رہنے والے لوگوں کو کھوجو گے یہ دنیا تمہیں رولا دے گی۔۔۔۔تم تھک جاؤ گے ۔۔۔ تمہارا دل بہت چھوٹا ہے تم اتنا سا درد نہیں سن سکے۔۔۔۔ ہر بندہ ضرورت مند نہیں ہوتا۔۔۔کبھی کبھی نیکی مہنگی بھی پڑھ جاتی ہے۔۔۔۔
تم نے نیک کام کی طرف توجہ دلائی ہے۔۔۔ہم اس مسئلے پر توجہ دیں گے۔۔۔۔
اور جو نیکی تم نے کی ہے۔۔۔۔ اللہ بہت کریم ہے اسکا اجر تمہیں ضرور دے گا۔۔۔
امین۔۔۔ کہتے ہوئے اپنی نم آنکھوں کے ساتھ سب کو سلام کرتے ہوئے اٹھا تھا۔۔۔۔ابھی اسنے اپنے فلیٹ سے اِزنا کو بھی لینا تھا۔۔۔وہ اس کا انتظار کر رہی ہوگی۔۔۔۔باتوں میں وہ بھول ہی گیا تھا۔۔۔۔۔وہ تیزی سے چلتا ہوا گاڑی تک پہنچا تھا۔۔۔
************************************
جنت بچے۔۔۔۔ تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔ میں تمہیں کہا تو تھا ۔۔۔ جلدی تیار ہو جانا ۔۔۔۔آج ایڈمشن کے لئے جانا ہے۔۔۔۔
خُبیب سکندر۔۔۔۔۔ کو چائے دیتے ہوئے اسکے ہاتھ کپکپائے تھے۔۔۔ جسے دیکھتے ہارون سکندر اپنا رخ موڑ گیا تھا۔۔۔۔
یہ کہیں نہیں جائے گی۔۔۔۔جس طرح کی ہے جیسی ہے مجھے قبول ہے۔۔۔۔ ہارون سکندر ۔۔۔۔۔ نے اسکی بات پر سختی سے جبڑے بھنچے تھے۔۔۔
وجہ پوچھ سکتا ہوں تم سے ۔۔۔۔۔ ؟
وہ رخ موڑے بغیر بولے تھے ۔۔۔۔
یہ انتخاب سے پہلے سوچنا تھا۔۔۔۔۔وجہ تو مجھے آپ سے پوچھنی چاہئے۔۔۔
میرا انتخاب غلط نہیں ہے تمہارا طریقہ غلط ہے۔۔۔۔ہارون سکندر بڑے رسان سے بولے۔۔۔۔۔وہ ہارون سکندر کی بات پر پاگلوں کی طرح ہنسا تھا۔۔۔۔
آپ اسے انتخاب نہیں مزاق کہیں جو آپ نے میرے ساتھ کیا ہے۔۔۔۔ میں نے تو آپ کے مزاق کو قبول کیا ہے۔۔۔۔؟
پوچھو اسے کیاہے نہ۔۔۔۔۔۔ ؟
وہ دبی دبی آواز میں چیخا ۔۔۔۔ جنت نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔
حدید جو ڈیڈ اور اپنے بھائی کی گفتگو سن رہا تھا۔۔۔۔دونوں کی باتیں اسکے سر سے گزر رہی تھیں۔۔۔۔اب وہ باری باری سب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ فوزیہ سکندر۔۔۔۔ جو دونوں ہاتھوں سے اپنا سر جکڑے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
ڈیڈ یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔؟
حدید جو ہارون سکندر کے مقابل آیا تھا۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں بیٹا ۔۔۔۔تم جاؤ تمہیں لیٹ ہو رہا ہے ۔۔۔ ہارون سکندر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
جنت جو بے بسی سے ہارون سکندر کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔زندگی اسے کتنے عجیب موڑ پر لے آئی تھی۔۔۔اسے لگا کہ دیواریں بھی اسکی بے بسی کا مذاق اڑا رہی ہیں۔ اصل میں مذاق تو اسکا بن رہا ہے۔۔۔۔ابھی پتہ نہیں کب تک یہ طعنے سننے پڑیں گے۔۔۔۔۔
اس نے اپنے دل میں بدگمانی کی فصل تیار کر لی تھی۔۔۔۔اور خُبیب سکندر۔۔۔ کی یہ بے رخی اس بدگمانی کی فصل کو پانی دینے کے لئے کافی تھی۔۔۔۔۔اسے وہاں کھڑے رہنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔۔وہ اپنے روم کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔ روم بند کرتے دروازے کے ساتھ بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔۔
***********************************
