930K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehsaas (Episode 29)

Ehsaas By Raheela Bano

یااللہ مجھے معاف کر دے میں نہیں جانتا مجھ سے ایسی کیا خطا ہوئی ہے۔۔۔۔ یا ربلعالمین ۔۔۔ تو رحیم ہے مجھے معاف کر دے مجھے کوئی ایسا راستہ دیکھا دے ۔۔۔ مجھے کوئی روشنی کی کرن دیکھا دے ۔۔۔ یاالہی تیرے خزانے میں کسی چیز کی کمی نہیں۔۔۔۔ تیری رحمتوں کے خزانے کھلے ہیں ۔۔۔ یاالہی مجھے مانگنا نہیں ۔۔۔۔ میرے درد کی دعا نہیں ۔۔۔

جو دوا ہے مجھے اس سے ملا دے۔۔۔۔۔

” یاالہی ۔۔۔”اسکے سارے دکھ مجھے دے دے۔۔۔۔ اسکو ہر دکھ سے بچا لے ۔۔۔”یااللہ۔۔۔۔۔” میری اٹکی ہوئی سانسوں کو رواں کر دے ۔۔۔۔

مجھے کوئی تھوڑی سی امید دیکھا دے۔۔۔

”یااللہ۔۔۔۔” کیا میں تیری نظر میں اتنا گنہگار ہوں۔۔؟

کے میری دعا قبول نہیں ہو رہی۔۔۔۔”یا اللہ۔۔۔۔” تو جانتا ہے وہ نادان ہے ناسمجھ ہے معصوم ہے ۔۔۔۔ وہ تو کسی پرندے کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔ میرے کسی گناہ کی سزا اسے مت دینا۔۔۔۔

اسنے تو اپنی زندگی میں دکھوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔۔۔اسے مزید آزمائش میں نہ ڈال۔۔۔۔

مانا کہ میں گنہگار ہوں ۔۔۔۔۔ پر تیری معافی کا طلبگار ہوں۔۔۔۔ وہ تڑپ تڑپ کر رو رہا تھا۔۔۔۔ وہ رو رو کر خدا کے حضور اس کی سلامتی کی دعا مانگ رہا تھا۔۔۔۔۔اسے یقین تھا کہ میرا رب ضرور کوئی ایسا رستہ نکالے گا۔۔۔۔۔

بھائی اٹھ جائیں۔۔۔۔ وہ کل سے وقفے وقفے بعد آرہا تھا۔۔۔۔۔ لیکن اس نے سجدے میں سے سر نہیں اٹھایا تھا۔۔۔۔

بھائی آپکی دعا قبول ہو گئی ہے ۔۔۔۔ وہ بلکل اسکے کان کے پاس سرگوشی نما آواز میں بولا۔۔۔

سچ بتاؤ ۔۔۔۔ وہ سجدے میں ہی سر رکھے ہی بولا تھا۔۔۔۔۔میں بتا نہیں سکتا ڈیڈ نے سختی سے منع کیا ہے۔۔۔۔؟

گھر میں کوئی ہے جو دشمن کو پل پل کی خبر دے رہا ہے۔۔۔۔ آپکو اب میرے ساتھ چلنا ہے ۔۔۔۔ جلدی کریں ۔۔۔۔وہ سرگوشی میں بول رہا تھا۔۔۔۔ اس ڈر سے کہ دیواروں کے بھی کان ہوتےہیں۔

خُبیب سکندر نے خدا کاشکر ادا کرتےہوئے سجدے سے سر اٹھایا تھا۔۔۔۔ اب وہ اپنے آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ حدید کو ناسمجھی کے عالم میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

حدید اپنےبھائی کی حالت کو دیکھ کر تڑپ ہی تو گیا تھا جو ایک دن اور ایک رات سے بھوکے پیاسے سجدے کی حالت میں تھے ۔۔۔۔ رو رو کر آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی تھیں۔۔۔

بھائی اسنے تڑپ کر گلے لگایا تھا۔۔۔۔ جلدی چلیں ۔۔۔۔۔ڈیڈ ویٹ کر رہے ہوں گے۔۔۔۔

وہ دونوں روم سے باہر کی سمت تیزی سے بڑھے تھے۔۔۔۔

***********************************

ہارون سکندر۔۔۔ اس لڑکے کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ اگر وہ صدیق صاحب کے وفادار ہیں۔۔۔ تو اس سے پہلے کہاں تھے۔۔۔۔؟

کہیں یہ دشمن کی کوئی چال تو نہیں ہے۔۔۔

وہ پریشانی سے اپنا ماتھا مسلنے لگے ۔۔۔۔

آپ پریشان کیوں ہو رہے ہیں ۔۔۔؟

آپ پولیس کی مدد لے لیں۔۔۔۔ اور وہاں پولیس کے بغیر جانا بھی اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔۔

اگر اتنا آسان ہوتا تو میرے ابا۔۔۔۔ چھوٹی بی بی کو اپنی جان پر کھیل کر بھی آپ لوگوں کے پاس لے آتے ۔۔۔۔ وہ یہ سب آپکو فون پر بھی کہہ سکتے تھے۔۔۔میرے آنے کامقصد صرف اتنا ہے کہ آپ جو بھی کام کریں راز داری سے کریں ۔۔۔۔۔

جو کوئی بھی انہیں پل پل کی خبر دے رہا ہے ۔۔۔۔ آپ کے کسی بھی قدم سے بی بی کی جان جاسکتی ہے۔۔۔۔ اور ابا نے کہا ہے کہ آج رات تک ہر حال میں پہنچیں ۔۔۔۔

بی بی ۔۔۔۔۔کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ اور انہوں نے مجھے سختی سے کہا کہ وہ پولیس کی مدد سے ہی انہیں وہاں سے نکال سکتے ہیں ۔۔۔

وہاں جگہ جگہ گارڈ ہیں ۔۔۔۔ اور میں وہاں کے خفیہ راستوں سے واقف ہوں۔۔۔

تم ہر چیز سے واقف ہو ۔۔۔۔۔ لیکن تمہیں یہ نہیں پتہ کہ اغواہ کار کون ہیں۔۔۔۔۔۔؟

خُبیب سکندر ۔۔۔ جو اپنے غصے کو ضبط کئے بیٹھا تھا۔۔۔وہ ایک دم بولا۔۔۔۔۔

اصل میں یہ مجھے ابا ۔۔۔۔۔نے بتایا نہیں اصل میں وہ اتنی جلدی میں تھے کہ کوئی چھوٹی بی بی کو نقصان نہ پہنچا دے ۔۔۔۔ انکا وہاں پہچنا ضروری تھا۔۔۔

آپ نے جانا ہے تو آپکو پتہ چل جائے گا۔۔۔۔ دیکھو اگر میری بیوی سچ میں وہاں صحیح سلامت ہوئی تو میں تمہیں پیسوں سے تول دوں گا۔۔۔

نہیں صاحب ۔۔۔۔۔ چھوٹی بی بی کے لئے جان بھی حاضر ہے۔۔۔۔ یہ کوئی آپ پر احسان نہیں ہے۔۔۔

میں اپنے خون کے آخری قطرے تک آپ کا ساتھ دوں گا۔۔۔۔

”ہم وفاداری میں دھوکا نہیں کرتے۔۔۔۔”

چلو پھر ہم ابھی تمہارے ساتھ چلتے ہیں ۔۔۔۔۔نہیں ہم سب ایک ساتھ نہیں جائیں گے ورنہ شک ہو جائے گا۔۔۔اور آپ لوگوں کو بھی اپنی حفاظت کرنی چاہئے۔۔۔۔

آپ میں سے ایک بندہ گھر میں رہے ایسا نہ دشمن پیچھے سے وار کر دے۔۔۔۔

حدید تم گھر میں رہو۔۔۔

چلو پہلے ایس پی سلمان کے پاس چلتے ہیں ۔۔۔ پھر اسکے مشورے سے کوئی قدم اٹھائے گے۔۔۔ آپ میرے ساتھ نہیں جائیں گے۔۔۔۔ہارون سکندر اور خُبیب سکندر دونوں ہی اسکی بات پر چونکے تھے۔۔۔۔ آنکھوں میں بے یقنیی سمٹ آئی تھی۔۔۔ دل جو کچھ دیر پہلے پرسکون ہوا تھا۔۔۔۔وہ زور زور سے ڈھڑکنے لگا۔۔۔۔

جہاں بھی آپ نے جانا مجھے پہلے بھیج دیں ۔۔۔ تاکہ کسی کو شک نہ ہو ۔۔۔۔ وہ انکے فق چہروں کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔

یہ سن کر خُبیب سکندر کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی۔ایک طویل سانس لیتے اس لڑکے کو دیکھا۔۔۔وہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔

ایک ہی خوف اسکے دماغ پر چھا گیا تھا کہ اسکی جان خطرے میں ہے۔۔۔ وہ ان لوگوں کو چھوڑوں گا نہیں ۔۔۔۔۔زندہ کتوں کے آگے ڈالوں گا اس نے اپنے دل میں عہد کیا تھا۔۔۔

سر یہ وقت سوچنے کا نہیں ہے۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔ حدید تم اس کے ساتھ جاؤ۔۔۔ میں اور ڈیڈ بعد میں آ جائیں گے ۔۔۔وہ اسکی آواز پر چونکتے ہوئے بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔۔۔

*************************************

جنت کمرے میں بند خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔ جلدی سے اپنے کمرے کو اندر سے بند کیا تھا۔۔۔۔ ہاتھوں میں اپنا چہرا چھپا کر شدت سے رونے لگی تھی۔۔۔۔ اس عورت نے اسکی آنکھوں میں سجے خواب پل بھر میں چھین لئے تھے۔۔یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے۔۔۔؟

۔۔۔۔۔۔اس نے تو تصور میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔زہہن بھی ڈھنگ سے کام نہیں کر رہا تھا۔۔۔دل میں درد سا اٹھنے لگا۔۔۔آنکھوں سے آنسو روانی سے بہہ رہے تھے۔۔۔ باربار اپنے عارض صاف کر رہی تھی۔۔۔ کیا میری یاد نہیں آ رہی آپ کو۔۔۔۔۔۔؟

اگر انہوں نے بھی سب کی طرح انکار کر دیا تو میں کیا کروں گی۔۔۔۔؟

کیا میں باقی ساری زندگی اس عورت کے ظلم سہتی رہوں گی۔۔۔۔”نہیں میرا اللہ میرے ساتھ اتنا برا نہیں کرے گا۔۔۔”

وہ روتے ہوئے۔۔۔۔۔اندھیرے میں اس خالی کمرے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ کمرے میں روشندانوں سے آتی ہلکی ہلکی روشنی کی وجہ سے اسے اندازہ ہوجاتا تھا کہ اب دن ہے کہ رات ۔۔۔۔

جگہ جگہ جلنے کی وجہ سے وہ بیٹھ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔ کمر اکڑی ہوئی تھی۔۔۔ زرا سا کھچاؤ پڑتا تو چیخیں نکل جاتی تھیں۔۔۔وہ دن رات کھڑے ہو کر گزار رہی تھی۔۔۔۔ درد ناک سسکی اسکے لبوں سے آزاد ہوئی تھی۔۔۔

آپ تو سکون سو رہے ہونگے۔۔۔۔ مجھے آ کر دیکھیں میں کتنی تکلیف میں ہوں۔۔۔جسم سے روح نکلنا باقی ہے۔۔۔اللہ کو بھی مجھ پر رحم نہیں آرہا۔۔۔۔۔

اب وہ بے آواز صدائیں دینے لگی۔۔۔۔جلدی سے آجائیں۔۔۔ اب وہ منھ پر ہاتھ رکھے سسکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔

اچانک گولیوں کی آوازوں نے کمرے کے درو دیوار ہلا دیئے تھے۔۔۔۔

کیا اللہ نے میری دعا سن لی ہے۔۔۔ ؟

کیا وہ آگئے ہیں۔۔۔۔؟

یہ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔؟

یہ کیسے ان کا مقابلہ کریں گے ۔۔۔۔ ؟

اس کمرے میں اسے کتنا خوف آتا تھا۔۔۔پھر اپنے دل کو تسلی دیتے کہتی ہم ایک نہیں دو ہیں۔۔۔۔اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتے خود کو تسلی دیتی۔۔۔۔

اب گولیوں کی آوازیں۔۔۔ اسے اپنے کمرے کے آس پاس سنائی دے رہی تھیں۔۔۔۔یا اللہ ۔۔ان کی مدد کرنا انکی حفاظت فرمانا ۔۔۔ یا اللہ میرا ان کے سوا کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ میری ابھی کتنی آڑمائشیں باقی ہیں۔۔۔ میں تیری آزمائش کے قابل نہیں۔۔۔وہ تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔۔۔

تیری پاک زات سے بس یہ ہی دعا ہے ۔۔۔ وہ وہی شدید تکلیف کے باوجود سجدے میں گر کر رو رو کر خدا سے دعا کر رہی تھی۔۔۔۔۔ یا اللہ ہم پر مشکل وقت ہے ۔۔۔۔ لیکن تو قادر ہے ۔۔۔۔ تیرے لئے تو کچھ بھی مشکل نہیں۔۔۔۔

تو اس کائنات کا مالک ہے۔۔۔ یا اللہ میری دعا قبول کر لے۔۔۔ اس مشکل وقت میں تیری مدد کی طلبگار ہوں۔۔۔۔ روتے اسکی ہچکی بندھ گئی تھی۔۔۔

یااللہ میں اس وقت تک سجدے سے سر نہیں اٹھاؤں گی۔۔۔ جب تک انکی آواز نہ سن لوں۔۔۔آنسوؤں کا سیلاب ۔۔۔۔اسکی آنکھوں سے رواں تھا۔۔۔۔

********************************

وہ جب اس قدیم عمارت کے پاس پہنچے تو پولیس کی بھاری نفری نے رات کے اندھیرے میں اس عمارت کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔۔۔

لیکن گولیوں کی آواز پر اسکا دل دہل رہا تھا ۔۔۔۔ آدھےگھنٹے سے مسلسل فائرنگ ہو رہی تھی۔۔۔

ایس پی سلمان کے اشارے پر خُبیب سکندر اس لڑکے کے ہمراہ آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔

وہ لوگ تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے۔۔۔۔اندھیرے میں ہی وہ بلڈنگ میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔ گڈو۔۔۔۔روشنی کر لیتے ہیں خُبیب سکندر نے دھیمی آواز میں کہا۔۔۔

نہیں سر ہمیں پھر بھی محتاط ہو کر ہی جانا ہے۔۔۔۔ اور اپنی پریشانی میں اس سے نام تک نہ پوچھ سکے وہ بھی ایس پی سلمان نے پوچھا تو اسے پتہ چلا کہ اسکا نام گڈو ہے ۔۔۔۔

وہ اب اسکے ساتھ ہی انجان راستوں پر بھاگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اتنی بڑی عمارت جس میں کمروں کے اندر ہی اندر سے گزر رہے تھے۔۔۔۔ پل پل اس پر بھاری پڑھ رہا تھا۔۔۔۔ وہ چھوٹی سی لڑکی اسکا عشق بن گئی تھی۔۔۔۔

ان پانچ دنوں میں اسے احساس ہوا تھا۔۔۔۔ کہ وہ تو اسکے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتا۔۔۔۔اسے پھر سے اپنا سانس رکتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ وہ اپنے گلے کو جکڑے کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔ گڈو۔۔۔۔ جلدی سے اسے پکڑتے کمر زور زور سے مسلنے لگا۔۔۔۔ وہ اب گہرے گہرے سانس لیتے

اپنا سانس بحال کرنے لگا ۔۔۔۔ سر چلیں وہ اسے بازو سے کھینچتے آگے کی طرف بھاگنے لگا۔۔۔ وہ دونوں اندھادھند بھاگ رہے تھے۔۔۔۔۔ اب گولیوں کی گونجتی آواز اسے قریب سے محسو س ہو رہی تھی۔۔۔ خُبیب سکندر کے قدم ایک دم ساکت ہوئے تھے۔۔۔۔ اسنے جلدی سے اپنی جیب میں سے پسٹل نکالا تھا۔۔۔۔

سر آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔ میرے ابا چھوٹی بی بی کو کچھ نہیں ہو نے دیں گے۔۔۔۔وہ دونوں تیزی سے آگے بڑھ گئے تھے۔۔۔آنکھوں سے ٹوٹ کر آنسو موتیوں کی شکل میں اسکی گھنی بیرڈ کو بھگو رہے تھے۔۔۔

سر کچھ نہیں ہو گا وہ خُبیب سکندر کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر بدحواص ہوا تھا۔۔۔

اب اس لڑکے کے چلتے قدم رکے تھے ابا۔۔۔۔. اسکی آواز پر وہ دونوں جلدی سے اسکی طرف بڑھے تھے ۔۔۔۔ جو دروازے کے پاس کھڑا دروازے کو دھکے لگا رہا تھا۔۔۔ پتہ نہیں چھوٹی بی بی دروازہ نہیں کھول رہی۔۔۔۔ وہ ادھیڑ عمر شخص بمشکل بول رہا تھا۔۔۔۔

وہ اپ تینوں دروازے کو زور زور سے دھکے رہے تھے۔۔۔ دروازوں کو قدیم دور کی مضبوط کنڈیاں لگی ہوئی تھیں ۔۔۔اِزنا دروازہ کھولو وہ ہلکی سی آواز میں بولا تھا۔۔۔۔کہیں کوئی سن نہ لے۔۔۔۔ پھر اس نےکپکپاتے لبوں سے پکارا تھا ۔۔۔

ایک دم دروازہ کھلا تھا۔۔۔۔ اگر اب بھی دروازہ نہ کھولتی تو مقابل شاید جان سے ہی جاتا۔۔۔

جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا کمرے میں تاریکی کا راج تھا۔۔۔ اِزنا۔۔۔ اسنے پھر اسے پکارا تھا ۔۔۔۔سر جلدی کریں ۔۔۔ وہ پسٹل جیب میں ڈالتے ہوئے اسے بازو سے پکڑا تھا۔۔۔۔۔ ابا آپ سر کے ساتھ جائیں میں پیچھے سے سب دیکھ لوں گا۔۔۔۔

تم جاؤ میرے جانے سے انکو شک ہو جائے گا۔۔۔۔تم جاؤ میں اپنے طریقے سے سب دیکھ لوں گا۔۔۔۔ جلدی نکلو ۔۔۔ وہ زندہ تھی اس کے لئے یہ ہی کافی تھا۔۔

چلو اِزنا ۔۔۔ وہ اسکا بازو پکڑے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔

**************************

وہ اسے اپنے دونوں بازؤں پر الٹا اٹھائے ہاسپٹل میں داخل ہوا تھا۔۔۔ اس سے پہلے سے ہی۔۔۔۔ ڈیڈ ۔۔۔۔ احمر ۔۔۔ اور حدید موجود تھے۔۔۔۔ وہ خُبیب سکندر کو دیکھتے اس کی طرف بڑھے تھے۔۔۔۔۔

احمر یہ پوری جلی ہوئی ہے۔۔۔۔ وہ اسےایسے ہی الٹا لیٹائے آگے کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔

نہیں بھائی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ یہ ایسے ہی پریشان ہو رہے ہیں۔۔۔ آپ مجھے نیچے اتار دیں میں سب سے مل لوں میرے پاؤں سلامت ہیں۔۔۔۔

کیسا ہے میرا بچہ ۔۔۔۔۔۔؟

ہارون سکندر اپنی رندھی ہوئی آواز میں بولے تھے۔۔ میں ٹھیک ہوں بس آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔ وہ بمشکل بولی تھی۔۔۔۔ ڈاکٹر اسکے آنے سے پہلے ہی الرٹ کھڑے تھے۔۔۔ خُبیب سکندر نے روم میں داخل ہوتے بڑی نرمی سے اسے الٹا ہی بیڈ پر لیٹایا تھا۔۔۔ نہیں مجھ سے لیٹا نہیں جاتا۔۔۔

جن آنسوؤں پر اس نے بندھ باندھا تھا۔۔۔۔وہ اسکے عارض پر بہہ رہے تھے۔۔۔وہ اب کہنیوں اور گھٹنوں کی مدد سے بیڈ پر کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔

کھڑے ہوتے ہی اسکی نظر خُبیب سکندر کی سوجی ہوئی ریڈ آنکھوں پر پڑی ۔۔۔۔ وہ اپنا درد بھلائے اپنا ہاتھ اسکے عارض پر رکھ گئی تھی۔۔۔۔ اتنے رف حلیے میں دیکھ کر تڑپ ہی تو گئی تھی۔۔۔ وہ پوچھنا چاہتا تھا۔۔۔ کس نے یہ حال کیا تھا۔۔۔۔لیکن اسکی حالت دیکھ کر خاموش تھا۔۔۔۔

وہ ابھی تک اسکا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحبہ اسکا جسم یخ ٹھنڈا ہے۔۔۔۔ وہ بمشکل بولا تھا۔۔۔۔ جنت حیران ہوئی تھی۔۔۔۔ کہ وہ اسکے لئے رو رہے ہیں۔۔۔۔

اسکی حیرانگی بنتی بھی تھی۔۔۔ وہ شدت جزبات میں اسکے ہاتھوں پر ڈاکٹر کے سامنے ہی لب رکھ گئی تھی ۔۔۔

خُبیب سکندر ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر کے سامنے اسکی اس حرکت پر خفت کا شکار ہوا تھا۔۔۔۔

خُبیب صاحب۔۔۔۔۔۔ آپ باہر جائیں میں تھوڑی دیر میں آپکو بلوا لوں گی۔۔۔۔ دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔ کہ یہ چہرا ایک پل کے لئے بھی نظروں سے اوجھل ہو۔۔۔۔اسنے ایک نظر اسکے زرد مرجھائے ہوئے ۔۔۔۔چہرے کو دیکھا جسے دیکھتے ہی اسے اپنا دل درد سے پھٹتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔ آنکھیں شدت گریہ سے بھیگ گئی ۔۔۔۔ وہ تیزی سے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔

********************************

لیڈی ڈاکٹر جیسے ہی روم سے باہر آئی ۔۔۔۔ خُبیب سکندر کے ساتھ ہی ہارون سکندر تیزی سے اسکی طرف بڑھے تھے۔۔ ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔ وہ بس اتنا ہی بول سکا تھا۔۔۔

دیکھیں آپکی پریشانی بجا ہے۔۔۔۔ انہیں استری سے جلایا گیا ہے ۔۔۔۔ گردن سے لیکر گھٹنوں کے اوپر تک وہ بری طرح جلی ہوئی ہیں میں تو اس بچی کی ہمت پر حیران ہوں۔۔۔

آپ سوچ نہیں سکتے وہ بچی کتنی تکلیف میں ہے۔۔۔۔

اسنے مجھے کہا ہے کہ میں آپ لوگوں کو نہ بتاؤں۔۔۔۔ مجھے نہیں پتہ وہ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں۔۔۔۔؟

بی پی بھی انکا بہت لو ہے۔۔۔ وہ لیٹ نہیں سکتی اس لئے بچے کا ابھی کچھ نہیں پتہ میں نے ابھی تک چیک نہیں کیا۔۔۔۔۔

بہتر یہ ہی ہے کہ آپ انہیں گھر لے کے جانے کی بجائے یہاں ایڈمٹ کروا دیں۔۔۔۔

میں اپنی پوری کوشش کروں گی۔۔۔۔مجھے احمر نے بتایا ہے کہ انہیں کڈنیپ کیا گیا تھا۔۔۔۔

خُبیب سکندر تو جیسے کچھ سن ہی نہیں رہا تھا۔۔۔۔آپ سوچ نہیں سکتے بچی کتنی تکلیف میں ہے۔۔۔۔

وہ تو بس انہیں لفظوں میں اٹکا ہو ا تھا۔۔۔۔وہ اسکی ہمسفر تھی۔۔۔سب سے بڑھ کر جو بات تھی کہ وہ اسکی ہم خیال بھی تھی۔۔۔۔اب وہ اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز تھی۔۔۔

اسے اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔ سر بری طرح چکرانے لگا تھا۔۔۔

اس قدم ایک دم لڑکھڑایے تھے۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتا ہارون سکندر نے اسے اپنی مضبوط بانہوں میں تھاما تھا۔۔۔۔ جوان بیٹا ہوش و حواس سے بیگانہ اسکی بانہوں میں تھا۔۔۔

بھائی حدید کی چیخ بلند ہوئی تھی۔۔۔

ڈاکٹر سٹریچر پر اسے لیٹائے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے احمر بھی انکے ساتھ ساتھ سٹریچر پکڑے بھاگ رہا تھا۔۔۔ ہارون سکندر حدید کو اپنے ساتھ لپٹائے بت بنے دیکھ رہے تھے۔۔۔

*******************************