Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 31) 2nd Last Episode (Part - 1)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 31) 2nd Last Episode (Part - 1)
Ehsaas By Raheela Bano
اِزنا ۔۔۔۔آنکھیں کھولو۔۔۔انداز سخت اور سرد تھا۔۔۔۔ وہ جسے ابھی نیند نے اپنی آغوش میں لیا تھا۔۔۔ اسنے پٹ سے آنکھیں کھولی۔۔۔۔ انکی سرخ آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔۔۔۔ جنت میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ان آنکھوں میں دیکھ سکے۔۔۔۔اسنے نظریں جھکائیں تھیں ۔۔۔۔
انہیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔؟
وہ اب بیڈ سے نیچے اتری تھی۔۔۔۔
خبردار ۔۔۔۔۔!!
میرے قریب آئی تو تمہاری جان لے لوں گا۔۔۔
جنت بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔ میں نے ایسا کیاکیا ہے۔۔۔ ؟
یہ جو آپ اس طرح چلا رہے ہیں۔۔۔۔۔ تم نے تو کچھ نہیں کیا۔۔۔ تم کیا کچھ کر سکتی ہو یہ میں نے سوچا نہیں تھا۔۔۔ سلطانہ آنٹی تمہاری تائی تھیں تم نے یہ بات ہم سے کیوں چھپائی۔۔۔؟
وہ غصے میں ہلک کے بل چیخا تھا۔۔۔۔ جنت کے قدم لڑکھڑائے تھے۔۔۔۔ ماتھے پر پسنیے کے قطرے نمودار ہوئے۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا جواب دے۔۔۔۔؟
بول کیوں نہیں رہی۔۔۔۔۔؟
چپ کیوں ہو۔۔۔۔؟
کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں وہ ایک ہی جست میں اسکو بازوؤں سے جکڑ گیا تھا۔۔۔۔اسکو مسلسل خاموش دیکھ کر وہ پاگل ہونے والا ہو رہا تھا۔۔۔۔
جنت جو سہمی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں ۔۔۔۔ بار۔۔۔ بار۔۔۔۔ یہ لفظ ہتھوڑے کی طرح اسکے دماغ پر ضربیں لگا رہے تھے۔۔۔۔
چھوڑیں مجھے وہ طیش کے عالم میں بولی تھی۔۔۔۔۔
میں جو پوچھ رہا ہوں۔۔مجھے اسکا جواب دو ۔۔۔۔ خُبیب سکندر ایک دم دھاڑا تھا۔۔۔۔
جنت انکی آنکھوں میں بے اعتباری دیکھتے پاگل ہونے کو تھی۔۔۔۔
”آپ کی زبان جو ہے وہ بغیر ہڈی کے ہے۔۔۔۔۔۔ اور میرا دل۔۔۔۔۔ اس میں بھی ہڈی نہیں ہے۔۔۔”
آپ کی یہ زبان ہمیشہ میرا یہ دل توڑ دیتی ہے ۔۔۔۔وہ اپنے دل پر انگلی رکھے بری طرح روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔ اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔
آنسو اسکی آنکھوں سے لڑیوں کی شکل میں بہہ رہے تھے۔۔۔۔
وہ اب اپنے گلے کو جکڑے سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔خُبیب سکندر ۔۔۔ اسکی حالت دیکھتے تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔
خبردار ۔۔۔۔ !!
آپ میرے قریب آئے۔۔وہ اپنے گلے کو جکڑے بولی ۔۔۔
اتنی دیر میں ہارون سکندر ادھ کھلے دروازے سے اندر آئے تھے۔۔۔۔ڈیڈ ۔۔۔ جنت کی آواز پر وہ اسکی طرف بڑھے۔۔۔ ڈیڈ ۔۔۔ آپ میری بات سنیں گے نہ۔۔۔۔۔ وہ گلے کو جکڑے ہی بولی تھی۔۔۔
ہاں میں اپنے بچے کی بات سنوں گا۔۔۔۔ وہ اسکا زرد پڑتا چہرا دیکھ کر بولے تھے۔۔۔۔
آپ مم ۔۔میری بات کا یقین کک۔۔ کریں گے نہ۔۔۔۔ وہ اٹکتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
ہاں۔۔۔۔ میں یقین کروں گا۔۔۔۔وہ اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے بولے تھے۔۔۔
ڈیڈ۔۔۔ یہ مجھ پر شک کر رہے ہیں ۔۔۔کیوں کرتے ہیں یہ میرے ایسے۔۔۔۔؟
انکی یہ زبان ہمیشہ میرے اس نازک دل پر وار کرتی ہے۔۔۔۔ وہ بلک بلک کر رونے لگی۔۔۔۔
تمہارے ڈیڈ۔۔۔۔ تم پر بھروسہ کرتے ہیں۔۔۔۔بس اتنا کافی نہیں ہے تمہارے لئے۔۔۔۔ اب ہارون سکندر قہر بار نظروں سے خُبیب سکندر کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔ جو اسکی حالت کی پرواہ کئے بغیر اس پر برس رہا تھا۔۔۔۔
خُبیب سکندر اب جنت کو التجائی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اتنی فکر تھی تو پھر اتنا تماشہ کرنے کی کیا ضروت تھی۔۔۔۔ اگر اسنے نہیں بتایا تو کوئی طوفان آ گیا تھا۔۔۔دل تو کر رہا ہے کہ تھپڑوں سے تمہارا منھ لال کر دوں۔۔۔۔انکے منھ میں جو آ رہا تھا بول رہے تھے۔۔۔۔ وہ جنت کی بگڑتی حالت دیکھ کر پریشان ہوئے تھے۔
فوزیہ سکندر ۔۔۔ پاگلوں کی طرح دیکھ رہی تھی کہ انہوں نے ہاسپٹل میں ہی تماشہ لگا دیا تھا۔۔۔ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی۔۔۔ کہ وہ اب کیا کرے ۔۔۔کسی کوزرا سا اونچا بولتے سن کر اس کے ویسے ہی ہاتھ پاؤں پھول جاتے تھے۔۔۔ اب وہ وہاں کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔
جنت کے پیٹ میں ایک دم سے درد شروع ہوا تھا۔۔۔۔ وہ تکلیف سے دوہری ہو رہی تھی۔۔۔
خُبیب سکندر ۔۔۔اسےتکلیف میں دیکھ کر تیزی سے اسکی طرف بڑھا۔۔۔ وہ اسے دیکھتے پیچھیے کو قدم لینے لگی ۔۔۔ اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی خُبیب سکندر نے اسے مضبوطی سے تھاما تھا۔۔۔۔ اتنا تو وہ ا تنی تکلیف میں نہیں ڈولی تھی ۔۔۔ جس طرح اسکی بے اعتباری سے ٹوٹ گئی تھی۔۔۔۔
ڈاکٹر وہ ایک دم چیخا تھا۔۔۔ ہوش و حواس سے بیگانہ وجود کو اپنی گود میں اٹھائے ڈاکٹر کے روم کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔اِزنا۔۔۔ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔
وہ ناک کئے بغیر ہی ڈاکٹر کے روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔ یہ میری وائف کو چیک کریں۔۔۔ وہ اپنی نم آنکھیں صاف کرتے پیچھے ہوا تھا۔
ڈاکٹر اب آگے بڑھ کر اسے چیک کر رہی تھی۔۔۔۔وہ ڈاکٹر کے چہرے کے تاثرات چیک کر رہا تھا۔۔۔۔
ان کا بی پی شوٹ کر گیا ہے ۔۔۔ ان کا آپریٹ کرنا پڑے گا۔۔۔ آپ بلڈ کا ارینج کریں۔۔۔
لیکن ان کا توساتواں ماہ چل رہا ہے۔۔۔ فوزیہ سکندر نے پریشانی سے ڈاکٹر عائشہ کی طرف دیکھا۔۔۔
بچے کے دل کی دھڑکن محسوس نہیں ہو رہی۔۔۔ ہمیں جلدی آپریشن کرنا پڑے گا۔۔۔۔ اب وہ اپنے ساتھ دوسری ڈاکٹر اور نرسوں کو ہدایت دے رہی تھی۔۔۔۔۔
************************************
خُبیب سکندر پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑا تھا۔۔۔
فوزیہ سکندر کی آواز پر اس نے اپنی نظریں ہٹائیں تھی۔۔۔ میں حماس کے لئے ضروری ضروری چیزیں لے آئی ہوں۔۔۔ ہارون سکندر نے اسے چونک کر دیکھا تھا۔۔۔مجھے ایسے کیوں دیکھ رہیں ہیں ڈاکٹر نے مجھے بتادیا تھا کہ بے بی بوائے ہے۔۔
میں نے آپ سے کہا تھا نہ کہ اگر بیٹا ہوا تو میں نام رکھوں گی۔۔۔ تو اب میں اسکا نام حماس خبیب رکھ دیا ہے۔۔۔
وہ پوتے کی خوشی میں نہال ہو رہی تھیں ۔۔۔ وہی ان دونوں کی نظریں آپریشن تھیٹر کے دروازے پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔
خُبیب سکندر کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔۔۔۔ کیا ضرورت تھی اس پر چلانے کی۔۔۔۔۔
وہ اسکی بات کو اتنا دل پر لے گی یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔۔ پہلے تو وہ وہ اسے غصے میں دیکھ کر ہنس کر ٹال دیتی تھی۔۔۔۔ آج تو اسنے ایسے ہی برود کوچھیڑ لیا ۔۔۔
اسکے کے چلانے سے اسکی یہ حالت ہو جائے گی۔۔۔۔۔ وہ تو صحیح طریقے سے لیٹ بھی نہیں سکتی۔۔۔
یااللہ ۔۔۔میری بیوی اور بچے کی حفاظت کرنا ۔۔۔ اب وہ اپنی نم زدہ نگاہوں سے ہارون سکندر کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔جسے فوزیہ سکندر بچے کے لئے لائی ہوئی ایک ایک چیز دیکھا رہی تھیں۔۔۔اور اسکا دل ڈوب رہا تھا۔۔۔۔ڈیڈ تو میری طرف دیکھ بھی نہیں رہے۔۔۔ وہ کس طرح اسکی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔۔۔اسے ڈیڈ پر یقین تھا ۔۔۔ مجھ پر نہیں۔۔۔۔
اگر وہ اسے سچ سے آگاہ کر دیتی تو وہ اس حال میں نہ ہوتی۔۔۔ اپنی جان پر ہی سب سہہ رہی ہے۔۔۔۔ آنے والے تو بس دلاسہ ہی دے سکتے ہیں۔۔۔اور سلطانہ آنٹی کس طرح شاطرانہ چال چلتی رہیں۔۔۔۔ دولت کی حوس بھی کیا چیز ہے ۔۔۔۔؟
پولیس اسے تلاش کر رہی تھی۔۔۔
کس طرح جال بنا تھا۔۔۔۔۔ یہ جانے بنا کہ اللہ بھی ہے۔۔۔۔ اور جنت نے یہ بات ان سے کیوں چھپائی۔۔۔۔۔۔؟
ایسا تو نہیں کہ سلطانہ آنٹی نے ہی اسے کوئی دھمکی دی۔۔۔ ہو۔۔۔اب تو اسے آنٹی کہنے کو بھی دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔ کل تک جس عورت کی وہ دل سے عزت کرتا تھا۔۔۔۔ آج اس سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ میں آپکو کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔۔۔یہ سوچتے ہی اسنے آپنی سرخ اور نم زدہ آنکھیں اپنے ہاتھوں کی ہتھلیوں سے صاف کی تھیں ۔۔۔۔
کرب سے اب اپنی آنکھیں بند کئے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کہ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
خُبیب سکندر کو اس طرح تڑپتے دیکھ کر اسکی پیشانی پر بل پڑے تھے۔۔۔ خُبیب بیٹھ جاؤ تھک جاؤ گے پہلے ہی تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔فوزیہ سکندر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
موم اتنی دیر ہو گئی ہے۔۔۔وہ بمشکل بولا تھا۔۔۔۔ اتنی ہی فکر تھی تو اتنا تماشہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔ اب کیا ہے تو بھگتو۔۔۔۔ ہارون سکندر غصے میں بولے تھے۔۔۔
اس میں غلط کیا کہا ہے اس نے۔۔۔۔۔ اب کی بار فوزیہ سکندر ان کے مقابل آئی تھی۔۔۔اتنی بڑی بات اس نے ہم سے چھپائی آپ کے نزدیک یہ چھوٹی سی بات ہے ۔۔۔اسکی اس حرکت کی وجہ سے ہم پر کیا قیامت گزری ہے۔۔۔۔ بھول گئے ہیں ۔۔۔۔ لیکن میں نہیں بھولی اس بات کو تو اسے جواب دینا پڑھے گا۔۔۔۔
فوزیہ سکندر غصے میں پھنکاری تھیں۔۔۔۔ ہارون سکندر کو اپنی بیوی کی بےوجہ منطق سمجھ میں نہیں آئی تھی۔۔۔وہ الجھن زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
اسی اثناء میں ڈاکٹر کو اپنی طرف آتے دیکھ کر وہ تیزی سے ڈاکٹر کی طرف بڑھے ۔۔۔
مبارک ہو اللہ نے آپ کو بیٹا دیا ہے۔۔۔۔۔
مم۔۔۔۔میری وائف کیسی ہیں۔۔۔ خُبیب سکندر اٹکتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔ جس پر ڈاکٹر عائشہ نے گہرا مسکراتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ اسکے اسطرح دیکھنے پر خفت کا شکار ہوا تھا۔
آپ کی وائف بھی ماشااللہ ٹھیک ہیں۔۔۔ مگر ابھی ہوش میں نہیں ہیں ۔۔
بچہ۔۔۔ فوزیہ سکندر جس سے صبر ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ وقت سے پہلے دنیا میں آنے کی وجہ سے انہیں انکوبیٹر میں رکھا جائے گا۔۔۔۔ کتنی دیر رکھا جائے گا یہ آپ چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر قاسم سے مل کر پوچھ سکتے ہیں۔۔۔۔
پریشانی والی تو بات نہیں ہے۔۔۔ ہارون سکندر نے اپنے خشک ہوتے ہلک کو تر کرتے پوچھا تھا۔۔۔۔
پریشانی والی بات نہیں ہے۔۔۔. جن کے ساتھ اتنی دعائیں ہوں ۔۔۔ بھلا انہیں کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔ وہ یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
خُبیب سکندر تو بس آئی سی یو کے دروازے کو دیکھ رہا تھا ڈاکٹر نے کیا کہا کیا نہیں۔۔۔۔ اسکا زہہن اسی بات میں اٹکا ہوا تھا۔۔۔ کہ وہ ابھی ہوش میں نہیں ہے ۔۔۔. وہ اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑتے ہوئے زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔۔
*********************************************
جنت جب ہوش میں آئی تو اسکی زبان پر بس ایک ہی لفظ تھا ۔۔۔ کہ میرا بچہ کہاں ہے مجھے بس اسے دیکھنا ہے ۔۔۔خُبیب سکندر اسے بے بسی سے دیکھ رہا تھا جو اسکی کسی بھی بات کا یقین نہیں کر رہی تھی۔۔۔
نہ اسے خود کو ٹچ کرنے دے رہی تھی۔۔۔ اتنی دیر میں کرن اور عینا دونوں روم میں انٹر ہوئی تھیں۔۔۔۔بھیا آپکو بہت بہت مبارک ہو وہ دونوں ایک ساتھ بولی تھیں ۔۔۔ عینا جو خُبیب سکندر کے گلے لگی تھی ۔۔۔خُبیب سکندر نےاسکے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
بھابھی آپکو بہت بہت مبارک ہو وہ اب اسکے حصار نے نکلتی جنت کی طرف بڑھی۔۔۔ دونوں اسکے زرد پڑتے رنگ کو دیکھ کر چونکی تھیں۔۔۔
عینا اب جنت کا ہاتھ پکڑتے اسکے پاس ہی بیٹھ گئی تھی۔۔۔جنت زخمی نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی اسے آرے کی طرح کاٹ رہا تھا۔۔۔ اس ظالم عورت نے اسے لا کر کہاں کھڑا کر دیا تھا۔۔۔؟
ہاں مجھ سے غلطی ہوئی ہے ۔۔۔۔ اسی غلطی کی ہی تو سزا بھگت رہی ہوں۔۔۔ یا اللہ میں نے تو اس ڈر نہیں بتایا تھا۔۔۔ کہ اگر اس عورت نے مجھے ماننے سے انکار کر دیا تو سب اسے جھوٹا سمجھے گے۔۔۔ بس اسی خوف سے بتا نہیں سکی تھی۔۔۔۔
پتہ نہیں اب اسنے کیا جھوٹ بولا ہے۔۔۔۔؟
جو وہ مجھ پر اتنا چلا رہے تھے۔۔۔ میری تکلیف کی بھی پرواہ نہیں کی۔۔۔۔انہیں ابھی تک مجھ پر اعتبار نہیں ہے۔۔۔۔ اسنے کرب سے آنکھیں موندیں تھیں۔۔۔۔
بھابھی آپ نے خود سے اٹھنا نہیں ہے ورنہ سٹیچز میں پین ہو گا۔۔۔ وہ ڈاکٹر نے مجھے بتا دیا ہے ۔۔۔ وہ نقاہت زدہ آواز میں بولی۔ خُبیب سکندر ۔۔۔اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ بظاہر وہ ان کے ساتھ باتیں کر رہی تھی۔۔۔ لیکن تکلیف کے اثرات چہرے پر نمایاں تھے۔۔
چھ گھنٹے بعد اسے ہوش آیا تھا۔۔۔ چار گھنٹے وہ انڈرابزرویشن رہی تھی۔۔۔۔ڈاکٹرز کی تسلی کے باوجود وہ پل پل مرا تھا۔۔۔۔ ابھی اپنے بچے کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔۔۔ موم اور ڈیڈ ہی اسکے پاس تھے ڈاکٹر نے کیا کہا تھا اسے کچھ بھی نہیں معلوم تھا۔۔۔ اسکی جان تو اپنی بیوی میں اٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔
کتنا کچھ برداشت کرنا پڑھ رہا تھا۔۔۔اسے اس عمر میں ۔۔۔ اب اسے خود پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔ اپنی بیوی کی حالت کا وہ خود زمہ دار تھا۔۔۔
وہ اتنی تکلیف اسکی وجہ سے جھیل رہی تھی۔۔۔ اب اسنے ایک نظر اسے دیکھا جو عینا کا ہاتھ اپنی گرفت میں لئے آنکھیں موندے ہوئے تھی۔۔۔
بھابھی آپ کی طبعیت ٹھیک ہے ۔۔۔وہ اسے کراہتے ہوئے دیکھ کر بولی تھی۔۔۔۔
اسی اثناء میں نرس روم میں انٹر ہوئی تھی۔۔۔وہ پہلے سے ہی اسکی دیکھ بھال کر رہی تھی۔۔۔وہ اب اسکا بی پی چیک کر رہی تھی۔۔۔۔ ان کا تو بی پی بہت ہائی ہے۔۔۔وہ پریشانی سے بولی ۔۔۔۔۔روم میں نظر دوڑائی تو کرن نہیں تھی ۔۔۔ وہ کب گئی وہ اپنی سوچوں میں اتنا مگن تھا ۔۔۔اسے خبر ہی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔اسکا بی پی کیوں ہائی ہو رہا ہے ۔۔۔ وہ بے ساختہ بولا تھا۔۔۔۔ یہ کسی بات کی ٹینشن لے رہی ہیں۔۔۔ میں ابھی ڈاکٹر کو بلا کر لائی۔۔۔ وہ یہ کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔۔۔
اس کی نظریں جنت پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔ جو آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹی تھی۔۔۔جیسے اسے کسی سے غرض ہی نہ ہو ۔۔۔۔ خُبیب سکندر پریشانی سےاب ماتھا مسلنے لگا۔۔۔
**************************************
صبح سےبارش اتنی تیز ہو رہی تھی۔۔۔۔طوفانی بارش جسے سب کچھ بحا کر لے جائے گی۔۔۔۔ بجلی کی چمکنے کی خوفناک آوازیں اپنی دہشت پھیلا رہی تھی۔۔۔۔
ہارون سکندر جو احمر کے روم میں بیٹھا چائے پی رہا تھا۔۔۔۔ انکل یہ ساتھ ہی روم ہے آپ اس میں ریسٹ کر سکتے ہیں۔۔۔ نہیں بیٹا۔۔۔۔ میں تو اپنے پوتے کے پاس جاؤں گا۔۔۔۔
ماشااللہ بہت خوبصورت ہے۔۔۔ لگتا نہیں ہے سات ماہ کا ہے۔۔۔ پہلے جب کبھی سنتے تھے کے سات ماہ کا بچہ پیدا ہوا ہے تو بڑی حیرت ہوتی تھی۔۔۔۔اب اپنے گھر میں ہی پیدا ہو گیا ہے۔۔۔
اللہ صحت تندرستی دے۔۔۔۔۔میری ڈاکٹر سے بات ہوئی تھی۔۔۔اس نے بتایا ہے ماشااللہ ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ ایک دو تین مزیذ انکوبیٹر میں رہتا تو بہتر تھا۔۔۔
بھابھی کی وجہ سے خُبیب بھائی بھی صبر نہیں کر سکے ۔۔۔۔ اب جو ڈاکٹر نے قطرےلکھ کر دیئے ہیں۔۔۔۔ وہ آپ نے باقاعدگی سے دینے ہیں ۔۔۔ ڈاکٹر قاسم نے کہا ہے کہ یہ بچے کے اعضاء مضبوط کرنے کے ہیں ۔۔۔۔ ویسے تو ماشااللہ ٹھیک ہے اور ایکٹو بھی ہے۔۔۔
بچی بہت ہمت والی ہے۔۔۔اللہ نے شاید اسے بچے کے زریعے صبر کا صلہ دیا ہے۔۔۔۔
ایک دم آنے والی خبر پر ہارون سکندر نے سامنے لگی ایل ای ڈی پر اپنی توجہ مرکوز کی تھی۔۔۔
بزنس مین حسن شفیق مشہور بزنس مین خُبیب سکندر کی بیوی کو کڈنیپ کرنے کے جرم میں گرفتار۔۔۔
بار ۔۔۔بار۔۔۔ یہ خبر چل رہی تھی ۔۔۔ اور ساتھ ہی ۔۔۔حسن کو دیکھا بھی رہے تھے۔۔۔۔جو ہتھکڑیوں میں زمین پر نظریں کئے چل رہا تھااسے دیکھتے ہی ہارون سکندر ایک دم کرنٹ کھا کر اٹھے تھے۔۔۔۔ انکے ساتھ احمر بھی چونکا تھا۔۔۔۔اب دونوں ہی ناسمجھی کے عالم میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
کیا اسنے اپنی ماں کا جرم اپنے سر لے لیا ہے۔۔۔۔ ؟
سخت سردی میں بھی انکی پیشانی پر پسینے کی بوندیں نمودار ہوئی تھیں۔۔۔۔
وہ تیزی سے چائے کا کپ ویسے ہی ٹیبل پر رکھتے باہر کی سمت بڑھے تھے۔۔۔
****************************
وہ آج تین دن بعد اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کاٹ میں اپنے بیٹے کو دیکھتی۔۔۔۔ اور گہرا مسکراتی۔۔۔اس نے رو رو کر بچے کو منگوا لیا تھا۔۔۔۔
خُبیب سکندر نے بھی اسکی ضد کے سامنے ہار مان لی تھی۔۔۔ وہ شاید اسکے ساتھ ناراضیگی کی وجہ سے زیادہ ہی غصہ کر رہی تھی۔۔۔۔
جب سے بچہ آیا تھا وہ اس وقت سے ہی کاٹ کے ارد گرد منڈلا رہی تھی۔۔۔صحت مند گول مٹول سے اپنے بچے کو بڑے پیار سے دیکھ رہی تھی۔۔
عینا ایک بار حماس مجھے گود میں دو گی ۔۔۔۔ بس اس نے اپنے پچے کو دیکھا تھا ابھی گود میں نہیں لیا تھا۔۔۔۔ پتہ ہے بھابھی بھیا نے بھی حماس کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔ وہ تو بس آپ کے پاس ہی رہے تھے۔۔۔
حماس کا تو پوچھا بھی نہیں تھا۔۔۔۔ آج اگر آپ ضد نہ کرتی تو وہ آج بھی نہ دیکھتے۔۔۔۔اور جنت حیرانگی سے عینا کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ تو سمجھ رہی کہ وہ تو بس اپنا پیار بچے کی وجہ سے دیکھا رہے ہیں۔۔۔۔
وہ اب اسے دن میں گنتی کا ہی نظر آتے تھے۔۔۔۔عینا نے اسے آج تیار کیا تھا۔۔۔۔ میرون سوٹ کے ساتھ ہم رنگ شال اوڑھی تھی۔۔۔۔ میرون ہی لپ اسٹک لگائی تھی۔۔۔۔ بالوں کی ڈھیلی سی چٹیا کی تھی۔۔۔ لیکن وہ ابھی تک نہیں آئے تھے۔۔۔۔
آپ مزاق کر رہی ہیں۔۔۔ جنت اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔
اگر میری اتنی ہی فکر تھی تو مجھ پر چلائے کیوں ۔۔۔۔۔؟
شکر ہے اللہ نے میرے بچے کو بچا لیا ۔۔۔۔
وہ اب حماس کو عینا سے پکڑتے ہوئے بولی۔۔۔اسے بے اختیار ہی اس پر پیار آیا تھا ۔۔۔ اس نے اپنا گال اسکے گال سے مس کیا تو وہ تھوڑا سا کسمسایا تھا۔۔۔
وہ اسکے اس طرح کسمسا کر دیکھنے سے کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔۔ جیسے ہی اسنے اپنی انگلی سے اسکے گال کو چھوا تو رونے لگا۔۔۔۔اسنے اپنے لب اسکے نرم نرم گالوں پر رکھ دئیے۔۔۔پھر اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔
اسے دیکھتے ہی اسکے اندر کی ممتا جاگی تھی۔۔۔کتنی دیر اسے سینے سے لگائے اسے چپ کروایا تھا۔۔۔ اب پھر وہ گہری نیند سو چکا تھا۔۔۔۔ یہ تو اپنے بابا پر گیا ہے۔۔۔ فوراً ہی نیند کی وادی میں اتر گیا۔۔۔
آپ اسے کاٹ میں لیٹا دیں وہ پھر سے عینا سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔ عینا نے حماس کو اس سے لیکر کاٹ میں اسے لیٹایا تھا۔۔۔۔۔۔ موبائل پر مسلسل بیل ہو رہی تھی ۔۔۔ آپ کال اٹینڈ کر لیں۔۔۔ وہ احمر کی ہے۔۔۔
بھائی ابھی تک آئے نہیں ہیں اگر میں نے کال اٹینڈ کر لی تو پھر مجھے جانا پڑے گا۔۔۔۔
کوئی بات نہیں اگر وہ بلا رہے ہیں تو چلی جائیں ایسے تو وہ زیادہ پریشان ہوں گے۔۔۔۔ آپکو بھی ڈسچارج کر دیا ہے بس بھیا کا ہی
ویٹ کر رہی ہوں اکٹھے ہی چلیں گے ۔۔۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
*********************************
کتنے ہی لوگ اس کیس میں بے گناہ مارے گئے تھے۔وہ بے چارہ غریب چائے والا ۔۔۔۔ جس نے کال کرنے کے لئے اپنا موبائل دیا تھا۔۔۔کسی انجان عورت کی مدد کی جو برستی بارش میں گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے کھڑی تھی۔۔۔۔ اور وہ نیکی اے مہنگی پڑی ۔۔۔ بے چارہ تین دن جیل میں رہا۔۔۔
ہارون سکندر ۔۔۔ جس کے دل میں رحم دلی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔۔۔ اب وہ اسے اسکے گھر خود چھوڑنے گئے تھے۔۔۔۔۔ اور صدیق صاحب کا وفادار۔۔۔ جس نے گرفتاری دی تھی۔۔۔ اگر اس نے ان کی مدد نہ کی ہوتی تو بھی بے گناہ مارا جاتا۔۔۔
اب خُبیب سکندر ۔۔۔ اطلاع ملنے پر حسن کو جیل ملنے آیا تھا۔۔۔۔ میڈیا اسکی عزت کے ساتھ اسکی بیوی کو گھیسٹ رہا تھا جب جب اسکا نام آتاساتھ ہی اس کی بیوی کا نام آتا۔۔۔ وہ شدید غصے میں اسے گھور رہا تھا۔۔۔ جو جیل میں نظریں جھکائے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔۔
کتنی دیر سے وہ اسے اپنی سوچوں میں گم دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ اسکی چپ کو توڑ نہ سکا۔۔۔۔
میں یہاں تمہارامنھ دیکھنے نہیں آیا۔۔۔ تم جانتے ہو میں کس لئے آیا ہوں۔۔۔
ثابت کر دیا کہ میری بیوی کے ساتھ تمہارا کوئی رشتہ نہیں ۔۔۔۔ ماں کے گناہ کو بھی اپنے سر لے لیا۔۔۔ اور بہن کو بھی بچا لیا ۔۔۔ اورخُبیب سکندر کی عزت تمہیں اتنی سستی لگی ۔۔۔ کہ تم نے اسے خبروں کی زینت بنا دیا۔۔۔ وہ ہلک کے بل چیخا تھا۔۔۔۔
خود کشی اگر حرام نہ ہوتی تو میں ضرور کرتا ۔۔۔ لیکن مجھے جو صحیح لگا میں نے وہ کیا۔۔۔
خُبیب ہو سکے تو مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔ وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا۔۔۔۔
میں نے عہد کیا تھا کہ جس نے میری بیوی کو کڈنیپ کیا اگر وہ مجھے مل گیا تو زندہ کو کتوں کے آگے ڈالوں گا۔۔۔۔ شکر ہے میں نے قسم نہیں کھائی تھی۔۔۔۔
سزا اسکو ہی ملے گی جس نے گناہ کیا ہے ۔۔۔ وہ خون اشام نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
تم ایسا کچھ نہیں کرو گے خُبیب سکندر ۔۔۔۔ وہ شیر کی طرح دھاڑا تھا۔۔۔وہ دنوں ایک دوسرے کو اپنی لہو رنگ آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
میں ایسا ہی کروں گا۔۔۔۔
ایک بیان تم نے دیا ہے ۔۔۔۔۔
اور اب ایک بیان میں دوں گا ۔۔۔۔وہ بھی دھاڑا تھا۔۔۔۔
تم ایسا کچھ نہیں کرو گے تمہیں اِزنا کی قسم خُبیب۔۔۔۔۔ وہ اپنا سر سلاخوں سے مارتے ہوئے بولا.۔۔۔ اسکے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔ خُبیب سکندر اس پر قہر بار نظر ڈالتے ہوئے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
******************************************
