Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334

Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 32) 2nd Last Episode (Part - 2)

930K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehsaas (Episode 32) 2nd Last Episode (Part - 2)

Ehsaas By Raheela Bano

یہ ملازموں میں تقسیم کر دینا,جنت نے پچیس لاکھ کا چیک دیکھ کر اپنے خشک ہلک کو تر کیا تھا۔۔

ہارون صاحب۔۔۔۔ آپ کا بہت شکریہ آپ نے میری بہن کو اپنی بہن کی طرح عزت دی ۔۔۔۔۔اسکا میں ساری زندگی مشکور رہوں گا۔۔۔اور مجھے اجازت دیں وہ ہارون سکندر سے ہاتھ ملاتے بغلگیر ہوئے تھے۔۔۔۔

فوزیہ سکندر کے سر پر بھی شفقت سے ہاتھ رکھا تھا۔۔۔ اب وہ جنت کو اپنے سینے سے لگاتے ماتھے پر لب رکھے تھے۔۔۔تم ہو بہو میری کوثر جیسی ہو وہ نم آواز میں بولے ۔۔۔ جنت اب اپنی بھیگی آنکھوں سے انہیں جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔

****************************

رات کے بارہ بج چکے تھے۔۔۔جنت کا دل بری طرح گھبرا رہا تھا۔۔۔ناراضیگی کی وجہ کال کر کے بھی نہیں پوچھ سکتی تھی ۔۔۔ خوشیوں نے ایک ساتھ آ کر دستک دی تھی۔۔۔۔مجھے تو خوشیاں راس ہی نہیں آتی ۔۔۔

ایک طرف سے خوشی آنگن میں اترتی ہے تو دوسری طرف کوئی مصبیت کھڑی ہوتی ہے۔۔۔ یا اللہ میرے شوہر کی حفاظت کرنا ۔۔۔ کس طرح منٹ میں رنگ بدلا تھا۔۔۔ اتنی آسانی سے نہیں مانوں گی یہ بس اسکا وہم ہی تھا۔۔۔

وہ اگر بے باکی کا مظاہرہ کرتے بھی تو وہ جان بوجھ کر ریزرو ہو جاتی۔۔۔غصے سے رخ موڑ لیتی تو پھر بھی وہ مسکراتی ہوئے ماتھے پر لب رکھ دیتے۔۔۔

اب اسنے جھنجھلاتے ہوئے وال کلاک پر ٹائم دیکھا۔۔۔ ساڑھے بارہ ہو گئے تھے۔۔۔زرا بھی احساس ہے میرا ۔۔۔ایک دم دروازہ کھلنے پر اسکا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔۔وہ فوراً سنبھلی تھی۔۔۔

خُبیب سکندر ۔۔۔ نے پیچھے سے آکر اسکی کمر کے گرد اپنے بازوؤں کا حلقہ بنایا تھا۔۔۔ابھی تک خفا ہو مجھ سے۔۔۔۔وہ اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکاتے ہوئے بولا۔۔۔

جنت نے خود کو اسکے بازوؤں کے حلقے سے آزاد کیا تھا ۔۔۔۔ اب نروٹھے انداز میں رخ موڑ پلٹ گئی تھی۔۔۔۔ اسنے اپنے غصے پر قابو پاتے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔ اب وہ نظریں جھکائے اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔

پہلی دفعہ تھوڑی ڈانٹا ہے ۔۔۔ پہلے بھی تو ڈانٹتا ہوں۔۔۔ پہلے تو تم اتنا غصہ نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔ وہ اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔ اوپر سے اپنی تائی سے میری وجہ سے استری سے جلتی رہی ہو۔۔۔۔

اتنی تکلیف مجھے جلنے کی نہیں ہوئی جتنی تکلیف آپ کے رویے نے آپکی بے اعتباری نے دی ہےمجھے وہ غصے میں پھنکاری تھی۔۔۔۔

اس کا مطلب ہے کہ تم مجھ سے متنفر ہو گئی ہو۔۔۔ اسکی پیشانی پر کئی بل سمٹے دیکھ کر بولا تھا۔۔۔۔

آپ کو میری محبت نظر ہی نہیں آتی خود جو مرضی کہیں ۔۔۔۔جو منھ میں آئے بو لیں۔۔۔اور مجھے روٹھنے کا حق بھی نہیں ہے۔۔۔ وہ روتی ہوئے بولی ۔۔۔ اِزنا تم صبح سے رو رہی ہو ۔۔۔اگر اب تم روئی نہ تو ۔۔۔۔ تو کیا کریں گے آپ۔۔۔۔۔ ؟

اب وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے بولی تھی۔۔۔۔ گورے رنگ میں سرخیاں گھلی تھی۔۔۔ ناک رو رو کہ سرخ ہو رہی تھی۔۔۔ اب پھر اسنے اپنے بازؤں کے حلقے میں لیا تھا۔۔۔۔

کیا چاہتی ہو۔۔۔۔؟

جنت اب لب بھنچے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ آواز کہیں کھو سی گئی تھی۔۔۔ اسے خود نہیں سمجھ آ رہی تھی وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔۔۔ آنکھوں میں ڈھیر سارا پانی جمع ہو گیاتھا۔۔۔اسکی بھیگی پلکوں کو دیکھ کر اسکی مسکراہٹ سمٹی تھی۔۔۔انکو اپنی طرف سنجیدگی سے دیکھتے پا کر وہ آہستہ آہستہ خود پر قابو پارہی تھی۔۔۔۔

میں ہر چیز برداشت کر سکتی ہوں آپکی آنکھوں میں اپنے لئے بے اعتباری اور بے یقینی نہیں۔۔۔ وہ براہِ راست اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

ایک تو تم ہر چیز کو اپنے اوپر حاوی کر لیتی ہو۔۔

کیسے یقین دلاؤں تمیں اپنی محبت کا۔۔۔۔؟

میرے بس میں ہوتا تو تمہاری ساری تکلیفیں خود اپنے اوپر جھیل لیتا۔۔۔ تمہارے بغیر یہ پانچ دن میں نے کیسےگزارے ہیں ۔۔۔ لوگوں کی نظر میں تم ابھی بچی ہو ۔۔۔ لیکن میں نے تمہیں ہمیشہ ایک ذمہ دار چاہنے والی بیوی کے روپ میں د یکھا۔۔۔

تم مجھے ہر پل اپنی رگِ جاں سے زیادہ قریب محسوس ہوتی ہو ۔۔۔ تمہارے بغیر تو میں جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں آئیندہ تمہارے ساتھ اونچی آواز میں بات نہیں کروں گا۔۔۔ میری وجہ سے تم نے اتنی تکلیف اٹھائی ہے۔۔۔۔ جانتی ہو اس دوران میں پل پل مرا تھا۔۔۔۔

حماس کو ایک نظر نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔جنت انکے لہجے میں شکستگی محسوس کرتے فوراً انکا ہاتھ پکڑتے اپنے لب رکھ گئی تھی۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے مسکراتے ہوئے اسکی نم آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔۔ اب تم بھی میرے ساتھ ایک وعدہ کرو۔۔۔

جنت الجھن زدہ نظروں سے انکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔۔۔ پھر جلدی سے اپنا ہاتھ انکے ہاتھ پر رکھ گئی ۔۔۔ اب میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہ دیکھوں۔۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا۔۔۔

آپ جانتے ہیں میں اپنی زندگی میں جتنے تلخ تجربات سے گزر چکی ہوں۔۔۔ انہوں نے مجھے ایک لڑکی سے عورت بنا دیا۔۔۔ کہتے ہیں درد سے انسان بنتا ہے ۔۔۔ میں اس بات کو دل سے مانتی ہوں ۔۔۔ لیکن ان دردوں کو اتنی آسانی سے بھلا نہیں سکتی ۔۔۔۔

آپ کہ لئے یہ سب کہنا آسان ہے ۔۔۔۔ میرے لئے انکو بھلانا آسان نہیں۔۔۔ جب جب یاد آئیں گے تب تب ان کا سہارا لوں گی۔۔۔۔ آپ سے وعدہ نہیں کرتی کوشش ضرور کروں گی۔۔۔وہ پھر سے اپنے لب اسکے ہاتھوں پر رکھ گئی تھی۔۔۔ وہ قصداً خاموش رہا پر نظریں اس پر سے نہیں ہٹائیں تھیں۔۔۔

جنت انہیں گہری نظروں سے اپنی طرف دیکھتے ہوئے نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔ میرے سٹیچز میں پین ہو رہا ہے۔۔۔کتنی دیر اسی طرح کھڑی رہنے کے بعد وہ بولی تھی۔۔۔۔

شاید ایک ہی جگہ پر کھڑے ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔۔۔ اچھا تم لیٹ جاؤ ۔۔۔ وہ اسے اپنے ساتھ بیڈ پر اسے بٹھاتے خود پنجوں کے بل بیٹھ کر اسکے پاؤں سے چپل اتارنے لگا۔۔۔ یہ آپ کیا کر رہے ہیں جنت نے اپنے پاؤں پیچھے کئے تھے۔۔۔۔اب اس نےزبر دستی اسکے پاؤں سے چپل اتارے تھے ۔

وہ اس کے پاؤں پر اتنی زیادہ سویلنگ دیکھ کر حیران ہوا تھا۔۔۔ یہ تمہارے پاؤں پر اتنی سویلنگ کیوں ہے پتہ نہیں۔۔۔ وہ بھی اپنے دونوں پاؤں دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔۔۔

صبح تو بلکل ٹھیک تھے ۔۔۔

خُبیب سکندر نے اسے نرمی سے بیڈ پر لیٹایا تھا۔۔۔ کل سے میں خود تمہارا خیال رکھوں گا ۔۔۔۔ اور حماس مجھے یہاں بیڈ پر پکڑا دیں ۔۔۔ جنت انکاہاتھ پکڑتے نرمی سے بولی تھی۔۔۔ بلکل نہیں تم آرام سے سو جاؤ جب اٹھے گا تو میں خود دیکھ لوں گا۔۔۔۔

وہ اسے گھور کر دیکھتے ہوئے بولا جو بچے کو ایک منٹ کے لئے نظروں سے دور نہیں کرتی تھی۔۔۔جو آج سارا دن اس سے غافل رہی تھی۔۔۔آپ کو پتہ ہے حماس آج پانچ دن کا ہو گیا ہے۔۔۔۔ اب وہ بلکل بچوں کی طرح ایکٹ کر رہی تھی۔۔۔۔ پھر ایک دم ہی سنجیدہ ہوگئی تھی۔۔۔ اسکی حرکت پر خُبیب سکندر نے بھرپور قہقہ لگایا تھا۔۔۔جس پر وہ آنکھیں موند گئی تھی۔۔۔۔۔ خُبیب سکندر دیوان پر اپنی ہر چیز رکھی دیکھ کر حیران ہوا تھا۔۔۔ تمہیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ پھر بلیک ٹراؤزر شرٹ اٹھاتے فریش ہونے کے لئے واش روم کی طرف بڑھا۔۔۔۔

*******************

والدہ اور اماں بھی حماس کو دیکھنے آئیں تھیں ۔۔۔۔۔ سب لاؤنج میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔ حماس کے آنے سے گھر میں جو ایک جمود سا تھا وہ ٹوٹ گیا تھا۔۔۔اب ہر وقت ہل چل سی مچی رہتی حماس اٹھ گیا ہے ۔۔۔ بھوکا تو نہیں ہے۔۔۔ یہ رو کیوں رہا ہے۔۔۔ ؟

فوزیہ سکندر ۔۔۔ سارا دن اسکے ساتھ مصروف رہتی۔۔۔۔ ہارون سکندر تو جیسے آفس کا رستہ ہی بھول گئے تھے۔۔۔اپنی باتوں سے اسے پوری دنیا کی سیر کروا دیتے تھے۔۔۔

کرن اور حدید کابھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔۔۔اگر فرصت نہیں تھی تو اسکے بابا کو نہیں تھی۔۔۔۔ جو صبح آٹھ بجے جاتے اور رات کو بارہ بجے آتے۔۔ وہ سوتے کو پیار کرکے جاتے اور واپسی پر بھی سوتے کو ہی پیار کرتے۔۔۔۔

یہ سوچ کر جنت کی آنکھیں پانی سے بھر گئی تھیں ۔۔۔ لیکن وہ خود لمحے کے لئے بھی اس سے غافل نہیں ہوتی تھی۔۔۔ اس کے آنے سے اسکی اداسی ختم ہو گئی تھی۔۔۔ اس ننھے وجود کی وجہ سے ہر وقت اس کے چہرے پر مسکان سجی رہتی تھی۔۔۔۔اسے دیکھ کر وہ اپنا ہر دکھ بھول جاتی۔۔۔۔اچھے ٹریٹمنٹ کی وجہ سے وہ کافی بہتر تھی۔۔۔ خُبیب سکندر کے منع کرنے کے باوجود وہ اسے اپنے ساتھ لیٹاتی تھی۔۔۔

رات کو خود ہی اسکے لئے فیڈر بناتی ۔۔۔ پھر اسے دیکھتے رہتی وہ سوتی ہی کب تھی۔۔۔ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑھ گئے تھے۔۔۔۔اب بھی وہ اسے دیکھنے میں محو تھی۔۔۔ اسکی گال کو چھوا تھا۔۔ اس نے اپنی گردن ادھر ادھر ہلائی تھی ۔۔۔ جنت نے اب اسکے نرم نرم گال پر اپنے لب رکھے تھے۔۔۔

فوزیہ سکندر جو اسے کب سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اتنی چھوٹی سی عمر میں اسنے کتنے دکھ برداشت کئے ہیں ۔۔۔ یہ مقدر کے کھیل بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں۔۔۔

اتنے بڑے خاندان میں پیدا ہونے والی بچی نے کتنے دکھ جھیلیں ہیں ۔۔۔ جب اسے تھوڑا سا سکھ نصیب ہوتا ہے تو نئے سرے سے دکھ اسے گھیر لیتا ہے۔۔۔۔ اس لالچی عورت نے کس طرح انکی زندگی برباد کی ۔۔۔ اور ہمدرد بن کر وہ کس طرح انسے پوچھتی رہی۔۔۔۔ میرےتو وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ عورت جو گھنٹے گھنٹے بعد فون کر کے پوچھ رہی ہے ۔۔۔وہ ہی اصل میں دشمن ہے ۔۔۔شکر ہے اس وقت اسنے کال اٹینڈ نہیں کی تھی ۔۔۔ اگر کر لیتی تو شاید اسے کے بیٹے کی دنیا ہی اجڑ جاتی ۔۔وہ خود کو کبھی معاف نہ کر پاتی۔۔۔۔۔

خدا تمہیں ہمشہ خوش رکھے ۔۔۔ اس نے دل سے جنت کے لئے دعا کی تھی۔۔۔۔

ڈیڈ جلدی چلیں ۔۔۔۔ حدید جو پریشان سا لاؤنج میں داخل ہوتے بولا تھا اسکی آواز پر سب چونکے تھے۔۔۔۔ کیا ہوا حدید ۔۔۔۔ تم اتنے پریشان کیوں ہو۔۔۔۔؟

ہارون سکندر چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس سے پو چھ رہے تھے۔۔۔

بس ڈیڈ آپ جلدی کریں خُبیب بھائی کی کال آئی ہے۔۔۔ ہارون سکندر اسکے ساتھ تیزی سے باہر کی طرف بڑھے۔۔۔

اللہ خیر کرے فوزیہ سکندر نے عجلت میں جاتے ہوئے دیکھ کر کہا تھا۔۔۔ابھی تک سلطانہ بیگم کا پتہ نہیں چلا تھا۔۔ کہ وہ کہاں ہیں ۔۔. نہ ہی ابھی تک منظر عام پر آئی تھیں۔۔۔ اسکی طرف سے دل کو دھڑکا سا ہی لگا رہتا تھا۔۔۔موبائل پر میسج ٹون پر ٹیبل پر رکھا موبائل اٹھا کر میسج اوپن کیا تھا۔۔۔

موم حسن کا ایکسڈنٹ ہو گیا ہے آپ جنت کو لیکر ہاسپٹل پہنچیں۔۔ خُبیب کا میسج پڑھ کر وہ جنت کو دیکھنے لگی جو حماس کو ایک ٹک دیکھ رہی تھی۔۔۔ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ جنت کو کیسے بتائے یا اللہ اس بچی کی مشکلیں کم کیوں نہیں ہو رہی۔۔۔ جنت ۔۔۔۔ ہمت کر کے بولی تھیں۔

جی موم۔۔۔ کیا ہوا ہے آپ اتنی پریشان کیوں ہیں۔۔۔؟

جنت نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے تھے۔۔۔وہ اب انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہیں۔۔۔موم کیا ہوا ہے آپ کچھ بول کیوں نہیں رہی۔۔۔ ؟

وہ حسن کا ایکسڈنٹ ہو گیا ہے ۔۔۔ خُبیب کا ابھی میسج آیا ہے حدید ہمیں لینے آ رہا ہے۔۔۔۔ جنت سکتہ کے عالم میں فوزیہ سکندر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

************************

جنت جا ہاسپٹل پہنچی تو وہ آہستہ آہستہ قدم لیتے آپریشن تھیٹر میں داخل ہوئی۔۔۔سامنے پٹیوں میں جکڑے اپنے بھائی کو دیکھ اسکا چہرا اپنے ہاتھوں میں تھام گئی تھی۔۔۔اس نے تو ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔

جنت مجھے معاف کر دو شاید تمہارے معاف کرنے سے میری جان آسانی سے نکل جائے میں بہت تکلیف میں ہوں۔۔۔

یہ آپ کیا کہہ رہے جنت تڑپ کر بولی تھی۔۔۔ اسکی بند آنکھوں سے آنسو روانی سے بہہ رہے تھے۔۔۔

جنت ایک ٹک اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ اسکی آنکھوں بہتے آنسو اپنی انگلیوں سے صاف کر رہی تھی۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا آپ کو ۔۔۔ کیسے زندہ رہوں گا ۔۔۔۔بیوی اور بیٹے کو آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا ہے۔۔۔ شاید تمہارے ساتھ کی گئی زیادتی کی سزا اللۀ نے مجھے دے دی ہی ۔۔۔۔ میں نے موم کی ہر بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کیا ۔۔۔ سوچا تھا ۔۔۔۔

کہ شاید مجھے ملنے آجائیں گی تو مرنے سے پہلے ان سے پوچھوں گا انہوں نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔

مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے وہ اٹکتے ہوئے کلمہ پڑھ رہے تھے۔۔۔زندگی نے ساتھ چھوڑ دیا۔۔۔ وہ اب انکے نیم وا ہونٹوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

ایک پل کے لیے۔۔۔ وہ ان عزاب لمحوں کو دوسری بار دیکھ رہی تھی۔۔۔اسکے سارے حوصلے پست ہو گئے تھے۔۔

ڈاکٹر نے اسکے ہاتھ ہٹا کر چہرا ڈھانپ دیا تھا۔۔۔اسکی چیخوں کو سنتے سب اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔ وہ کسی کے قابو میں نہیں آ رہی تھی اپنی حالت کی پرواہ کئے بغیر بین کر رہی تھی۔۔۔۔ یا اللہ۔۔۔۔ میں تو انہیں کبھی بددعا بھی نہیں دی ۔۔۔ یہ تو بے قصور تھے پھر سزائیں ہم دونوں بہن بھائیوں کے مقدر میں کیوں لکھی۔۔۔۔ اسکی دلسوز چیخیوں نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔

خُبیب سکندر نے آگے بڑھ کر اسے تھاما تھا۔۔۔اپنے ساتھ لگائے وہ باہر نکلے تھے۔۔۔ تین جنازے اسکے سامنے پڑے تھے۔۔۔ وہ اب باری باری سب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

ایک پل میں سارے منظر اسکی آنکھوں کے سامنے آئے تھے۔۔۔ براز کو بخار ہے ۔۔۔نہیں رہ سکتا تھا آپ کے بغیر۔۔۔۔۔

براز ۔۔۔۔۔ اپنے ساتھ ہی مما بابا کو بلا لیا۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے براز کے مردہ چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

وہ اس کے سامنے ہی ایک ایک کر کے میت کو لے کر جارہے تھے۔۔۔۔ وہ ہاسپٹل میں کھڑی سب کو ایک ایک کر کے جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

جنت چلو ۔۔۔۔ خُبیب سکندر بھرائی آواز میں بولا ۔۔۔۔ نہیں جانا مجھے اس گھر میں دیکھ لیا سب کو اب رونا ہی ہے گھر بیٹھ کے رو لوں گی ۔۔۔ اب اس عورت کی شکل دیکھنے کا حوصلہ نہیں ہے ۔۔۔ مجھے اپنے گھر جانا ہے۔۔۔

ٹھیک ہے میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔۔ وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔۔.

***********************************