Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 21)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 21)
Ehsaas By Raheela Bano
جنت اپنے روم میں بیٹھی اپنے آئی برو سیٹ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ ابھی پارلر نہیں جا سکتی تھی ۔۔۔۔ ایک ہفتہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ وہ پہلے سے کافی بہتر تھی۔۔۔۔۔
آج چیک اپ کے لئے ہاسپٹل جانا تھا۔۔۔ وہ اسے آفس سے واپسی پر لے کر جائیں گے لیکن اس کا دل آئس کریم کھانے کو کر رہا تھا۔۔۔ وہ ہاسپٹل سے واپسی پر کھا لے گی ۔۔۔وہ اپنےدل میں سوچ رہی تھی۔۔۔ بچے کے لئے اپنی صحت کا بہت خیال رکھ رہی تھی۔ اب پاس پڑے انگور دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جو اسکا دل کھانے کو نہیں کر رہا تھا۔۔۔لیکن پھر بھی وہ ایک ایک کر کے منھ میں ڈال رہی تھی۔۔۔۔
وقت۔۔۔۔ وقت۔۔۔۔ کی بات ہے ۔ کبھی وہ ان پھلوں کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔۔۔۔۔۔ اور پھلوں کے سستے ہونے کا انتظار کرتی۔۔۔پھر جب لے کے آتی تو وہ امی کو کھلا دیتی تھی کبھی ایک ٹکڑا بھی زبان پر نہ رکھتی۔۔۔ اگر امی اسے زبردستی کھانے کا کہتی تو وہ یہ کہہ کر ٹال دیتی کے اسے پھل اچھے ہی نہیں لگتے۔۔۔۔۔ اب اس کے روم میں ٹوکری پھلوں سے بھری رہتی ہے ۔۔۔۔کھانے کو دل ہی نہیں کرتا۔۔۔۔
دروازے پر دستک سے اسکی سوچ منتشر ہوئی تھی۔۔۔ملازمہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔ میم۔۔۔۔ آپ کو بڑے سر بلا رہے ہیں۔۔۔ ان سے کہیں۔۔۔میں آرہی ہوں۔۔۔۔وہ اپنا ڈوپٹہ سر پر سلیقے سے لیکر باہر کی سمت بڑھی تھی جیسے ہی وہ روم سے باہر نکلی وہ لاؤنج میں بیٹھے خبریں سن رہے تھے۔۔۔
اسلام وعلیکم ڈیڈ۔۔۔۔!جنت نے ادب سے سلام کیا تھا۔۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔۔! ہارون سکندر نے مسکرتے ہوئے سلام کا جواب دیا تھا۔۔۔۔
جنت بچے ۔۔۔۔یہ آپکی بکس ہیں ۔۔۔۔انہوں نے ٹیبل پر پڑی بکس کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔۔ تم تیاری کرو جسکی سمجھ نہ آئے تو مجھے بتانا میں ٹویشن رکھوا دوں گا ۔۔۔۔ بکس دیکھ لو اگر سبجیکٹ چینج کرنے ہوں تو بتا دینا میں وہ بکس تمہیں لا دوں گا۔۔۔
جی ٹھیک ہے ڈیڈ۔۔۔۔۔ وہ تھوک نگلتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ وہ کسی بھی صورت پڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے وہ موبائل دیکھنے نہیں دیتے تھے۔۔۔۔ پڑھنے کیا خاک دیں گے وہ جو اپنا فیصلہ سنا چکے تھے۔۔۔۔
ایک صورت میں وہ اپنی بات منوا سکتی تھی ۔۔۔ جس دن انکا موڈ خوشگوار ہوا اس دن ان سے بات کروں گی۔۔۔۔
کیا بات ہے جنت بچے ۔۔۔۔. ؟
تم تو سوچ میں پڑھ گئی ہو۔۔۔۔۔ اگر تمہارا دل نہیں ہے تو کوئی ضروری نہیں ہے ۔
نہیں ڈیڈ ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔وہ میں یہ سوچ رہی تھی ۔۔۔۔کہ ۔۔۔ وہ کہیں غصہ نہ ہوں۔۔۔۔ میں پہلے ان سے بات کر لوں۔۔۔۔ کہیں یہ نہ ہو اتنے سارے پیسے ضائع نہ ہو جائیں۔۔۔۔
ہارون سکندر ۔۔۔۔ اسکی بات پر ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔۔۔ وہ خود پیسے کو سوچ سمجھ کر خرچ کرتا تھا۔۔۔۔ پیسوں کی فکر نہ کرو ۔۔۔ ہاں اپنے شوہر سے بات کر لو ورنہ پھر میں اپنے طریقے سے کروں گا۔۔۔۔
نہیں ڈیڈ ۔۔۔۔ آپ رہنے دیں میں خود ہی کر لوں گی۔۔۔۔
میم آپکو سر بلا رہے ہیں۔وہ حیران ہوئی تھی کہ وہ اتنی جلدی آ گئے۔۔۔ وہ تو شام کا کہہ کر گئے تھے۔۔۔ڈیڈ میں جاؤں جنت اب انہیں دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
ہاں بچے کیوں نہیں۔۔۔ ؟وہ بڑی اپنائیت سے بولے تھے۔۔۔۔ جنت بکس اٹھانے لگی تھی جس پر ہارون سکندر نے اسے ٹوکا تھا ملازمہ کمرے میں چھوڑ آئے گی۔۔۔۔
اب وہ اپنے روم کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
**************************************
آپ اتنی جلدی آگئے وہ انکے ہاتھ سے کوٹ پکڑتےہوئے بولی تھی۔۔۔۔ اصل میں عینا کی کال آئی تھی کے جس ڈاکٹر سے اس کا چیک اپ ہوتا تھا۔۔۔۔ تمہارا بھی اسی سے چیک اپ ہو وہ یہاں ہاسپٹل میں ہفتے میں ایک دن بیٹھتی ہے۔ کوئی مسئلہ تو نہیں ہے کہ تمہیں اتنے چکر آتے ہیں۔۔۔
صبح بھی وہ چکرا کر گرنے لگی تھی۔۔۔ اگر وہ نہ پکڑتے تو پتہ نہیں کیا ہوتا۔۔۔۔؟
یہ دودھ تم نے ابھی تک نہیں پیا۔۔۔۔ وہ دودھ کا گلاس دیکھتے اپنی ازلی ٹون میں آئے تھے۔
اصل میں مجھے دودھ اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔میں کیا کروں۔۔۔۔ ؟ وہ بڑی معصومعیت سے بولی ۔۔۔ خُبیب سکندر اسے اپنے قریب کرتے اپنے سینے سے لگاتے اسکے ماتھے پر لب رکھے تھے۔۔۔۔۔۔
اچھا تم تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔ میں ابھی ڈیڈ سے مل کر آیا۔۔۔۔۔ایسا اسے پہلی بار کہا تھا اسے اتنا شوق تھا کہ وہ اسکی تعریف کریں ۔۔۔۔ اسے سجنے سنورنے کا کہیں ۔۔۔۔۔سب اسکی آنکھوں کی اتنی تعریف کرتے تھے۔اسکی خوبصورتی کو سراہتے لیکن یہ واحد تھے جنہوں نے کبھی اسکی تعریف نہیں کی تھی وہ اپنی وارفتگی بس ایک ہی کام پر دیکھاتے تھے۔۔۔۔ یہ سوچتے ایک شر میلی سی مسکان اسکے چہرےکی زینت بنی تھی۔
کیا میں انہیں تیار نہیں لگی۔۔۔۔۔؟ وہ اب خود کو ڈریسنگ مرمر میں دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ اسنے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو سوٹ بدلا تھا۔۔۔۔ بلیو سوٹ اس پر گرے ڈوپٹہ جس پر ہلکا ہلکا کام تھا۔۔۔ اب اس نے اپنے ہونٹوں پر لپ اسٹک تھوڑی سی گہری کی تھی۔۔۔ آنکھوں میں کاجل لگایاتھا۔۔۔
بالوں پر برش پھیرتے ڈھیلی سی چٹییا بنائی تھی۔۔۔۔ زیادہ میک اپ اسے سوٹ نہیں کرتا تھا۔۔۔۔۔ میک اپ کے نام پر وہ لپ اسٹک اور کاجل ہی لگاتی تھی۔۔۔
اب خُبیب سکندر کے کپڑے نکالنے کے لئے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔۔
***********************************
اِِزنا آجاؤ۔۔۔۔۔ دیر ہو رہی ہے۔۔۔خُبیب سکندر روم میں انٹر ہوتے بولا تھا۔۔۔
میں تو کب سے تیار ہوں ۔۔۔؟
اس نے اب پورے جسم کو چادرسے ڈھکا تھا۔چادر کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔؟
بس یہ ڈوپٹہ ٹھیک ہے ۔۔۔خُبیب سکندر نے اسے چادر میں لپٹے دیکھ کر کہا تھا۔۔۔۔
جب سے اسکی پریگننسی شروع ہوئی تھی۔۔ چڑچڑی سی ہو گئی تھی۔۔۔ وہ اسکو گھبراتے ہوئےدیکھ رہی تھی۔۔۔ کوئی بات نہیں اگر تم جس طرح جانا چاہو۔۔۔۔۔وہ اسکو دیکھتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔جس پر جنت نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔
اب وہ اسکے ساتھ وہ بڑی نرمی سے پیش آتے تھے۔۔۔۔۔ وہ اپنی زبان سے تو اقرار نہیں کرتے تھے لیکن عمل سےمحبت جھلکتی تھی ۔۔۔۔ جنت اسی میں ہی خوش تھی۔۔۔۔انکی آنکھوں میں جھلکتی اپنی فکر کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔
اب وہ گاڑی میی بیٹھی تھی۔۔۔۔ خُبیب سکندر نےگاڑی روڈ پر نکالی تھی۔۔۔۔
