930K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehsaas (Episode 5)

Ehsaas By Raheela Bano

اماں جنت کی شادی بھی بڑی دھوم دھام سے کر رہی تھیں ۔۔۔اماں کی تینوں بیٹیاں اپنی فیملی کے ساتھ آئی ہوئی تھیں۔۔۔ اماں کے داماد سب انتظام دیکھ رہے تھے۔

جنت۔۔۔ کو غزالہ آپا نے پارلر سے زبر دستی تیا ر کروایا تھا اس کے تیار ہونے کا کوئی فائدہ نہ ہوا اسنے رو رو کے اپنابرا حال کر لیا تھا۔۔۔۔۔

وہ ابھی تک اپنی ماں کے غم سے سنبھلی نہیں تھی ۔

لیکن نکاح کہ بعد جنت سنبھلنے میں ہی نہیں آرہی تھی۔۔۔۔۔ دلہے کے ساتھ بیٹھنے سے اسنے صاف انکار کر دیا تھا۔۔غزالہ آپا جو اماں کی بڑی بیٹی تھیں۔۔ وہ اس کے ساتھ برائیڈل روم میں بیٹھی اسے چپ کروانے کی کو شش کروا رہی تھیں۔

وہ اسے جتنا چپ کرواتی وہ اتنا ذیادہ رو رہی تھی۔ جنت دیکھو میں نے تو ابھی تک تمہارا دلہا بھی نہیں دیکھا نہ ہی کھانا کھایا ہے۔اچھاچلو میں تمہیں کھانا کھلاتی ہوں ۔سسرال میں پتہ نہیں کب ملے گا۔۔۔

بندہ شرم سے مانگ بھی نہیں سکتا۔۔ اب وہ اپنی باتوں سے جنت کا دل بہلا رہی تھی۔۔۔

اسی اثناء میں عینا روم میں انٹر ہوئی تھی۔آپا آپکو باہر بلا رہے ہیں۔۔ آپا یہ کیسا رواج ہے کہ دلہن کو دلہے کے ساتھ نہیں بٹھاتے ۔۔۔۔؟

نہیں یہ رواج نہیں ہے اصل میں جنت کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے اس لئے ساتھ نہیں بٹھایا۔۔۔اب باہر کسی کو نہ بتانا۔۔۔۔۔غزالہ آپا اسکے گال کو چھوتے ہوئے بڑی نرمی سے بولی جس پر جنت نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔

بھابھی میری کیوٹ بھابھی۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے اسکا منھ چٹاچٹ چوم گئی۔۔۔۔ بھابھی آپ کو تو بہت تیز بخار ہے۔۔۔ اچھا میں کچھ بندوبست کرتی ہوں۔۔۔

جیسے ہی وہ جانے کے لئے آگے کی طرف بڑھی تو جنت نے اسکا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا۔۔۔آپ میرے پاس بیٹھ جائیں جنت پھر سے رونا شروع ہوگئی تھی۔۔

عینا نے اسے الجھن بھری نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ جنت اسکی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔ جس پر عینا کا قہقہ بلند ہوا تھا۔۔۔جنت نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں۔۔۔۔ اتنی دیر میں رخصتی کا شور ہونے لگا ۔۔۔

اتنی دیر میں غزالہ آپا چادر لیکر آئی تھیں۔۔۔۔ جس پر عینا نے عجیب نظروں سے دیکھا تھا۔یہ کیوں اڑھا رہی ہیں۔۔۔یہ ہمارا رواج ہے۔۔اب آپ اسے اپنے گھر جا کر اتار دینا۔۔۔

میں تو اسے گاڑی میں ہی اتار دونگی۔۔۔۔ جیسے تمہاری مرضی غزالہ آپا مسکراتے ہوئے بولی تھیں۔۔۔ غزالہ آپا اور عینا دونوں اسے پکڑتے ہوئے برائیڈل روم سے باہر کی طرف بڑھی تھیں۔

******************************************

خُبیب اپنے روم میں بیٹھا۔۔۔۔ سگریٹ پی رہا تھا۔۔۔ وہ پہلا دلہا ہو گا جو دلہن سے پہلے کمرے میں موجود تھا۔۔۔پورے کمرے کو سرخ گلابوں اور کلیوں سے سجایا گیا تھا ۔۔۔ جگہ جگہ کینڈل جل رہی تھیں۔۔۔

جس کے لئے سجایا گیا تھا۔۔۔ اسے ڈرپ لگی ہوئی تھی۔۔۔۔ اسکے خیال میں دلہن بھی پہلی ہوگی جسے سسرال آتے ہی ڈرپ لگی تھی۔۔۔ اب وہ کمرے میں آہستہ آہستہ ٹہل رہا تھا۔۔

اسنے کلائی پر بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھا۔۔۔ رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔۔چل خُبیب سکندر ۔۔۔ تیری قسمت۔۔۔۔۔ بس اب سونے کی تیاری کر۔۔۔ گھڑی اتار کر اسنے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ہی تھی۔ کہ دروازہ ناک ہوا تھا۔۔۔ عینا اور کرن دلہن کو پکڑتے ہوئے کمرے میں انٹر ہوئی تھیں۔

عینا دلہن کو چھوڑتے خُبیب کی طرف آئی تھی بھیا میرا نیگ۔۔۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر لب رکھے تھے۔۔۔۔ بس جاؤ شاباش۔۔۔۔!!ہوگیا نیگ۔۔۔۔ خُبیب سکندر اسے چھیڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ جس پر اسنے برا سا منھ بنایا تھا۔۔۔

عینا یہ لڑیاں پیچھے کرو مجھے بٹھانے میں مشکل ہو رہی ہے۔۔کرن نے اسے پکارا تھا۔بھیا جلدی کریں۔۔۔۔خُبیب سکندر نے اپنی جیب سے بریسلٹ نکال کر اسکی کلائی میں پہنایا تھا۔۔۔

بھیا یہ کتنا خوبصورت ہے ۔کرن بھابھی یہ دیکھیں ۔۔۔کرن کو دیکھاتے وہ باہر کی طرف بھاگی تھی ۔

شادی ہوگئی تھی لیکن ابھی تک اس کا بچپنا نہیں ختم ہوا تھا۔ اب اس نے بیڈ پر بیٹھی اپنی دلہن کو دیکھا جو بڑا سا گھونٹ نکالے بیٹھی تھی۔

خُبیب بھائی مجھے بھی نیگ دیں میں بالکل ٹھیک کر کے آپ کے پاس لائی ہوں۔

اس نے اپنی جیب سے پانچ ہزار کے کئی نوٹ اسکو پکڑائے تھے۔وہ خُبیب بھائی میں تو مزاق کر رہی تھی۔چلو رکھ لو۔۔۔۔ وہ نوٹ پکڑتے ہوئے باہر کی سمت بڑھی۔

جاتے جاتے لائٹ بند کر گئی تھی۔۔۔۔۔ کرن لائٹ آن کرو جانتی ہو نہ مجھے اسطرح کا مزاق پسند نہیں۔۔۔۔سوری بھائی کہتے ہوئے اسنے لائٹ آن کی تھی۔

جاؤ اب اسنے آگے بڑھ کر دروازہ لاک کیا تھا۔۔۔وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا دلہن تک آیا تھا۔ جو میرون لہنگے میں بڑا سا گھونگھٹ اوڑھے بیٹھی تھی۔

بھلا آج کے دور میں اسطرح گھونگھٹ کون لیتا ہے۔ وہ کلیوں کی لڑیوں کو ایک ہاتھ سے پکڑتے ہوۓ بیٹھا تھا۔۔۔

جیسے ہی سلام کرتے ہوئے اس نے گھونگھٹ اٹھایا گھونگھٹ اٹھاتے ہی وہ کرنٹ کی طرح کھڑا ہوا۔۔۔تم۔۔۔۔

دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کئے اپنے جبڑے سختی سے بھنچے تھے۔غصے سے اسکی آنکھیں لال انگارہ ہوئیں تھیں۔

شیروانی اتار کر دیوان پر پٹخی۔۔۔۔ اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے دیوان پر ڈھ جانے والے انداز میں بیٹھا تھا۔۔۔۔ کیا اسکے لئے ڈیڈ نے مجھے اپنی قسم دی تھی۔

وہ اپنے گھر والوں کی نرم طبعیت سے اچھی طرح واقف تھا۔۔۔ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر وہ موم کی طرح پگھل جاتے تھے۔۔۔

اور اس لڑکی نے انکی نرمی کا فائدہ اٹھایا ۔۔۔۔اسے تو میں چھوڑوں گا نہیں۔۔۔۔۔ وہ غصے سے اٹھتا اسکے پاس آتے سختی سے اسکا جبڑا دبوچ گیا تھا ۔۔۔

جنت کو لگا کہ اسکا جبڑا ٹوٹ جائے گا۔۔۔اسکے تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کے ایسا کچھ ہوگا۔۔۔جنت اسے اسطرح غصے میں دیکھ کر تھر تھر کاپنپ رہی تھی تکلیف کی شدت میں آنسو اسکی آنکھوں میں لڑیوں کی صورت میں بہہ رہے تھے۔۔

بتاؤ کون تھی یہ فیمیلی جس کے ساتھ مل کر تم نے یہ کھیل کھیلا ہے۔ وہ بدگمانی کی انتہا پر تھا۔۔۔بتاؤ ۔۔۔ ڈیڈ کوبتایاتھا کہ تم بھکارن ہو۔۔ جنت نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔ جو اسکی بدگمانی پر مہر لگانے کے لئے کافی تھی۔۔۔

جبڑے پر دباؤ مذید بڑھا تھا۔۔۔