Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 25)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 25)
Ehsaas By Raheela Bano
فوزیہ سکندر ۔۔۔۔ پریشانی کے عالم میں ہارون سکندر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ یہ ایک دم ان کے ہنستے بستے گھر کو کیا ہو گیا تھا۔۔۔۔؟
ہارون سکندر نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔ مشکل وقت میں گھبراتے نہیں ہیں ۔۔۔۔ تم تو مجھے بھی پریشان کر دیتی ہو ۔۔۔۔
میاں بیوی کا رشتہ اگر مضبوط ہو تو دنیا کی کوئی طاقت بھی انکو الگ نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ اگر کرن نا چاہے تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔
دیکھا نہیں ہے ۔وہ حدید کا کس طرح سے خیال رکھ رہی ہے۔۔۔۔ مانو یہاں ہمارا بیٹا غلط ہے۔۔۔۔ لیکن سکندر صاحب ۔۔۔۔جھکنا ہمیشہ عورت کو ہی پڑھتا ہے۔۔۔۔ فوزیہ سکندر ۔۔۔۔ انکی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوئے بولی۔۔۔۔اتنی دیر میں ڈاکٹر آتی دیکھائی دی سب ہی اسکی طرف بڑھے تھے ۔
ڈاکٹر اپنے ارد گرد اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر ہڑبڑا گئی تھی جو اسے چاروں طرف سے گھیرے کھڑے تھے۔۔۔۔ دیکھیں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ ایسی حالت میں ایسے ہو جاتا تھا۔۔۔۔ اب وہ سب ناسمجھی سے ڈاکٹر کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔
کیا مطلب ہے۔ ۔۔۔؟
ڈاکٹر صاحبہ آپکی بات کا۔۔۔۔۔ حدید نے بے صبری سے پوچھا تھا۔۔۔۔
آپ کی وائف پریگننٹ ہیں ۔۔۔ وہ اب ہوش میں ہیں آپ لوگ ان سے مل سکتے ہیں ۔۔۔
عادل صاحب نے خوشی سے ہارون سکندر۔۔۔ کو گلے لگایا تھا۔۔۔۔۔ سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے تھے۔۔۔
وہی ثمنیہ بیگم غصے سے پاؤں پٹختی ناگواری سے ان سب کو دیکھتے کرن کے روم کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔۔
وہ سب وہی رک گئے تھے ۔۔۔ ہارون سکندر نے آشارے سے حدید کو خاموش رہنے کا کہا تھا۔۔
*****************************************
کتنا ہی وقت گزر گیا تھا ۔۔۔۔ وہ لوگ ابھی تک ہاسپٹل سے واپس نہیں آئے تھے۔ عینا نے میسج کر کے خوشخبری تو اسے سنا دی تھی ۔۔۔ اب اسنے دل سے دعا کی تھی کہ آنے والا بچہ ان کے لئے خوش قسمت ثابت ہو ،اس بچے کی وجہ سے دونوں میں سب ٹھیک ہو جائے۔۔۔۔
قدموں کی آہٹ پر اسنے آنکھیں زور سے بند کر لی تھی جانتی کہ مقابل اب اس سے پیسوں کے متعلق ضرور پوچھیں گے۔۔۔۔
اِزنا۔۔۔۔۔ انکی آواز پر اسنے مزید زور سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ کہ وہ آنکھیں کھول کر مقابل کو دیکھ لے ۔۔۔
دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اب وہ دوبارہ مس کے گھر گئے تھے۔۔۔۔ مس نے حقیقت نہ بھی بتائی ہو اسکےشرابی شوہر نے ضرور بتا دیا ہو گا۔۔۔۔دل بری طرح ہول رہا تھا۔۔۔۔سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تو وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھی تھی۔۔۔۔
خُبیب سکندر ۔۔۔۔ جلدی سے اسکی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ اسے لمبے لمبے سانس لیتے پانی کا گلاس اسکے منھ کو لگایا تھا ۔۔۔۔جسے اسنے ایک ہی سانس میں ختم کر لیا تھا۔۔۔۔
خُبیب سکندر اسکے افسردہ چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسے اچانک کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔ شام ٹائم تو اچھی بھلی تھی۔۔۔تمہاری طبعیت ٹھیک ہے۔ وہ کندھے سے پکڑتے ہوئے اسے اپنے سامنے کھڑا کر گیا تھا۔۔۔۔کسی نے کچھ کہا ہے۔۔۔ وہ پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ اسننے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
پھر کیا بات ہے ۔۔۔؟
خُبیب سکندر نے سکے ماتھے پر اپنے لب رکھتے اسے سینے سے لگایا تھا۔۔۔وہ سینے کے ساتھ لگتے ہی شدت سے رونے لگی ۔۔۔۔۔
آپ اگر میری مس کو پیسے دے آئے تھے تو مجھے بتایا کیوں نہیں۔۔۔۔ ؟
اسے اپنے سوال کاجواب چاہئے تھا۔۔۔۔ جو اسے بے چین کئے ہوئے تھا۔۔۔۔
اچھا تو یہ بات ہے۔۔۔۔ وہ اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا اسنے اپنی جیب سے والٹ نکال کر اسے چیک پکڑایا تھا۔۔۔۔ یہ لو اپنے پیسے ۔۔۔۔ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اصل میں وہ زیور اسکے شوہر نے چوری کیا تھا۔۔۔۔ میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔۔۔ اور یہ رقم جو کل ڈیڈ سے اسنے لی تھی تمہاری مس نے واپس کر دی ہے۔۔۔۔۔
آپکو یہ کیسے پتہ چلا۔۔۔۔۔؟
وہ روتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔؟
میں ہاسپٹل سے سیدھا انہی کے گھر گیا تھا۔۔۔۔۔ ڈیڈ نے تو مجھے منع کیا تھا ۔۔۔۔۔؟
کے چھوڑو پرے ۔۔۔ لیکن مجھے سچ جاننا تھا۔۔۔ مجھے پہلے ہی اسکے شوہر پر شک تھا ۔۔۔ لیکن میرا شک صحیح ثابت ہوا۔۔۔۔
میں نے اسے کہا تھا کہ اگر سچ بتا دوگے توکچھ نہیں کہوں گا ورنہ پولیس کے حوالے کر دوں گا ۔۔۔۔ تو پھر اسنے مجھے سچ بتا دیا ۔۔۔ اور میں نے اسے معاف کر دیا۔۔۔۔۔
اور جو اذیت میں نے جھیلی ہے اسکا کیا۔۔۔۔وہ روتے ہوئے پھر اسکے مضبوط سینے میں سمائی تھی۔۔۔
تم بھی اسے معاف کر دو ۔۔۔۔ وہ اسکے ہچکولے کھاتے وجود کو دیکھتے ہوئے بولا اب اس سے اسکا مزید رونا برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
تم تیار ہو جاؤ ہم کہیں باہر چلتے ہیں اس ٹائم وہ اسکے سینے سے سر اٹھاتے ہوئے ہچکیوں سے بولی۔۔۔وہ اسکادھیان بٹانا چاہتا تھا۔۔۔
ہاں تو اس ٹائم کا کیا مطلب دس ہی تو بجے ہیں۔۔۔۔؟
ٹھیک ہے وہ یہ کہتے ہوئے ڈریسنگ روم سے اپنی چادر لینے کے لئے بڑھی تھی ۔۔۔
تم کہاں جارہی ہو ۔۔۔۔۔؟
چادر لینے وہ روکے بغیر بولی تھی ۔۔۔ اتنا بڑا تو ڈوپٹہ لے رکھا ہے۔ اسی کا نقاب کر لو ۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے یہ کہتے ہوئے گاڑی کی چابیاں ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھائی تھیں۔۔۔۔اسے اسکے پردہ کرنے پر اعتراض نہیں تھا بلکہ اسے اچھا لگتا تھا۔۔۔۔ اب وہ ڈوپٹے سے خود کو کور کر تی اسکے دیکھ رہی تھی۔۔۔ بڑی بڑی آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو گئی تھیں۔۔۔وہ اپنی توجہ سے بہت حد تک اسے ڈپریشن سے نکال چکا تھا۔۔۔
وہ اشارے سے ہی اسے ٹھیک کہتے باہر کی سمت بڑھا تھا۔۔۔۔ جنت ایک نظر ڈریسنگ مرمر میں خود کو دیکھتے ہوئے انکے پیچھے ہی نکلی تھی۔۔۔۔
**************************************************
جنت اپنی زندگی میں پہلی بار اتنے بڑے ہوٹل میں آئی تھی۔۔۔۔۔ ٹیبل مختلف کھانو ں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔۔ اتنے کھانے دیکھ کر اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔۔
آپ نے ایسے ہی اتنا کچھ آڈر کر دیا۔۔۔۔ مجھے تو بھوک نہیں ہے۔۔۔بس آئس کریم منگوا دیتے ۔۔۔ پہلے کھانا کھا لو پھر آئس کریم بھی منگوا دوں گا۔۔۔۔
اب وہ اپنا نقاب اتار کر کھانوں کو دیکھ رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کھائے۔۔۔۔؟
سوائے کباب اور چاولوں کے کچھ بھی اسکے مطلب کا نہیں تھا۔۔۔ خُبیب سکندر نے اسکے آگے پلیٹ رکھتے ہوئے چاول ڈالے تھے۔۔۔ سیلٹ کباب دہی اسکے مطلب کی سب چیزیں اسکے آگے رکھی تھیں۔۔۔
اب وہ آنسوؤں کو اپنے اندر اتارتے ہوئے چمچ اٹھا کر پلیٹ اپنے قریب کی تھی۔۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔۔۔۔۔ آنے والے نے تپاک سے سلام کیا تھا۔۔۔۔؟
وعلیکم اسلام۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے مصافحہ کرتے ہوئے بڑے پرجوش انداز میں سلام کا جواب دیا۔۔۔۔
اِزنا۔۔۔ ان سے ملو یہ میرا بہت اچھا دوست حسن ہے۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے مسکراتے ہوئے اپنے ساتھ لگایا تھا۔۔۔۔حسن نے آگے بڑھ کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
جنت کو انکا یہ انداز اچھا لگا تھا۔۔۔۔۔
سوری یار۔۔۔۔!!
میں تمہاری شادی میں آنہیں سکا۔۔۔۔ اصل میں۔۔۔۔ میں ان دنوں لندن میں تھا۔۔۔ مما کی بھی طبعیت ٹھیک نہیں تھی بابا کی ڈیتھ کے بعد وہ کہیں اتنا آتی جاتی نہیں ہیں آج بھی میں انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے کر آیا ہوں۔۔۔۔
حسن جلدی کرو لیٹ ہو رہی ہے ۔۔۔۔ جنت نے اپنے عقب سے ابھرتی آواز پر پلٹ کر دیکھا تو وہ سکتے کے عالم میں آواز کہیں حلق میں ہی دب گئی تھی۔۔۔۔
ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمودار ہوئی تھیں ۔۔۔ اس عورت کے سامنے اسے کمزور نہیں پڑنا۔۔۔۔ وہ خود کو نارمل کرتے ہوئے خُبیب سکندر کا بازو پکڑ گئی تھی۔۔۔۔
خُبیب بیٹا۔۔۔ کیسے ہو وہ جنت کو مکمل طور پر جنت کو نظر انداز کرتے بولی۔۔۔۔ جنت نے بھی اسے دیکھتے ہوئے ایسے شو کیا کہ وہ بھی اسے جانتی ہی نہ ہو۔۔۔۔ اصل میں وہ ایسا کرکے بہت بڑی غلطی کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ اپنے اتنے بڑی عمر کے کزن کو دیکھ کر سوچ میں پڑھ گئی تھی ۔۔۔ یہ تو سب جانتے ہوں گے۔۔۔۔ اس وقت یہ اتنے چھوٹے تو نہیں ہونگے ۔۔۔۔ اسکی امی نے کبھی اسے اتنی وضاحت سے بتایا ہی نہیں تھا۔۔۔۔ نہ ہی اسنے کبھی پوچھا تھا۔۔۔
کاش۔۔۔۔!!!
میرے بابا ہوتے تو میں بھی اتنی شان سے زندگی گزار رہی ہوتی۔۔۔۔ میری امی اس طرح سسک سسک کر نہ مرتی۔۔۔اپنے سامنے کھڑے شخص سے بھی نفرت محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔موبائل پر بیل نے اسے خیالوں کی دنیا سے باہر نکالا تھا۔۔۔۔ موم کی کال ہے ۔۔۔۔ میں ابھی آئی وہ یہ کہتے ہوئے سائیڈ پر گئی تھی۔
*********************************
ہارون سکندر۔۔۔۔ کی آنکھ کھلی تو اسنے اپنے ہاتھ سے بیڈ پر خالی جگہ محسوس کرتے سائیڈ ٹیبل پر پڑا لیمپ آن کیا تھا۔۔۔۔اپنی بیوی کو رات کے اس پہر جاگتے دیکھ کر تڑپ ہی گیا تھا۔۔۔
فوزیہ طبعیت ٹھیک ہےتمہاری۔۔۔۔ اسنے ماتھے کو چھوا تھا۔۔۔۔ جو یخ ٹھنڈا تھا۔۔۔
میں ٹھیک ہوں بس نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔۔ وہ ہارون سکندر کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔
اپنی نیند کی دیوانی بیوی کے منھ سے یہ لفظ سن کر حیران ہی تو ہوا تھا۔۔۔۔ جسکے پاس ڈھول بھی بج رہا ہو اس پر اثر نہیں کرتا تھا۔۔۔
اچھا چلو سو جاؤ ۔۔۔وہ تکیہ سیدھا کرتے ہوئے نرمی سے بولے۔۔۔۔ نہیں مجھے نیند نہیں آ رہی۔۔۔۔
سکندر صاحب ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ والدین کا اصل امتحان اپنے بچوں کی شادی کے بعد شروع ہوتا ہے۔۔۔
”وہ کیسے ۔۔۔”
ہارون سکندر نے کھوجتی ہوئی نظروں سے اسے پوچھا۔۔۔۔
اپنے گھر میں بھی ہماری مرضی نہیں رہتی۔۔۔حدید کا ہی معاملہ دیکھیں۔۔۔۔میرا ہنستا مسکراتا بیٹا۔۔۔۔ جسے چپ ہی لگ گئی ہے۔۔۔۔ میں نے آپ سے کہا تھا نہ یہ عورت مجھے عجیب سی لگ رہی ہے۔۔۔۔ آپ نے کہا تھا کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ ہمیں تو لڑکی سے غرض ہے۔۔۔۔ یاد ہے آپکو ۔۔۔۔اب اسکی ماں نے ہی ہمارے گھر کی انیٹ سے انیٹ بجا دی ہے۔۔۔۔
” کسی نے ایسے ہی تو نہیں کہہ دیا لڑکی سے پہلے لڑکی کی ماں کو دیکھو۔۔۔۔”
دیکھ رہے ہیں ہر دوسرے دن کوئی نیا ہنگامہ کھڑا کر دیتی ہے۔۔۔۔ اور کس طرح آپ کو چور کہہ رہی تھی۔۔۔ وہ اسے نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئےبولی۔۔۔
ہارون سکندر ۔۔۔۔ کو اسکی نم آنکھیں تکلیف دے رہی تھیں ۔۔۔۔کسی نے بھی تو اس سے اس بات کی وضاحت نہیں مانگی تھی۔۔۔۔ شاید عادل صاحب ۔۔۔۔۔ کے لفظ ہی کافی تھے۔۔۔۔ اگر کوئی پوچھتا تو وہ کبھی بھی سچ بتا نہ سکتا۔۔۔۔
ہمت سے کام لیتے ہیں۔۔۔۔ اس طرح دل چھوٹا نہیں کرتے ۔۔۔۔ اچھے کے لئے خدا سے دعا مانگتے ہیں۔۔۔۔اپنی بیوی کو دلاسہ دیتے ہوئے
نرمی سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا۔۔۔
*******************************
چند ماہ بعد۔۔۔۔
وقت اپنے انداز میں ہی گزر رہا تھا۔۔۔۔ جنت کا ساتواں مہنہ چل رہا تھا۔۔۔۔ خُبیب سکندر ۔۔۔۔ نے آج دبئی جانا تھا۔۔۔۔ ضروری میٹنگ تھی کینسل بھی نہیں کر سکتا۔۔۔ دوسری طرف جنت نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا۔۔۔۔۔
وہ اس کے زرا سے لیٹ ہونے پر اتنا گھبرا جاتی تھی۔۔۔۔ تو وہ اب اس چیز کا خاص خیال رکھتا تھا۔۔۔۔
اب وہ یہ سوچ کر پریشان تھا کہ وہ یہ چار دن اسکے بغیر رہے گی کیسے۔۔۔۔۔؟
میری دنیا ہیں آپ۔۔۔۔ ؟
بس ڈر لگتا ہے ۔۔۔ امی کے بعد بس آپ سے محبت کی ہے۔۔۔ آپ بھی اتنی آسانی سے نہیں ملے ۔۔۔۔ آپ کو پانے کے لئے بھی سزائیں کاٹی ہیں۔۔۔
جو چیز مشکل سے ملتی ہے نہ اسکی قدر بھی زیادہ ہوتی ہے۔۔۔۔ کبھی آپ کو لگے میں غلط ہوں تو ۔۔۔۔ مجھے جو چاہے سزا دے دینا پر کبھی خود سے الگ مت کیجئے گا۔۔۔۔ ورنہ یہ آپکی اِزنا دوسرا سانس نہیں لے پائے گی۔۔۔۔
تم تو کیا ۔۔۔۔میں خود سانس نہیں لے پاؤں گا۔۔۔۔؟
وہ اسکی باتوں کو سوچتے گہرا مسکرایا تھا۔۔۔۔ اب وہ جیب سے سگریٹ کی ڈبی اور لائٹر نکال کر سگریٹ سلگانے لگا تھا۔۔۔۔
بھائی آپ نے سگریٹ کب سے پینا شروع کر دیئے ہیں۔۔۔۔ ؟
حدید کی آواز پر جس طرح اسنے سگریٹ سلگایا تھا۔۔۔۔ اسی طرح ایش ٹرے میں مسل دیا تھا۔۔۔۔
بھائی یہ فائل ہے ۔۔۔آپ اسے ایک نظر دیکھ لیں۔۔۔۔اسنے فائل خُبیب سکندر کی طرف بڑھائی تھی۔۔۔ جو اسنے پکڑ کر ٹیبل پر رکھ دی تھی۔۔۔۔
بھائی آپ کی طبعیت ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں ۔۔۔بس آج دبئی کے لئے نکلنا ہے۔۔۔ تم ڈیڈ کا دھیان رکھنا۔۔۔۔ وہ پیچھے سے اکیلے ہونگے ۔۔۔بھائی آپ موم کے ساتھ زیادتی کر جاتے ہیں۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔نہیں ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔؟
وہ اپنی بات پر خود ہی شرمندہ ہوا تھا۔۔۔۔
ٹھیک ہے بھائی میں چلتا ہوں۔۔۔ وہ کہتے ہوئے آفس سے باہر نکلا تھا۔۔۔
ابھی تو فلیٹ میں حیدر سے بھی ملنا ہے ۔۔۔ گاؤں سے لڑکے واپس آئے ہیں کہ نہیں۔۔۔۔وہ گاؤں جاکر بھول ہی جاتے تھے کہ شہر بھی جانا ہے۔۔۔۔ شہر آ کر گاؤں کو بھول جاتے تھے عجیب فطرت کے مالک تھے۔۔۔۔ وہ چاہتے ہوئے بھی ان پر سختی نہیں کرتا تھا۔۔۔۔ گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہویے گاڑی کی چابی اٹھاتے وہ بھی آفس سے باہر نکلا تھا۔۔۔
*****************************************
ہارون سکندر اپنے آفس میں بیٹھا عادل صاحب کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔ خُبیب دبئی تھا۔۔۔۔اسک دو دن بعد واپسی تھی۔۔۔ اور حدید امریکہ میں۔۔۔۔۔۔ اسکا زیادہ وقت وہی گزرتا تھا۔۔۔۔ اور کرن اسلام آباد میں۔۔۔۔۔۔ دونوں نے بچوں کی وجہ سے سمجھوتہ کر لیا تھا پر ضد پر دونوں ہی قائم تھے ۔۔۔۔
حدید جب فری ہوتا تو وہ لاہور آ جاتا تھا۔۔۔۔وقت کے ساتھ ساتھ ہارون سکندر کی پریشانی مزید بڑھ رہی تھی۔۔۔۔وہ اب جلد از جلد مسئلے کا حل چاہتے تھے۔۔۔۔۔
حدید ایک مہنے کے لئے آیاہوا تھا ۔۔۔ وہ نہیں چاہتے تھے اب وہ اکیلا واپس جائے ۔۔۔۔۔ دروازے پر ہلکی سی ناک کرتے عادل صاحب روم میں داخل ہوئے تھے۔۔
اتنی دیر کر دی تم نے۔۔۔۔ ہارون سکندر نے اپنا رخ اسکی طرف کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
کیا بات ہے ۔۔۔۔۔؟
تم اتنے پریشان کیوں ہو۔۔۔۔؟
یار میں حدید کی وجہ سے پریشان ہوں ۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا کہ انکا رشتہ خراب ہو ان دونوں نے ہماری وجہ سے سمجھوتہ تو کر لیا ہے ۔۔۔لیکن اب میں ان دونوں کو الگ کسی صورت بھی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔
میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔ ؟
کیا۔۔۔۔؟
عادل صاحب نے پہلو بدلتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں ،تم ثمینہ سے نکاح کر لو۔۔۔۔ہارون سکندر نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔؟
عادل صاحب اسکی بات پر آگ بگولہ ہو گئے تھے تمہارا دماغ ٹھیک ہے۔۔۔۔ اتنی دور سے تم نے مجھے یہ کہنے کے لئے بلایا ہے ۔۔۔۔۔تمہارا کیا خیال ہے ۔۔۔؟
میرے نکاح کرنے سے معاملہ صحیح ہو گا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔
مزید بگڑے گا۔۔۔۔اور تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں دوبارہ اسے نکاح کروں گا۔۔۔۔؟
اپنے بیوی بچوں کے ہوتے ہویے میں اپنا گھر خراب نہیں کر سکتا ۔۔۔۔
وہ غصے میں پاگلوں کی طرح اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
یار ۔۔۔۔میں نے تمہیں مشورہ دیا ہے ۔۔۔۔ تم تو اس طرح غصہ کر رہے ہو جیسے پتہ نہیں میں نے تمہارے نکاح کے لئے قاضی کو بلایا ہے۔۔۔۔
نہیں یار ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں اس عورت کے نام سنتے ہی میرا دماغ شارٹ ہوجاتا ہے۔۔۔
جانتا ہوں اگر وہ عورت یہاں رہی تو کبھی بھی ان دونوں کی زندگی میں سکون نہیں آ سکتا۔۔۔
میں نے سوچا ہے کہ انہیں باہر سیٹ کر دیا جائے ۔۔۔۔ اسکا بیٹا کافی سمجھدار ہے ۔۔۔ تم تو اسے اچھی طرح جانتے ہو۔۔۔۔
ہاں وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔۔۔۔سلجھا ہوا نیک فطرت کا مالک ہے۔۔۔۔
کیوں نہ۔۔۔ اسکے بیٹے کو دبئی سیٹ کر دیا جائے پھر تو اسکی مجبوری ہو گی اپنے بیٹے کے ساتھ جانا۔۔۔۔ بات تو ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن یہ کام بڑی راز داری سے کرنا ہوگا۔۔۔۔۔ورنہ مسئلہ مزید بگڑ سکتا ہے۔۔۔
تمہیں پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ وہ دونوں آپس میں ٹھیک ہیں ۔۔۔بس ہمارے لئے یہ ہی کافی ہے ۔۔۔۔ کرن بھی اسکے ساتھ امریکہ جانے کے لئے تیار ہے۔۔۔
میں چاہتا ہوں وہ دونوں پاکستان رہیں۔۔۔ وہ ہارون سکندر ۔۔۔۔۔ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو۔۔۔۔میں حدید سے بات کروں گا۔۔۔
گھر چلتے ہیں کافی ٹائم ہو گیا ہے ۔۔۔ عادل صاحب ۔۔۔۔۔کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔اب وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے آفس سے باہر نکلے تھے۔۔۔۔
****************************************
