Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 7)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 7)
Ehsaas By Raheela Bano
خُبیب سکندر جنت کا تپتا لرزتا ہاتھ پکڑے کیمروں کی روشنی میں اسٹیج کی طر ف آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔ ریلیکس وہ دبی دبی آواز میں بولا ۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی۔۔۔۔ خُبیب سکندر ۔۔۔۔۔۔ اسے گود میں اٹھا ئے اسٹیج پر چڑھا تھا۔ اسٹیج پر چڑھتے پھولوں کی بارش کے ساتھ ہال کی تمام لائٹس آن ہوئی تھی۔
تالیوں اور شور شرابے سے ہال گونج اٹھا تھا۔۔۔۔ آنکھیں کھولو وہ گھومتے ہوئے سیچو ایشن سنبھالنے کی کو شش کر رہا تھا۔ ورنہ یہ لڑکی حال میں ہی تماشا بنوا دیتی۔۔۔۔۔ جنت نے اسکے سخت اور سرد لہجے پر پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں۔
اسکی آنکھیں کھولنے پر خُبیب سکندر ۔۔۔ نےپرسکون سا سانس لیا تھا۔ہال میں ابھی تک تالیوں کی آواز گونج رہی تھی۔
اب وہ اسے ساتھ لگاتے ہوئے کھڑا کر گیا تھا۔۔۔۔۔۔ تمہارے چہرے سے ایک منٹ کے لئے بھی مسکراہٹ غا ئب ہوئی نہ تو میں تمہیں غائب کر دونگا۔۔۔ خُبیب سکندر کے سرد اور سپاٹ انداز پر جنت نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔
اب وہ اسٹیج پر کھڑا سلگتی نظروں سے اپنے موم اور ڈیڈ کو دیکھ رہا تھا۔جو مہمانوں سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔۔۔ جیسے ہی اسکی نظریں ہارون سکندر سے ملی تو ماتھے پر ڈھیروں بل سمیٹے نظریں چراتے ہوئے۔وہ جنت کا ہاتھ پکڑتے اسٹیج پر رکھے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے ماہر بیوٹیشن سے یہ کہتے ہوئےاس کا میک اپ کروایا تھا۔کہ وہ چوبیس پچیس سال کی لگنی چاہئے۔۔۔ اب اس نے اسے دیکھا ۔۔۔۔وہ لگ بھی رہی تھی ۔۔
وہ اپنے سرکل۔۔۔۔۔میں مذید اپنا تماشا نہیں چا ہتا تھا۔۔۔۔۔ جنت نے اسکے اسطرح دیکھنے پر نظریں جھکائیں تھیں۔۔۔ ایک دم اسکی مسکراہٹ سمٹی تھی۔اسکو کمفر ٹیبل رکھنے کے لئے وہ اسکے پاس سے اٹھتے اسٹیج سے نیچے اترا تھا۔۔
*************************************
کب سے فوٹو گرافر انکی تصویریں بنا رہا تھا۔پوز بنواتے ہوئے جنت شرم سے سرخ پڑھ رہی تھی۔ دوسری طرف وہ بے حس انسان اسکی حالت کی پرواہ کئے بغیر کیمرے مین کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا۔۔۔۔میم آپ ایک ہاتھ سر کے دل والی جگہ پر اور دوسرا ہا تھ انکے کندھے پر رکھ کے ان کی آنکھوں میں دیکھیں۔۔
جنت نے گھور کر کیمرے مین کو دیکھا جو اس سے عجیب و غریب پوز بنوا رہا تھا۔میم بس یہ آخری پوز ہے۔جنت کو سب سے مشکل کام اسکی آنکھوں میں دیکھنا لگ رہا تھا۔
جنت نے جیسے ہی خُبیب سکندر کی آنکھوں میں دیکھنے کے لئے نظریں اٹھائیں۔۔۔۔ دوسرے ہی لمحے وہ اپنا سر اسکے کندھے سے ٹکا گئی۔۔۔
بے ساختہ خُبیب سکندر ۔۔۔ نےاپنے لب اسکے سر کے وسط میں رکھے کمیرے مین یہ خوبصورت منظر اپنے کیمرے قید کرتے اسٹیج سے نیچے اترا تھا۔
خُبیب سکندر اپنی اس بے ساختہ حرکت پر بمشکل سنبھلا تھا۔
اب وہ اسکا تپتا ہاتھ پکڑتے ہوئےصوفے تک لایا تھا۔بیٹھ جاؤ۔۔۔۔۔۔ اسے اپنا حکم صادر کرتے ہوئے اسٹیج سے نیچے اتر گیا تھا۔۔۔جنت نے اس بے حس شخص کو جاتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔ جو اسکی گرے میکسی سے میچ گرے پینٹ کوٹ میں ملبوس تھا۔ اسکے ڈوپٹے کے ساتھ کی بلیو ٹائی لگائی ہوئی تھی۔
*****************************************
خُبیب سکندر۔۔۔۔۔ رات کہ دو بجے کے قریب جب اپنے روم میں داخل ہوا۔۔۔۔ تو اسکی نظر اپنی بہن عینا پر پڑی جو جنت کو اپنے ہاتھوں سے دودھ پلا رہی تھی۔
یہ دیکھتے ہی اسنے اپنے جبڑے سختی سے بھنچے۔۔۔۔۔اب یہ بھکارن میری بہن سے اپنی خدمت کروائے گی۔۔۔۔اسنے جنت کو غصے سے دیکھا۔جو اسے دیکھتے ہی نظریں جھکا گئی تھی۔
عینا نے جب اپنے بھائی کو غصے میں دیکھا تو وہ جنت کو دودھ کا گلاس پکڑاتے عجلت میں کھڑی ہوئی تھی۔
بھیا ۔۔۔۔بھابھی کو بہت تیز بخار تھا۔والدہ ۔۔۔۔ نے کہا کہ جب تک ان کی طبعیت ٹھیک نہیں ہوتی۔۔۔ تو میں بھابھی کے پاس ہی رہوں, وہ تھوک نگلتے ہوئے بولی۔
فوزیہ سکندر اپنی ماں کو والدہ کہتی تھیں۔ ہارون سکندر اور بچے بھی انہیں والدہ ہی کہتے تھے۔ خُبیب سکندر والدہ کا لاڈلہ نواسا تھا۔جس پر والدہ جان چھڑکتی تھی۔
جس طرح پورے حال میں بھکارن کی خوبصورتی کا چرچا تھا والدہ کا تو ماشااللہ کہتے ہوئے منھ ہی تھک گیا ہوگا۔ اسنے قہر بھری نظر اس پر ڈالی۔۔۔۔۔ غصے سے اسکی آنکھوں کی سرخی بڑھی تھی۔ عنیا اپنے بھائی کو اتنے غصے میں دیکھ کر سب کچھ بھول بھال کر دروازے کی طر ف بڑھی۔
خُبیب سکندر ۔۔۔۔ نے اسے بازو سے پکڑتے ہوئے اپنے مقابل کھڑا کیا تھا۔
سوری بھیا ۔۔۔۔عینا بمشکل ضبط سے بولی تھی اسکی اپنے بھائی کے غصے سے جان جاتی تھی۔اگر تم مجھے اسکے آس پاس نظر آئی۔۔ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا وہ اسکا بازو چھوڑتے ہوئے بولا۔
خُبیب سکندر کی بات پر اسنے اثبات میں سر ہلایا۔اسے روم سے باہر جاتا دیکھ کر خُبیب سکندر نے گہرا سانس لیا تھا۔
وہ اپنی بہن کو جانتا تھا۔جو بہت محبت کرنے والی تھی۔
اس بھکارن کا کیا بھروسہ کب مطلب پورا ہونے پر بھاگ جائے۔۔۔۔؟
پر یہ تمہاری سوچ ہوگی ۔۔۔ اب میری دسترس سے تم کہیں نہیں جاسکو گی۔۔۔۔اپنی سرخ آنکھیں اس پر گاڑی تھیں۔
جنت اپنی تکلیف کو بھلاتے بیڈ سے نیچے اتری تھی۔۔۔۔۔تیز تیز قدم لیتے ڈریسنگ روم سےجوتوں والے ریک سے چپل لائی تھی۔۔۔
آپ کیا پہنے گے۔۔۔؟
وہ جوتے اسکے پاس رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ خُبیب سکندر اسے نظر انداز کرتے ہوئے۔۔۔۔۔دیوان پر بیٹھ کر جوتے اتارنے لگا۔۔۔۔جیسےہی اسنے جوتے اتارے وہ شوز اٹھا نے لگی ۔۔۔۔۔خُبیب سکندر نے اسے بازو سے پکڑتے ہوئے اپنے قریب کیا تھا۔۔۔۔دولت دیکھ کر شادی کی ہے۔
مجھے لوٹنے آئی ہو خبیب سکندر اسکے کان کے پاس غرایا تھا۔۔۔۔۔۔جنت نے اسکی سرخ آنکھوں میں دیکھتے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
وہ اسکی بات سن کر بری طرح ٹوٹ چکی تھی۔اس نے ایسا کب چاہا تھا۔ہارون سکندر نے اسے بیٹی کہا تھا۔ اسنے تو ان سے شادی کر کے بیٹی ہونے کا مان رکھا تھا۔ آنسو اسکے گلابی گالوں پر روانی سے بہہ رہے تھے۔
خُبیب سکندر نے آگے بڑھ کر اسے دیوار کے ساتھ پن کیا تھا۔ اسکی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں جھانکتے اسکے آنسو اپنے انگوٹھے کی مدد سے بڑی بے دردی سے صاف کئے تھے۔
آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں۔جنت گھٹی گھٹی آواز میں بولی۔کیسے تمہارا اعتبار کروں۔۔۔۔؟
وہ کمر سے پکڑتے اپنے اور اس کےدرمیان فاصلہ ختم کر گیا تھا۔اسنے جنت کے بازؤں کو اتنی سختی سے پکڑا اسکی سخت گرفت پر جنت نے سسکی لی تھی۔
وہ ولیمے کے ڈریس میں سجی سنوری۔اسکے سامنے کھڑی تھی۔
ڈریس چینج کیوں نہیں کیا۔۔۔۔؟
اسنے پنک لپ اسٹک سے اسکے سجے ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے بڑی بے دردی سے مسلا تھا۔۔۔۔
کرن بھابھی نے کہا تھا۔کہ آپ کے آنے پر کرنا ہے۔ وہ رندھی آواز میں بولی۔
تمہارا کیا خیال ہے ۔۔۔۔؟۔
میں تمہارے ناز نکھرے اٹھاؤں گا۔۔۔ یہ تمہاری بھول ہے۔اسنے اسے بیڈ پر دھکا دیتے اسکا ڈوپٹہ بے دردی سے کھینچا تھا۔۔۔۔درد کی شدت سے اپنے سر کو جکڑا تھا ۔۔۔۔ جنت خوف سے کانپتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی جو روم کی تمام لائٹس آف کر چکا تھا۔۔۔۔
***********************************************
خُبیب سکندر کی آنکھ اسکے رونے کی آواز سے کھلی تھی۔
اب اس بھکارن کو کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔؟
اسنے ایک آنکھ کھول کو دیکھا۔۔۔اسکے گیلے بال بیڈ کو چھو رہے تھے۔
گھٹنوں میں منھ دئیے ہچکیوں سے رو رہی تھی۔اسنے قہر بار نظروں سے اسکے ہچکولے کھاتے وجود کو دیکھا۔دوسرے ہی لمحے اسکی کلائی پکڑتے اپنے اوپر گرایا تھا۔جیسے ہی اسکی کلائی پکڑی وہ آگ کی طرح تپ رہی تھی۔
اسکی گرفت پر اسکی دردناک چیخیں کمرے میں گونجی تھی۔ غصے میں اسکے منھ پر ہاتھ رکھتے اسکی چیخیں دبا گیا تھا۔اگر اب تمہارے رونے کی آواز آئی تو میں تمہاری جان لے لوں گا۔جنت نے اسکی ڈھار پر اپنی سانسسیں تک روک لی تھیں۔
خُبیب سکندر نے اسے سہمی نظروں سے خود کو دیکھتے ۔۔۔۔ بری طرح لب بھنچے تھے۔۔۔
میں فریش ہونے جا رہا ہوں, میرے آنے تک ناشتہ ریڈی ہونا چاہئے۔جنت نے واش روم کی طرف جاتے ہوئے اسکی چوڑی پشت کو دیکھا تھا۔
جو شوہر اپنا حق جتاتا ہے وہ کبھی بھی اپنی بیوی سے نفرت نہیں کر سکتا۔۔۔ اپنے شوہر کا ہر کام ٹائم پر کرنا۔ فرمانبردار بیوی سے شوہر کومحبت نہیں عشق ہوتا ہے۔۔
۔تمہارا شوہر ہی تمہاری کل کائنات ہوگا۔۔۔۔۔ اسے ناراض مت کرنا۔۔۔۔اماں کی باتیں سوچ کر وہ شدت سے رو دی تھی۔
**********************************************
اسلام و علیکم!! جنت نے لاؤنج میں صوفے پربیٹھی والدہ جو تسبیح کر رہی تھیں ۔انہیں ادب سے سلام کیا۔۔۔
وعلیکم اسلام !! والدہ نے اسکی سرخ سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے نظریں چرائی تھیں۔۔کل سے وہ اپنے نواسے کی بھی سرخ آنکھیں دیکھ رہی تھیں لیکن معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچی تھی۔
والدہ کو اپنی طرف اتنی غور سے دیکھتے ہوئے۔۔۔ وہ الجھن کا شکار ہوئی تھی۔میں آپ سے پو چھنے آئی تھی کہ آپ کے لئے ناشتہ بنا دوں۔۔۔تم کیوں بناؤ گی۔۔۔ ؟
گھر میں اتنے سارے نو کر ہیں کوئی ضرورت نہیں ابھی کام کرنے کی۔۔۔۔والدہ بڑی اپنائیت سے بولی تو انکے انداز میں اتنا مان دیکھ کر جنت کی آنکھیں بھیگی تھیں۔
ادھر آؤ میرے پاس آکر بیٹھو۔۔۔انکے کہنے پر جنت انکے قریب ہی صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔ اِزنا میم آپ کو چھوٹے سر ۔۔۔۔۔بولا رہے ہیں ۔
وہ بہت غصے میں ہیں۔ وہ بھاگتے ہوئے آئی تھی۔جنت نے زور سے والدہ کا ہاتھ پکڑا تھا۔ تمہیں تو بہت تیز بخار ہے والدہ نے اسکا ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ میں لیا۔۔ اور اب جنت بری طرح کانپ رہی تھی۔والدہ ۔۔۔۔۔مجھے کمرے میں نہیں جانا۔۔۔۔۔اسکا زرد پڑتا رنگ دیکھ کر والدہ۔۔۔۔ کچھ حد تک معاملہ سمجھ گئی تھیں۔
خُبیب سے کہو کے اسے والدہ بلا رہی ہیں۔ اور سنو ۔۔۔۔اسے کہنا جنت انکے پاس ہے۔۔۔۔وہ یہ سنتے ہی الٹے قدموں پلٹی تھی۔۔۔ یہ لڑکا تو ملازموں کے بھی سانس خشک کر کے رکھتا ہے۔۔۔۔ والدہ کی بات پر جنت نے کان کھڑے کئے تھے۔
والدہ یہ اتنے غصے والے کیوں ہیں۔۔۔؟
جنت نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔
اصل میں بیٹا گھر عورتیں سنبھالتی ہیں۔۔۔ یہاں عورتوں کو سونے سے ہی فرصت نہیں ملتی۔۔۔۔ ایک بہو ڈاکٹر لے آئے ہیں وہ بس گھر میں صرف سونے کے لئے ہی آتی ہے۔۔۔
میری بیٹی اسکو گھومنے پھرنے سے ہی فرصت نہیں ہے۔۔۔۔ بچہ بےچارہ۔۔۔۔تھک ہار کر آفس سے آتا ہے ۔۔۔ اور اسے ایک پل کا سکون نصیب نہیں۔۔ اب تم آگئی ہو چلو اسکا کچھ بوجھ تو کم ہو گا۔۔۔۔ جنت جو ہونقوں کی طرح والدہ کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔ والدہ نے ایک نظر جنت کو دیکھا جو اسکے خوف سے کانپتے ہوئےاپنے لب کاٹ رہی تھیں۔۔
ہارون سکندر نے اسکی بیٹی کو پھولوں کی طرح رکھا تھا۔۔۔ اسی کا بیٹا میچیور ہونے کے باوجود اپنی بیوی کے لئے خوف کا باعث بن گیا تھا۔۔۔۔
****************************************
جنت کی جب آنکھ کھولی تو اس نے سامنے وال کلاک پر ٹائم دیکھا۔۔۔۔ گھڑی پر دو بج رہے تھے۔والدہ نے اسے میڈیسن دے کر زبر دستی سلا دیا تھا۔۔۔ اب تو کافی دوپہر ہوگی ۔۔۔ لیکن اسے کمرے میں ٹھنڈ محسوس ہو رہی تھی۔۔
سکول میں اپنی پرنسپل کا آفس یاد آیا تھا۔۔۔جہاں اے سی لگا ہوا تھا وہ صفائی کرتے ہوئے سو گئی تھی اسے کتنی ڈانٹ پڑی تھی۔۔۔اب یہاں تو ہر کمرے میں اے سی لگا ہوا تھا۔۔۔
والدہ کہاں چلی گئی تھی۔۔۔۔اب خُبیب سکندر کا خوف دل میں لئے اٹھی تھی۔۔
وہ اس کا شوہر تھا ۔اسکی نافرمانی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔ اب وہ ڈوبتے دل کےساتھ ڈریسنگ مرمر تک آئی۔۔۔۔ خود کو ایک نظر بے دلی سے دیکھا ۔۔سادہ سے بلیک شلوار قمیض میں شانوں پر بلیک ڈوپٹے کو سیلقے سے سر پر اوڑھا تھا۔۔۔بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنایا.۔۔۔
دل کسی چیز کو بھی نہیں چاہ رہا تھا سجنے سنورنے کو تو بلکل بھی نہیں۔۔۔ والدہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اب خوش ہے گی ۔۔۔۔ اپنی سوچوں میں مگن ہی تھی کہ اپنے پیچھے آہٹ کا احساس ہواتھا۔۔۔ پلٹ کر دیکھا۔۔۔نگاہیں تھم سی گئی تھیں۔۔۔
سفید شلوار قمیض میں ہاتھ میں موبائل پکڑے کھڑا تھا۔۔۔۔آپ کو کوئی کام تھا تو مجھے بلوا لیتے وہ کپکپاتے لبوں سی بمشکل بولی تھی۔۔۔
اسنے ہاتھ میں پکڑا موبائل اسے پکڑایا تھا۔۔۔۔ تمہاری کال ہے ۔۔۔۔۔ جنت نے لرزتے ہاتھوں سے موبائل پکڑتے کان کو لگایا تھا۔۔۔۔۔۔دوسری طرف اماں کی آواز سن کر تسلی ہوئی تھی۔۔۔
جنت بچے آج شام کا کھانا ہماری طرف ہے میں نے خُبیب کو بھی بتا دیا ہے۔۔ اور ہارون کو بھی۔۔۔۔ جی اماں ٹھیک ہے ۔۔۔ وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی۔۔ ٹھیک ہے شام کو ملیں گے۔۔۔۔ اللہ حافظ۔۔۔ کہتے ہوئےاماں نے کال کاٹ دی تھی۔
جنت نے موبائل خُبیب سکندر کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔۔ جو اسنے پکڑ لیا تھا۔۔۔
والدہ کہاں ہیں۔۔۔؟
پتہ نہیں میں سو گئی تھی ۔۔۔۔ابھی اٹھی ہوں ۔۔۔۔۔بلا لاؤں ۔۔۔ جنت نے انگلیاں مڑورتے ہوئے کہا۔۔۔
صبح بلایا تھا آئی کیوں نہیں تھی۔۔۔۔؟
خُبیب سکندر نے ٹیڑھی نظریں کرتے پوچھا تھا۔۔۔ جنت کی جان لبوں پر آئی تھی۔اس کے سوال کا جواب نہیں تھا۔۔۔ اب دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔ جنت لب کاٹتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ جانتی ہو دوپہر ہوگئی ہے ۔۔۔۔۔ مجھے بھوک لگی ہو گی ۔۔۔۔ میں ہر چیز برداشت کر سکتا لیکن کھانے میں ایک منٹ کی تاخیر برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔آج سنڈے ہے ۔۔۔میں سنڈے کا دن گھر گزارتا ہوں۔ باقی کے دنوں میں میرا آفس ٹائم صبح آٹھ بجے سے رات نو بجے تک کا ہے۔۔۔ کھانے پینے کی روٹین ملازمہ سے پوچھ لینا۔۔۔ وہ یہ کہتے ہوئے تیزی سے روم سےباہر نکلے تھے۔۔۔ جنت بھی انکے پیچھے بڑھی تھی۔
*****************************
