Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334
Last updated: 10 November 2025
Ehsaas By Raheela Bano
وہ گہرا مسکراتے ہوئے روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ داخل ہوتے ہی پہلی نظر اس پر پڑی جو گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی تھی۔ وہ اسکے سر پر پہنچے اسکو بازو سے کھنچتے زمین پر کھڑا کر گیا تھا۔۔۔۔ جنت نے ہڑبڑا کر اسکی طرف دیکھا جو اسے غصے سے گھور رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اب میں نے ایسا کیا کر دیا ہے ۔۔۔۔؟ جو مجھے گھورا جارہاہے۔ اسنے دل میں ہی سوچا تھا۔۔۔۔ زبان تک لاتی تو وہ پتہ نہیں اس کا کیا حشر کرتے۔۔۔؟ خُبیب سکندر اسکی جھکی جھکی پلکوں کو دیکھ رہا تھا جو ہلکے ہلکے لرز رہی تھیں۔۔۔۔ اسکی نظریں اسکے چہرے کا طواف کرتے اسکی لرزتی پلکوں پر ٹھہر سی گئی تھیں۔۔۔۔جو اسکے اس طرح دیکھنے پر زرا سی حرکت میں آئی تھیں۔۔۔ اور وہ اب مزید اپنی خواہش پر بند نہیں باندھ سکتا تھا۔۔۔۔ اسکے دل کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں۔۔۔روز اپنے دل سے عہد کرتا لیکن روز ہی توڑ دیتا تھا۔۔۔۔ وہ اتنافرشتہ صفت نہیں تھا کہ اپنے اندر اٹھتے ہوئے جزبات کو تھپک تھپک کر سلا دے۔۔۔ اب اسنے اسکی بند لرزتی آنکھوں پر پھونک ماری تھی۔۔۔۔جنت نے اپنی بند آنکھیں کھولی تھیں ۔۔۔۔ نظروں کا مرکز اسکا چہرا نہیں تھا۔۔۔۔ بلکہ اسکا سینہ تھا۔۔۔۔ وہ اب اسکی شرٹ کے بٹنوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔۔۔ وہ حسین ہی نہیں تھی۔۔۔ بلکہ اسکا ہر انداز ہی حسین تھا۔۔ وہ بہت مضبوط بھی تھی۔۔۔ کمزور تو بلکل نہیں۔۔۔۔ وہ اب اچھی طرح سے اسکی ظاہری اور باطنی خوبیوں سے واقف ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ جنت نے اب نظریں اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔ وہ خاموشی سے ہی سمجھ گئی تھی۔۔۔۔۔ اب وہ کیا چاہتے ہیں۔۔۔۔؟ یہ وہ لمحات تھے جن وہ وہ پل پل مرتی تھی۔ وہ ہر روز اپنے ایک نیا روپ دیکھاتا۔۔۔۔ وہ اس روپ کو کیا نام دے ۔۔۔۔؟ انکے اس والہانہ انداز کو محبت سمجھے یا انکی نفرت ۔۔۔۔ انکا یہ انداز ۔۔۔اسکے دل کی دھڑکنیں منتشر کر کے ایک نیا احساس بخشتا تھا۔۔۔۔ وہ سارا دن انہی لمحات کو سوچتے گزار دیتی تھی۔۔۔شاید وہ ایک دن ان کی محبت کو پالے گی۔۔۔۔ وہ ایک آس کے تحت ایک ایک بات کو گھنٹوں تک سوچتی رہتی ۔۔۔جب بے قراری بڑھتی تو وہ فون کا سہارا لیتی ۔۔۔ انکی آواز سن کر پھر گھر کے کاموں میں مشغول ہو جاتی۔۔۔۔ شاید جینے کی وجہ بن گئے تھے ۔۔۔ میں ان کی مجبوری ہو سکتی ہوں ۔۔۔۔پر۔۔۔۔میں اپنی محبت سے ان کا دل تو جیت سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔ غلطی سے بھی اسے میری محبت نہ سمجھنا ۔۔۔۔۔ میں اپنے ڈیڈ کو دی گئی قسم نبھا رہا ہوں۔۔۔۔ستمگر کے لفظ سماعتوں سے ٹکرائے تھے۔۔۔ اسکے ہونٹوں سے سسکی بلند ہوئی تھی ۔۔۔۔جنت نے بے دردی سے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کئے تھے۔۔۔۔ وہ اتنی دیر سے اپنے سینے سے لگائے کیوں کھڑے تھے۔۔۔۔۔؟ آج پہلی بار اسےاس طرح محبت کے ساتھ سینے سے لگایا تھا۔۔۔۔۔ اسکی سسکیاں بلند ہوئی تھیں۔۔۔ اگر سینے سے الگ کیا۔۔۔ تو شاید دوسرا سانس نہیں لے پائے گی۔۔۔ اگر۔۔۔۔ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا تو میں کہاں جاؤں گی۔۔۔۔؟ یہ ایک خوف ہر وقت اسکے سر پر سوار رہتا تھا۔۔۔۔نہیں مجھے ان سے بدگمان نہیں ہونا چاہئے۔۔۔۔کہیں میری بے بسی کا فائدہ تو نہیں اٹھا رہے۔۔۔ نہیں وہ اپنے دل کو سمجھانے لگی۔۔۔۔ جو مقدر میں لکھا ہے وہ تو ہو کے رہے گا۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ دعائیں مقدر بدل دیتی ہیں۔۔۔۔۔ میں انہیں دعاؤں میں مانگوں گی۔۔۔۔ مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔۔۔ جنت اپنی سوچوں کو جھٹکتے ہوئے بولی۔۔۔۔ "شکر ہے۔۔۔” میں تو سمجھا شاید ساری رات ایسے ہی مجھے کھڑا رکھو گی ۔۔۔۔جنت انہیں حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اس میں اتنا حیران ہونے والی بات تو نہیں ہے ۔ اس نے جنت کا ہلکا کھلا منھ بند کیا تھا۔۔۔۔ ”اور تم نے سوچ بھی کیسے لیا۔۔۔۔؟ کہ تم میری اجازت کے بغیر سو سکو گی۔۔۔۔ ” یہ ایک ہی بات مجھے تمہیں روز روز کیوں کہنی پڑتی ہے۔۔۔۔؟ میری نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے بھی انجان بن رہی ہو۔۔۔۔۔ وجہ پوچھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔؟ اسکے انداز میں سرد پن سے اسکا پورا وجود زلزلوں کی ضد میں آیا تھا۔۔۔۔ آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کرتے وہ لائٹ آف کرنے کے لئے انکے حصار سے نکلی تھی۔۔۔۔ یہ شخص بدل سکتا ہے ۔۔۔۔ لگتا ہے میری ساری خواہشیں حسرت بن کر میرے دل میں ہی رہے گی۔۔۔وہ پل میں ہی تو اپنے ازلی خول میں بند ہو گیا تھا۔۔۔۔ کاش! وہ ایسے ہی سینے سے لگی رہتی۔۔۔۔ ساری رات ایسے ہی گزر جاتی ۔۔۔۔ لائٹ بند کرتے اسنے آنے والے لمحات کا سوچ کر خوف سے جھرجھری لی تھی۔۔۔۔۔ **********************************
