930K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehsaas (Episode 26)

Ehsaas By Raheela Bano

وقت کی اپنی رفتار ہے ۔۔۔ وہ کسی کے لئے رکتا نہیں ۔۔۔۔ انسان کو ہی اسکے ساتھ چلنا پڑھتا ہے۔۔۔۔ وقت بدلا نہیں جنت بدل گئی ۔۔۔ اسنے اپنی زندگی میں رونے دھونےاور اداسیوں کو ختم کر دیا تھا۔۔۔۔

پانچ ماہ گزر گئے تھے۔۔۔۔ اسے پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔ گھر میں سب اس سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔۔۔ خاص طور پر فوزیہ سکندرنے اسے بہت کچھ سیکھا دیاتھا۔۔۔

اس کی زندگی بدل گئی زندگی بدلنے والی اسکی ساس تھی۔۔۔ جس نے قدم قدم پر اسکا ساتھ دیا تھا۔۔۔۔وہ پہلے زیادہ پر اعتماد ہو گئی تھی۔۔۔

مزاج میں سادگی تھی۔۔۔ اور وہ سادگی اسکے سراپے پر بھی جھلکتی تھی۔۔۔ اسکی اسی سادگی اور معصو میت کا اسکا شوہر دیوانہ تھا۔۔۔۔ اور اسکی شخصیت میں نکھار کی اصل وجہ اسکا شوہر تھا۔۔۔۔ جس نے اسے اپنی محبت اور وقار بخشا تھا۔۔۔۔۔

وہ اپنی قسمت پر رشک کرتی ۔۔۔۔ لیکن ایک خوف جو اسکے اندر جڑ پکڑ گیا تھا۔۔۔ وہ تھا اسکی تائی کا سامنا ہونا۔۔۔۔ کتنی بار سوچا کہ وہ سب کو بتا دے لیکن جب اپنی تائی کو خود کو نظر انداز کرتا پاکر وہ بھی ایسے ہی ہو جاتی جیسے وہ بھی اسکو سرے سے ہی نہیں جانتی تھی۔۔۔۔

اس کی تائی کاتو بس نہیں چلتا تھا کہ وہ اسے اس گھر سے ہی نکلوا دے اس سے سب گھر والوں کی محبت ہی ہضم نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔۔

وہ معصوم یہ جانا بنا کہ اسکی تائی اسکے ساتھ کتنا بڑا کھیل کھیلنے والی ہے۔۔۔

خُبیب سکندر کو دو دن ہو گئے تھے ۔۔۔وہ اسکے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی۔۔۔

اسی طرح اسکا خیال رکھ رہی تھی جس طرح وہ اسکے پاس موجود ہو۔۔۔ وہ خوش تھی کہ اسنے اپنے شوہر کے دل میں اپنا مقام بنا لیا ہے۔۔۔۔

”گھر سے تو نکالا جا سکتا ہے پر دل سے نہیں ۔۔۔۔ اسکے دل پر تمہارے مضبوط پہرے ہونے چاہئے ۔۔۔”

والدہ کے الفاظ اسکے کانوں میں گو نجے تھے۔۔۔

اپنے گھر میں تو دال روٹی سے ترستی تھی۔۔۔ اب اپنے کمرے میں ڈھیروں چیزوں پر نظر دوڑائی جو ملازمہ ہر وقت لئے اسکے سر پر کھڑی ہوتی تھی۔۔۔

اپنے تن پر اتنا مہنگا ڈریس دیکھ کر خدا کا شکر آدا کیا تھا جو اسنے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچاتھا۔۔۔وہ اب کافی ڈھیلے کپڑے پہتی تھی۔۔۔ جس میں اسکا جسم نمایاں نہ ہو ۔۔۔۔ اتنے مہنگے کپڑے وہ بعد میں پہن بھی نہیں سکے گی۔۔۔۔ رات کا آخری پہر شروع ہو چکا تھا۔۔۔۔

لیکن وہ ان دو دنوں میں سو نہیں سکی تھی۔۔۔۔ دن رات انہیں ہی تو سوچتے گزار رہی تھی۔۔۔ دو دن اسے صدیوں کے برابر لگ رہے تھے۔۔۔خود کو دیکھتے ہوئے اسکے ہو نٹوں پر شرمگیں مسکراہٹ پھیلی تھی۔آنکھوں کے سامنے انکا تصور جھلملایا تھا۔اپنی چمکتی آنکھوں سے موبائل میں انکی تصویر دیکھتے اسنے کروٹ بدلی تھی۔۔۔

************************

خُبیب سکندر ۔۔۔۔ بلیک ڈریس میں ملبوس تھا۔۔۔جو اسکی سرخ و سفید رنگت پر خوب جچ رہا تھا۔۔ڈریسنگ روم سے نکلتے جلدی سے خود پر پرفیوم اسپرے کیا تھا۔۔۔۔وہ رات کو سونے سے پہلے بھی بڑے اہتمام سے تیا ر ہوتا تھا ۔۔۔۔

موت کا کیا پتہ کب آجائے ۔۔۔۔۔؟

اپنی شرٹ کے اوپر والے دو بٹن جو کھلے تھے وہ بند کئے۔۔۔بالوں پر برش کرتے۔۔۔ ریسٹ واچ اپنی مضبوط کلائی سے اتاری تھی۔۔۔آج کی ساری میٹنگز کی تفصیل ڈیڈ کو شیئر کر دی تھیں۔۔۔

اب وہ اپنے مصروف سے انداز میں شوز اتار رہا تھا۔۔۔۔

چپل کہاں ہیں۔۔؟

اسنے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔۔۔ یاد نہیں آ رہا تھا کہاں اتاری تھیں۔۔۔یہاں آکر سب سے مشکل کام اسے تیار ہونا لگتا تھا۔۔۔۔۔ اسے اپنی رکھی ہوئی چیزیں نہیں ملتی تھیں ۔۔۔

غصے میں اسکے ماتھے پر کئی بل نمودار ہوئے تھے۔۔۔۔ اسنے اپنی گھنی شیو پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔

وال کلاک پر ٹائم دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔ وہ اب ننگے پاؤں ہی اپنے کمرے کی گلاس ونڈوکے پاس کھڑا ہوا تھا۔۔۔ چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔۔۔۔ اسکی روشنی میں ہر چیز نظر آرہی تھی۔۔۔

کل چودہویں کا چاند تھا

شب بھر رہا چرچا تیرا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے

کچھ نے کہا چہرا تھا۔۔۔

وہ اپنی مدھم سی آواز میں گنگنا رہا تھا۔۔۔۔

کل اسکی آخری میٹنگ تھی۔۔۔ وہ کل شام کی فلائٹ سے ہی واپس پاکستان جا رہا تھا۔۔۔۔

اگر کل کی میٹنگ ضروری نہ ہوتی تو وہ کینسل کر دیتا۔۔۔ کل تک جسے وہ بچی سمجھتا تھا۔۔۔۔ آج وہ اسکے لئے کتنی اہم ہو گئی تھی۔جس کی تصویر وہ اس سے دن میں کتنی بار منگواتا تھا۔۔۔کہ وہ کیسی لگ رہی ہے۔۔۔۔؟

اب سوچ رہا تھا کال کر لوں ۔۔۔۔ کیا پتہ سو نہ گئی ہو ۔۔۔ یہ سوچتے ہی اردا ترک کر دیا۔۔۔

دو دنوں سے وہ سو بھی نہیں سکا تھا ۔۔آج کی رات بھی شاید جاگ کر ہی گزرنی تھی۔۔۔۔

جیب میں سے موبائل نکال کر دیکھا ۔۔۔وٹس اپ پر اسکا میسج دیکھ کر میسج اوپن کیا تھا۔۔۔اسکی تصویر دیکھ کر گہرا مسکرایا تھا۔۔۔

یہ ابھی تک جاگ رہی ہے۔۔۔۔ اس سے تو اسکی ہیلتھ پر برا اثر پڑے گا۔۔۔۔۔ شدت جزبات سے بوجھل لہجے میں زیر لب بڑبڑایا تھا۔۔۔

سو جاؤ میں کل شام کی فلائٹ سے آ رہا ہوں۔۔۔ میسج سینڈ کر کے موبائل پاس پڑے ٹیبل پر رکھا ۔۔۔ خود سنگل صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔یہ جانے بنا کہ جاتے ہی ایک بڑا امتحان اسکا منتظر تھا۔۔۔جو سچ میں اسکی نیندیں اڑا دے گا۔۔۔

*******************************

جنت سارے کمرے کو سیٹ کر کے ایک نظر دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسے سختی سے منع کیا تھا ۔۔۔ کہ وہ کسی کام کو ہاتھ نہیں لگائے گی ۔۔۔ لیکن اسکی ہڈی کو سکون نہیں تھا۔۔۔

وہ بہت خوش تھی اسنے ہی نہیں اسکے شوہر نے بھی اسے مس کیا تھا۔۔۔۔۔؟

وہ ساری رات سو نہیں سکی تھی ۔۔۔ صبح پتہ نہیں کس ٹائم اسکی آنکھ لگی تھی۔۔۔ پھر انکی کال پر وہ دوگھنٹے بعد ہی اٹھ گئی تھی۔۔۔ ان دو دنوں میں وہ ڈھنگ سے تیار ہی نہ ہوتی وہ جو بار بار اسکی تصویر منگواتے تھے ۔۔۔ اسے تیار ہونا پڑتا تھا ۔۔۔۔ وہ بڑی بے دلی سے تیار ہوتی تھی۔۔۔۔ اگر انکی ناراضیگی کا ڈر نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی تیار نہ ہوتی۔۔۔

اسنے دو دن کس طرح گزارے تھے۔۔۔ یہ وہ ہی جانتی تھی۔۔۔

دسمبر شروع ہو چکا تھا۔۔اسے کافی ٹھنڈ محسوس ہو رہی تھی اب اسکا چائے پینے کو دل کر رہا تھا ۔۔۔ خود کو بلیک شال میں کور کرتے وہ روم سے کچن کی طرف جارہی تھی۔۔۔۔

”اسلام و علیکم۔۔۔۔۔۔” کرن نے اسکے گال سے گال مس کرتے ہوئے کہا۔۔۔

”وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔” جنت نے مسکراتے ہوئے سلام کاجواب دیا۔۔۔۔

آپ کہاں جارہی ہیں۔۔۔۔؟

میں چائے بنانے اصل میں مجھے سردی لگ رہی تھی۔ سوچا چائے پی لیتی ہوں ۔۔۔۔

وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔۔۔۔

آپ کسی ملازمہ سے کہہ دیتی ۔۔۔اور کل شام آپ اوپر والے پورشن میں جارہی تھیں ۔۔۔۔۔

ڈاکٹر نے آپکو سیڑھیاں چڑھنے سے سختی سے منع کیا ہے۔۔۔۔؟

اور اپنے بارے میں آپکا کیا خیال ہے۔۔۔ ؟

جنت نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔

کرن ملازمہ کو چائے کا کہتے ۔۔۔جنت سے گویا ہوئی ۔۔۔۔مجھے ڈاکٹر نے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔اور میں اپنی بہت احتیاط کرتی ہوں۔۔۔۔

جنت اسکا اداس اداس چہرا دیکھ رہی تھی۔۔۔ کہاں وہ چلبلی سی ۔۔۔۔ اور اب وہ خاموشی کا لبادہ اوڑھے پھرتی رہتی تھی۔۔۔۔ حدید بھائی کے جانے کے بعد تو جیسے اسے چپ ہی لگ گئی تھی۔۔۔

اب تو وہ آگئے تھے لیکن اسکی یہ چپ ابھی بھی نہیں ٹوٹی تھی۔۔۔۔

یہ چائے۔۔۔ ملازمہ نے چائے کی ٹرے انکے آگے کی ۔۔۔۔۔

جنت نے کپ اٹھاتے پہلے کرن کو دیا پھر خود اٹھا کر ملازمہ کو جانے کا اشارا کیا۔۔۔۔

اب بھی وہ کپ پکڑے کسی گہری سوچ میں غرق تھی۔۔۔۔

کرن بھابھی۔۔۔۔ وہ جنت کی آواز پر اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی۔اسکے چہرے پر اداسی کی پرچھائیاں دیکھ کر اسکے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔۔

آپ اتنی پریشان کیوں ہیں۔۔۔۔؟

” بھابھی۔۔۔۔”

مما اور حماد دبئی شفٹ ہو رہے ہیں بس اس لئے پریشان ہوں۔۔۔۔ بس حماد کے فیوچر کی وجہ سے خاموش ہوں ۔۔۔۔ بابا کہہ رہے ہیں ۔۔۔ جب تمہارا دل کرے تو ملنے چلی جایا کرنا۔۔۔۔ وہ اپنی نم آواز میں بولی ۔۔۔

ٹھیک کہہ رہے ہیں انکل۔۔۔۔ أللہ تعالیٰ آپ کی ماما کو صحت دے۔۔۔ وہ آپ کے پاس ہیں آپ انہیں دیکھ سکتی ہو سن سکتی ہو ۔۔۔ اور مجھے دیکھو۔۔۔ میرے پاس تو ایک واحد رشتہ تھا۔۔۔نہ دیکھ سکتی ہوں۔۔۔ نہ سن سکتی ہوں ۔۔ آس ہی نہیں ہے۔۔۔ جنت اپنی بھرائی آواز میں بولی ۔۔۔۔ تو کرن انکی باتوں سے خود تو کافی حد تک سنبھل گئی تھی۔۔۔

اب وہ اسے دیکھ کر دکھی ہوئی تھی۔۔۔۔اسنے جنت کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔ اسے اب سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ انہیں دلاسہ کیسے دے۔۔۔۔؟

وہ عمر میں تو اس سے بہت چھوٹی تھی۔۔۔۔۔ لیکن رشتے میں بڑھی تھیں ۔۔۔۔ گزرے وقت میں کس طرح پل پل اسکا ساتھ دیا تھا۔۔۔ اسکے رشتے کو ٹوٹنے سے بچایا تھا۔۔۔۔

بھابھی آپ میری نظر میں بہت معتبر ہیں ۔۔۔۔ جب میں آپ کے ہاتھ میں پکڑی خلیل جبران واصف علی واصف کی کتابیں دیکھتی ہوں نہ تو سوچتی ہوں ۔۔۔ کہیں نہ کہیں آپکی شخصیت پر انکا اثر ہے۔۔۔ شاید آپ اسی لئے اتنی مٹی ہوئی ہیں۔۔۔وہ دھیرے دھیرے بول رہی تھی۔۔۔ جنت اسے خاموشی سے سن رہی تھی۔۔۔

کرن ۔۔۔ حدید سکندر کی آواز پر کرن اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔ جنت اپنے ہاتھ مین پکڑا چائے کا کپ دیکھ رہی ۔۔۔۔ جس میں چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔۔۔

کمرے آتے ہی اسنے موبائل دیکھا ۔۔۔ اوپن کرتے ہی کافی سارے میسج دیکھ کر مسکرائی تھی۔۔۔

میں باہر تمہارا سامنے بلیک گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں جلدی سے آؤ۔۔۔۔ بغیر نمبر دیکھے وہ ڈریسنگ روم سے چادر لینے کے لئے بڑی تھی۔۔۔

انکی تو شام کی فلائٹ تھی ۔۔۔۔اتنی جلدی آگئے وہ ہلکا سا مسکراتے ہوئے چادر کا نقاب کرتے باہر کی طرف بڑھی تھی۔۔۔ یہ سوچے بنا کہ کوئی بڑی ہوشیاری سےاس کے ساتھ کھیل کھیل رہی ہے۔۔۔

*******************************

خبیب سکندر۔۔۔۔ کب سے کال کر رہا تھا۔۔۔۔ دوسری طرف بیل جارہی تھیں لیکن وہ کال ریسیو نہیں کر رہی تھی۔۔۔ چار بجےکے بعد نہ ہی کوئی کال آئی تھی نہ کوئی میسج اسکی چھٹی حس کچھ غلط ہو نے کا الارم دے رہی تھی۔۔۔۔

ڈیڈ کو کال کرتا ہوں ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ انہیں کیا ڈسٹرب کرنا اور دس منٹ تک گھر پہنچ ہی جانا ہے۔۔۔؟

ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کال اٹینڈ نہ کرے جو اس سے لمحے بھر کے لئے غافل نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔ وہ اتنی دیر کیسے ۔۔۔۔۔ ؟

پتہ نہیں طبعیت ٹھیک ہو گی کہ نہیں ۔۔۔۔ کچھ گھنٹے ہی اسکی جان لبوں پر لے آئے تھے۔۔۔۔

اسنے پریشانی سے سیٹ کی پشت کے ساتھ ٹیک لگائی تھی۔۔۔۔ دل میں عجیب سے وسوسے آرہے تھے۔۔۔یا اللہ خیر دل کی ڈھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں۔۔۔۔

اب وہ پاگلوں کی طرح گاڑی دوڑا رہا تھا۔۔اسکی یہ سوچ کر ہی جان نکل رہی تھی۔۔۔۔کہیں وہ بے حوش ہی نہ پڑی ہو۔۔۔یہ سوچ کر اسکے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ رہے تھے۔۔ اسنے گاڑی کی سپیڈ خطرناک حد تک بڑھائی تھی۔۔۔۔

وہ پاگلوں کی طرح گاڑی ڈرائیو کرتے گھر پہنچا تھا۔۔۔گاڑی کے ہارن پر گارڈ نے جلدی سے گیٹ کھولا تھا۔۔۔

وہ گاڑی سے اترتا تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھا گا تھا۔۔۔۔خالی کمرے کو دیکھ کر وہ واش روم کی طرف بڑھا۔۔۔۔ وہ بھی خالی ۔۔۔ پھر دیوانوں کی طرح بھاگتا ڈریسنگ روم میں دیکھا وہ بھی خالی تھا۔۔۔۔ پھر وہ کچن میں گیا ۔۔۔ وہاں بھی نہیں تھی۔۔۔۔

ایک ایک کمرہ چیک کرتے وہ اوپر والے پورشن میں گیا ۔۔۔۔ ازنا مجھے اس طرح کا مزاق پسند نہیں میں تمہاری جان لے لوں گا۔۔۔۔۔اب وہ لان کی طرف بھاگا۔۔۔ وہاں بھی نہیں تھی۔۔۔

ازنا کہاں ہو تم۔۔۔۔۔۔؟

وہ ۔۔۔۔۔۔ چیخا تھا۔۔۔ اسکی چیخ پر سب اپنے اپنے کمروں سے باہر آئے تھے۔۔۔ سب ناسمجھی کے عالم میں خُبیب سکندر کو دیکھ رہے تھے۔۔۔

جنت کہاں ہے۔۔۔ ؟

ہارون سکندر کی آواز جو ہلک میں ہی دب گئی تھی۔۔۔وہ اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر پریشان ہوا تھا۔۔۔۔ ڈیڈ اِزنا۔۔۔۔۔۔ گھر میں کہیں بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ سب بے یقینی کے عالم میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔

فوزیہ سکندر ۔۔۔۔ بری طرح کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔ وہ گھر نہیں ہے تو کہاں ہے۔۔۔ ؟

اسکا دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔۔۔۔ سب خُبیب سکندر کی آنکھوں سے ٹپکتی وحشت دیکھ کر سٹل ہوئے تھے۔۔

میری بیوی گھر میں نہیں ہے ۔۔۔۔۔ گھر میں کسی کو خبر ہی نہیں ۔۔۔۔ اسکی دھاڑ پر ہارون سکندر نے کرب سے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔۔

بھائی۔۔۔۔۔ بھابھی دوپہر ٹائم تو تھی ہم نے اکٹھے چائے پی تھی

۔۔۔ کرن ہمت کر کے بولی تھی۔۔۔

آپ کال کر کے دیکھ لیں ۔۔۔۔۔ حدید نے اپنے مشورے سے نوازا تھا۔۔۔۔

وہ اپنی امی کی قبر پر بھی جاتی ہے کہیں وہاں تو نہیں فوزیہ سکندر بس اتنا ہی بول سکی تھیں۔۔۔

ہارون سکندر نے پریشانی سے اپنا ماتھا مسلا تھا۔۔۔۔ اب وہ تینوں گاڑی کی طرف بھاگے تھے۔۔۔۔

**********************************************

جنت جب ہوش میں آئی تو کچھ یاد نہیں تھا۔۔۔ بس اتنا یاد تھا۔۔ کہ جب وہ گاڑی کے پاس آئی تو کسی نے اسے کھینچ کر منھ پر کچھ رکھا تھا۔۔۔۔ اب خود کو ایک اندھیرے کمرے میں جس میں روشنی کا نام نشان نہیں تھا۔۔۔۔

وہ کب سے ٹھنڈے یخ فرش پر پڑی تھی۔۔۔ ٹھنڈ سے اسکی ہڈیاں بھی دکھ رہی تھیں ۔۔۔

جسم میں اتنی جان نہیں تھی کہ اٹھ کر بیٹھ سکے۔۔۔

کس نے مجھے اغوا کیا ہے۔۔۔۔؟

کاش۔۔۔!

میں نہ آتی ۔۔۔۔ گھر میں تو کسی کو پتہ بھی نہیں ہوگا کہ میں کہاں ہوں۔۔۔۔؟

آنے سے پہلے موم کو ہی بتا آتی ۔۔۔۔اب وہ شدت سے رو رہی تھی۔۔۔

”اے کاتب تقدیر کتنی آزمائشیں لکھی ہیں میری قسمت میں۔۔۔۔ مجھے تڑپا تڑپا کر مارنے سے مجھے سیدھا موت کیوں نہیں دے دیتا۔۔۔”

”وہ اب اپنے رب سے بھی شکوہ کر رہی تھی۔۔۔”

کون ہیں۔۔۔؟

جو میری زندگی میں زہر گھول رہے ہیں۔۔۔۔ میں اپنے گھر والوں کو کیسے یقین دلاؤں گی۔۔۔؟

کوئی میری بات پر یقین کرے گا۔۔۔۔یا اللہ ۔۔۔۔ اگر تپتی دھوپ میں مجھے سائبان عطا کیا ہے ۔۔۔۔؟

تو اسے مجھ سے مت چھیننا۔۔۔۔اسکی دلسوز چیخیں کمرے میں گونج رہی تھیں ۔۔۔ کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔ جو اسکی پکار سنتا ۔۔۔۔ یا اللہ کوئی نہیں ہے ۔۔۔ میری پکار سننے والا ۔۔۔ تو ہے نہ تو کیوں میری پکار نہیں رہا۔۔۔ میں نے ایک چیز مانگی تھی ۔۔۔ کہ مجھے سکون دے دے۔۔۔۔یا اللہ سکون ہی تو مانگا ۔۔۔۔ وہ بھی چھین لیا۔۔۔۔ اسکی دل دہلا دینے والی چیخیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔۔۔

روتے روتے اسکا ہلک خشک ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔ ادھر ادھر ہاتھ مارا ۔۔۔۔ شاید کوئی سہارا مل جائے وہ اٹھ کر بیٹھ جائے صبح سے بھوکی پیاسی تھی۔۔۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے جلدی سے اپنے اوپر چادر لپیٹی تھی۔۔۔دل سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا۔۔۔ سر میں ایک دم شدید درد اٹھا تھا۔۔۔

کمرے میں ایک دم روشنی میں اسنے نظریں اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔ دو آدمی اس کی طرف ہی بڑھ رہے تھے ۔۔۔

خبردار ۔۔۔۔!!

مجھے ہاتھ لگایا۔۔۔ وہ ایک دم چیختے ہوئے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔

خود کو چادر میں اچھی طرح کور کیا تھا۔۔۔۔؟

پاس کھڑے تیسرے آدمی نے دونوں کو ہاتھ کے اشارے سے پیچھے رہنے کا کہا۔۔۔ وہ اسکے کہنے پر وہی رک گئے تھے۔۔۔۔ وہ ادھیڑ عمر شخص اسکی طرف بڑھا۔۔۔۔ وہ پیچھے کو قدم لیتی دیوار کے ساتھ جالگی تھی۔۔۔۔میرے لئے پانی لے کر آؤ وہ دونوں باہر کی طرف بڑھے تھے۔۔۔

“یا اللہ ۔۔۔۔”

اس مشکل وقت میں میری مدد کرنا اس وقت میرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے۔۔۔

میری عزت کی حفاظت کرنا۔۔۔۔اسنے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔

************************************************