Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 8)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 8)
Ehsaas By Raheela Bano
خُبیب سکندر۔۔۔ ماں جی۔۔۔۔ کے گھر جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا۔۔۔۔بلیک شلوار قمیض پہنے خود کو ڈریسنگ مرمر میں دیکھتے پرفیوم چھڑک رہا تھا۔۔۔۔اتنی دیر میں جنت کی آواز پر وہی کھڑا خود کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔آپ کے اتنے سارے جوتے ہیں۔ میں کونسے نکالوں۔۔۔وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کھڑی تھی۔
جس طرح سوٹ اپنی مرضی سے نکالا ہے تو جوتے بھی نکال دو۔۔۔۔ جنت اسکی بات پر شرم سے سرخ پڑی تھی۔۔۔۔۔ اتنا شرمانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
وہ اسکی نم آنکھوں میں دیکھتےہوئے بولا۔۔۔ شاور لینے کے بعد اسکی قمیض ویسے ہی گیلے جسم کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔۔۔تم ٹاول نہیں یوز کرتی وہ اسکے بھیگے سراپے کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔میرے پاس ٹاول نہیں ہے ۔۔۔۔
اس نے جلدی سے بیڈ سے اپنا ڈوپٹہ اٹھا کر اپنے پورے بدن کو کور کیا تھا۔۔۔۔
تم ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئی۔۔۔۔۔؟
میں نے سوچا پہلے آپ تیار ہو جائیں۔۔۔۔۔ اب وہ اسے گھور کر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ اسکے اسطرح دیکھنے پر خُبیب سکندر کے چہرے پر گہری مسکراہٹ پھیلی تھی۔۔۔
وہ اسکی نظروں کا مفہوم بخوبی سنجھ گیا تھا۔۔۔۔اسکی چھوٹی سی بیوی اسکے خوف سے اسکا ہر کام کر رہی تھی۔۔۔ ان دو دنوں وہ اسکی موجودگی میں ایک پل کے لئے نہیں بیٹھتی تھی۔۔۔۔۔وہ ساتھ ساتھ اسکی ہر چیز سمیٹ رہی تھی۔۔۔اسے یہ چھوٹی سی لڑکی ایک عورت لگ رہی تھی۔۔۔۔
سنیں۔۔۔۔۔ آپ اماں سے کہنا میں بہت اچھی ہوں۔۔۔۔ اپنے لہجے میں ڈھیروں معصومیت سموئے بولی تھی۔۔۔۔
کیوں۔۔۔؟؟
خُبیب سکندر نے اسے طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔۔۔آپ نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کہا تھا کہ میں بہت اچھی ہوں۔۔۔ آپ کے کہنے پر میں روئی بھی نہیں تھی۔۔۔۔جنت بھیگے لہجے میں بولی۔۔۔ اچھا تم خود ہی بتا دینا مجھے بتاتے ہوئے شرم آئے گی۔۔۔۔
خُبیب سکندر۔۔۔۔ نے اسے کمر سے پکڑتے اپنے قریب کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔؟
جان تو وہ گیا تھا۔۔۔ کہ اسکی بیوی بہت بھولی ہے۔۔۔۔ پھر بھی۔۔۔۔۔۔ وہ تھی تو۔۔۔۔ بھکارن ۔۔۔۔۔۔یہ سوچتے ہی اسکی آنکھوں کی سرخی بڑھی تھی۔۔۔۔ دوسرے ہی پل جنت کو بری طرح جھٹکا دیتے تیزی سے کمرے سے باہر کی سمت بڑھا تھا۔۔۔۔۔
*******************************************
خُبیب سکندر نے اپنی بیوی کو دیکھا۔۔۔۔ جو بلیک چادر کا نقاب کر کے۔۔۔سہج سہج کر چلتی گاڑی کی طرف آرہی تھی۔۔۔وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اسے آتے دیکھ کر گاڑی اسٹارٹ کر نے لگا۔۔۔۔جنت اب گاڑی کا دروازہ کھولے اسکے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی۔گاڑی کے ہارن پر گارڈ نے گیٹ کھولا تھا۔۔۔۔۔گیٹ سے باہر نکلتے ہی گارڈز کی گاڑیاں اسکی گاڑی کے آگے پیچھے تھیں۔۔۔
اتنی دیر کیوں کر دی۔۔۔۔؟
موم کو ڈریس نہیں اچھا لگا تھا۔۔۔۔ اس لئے دوبارہ تیار ہونا پڑا۔۔۔۔۔ اگر آئیندہ ایسا ہوا تو چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔۔۔۔۔ وہ غصے میں اسے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔
آپ اتنا غصہ کیوں کر رہے ہیں۔۔۔۔؟
چپ ۔۔۔ایک لفظ بھی اور بولی نہ گاڑی سے باہر پھینک دونگا۔۔۔۔وہ اسٹیرنگ وہیل پر ہاتھ مارتے ہوئے غصے سے بولا ۔۔۔ جنت اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ گئی تھی۔
کسی دن لگتا ہے میرے کان کے پردے پھٹ جائیں گے ۔۔۔وہ منھ میں بڑبڑائی تھی اور خُبیب سکندر نے اسکی بڑبڑاہٹ سنتے سختی سے لب بھنچے تھے۔۔۔۔ وہ ڈیڈ کہہ رہے تھے کہ ہماری طرف سے معزرت کر لینا انکی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
موم ڈیڈ کا سر دبا رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔ وہ بتانے سے زیادہ جتانے کے انداز میں بتا رہی تھی۔۔۔وہ اپنی چھوٹی سی بیوی کو دیکھ کر حیران تھا۔۔۔۔۔ کہ وہ ہر بات کو کتنا سمجھتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
عورت نہ ہو تو ۔۔۔۔۔ وہ غصے سے پھنکارہ تھا۔۔۔۔۔ وہ اپنے سا تھ کسی بھی طور پر فری نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔
فری ہوئے بغیر وہ اس کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ اسے ڈیڈ کے فیصلے پر اختلاف نہیں تھا۔۔۔۔۔بلکہ۔۔۔۔۔ اسکے بھکارن چھپانے سے اختلاف تھا۔۔۔
بیٹا اسکا اب تمہارے سوا کوئی نہیں ہے ۔ تم سمجھدار ہو۔۔۔۔۔وہ کم عمر ہے۔ تم اسے جس سانچے میں ڈھالو گے ڈھل جائے گی۔۔۔۔ شادی تو تم نے کرنی ہی تھی۔۔۔۔۔اسطرح کا رویہ اپنا کر اپنے ڈیڈ کو شرمندہ نہ کرو۔۔۔۔
والدہ کے الفاظ اسکے کانوں میں گونجے تھے۔۔۔
شرمندہ ۔۔۔۔وہ یہ سوچتے ہوئے پھیکا سا مسکرایا تھا۔۔۔۔۔اب اسنے نظریں پھیرے اپنے ساتھ بیٹھی اپنی بیوی کو دیکھا جو ونڈو سکرین سے باہر کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
پتہ ہے میری امی کو دنیا سے گئے بیس دن بھی نہیں ہوئے میں اس ڈریس کو پہنے مرنے والی ہو رہی ہوں۔۔۔۔ آپ کہہ رہے ہیں میں نے یہ سب آپ سے شادی کرنے کے لئے کیا ہے۔۔۔۔؟
اسکی کرب ناک چیخیں پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔۔۔کس طرح اسنے اسکی دردناک چیخیں گلے میں گھونٹ دی تھی۔۔۔۔۔ اسکا بے ہوش وجود اسکے آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا۔۔۔پتہ نہیں کیوں اسے اس پر ترس نہیں آتا تھا۔۔۔۔۔آج اسکی شادی کا تیسرا دن تھا۔۔۔۔ان تین دنوں نے اسے بدل کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ خوشی منائے یا ماتم۔۔۔۔
لفظ بھکارن اسکے اندر پھانس کی طرح چبھ گیا تھا اگر یہ بتا دیتی تو اسکے ڈیڈ اسکی غریب لڑکی سے تو شادی کر سکتے تھے لیکن ایک بھکارن سے نہیں۔۔۔۔۔وہ یہ سو چ کر ہی پل پل مرتا تھا۔۔۔۔۔
اس وقت وہ بھول جاتا تھا کہ وہ کم عمر ہے۔۔۔ اب وہ ساری زندگی میرا یہ بے رحم روپ دیکھے گی۔۔۔۔جیسے میں پل پل تڑپتا ہوں اسی طرح تمہیں پل پل تڑپاؤں گا۔۔۔اسکی نم نگاہیں دیکھ کر پر سکون ہوا تھا۔۔۔۔
وہ آج دعوت کھانے بھی ڈیڈ کی وجہ سے آیا تھا ورنہ اسکا بلکل موڈ نہیں تھا۔۔۔ڈیڈ سے ناراض تھا لیکن انہیں دکھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
اپنےعمل سے وہ گھر والوں کو یقین دلا چکا۔تھا کہ وہ اسے قبول کر چکا ہے۔ ۔یہ سوچتے ہوئے اس نے اسٹیرنگ وہیل کو گھماتے ہوئے موڑ کاٹا تھا۔۔
***************************************
کھانے کے بعد غزالہ آپی انکے لئے چائے لائی تھی۔۔۔۔۔ میں چائے نہیں پیوں گی۔۔جنت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے لیکن میں نے سوچا شاید پینی شروع کر دی ہو۔۔۔۔۔ سنا ہے۔۔۔۔ہمارے بھائی تو بہت چائے پیتے ہیں۔۔۔۔
خُبیب سکندر نے جنت کو دیکھا جو اب کھڑی ہوئی تھی ۔جو بلیک کلر کی لمبی پاؤں تک آتی فراک جس پر بلیک اور گرے نگینوں کا ہلکا ہلکا کام تھا وائٹ گولڈ کا نیکلیس اور کانوں میں اسی کے ساتھ کے بڑے بڑے بندے پہنے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
ہلکے سے میک اپ میں وہ کسی حور سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔ ہونٹ کے نیچے تل تھا جسے اسنے کاجل کے ساتھ مزید گہرا کیا تھا۔۔۔ناک میں پہنی نتھلی اسے زہر لگی تھی۔ یہ لڑکی کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ضرور کرتی تھی ۔جو اسے غصہ دلا جاتی تھی۔۔۔اسنے اب اسے سلگتی نظروں سے دیکھا۔۔۔
سب کی زبانی اسکی تعریف تو سن چکا تھا۔لیکن دیکھا اسے ابھی تھا ۔۔۔۔ آتے ہوئے وہ نقاب میں تھی۔۔۔ اسنے خود کو چادر سے کور کیا ہوا تھا۔۔۔۔ پھر اسنے ماں جی کے دامادوں کے سامنے بھی نقاب نہیں اتارا تھا وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔
اب بھی غزالہ آپی نے اسے ہی اپنے کمرے میں بلایا تھا۔۔۔۔ماں جی بھی اسکے ساتھ ہی کمرے میں آئی تھیں۔۔۔
وہ چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔ ماں جی نے اسے چابیاں پکڑائی تھیں ۔۔بیٹا یہ تمہاری امانت ہے۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔ بیٹا یہ گھر کی چا بیاں ہیں۔۔۔ اب یہ تم رکھ لو۔۔۔۔
میں آج اپنے گھر میں رکوں گی وہ بھیگے لحجے میں بولی ۔۔۔ جنت بچے تم تو رک جاؤ گی۔۔۔۔۔
لیکن خُبیب بیٹا رات کیسے گزارے گا۔۔۔۔؟
اماں آپ ان کے لئے اپنا ائیر کولر اور مچھر دانی بھجوا دینا۔۔۔۔ خُبیب سکندر۔۔۔۔ کو لگا کہ یہ موقعہ اچھا ہے اپنے سوالوں کے جواب کسی ڈر خوف کے بغیر لے سکے گا۔۔۔
وہ اماں سے چابی پکڑ کر سب سے ملتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی تھی۔۔۔ خُبیب بھی چائے کا کپ رکھتے ہوئے سب سے ملا آخر میں ماں جی۔۔۔۔۔ سے ملتے ہوئے با ہر کی سمت بڑھا وہ سب ہی اسکو دروازے تک چھوڑنے آئے تھے۔۔۔
****************************************
خُبیب سکندر جب روم میں داخل ہوا تو جنت سنگل بیڈ پر بیٹھی اپنی امی کی تصویر ہاتھ میں پکڑے رو رہی تھی ۔۔۔۔۔ وہ اسے دکھ کی پرواہ کئے اسے بازو سے کھینچتے زمین پر کھڑا کر گیا تھا۔۔۔۔۔ اسے اس وقت اسکے کسی دکھ کی پرواہ نہیں تھی۔۔۔پرواہ تھی تو اپنے سوال کی جو اسے کسی پل بھی چین نہیں لینے دے رہا تھا۔۔۔۔وہ مانگتی تھی ۔۔۔۔
اسکی ماں بھی اس بات سے لاعلم تھی اور ماں جی ۔۔۔ بھی نہیں جانتی تھیں۔۔۔ بچی نے گھر سے باہر کبھی قدم نہیں رکھا۔۔۔۔۔ماں جی کے الفاظ اسکی سماعتوں سے ٹکرائے تھے۔
یہ لڑکی اپنے اتنے قریبی لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتی ہے ۔۔۔تو وہ خُبیب سکندر کو بھی دھوکہ دے سکتی ہے۔۔۔ اس بات نے اسکا سکون تک چھین لیا تھا۔
خُبیب سکندر کی آنکھیں غصے میں سرخ ہو گئی تھیں۔۔۔۔اسے اتنے غصے میں دیکھ کر جنت نے پیچھے کو قدم لئے تھے۔۔۔۔ وہ اسے بازو سے کھینچتے اپنے بہت قریب کر گیا تھا۔۔۔۔ یہ نتھلی کیوں پہنی ہے۔۔۔۔۔ ؟
اسے ابھی اور اسی وقت اتارو۔۔۔۔ دوبارہ تمہار ے ناک میں نہ دیکھوں اسنے اپنی قہر برساتی آنکھوں سے جنت کو دیکھتے اسکا بازو چھوڑا تھا۔۔۔۔۔ جی اتار دوں گی وہ بھیگے لہجے میں بولی۔۔۔۔
جا کہاں رہی ہو۔۔۔۔۔؟
وہ اسے روم سے باہر کی سمت بڑھتے دیکھ کر بولا۔۔۔۔۔اسکے قدم وہی تھمے تھے۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ قدم لیتا جنت کے قریب اسکے دونوں پاؤں پر اپنے پاؤں رکھے تھے۔۔۔جو پوچھوں گا اسکا سچ سچ جواب دو گی۔۔۔وہ سرد اور سپاٹ لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
اسکی بات سن کر جنت کا حلق تک خشک ہوگیا تھا۔۔۔۔دم گھٹنے لگا۔۔۔۔سانسیں تھمتی محسوس ہوئی ۔۔۔ خُبیب سکندر اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ماں جی جس طرح جنت کے بارے میں بتا رہی تھی اسے سن کر بہت دکھ ہوا تھا۔۔۔۔یہ مانگتی تھی۔۔۔۔۔ یہ مانگتی کس لئے تھی۔۔۔۔اور کیوں۔۔۔۔؟
بس وہ اس سوال کا جواب چاہتا تھا۔۔۔۔ جو اسے ایک پل سکون نہیں لینے دے رہا تھا۔۔۔۔
خُبیب سکندر نے اسکی بند آنکھوں کو دیکھا جس میں اسنے کاجل بھر بھر کر لگایا ہوا تھا۔۔۔ آنسو جو اسکی گلابی گالوں پر بہہ رہے تھے ۔۔آنکھیں کھولو ۔۔۔۔۔ خُبیب سکندر ۔۔۔۔۔ نے سختی سے کہا۔۔۔۔ اسکے کہنے پر وہ مزید سختی سے آنکھیں بند کر گئی تھی۔۔۔
سنا نہیں میں نے کیا کہا ہے تم سے۔۔۔۔؟
اسنے اب اسے زور سے جھنجوڑا تھا۔۔۔۔
جنت اسے ڈبڈبائی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔تو تم نے مانگنا کیوں شروع کیا۔۔۔۔۔۔۔؟
اسکی بات پر سن کر جنت کو لگا کہ کمرے کی دیواریں اس پر گر گئی ہیں۔۔۔۔۔اسے لگا زمین اس پر تنگ ہو رہی ہے۔۔۔وہ تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔
نہیں وہ مر جائے گی پر اسے نہیں بتائے گی ۔۔۔۔ کیا وہ اسکی بات کا یقین کرے گے۔۔۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔یہ راز تو چار سالوں سے اسکے سینے میں دفن تھا ۔۔۔
اس راز کو تو اسکے ساتھ رہتی ہوئی ماں نہیں جان پائی تھی۔۔۔۔یہ شخص کیسے جان پائے گا۔۔۔۔؟
مر جاؤں گی پر اس راز سے پردہ نہیں اٹھاؤں گی۔۔۔ اس شخص کے ہاتھوں مزید ذلت برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔ اسکی مسلسل خاموشی پر جان گیا تھا۔۔۔ کہ وہ اتنی آسانی سے بتانے والی نہیں ہے۔۔۔۔
جنت اسے شکوہ کناں نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔۔۔؟
جو پوچھا ہے اسکا جواب دو ۔۔۔۔۔اسے خاموش دیکھ کر اسکا خون کھول گیا تھا۔۔۔۔
خُبیب سکندر ۔۔۔۔۔نے آگے بڑھتے ہوئے پھر سے اپنے دونوں پاؤں اسکے دونوں پاؤں پر رکھتےہوئے ان پر وزن بڑھایا تھا۔جنت نے تکلیف کی شدت سے اپنی آنکھیں زور سے بند کی تھیں۔۔۔
اگر تم نے میری بات کا جواب نہ دیا تو آج رات تم پر بہت بھاری پڑنے والی ہے۔۔۔میں قہر بن کر ٹوٹوں گا ۔۔۔۔۔ تم پر تمہاری سانسیں تنگ کر دونگا۔۔۔۔تم اپنے مرنے کی دعا کرو گی ۔۔۔۔بتاؤ مجھے اسکا جبڑاسختی سے دبوچتے ہوئے چیخا تھا۔۔۔۔۔ وہ اسے اس طرح مسلسل خاموش دیکھ کر پاگل ہونے کو تھا۔۔۔۔
اور وہ ڈھیٹ لڑکی اپنے ہونٹوں پر قفل لگائے کھڑی تھی۔۔۔۔۔وہ جتنی بے دردی سے اسکے پاؤں کچل رہا تھا ۔۔۔۔ اتنی ہی وہ اس کے سامنے بے حس بنی کھڑی تھی۔۔۔۔
*****************************************
