Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 33) Last Episode
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 33) Last Episode
Ehsaas By Raheela Bano
چار سال بعد۔۔۔۔
چار سال بیت گئے ان چار سالوں میں بہت کچھ بدل گیا اگر بدلا نہیں تو جنت کا دل نہیں بدلا ۔۔۔اس کے اندر سناٹوں کا راج ویسے ہی قائم تھا۔
ایک ہوک جو اسکے اندر تباہی مچا دیتی تھی۔۔۔ وہ تو حسن شفیق کی موت ۔۔۔۔ بس اللہ سے یہ ہی گلہ تھا۔ کہ اگر وہ ملے تھے تو بچھڑے کیوں ۔۔۔؟
اللہ نے انہیں بے وقت کیوں موت دی تھی۔۔۔۔؟
حمنہ بھابھی۔۔۔۔ ابراز۔۔۔۔ وہ انہیں جب جب سوچتی اپنے زخم تازہ ہونا شروع ہو جاتے ۔۔۔اپنی امی کی طرح انہیں بھی بھول نہیں پائی تھی۔۔۔۔ اس حادثے نے اسے بہت بڑا کر دیا تھا۔۔۔
اسکی زندگی میں سب آزمائشیں ختم ہو گئی ۔۔۔۔۔ لیکن یہ دو حادثے اس سے بہت کچھ چھین کر لے گئے۔۔۔۔ آنکھوں میں اترنے والی نمی پل بھر میں ہی اسکے رخساروں پر چھلک آئی تھی۔۔۔۔
مما ۔۔۔ حماس کی آواز پر اس نے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کی تھیں۔۔۔ مما ۔۔۔ کرن خالہ نے حمنہ اور ابراز کو تیار کر دیا ہے ۔۔۔مجھے بابا سے تیار ہونا ہے۔۔۔۔ حماس سے دو سال چھوٹی حمنہ تھی
جنت نے حدید کے بیٹے کا نام ابراز رکھا تھا۔۔۔ جو حماس سے تین ماہ ہی چھوٹا تھا۔۔۔اور پھر اپنی بیٹی کا نام حمنہ رکھا تھا۔۔۔جس پر گھر میں سے کسی نے اعتراض نہیں کیا تھا۔۔۔
حمنہ میں سب کی جان بستی تھی۔۔۔ اور سب کی اتنی توجہ پر ابراز اور حماس دونوں ہی چڑتے تھے۔۔۔
وہ ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں گاؤں میں گزارتے تھے۔۔۔ موم اور ڈیڈ زیادہ تر گاؤں ہی رہتے تھے۔۔۔
وہ بھی آج بی ۔اے کا آخری پیپر دے کر فارغ ہوئی تھی۔۔۔ آتے ہی سو گئی تھی ابھی تھوڑی دیر پہلے اٹھی تھی۔۔۔
ابراز کی برتھڈے کی وجہ سے گھر میں کافی گہما گہمی تھی۔۔۔۔ حماس اب نروٹھے اندذ میں بیڈ پر اوندے منھ لیٹا ہوا تھا۔۔۔ وہ تو ویسے ہی اب شور شرابے. سے گھبراتی تھی۔۔۔۔ لیکن گھر والوں کی خوشی کی وجہ سے وہ خاموشی سے ہر فنکشن اٹینڈ کرتی تھی۔۔۔ اور وہ کسی بھی چیز میں دلچسپی نہیں لیتی تھی۔۔۔ پھر بھی سب ہر کام اس سے پوچھ پوچھ کر کرتے تو وہ شرمندہ سی ہو جاتی ۔۔۔۔ کیا کرتی ۔۔۔ دل ایسے ہی پتھر کی طرح ہو گیا تھا۔۔۔ جس پر کچھ اثر ہی نہیں کرتا تھا۔۔۔۔
قدموں کی آہٹ پر اسنے مڑ کر دیکھا۔۔۔ تو پلک جھپکنا ہی بھول گئی تھی۔۔۔ وہ بلیک پینٹ کوٹ پہنے ایسے ہی لگ رہے تھے جیسے اس نے پہلی دفعہ دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ ویسے کے ویسے ہی تھے۔۔۔۔ لیکن وہ پاس کھڑی ۔۔۔ اپنی عمر سے کافی بڑی لگتی تھی۔۔۔ کیا بات ہے بیگم نظر لگانے کے ارادے ہیں۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔
مجھے دیکھنے کی بجائے اپنے صاحبزادے کو دیکھیں ۔۔۔ جو ناراض ہو کے لیٹا ہوا ہے۔۔۔
میں تمہیں کیوں دیکھ رہا ہوں۔۔۔؟
اس بات کی سمجھ تو تمہیں آگئی ہوگی۔۔۔ کیا کروں دل نہیں کر رہا تیار ہونے کو ۔۔۔۔وہ بھرائی آواز میں بولی ۔۔۔
اِزنا۔۔۔۔ دل بڑا کر کے معاف کر دو۔۔۔۔۔
تم نے اپنی تائی کی حالت نہیں دیکھی اگر تم دیکھو تو شاید ترس کھا کر اسے معاف کر دو ۔۔۔ آج اس نے اپنے پاگل پن میں خود کو آگ لگا لی تھی۔۔۔وہ اتنی بری طرح جلی ہوئی ہیں ۔۔۔ اگر تم معاف کر دو تو شاید اللہ بھی اسے معاف کر دے۔۔۔۔۔
کیا کروں ۔۔۔۔۔؟
دل ہی تو پتھر ہو گیا ہے ۔۔۔ دیکھیں انکے لالچ نے ۔۔۔۔۔نے سب ختم کر دیا جس کی خاطر وہ لالچ کر رہی تھیں۔۔اللہ نے اسے ہی چھین لیا۔۔۔ پتہ ہے جب انہوں نے مجھے استری سے جلایا تھا۔۔۔۔ تو گرم استری میری کمر پر رکھ کر کہتی کہ مجھ سے اپنی زندگی کی بھیک مانگو۔۔۔۔
کتنی دیر تک استری نہیں اٹھاتی تھیں پھر انکی ایک ملازمہ کو مجھ پر تر س آ گیا ۔۔۔ اس نے ییچھے سے استری کا بٹن بند کر دیا۔۔۔۔ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو شاید میں زندہ نہ بچتی ۔۔۔۔
وہ رو رہی تھی۔۔۔۔ اور یہ بات اس نے اسے پہلے نہیں بتائی تھی۔۔۔۔ یہ تکلیف تمہیں معاف کرنے نہیں دے رہی۔۔۔۔ نہیں مجھے اپنے دکھ تو کبھی یاد ہی نہیں آئے ۔۔۔۔
بس جب ان تینوں کے چہرے نظر آتے ہیں تو دل کرتا ہے پوری دنیا کو آگ لگا دوں۔۔۔۔اللہ کی طرف سے ہی آگ سے جل گئی ۔۔۔۔اگر وہ میرے سامنے آجاتی تو سچ میں میں آگ لگا دیتی۔۔۔
سوچو حمنہ بھابھی اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھیں ۔۔۔ ان کا کیا حال ہو گا۔۔۔ ؟
تم ان سے ملنے چلی جایا کرو۔۔۔۔ چار سال گزر گئے ہیں میں تمہیں اس دکھ میں جلتے دیکھ رہا ہوں ۔۔۔ تم اگر معاف کر دو گی شاید یہ بوجھ تمہارے دل سے اتر جائے ۔۔۔ بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والے کو پسند کرتا ہے۔۔۔
اگر آپ کی خوشی اسی میں ہےتو میں نے انہیں معاف کیا۔۔نہیں ازنا ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔ میں تو بس اتنا چاہتا ہوں اگر انہوں نے تم پر رحم نہیں کھایا تھا۔۔۔ تم ہی اس پر رحم کھا لو ۔۔۔ میرے کہنے پر نہیں تم اسے اپنے دل سے معاف کرو۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ میں جب عشاہ کی نماز پڑھوں گی تو انکے لئے خدا کے حضور نفل ادا کروں گی۔۔۔ وہ یہ کہتے ہوئے حماس کی طرف بڑھی جو گہری نیند سو چکا تھا۔۔۔۔
ازنا ۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ وہ اب انکی آواز پر مڑی تھی۔۔۔ وہ ہاتھ میں شاپنگ بیگ لئے کھڑے تھے۔۔۔۔
تم نے ابھی ڈریس کو دیکھا ہی نہیں۔۔۔ وہ اب شاپنگ بیگ بیڈ پر رکھتے ہوئے بولے ۔۔۔۔ دیکھ کر کیا کروں گی۔۔۔ آپ لائے ہیں ۔۔۔۔ تو ہمیشہ کی طرح اچھا ہی ہوگا۔۔۔۔
لائیں دیں ۔۔۔۔ آپ نے تو مجھے تیار ہوئے ہی دیکھنا ہے۔۔۔۔ اب وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔
وہ کتنے عرصے بعد اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اچھا تم جلدی سے تیار ہو جاؤ۔۔۔ میں اتنی دیر میں اپنی صاحبزادی سے
مل لوں۔۔۔۔ ورنہ یہ حماس صاحب ۔۔۔ مجھے گھورتے ہی رہے گے۔۔۔۔
******************************
خُبیب سکندر ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد جب روم میں انٹر ہوا ۔۔۔وہ جنت کوڈریسنگ مرمر کے سامنے ہئیراسٹائل بناتے دیکھ کر وہی ٹھہر گیا تھا۔۔۔وقت جیسے تھم سا گیا تھا بلیک سوٹ میں ہلکا ہلکا میک اپ ریڈ لپ اسٹک سے رنگے اسکے ہونٹ آنکھوں میں کاجل کی لائن آج اسنے أنکھوں کو کاجل سے نہیں بھرا تھا۔۔۔۔جیولری میں گلے میں چھوٹا سا لاکٹ کانوں میں بندے پہنے ہوئے تھے۔۔۔۔
وہ سیدھی اسے اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔ آج سے پہلے وہ اسے جب بھی تیار ہونا کا کہتا تو وہ اسکی بات کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیتی تھی ۔۔۔
جس پر وہ اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ۔۔۔۔ لیکن آج تو اس نے حیران ہی کر دیا ۔۔۔ خوبصورت تو تھی ہی لیکن الگ ہی روپ میں اس کے دل میں ہل چل مچا رہی تھی۔۔۔۔اس نے آگے بڑھ کر بے اختیاری میں ہی اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں سے چھوا تھا۔۔۔اب اسکی انگلیاں اس کے پورے چہرے پر رینگ رہی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا ہے ۔۔۔؟
میں ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔ وہ اسکے ہاتھ کو پکڑتے دوبارہ سے پھر خود کو ڈریسنگ مرمر میں دیکھنے لگی۔۔۔۔ نہیں میری جان ۔۔۔۔ بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔۔ وہ اسے کھنچتے ہوئے اپنے بہت قریب کر گیا تھا۔۔۔۔ اس کے کھینچنے سے بال اسکے چہرے پر بکھر گئے تھے۔۔۔
اتنی خوبصورت لگ رہی ہو کہ اگر میں اپنے انداز میں تعریف کرنے لگ گیا تو ۔۔۔ تم ۔۔۔بس کریں وہ اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی بول پڑی تھی۔۔۔
مجھے تعریف تو کرنے دو ۔۔۔ وہ اسکے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
جب مجھے شوق تھا ۔اس وقت آپ میری تعریف کرتے نہیں تھے۔۔۔۔ اور اب جب دل میں کوئی امنگ ہی نہیں رہی اب آپ میری تعریف کے قصدے پڑتے تو زہر لگتے ہیں بس دل میں سوچا تھا زبان تک نہیں لائی تھی۔۔۔
چلیں وہ اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی۔۔۔ جو اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔ خُبیب سکندر اسے اپنے ساتھ لگائے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔ باہر سب ان کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔ دونوں بچے انکے دیکھتے ان کے قریب آئے تھے
ابراز دیکھو میری مما سب سے زیادہ پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔۔ حماس کی بات پر سب کے قہقے بلند ہوئے تھے۔۔۔
سب مہمان اس جوڑی کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ وہی جنت انکا ہاتھ چھوڑتے سب مہمانوں کو مل رہی تھی۔۔۔۔۔ اب تالیوں کی گونج میں کیک کاٹا گیا۔۔۔
جنت سب سے مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہی تھیں ۔۔۔ خُبیب سکندر ۔۔۔ اسے خوش باش دیکھ کر پرسکون ہوا تھا۔۔۔ اس اپنے سجدوں میں مانگی گئی دعائیں قبول ہوتی نظر آئی تھیں۔۔۔
***********************************
مما جلدی اٹھیں ۔۔۔ حیدر انکل ایل سی ڈی پر نظر آرہے ہیں سب انہیں دیکھ رہے۔۔. جنت اسکی بات سنتے پٹ سے آنکھیں کھولتی بیڈ سے نیچے اتری تھی۔۔۔رات ابراز کی برتھڈے پر دیر تک جاگنے کی وجہ سے وہ تھکی ہاری سو گئی تھی۔۔۔
اللہ خیر کرے ۔۔۔ آنکھیں مسلتے ہوئے اپنا ڈوپٹہ اٹھا کر شانوں پر لیاتھا۔۔۔حماس اسے شرٹ سے کھینجتے ہوئے لاؤنج میں لے آیا تھا۔۔۔ سب اتنا محو ہو کر دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
جنت تو حمنہ کو دیکھ کر حیران تھی۔۔۔وہ ڈیڈ کی گود میں بیٹھی۔۔۔ اتنے غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اس نے اسے دیکھتے ہوئے اپنی مسکراہٹ بمشکل دبائی تھی ۔۔۔ اور حماس اب جاکر اپنے بابا کی گود میں بیٹھ گیا۔۔۔
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں میں ہمیشہ کی طرح آج اپنے چمکتے ستارے پروگرام میں۔۔۔۔ ایک چمکتا ستارہ ۔۔۔۔لے کر حاضر ہوا ہوں ۔۔۔۔”اسسٹینٹ کمشنر حیدر علی !”۔۔۔۔ جن سے ہم نے بڑی مشکل سے ٹائم لیا ہے۔۔۔
انہوں نے یہ مقام کیسے حاصل کیا۔۔۔ ؟
ایسی کیا مصروفیت ہے انکی کہ یہ جو ہمیں ٹائم نہیں دے پا رہے تھے۔۔۔۔
آپ کا تعلق گاؤں سے ہے۔۔۔۔
جی ۔۔۔۔ میں بڑے فخر سے کہتا ہوں کہ میرا تعلق گاؤں سے ہے۔۔۔۔ جہاں تک مقام کا تعلق ہے یہ میرے اللہ نے مجھے دیا ہے ۔۔۔ بات اگر حاصل کرنے کی کریں تو ۔۔۔۔ جب میں گاؤ ں سے شہر آیا۔۔۔ خُبیب سکندر جن کے نام سے دنیا واقف ہے ۔۔۔ آپ بھی ہونگے۔۔۔۔
جی ۔۔۔ جی ۔۔۔ بلکل انہیں کون نہیں جانتا۔۔۔۔ ؟
اینکر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
انہوں نے ہم بارہ لڑکوں کو گاؤں سے شہر بلوایا۔۔۔۔۔ میں اکیلا ہی چمکتا ستارہ نہیں ہوں میرے ساتھ وہ بھی ہیں۔۔۔جو مختلف شہروں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔۔۔۔
ٹائم تھوڑا ہے اس لئے کام کی بات کرتے ہیں حیدر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
جی آپ بارہ لڑکے گاؤں سے شہر آئے ۔۔۔ ایک ہی گاؤں سے تھے ۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ ہم ایک ہی گاؤں سے تھے۔۔۔جب ہم آئے تو ہمارا کام تھا۔۔۔ یہ جو سڑکوں پر پردے میں عورتیں مانگتی ہیں۔۔۔ انکے مسائل پوچھ کر انکی تحقیق کرکے ۔۔۔۔انکے گھروں میں راشن دینا۔۔۔۔
اور سنڈے والے دن سر خُبیب سکندر انکے مسائل خود سنتے۔۔۔
ویری انٹرسٹنگ۔۔۔۔ اینکر تالیاں بجاتے ہوئے بولا۔۔۔ پورا حال تالیوں سے گونج اٹھا۔۔۔
چھ مہنے تک ہم یونہی ۔۔۔ صبح جاتے شام کو آتے ۔۔۔ رہائش کھانا پینا فری اور تنخواہ بھی اچھی تھی۔۔۔ سوچا کیوں نہ پڑھنا شروع کر دیں ۔۔۔۔
ساتھ ہی میں نے پڑھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ جس سر سے میں انگلش پڑھتا تھا۔۔۔ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ css کی تیاری کرو ۔۔۔ انکے مشورے سے میں نے تیاری شروع کر دی ۔۔۔۔ پھر اللہ کا شکر ہے میں نے امتحان پاس کیا۔۔۔
آج آپ لوگوں کے سامنے ہوں ۔۔۔ جہاں تک مصروفیت کی بات ہے میں آج بھی اپنی ڈیوٹی کے بعد پردے میں مانگنے والی عورتوں کی خدمت میں سڑکوں پر نکلتا ہوں ۔۔۔ اور ہم نے بھی بارہ بارہ لڑکوں کی ٹیم بنائی ہوئی ہے۔۔۔ میرے ساتھ والے لڑکے اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔۔۔
جنت سے اب کھڑا ہونا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ بھاگ کر اپنے روم میں جا کر بلک بلک کر رونے لگی تھی۔۔۔۔
وہ تو سمجھتی رہی تھی کہ اسکے شوہر نے اسے دل سے قبول ہی نہیں کیا ۔۔۔ راتوں کو دیر سے گھر آنا ۔۔۔ پھر انکے تھکے ہارے سو جانے کا وہ کوئی اور ہی مطلب نکالتی رہی ۔۔۔ شکر ہے کہ اس نے اپنے شک کو کسی پر عیاں نہیں کیا تھا۔۔۔
کتنی بار سوچا کہ انہیں جھنجوڑ کر پوچھوں کہ وہ کہاں جاتے ہیں ۔۔۔۔ ؟
وہ اپنی بے پناہ محبت میں ایسے قید کرتے ۔۔۔۔ وہ سب بھول جاتی ۔۔۔ پھر خود سے ہی لڑنے لگتی ۔۔۔۔
شاید دل کی وجہ سے وہ یہ سب ماننے سے انکاری تھا۔۔۔یا انکی بے پناہ محبت اسکی بے اعتباری پر غالب آ جاتی تھی۔۔۔
اگر پوچھ بھی لیتی تو وہ کچھ نہ کہتے پر ان کی نظروں سے گر جاتی ۔۔۔ اور وہ کبھی اپنا مقام حاصل نہ کر سکتی ۔۔۔۔ پھر یہ احساس اسے ساری زندگی نہ جینے دیتا۔۔۔
اپنے پیچھے آہہٹ محسوس کرتے وہ جلدی سے اپنے آنسو صاف کرتے کھڑی ہو ئی تھی۔
اِزنا۔۔۔۔ تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔ ؟
خُبیب سکندر نے تڑپ کر اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔۔ تمہارے اس طرح آنے پر باہر سب پریشان ہو رہے ہیں۔۔۔ میرا ان کے ساتھ کیا رشتہ ہے صرف احساس کا رشتہ ہے ۔۔۔ جو مجھے زرا سا پریشان دیکھ کر تڑپ جاتے ہیں ۔۔۔۔ وہ اللہ کا شکر کرتے نہیں تھکتی تھی۔۔۔ کہ اللہ نے اسے اتنے مخلص رشتوں سے نوازا تھا۔۔۔۔
آپ رات کہاں تھے۔۔۔۔؟
کوئی بات نہ بن پائی تو بے ساختہ پوچھ بیٹھی۔۔۔
دوستی کا فرض نبھانے گیا تھا۔۔۔۔ تمہاری تائی کی ڈیتھ ہو گئی تھی۔۔۔ سوچاتم تو جاؤ گی نہیں۔۔۔۔ بیٹے کی جگہ اسکے جنازے کو کندھا دیا تھا۔۔۔
اب میں اتنی بھی ظالم نہیں ہوں وہ نروٹھے انداز میں بولی ۔۔۔ اگر آپ بتاتے تو میں بھی ایک بیٹی کا فرض نبھاتی ۔۔۔۔ یہ شاید اللہ کو منظور نہیں تھا۔۔۔۔
جاتے جاتے جو جائیداد انکے نام تھی وہ بھی تمہارے نام کر گئی ہے۔۔۔ مجھے کچھ نہیں چاہئے۔۔۔
یہ فائل خُبیب سکندر نے سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر اسکی طرف بڑھائی تھی۔۔۔ یہ جتنے گھر اور پراپرٹی اور بزنس ہے
یہ جتنے گھر اور پراپرٹی اور بزنس ہے وہ سب اب تمہارے نام پر ہے یہ انکے وکیل نے فائل دی ہے ۔۔۔اور تم خود بھی اس سے مل سکتی ہو۔۔۔۔
مجھےکچھ نہیں چاہئے۔۔۔ وہ فائل بیڈ پر پٹختے ہوئے تڑپ کر اسکے گلے سے لگی تھی ۔۔۔۔
”اللہ آپکو سلامت رکھے مجھے بے پناہ محبت کرنے والا سائبان عطا کیا ہے۔۔۔”
جو آپ کے پاس ہے میرے لئے یہ ہی کافی ہے ۔۔۔ وہ اسکے ہاتھوں کو عقیدت سے چوم رہی تھی۔۔۔
خُبیب سکندر نے اسے کے گرد اپنے بازؤں کا حصار مضبوط کیا تھا۔۔۔۔۔
احساس طمانت سےاس نے گہری سانس لی تھی۔۔۔اب وہ اسے اپنے بازؤں کے حلقے سے نکالتے اسکی طرف مسکرا کر دیکھتے اسکے ناک کو دبایاتھا۔۔۔
جس پر وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔۔۔ اسکی ہنسی کی جھنکار اسے پورے کمرے میں سنائی دی تھی۔۔۔ وہ اسکے تمام دکھوں کو سمیٹنے کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔ آپ نے میری محبت کاجواب محبت سے نہیں دیا وہ اب اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا کر بولی۔۔۔
خُبیب سکندر ۔۔۔ نے اسکے ماتھے پر لب رکھے تھے۔۔۔ اور اسنے اسکے ہاتھ پر اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔۔ پھر دونوں ہی کے محبت بھرے قہقے کمرے میں گونجے تھے۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔۔۔
