Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 30)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 30)
Ehsaas By Raheela Bano
حدید ایک کونے میں کھڑا تھا۔۔۔ ہارون سکندر کوریڈور میں مضطرب سے چکر لگا رہے تھے۔۔۔۔ فوزیہ سکندر جو پاگلوں کی طرح رو رہی تھی۔۔۔۔ عینا بمشکل اسے بمشکل سنبھالے ہوئے تھی۔۔۔۔ ہارون سکندر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ سب کو کس طرح دلاسہ دے ۔۔۔ زندگی میں پہلی بار وہ خود کو اتنا بے بس محسوس کر رہا تھا۔۔۔
عینا۔۔۔۔ ہارون سکندر نے اسے نم لحجے میں پکارا تھا۔۔۔۔ آپ اپنی مما کو لیکر جنت کے پاس جائیں ۔۔۔۔۔ اور خُبیپ کی حالت کا پتہ نہیں چلنا چاہئے ۔۔۔ اگر اسے پتہ چل گیا تو اسے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا ۔۔۔
ابھی تو وہ میڈیسن کی وجہ سے غنودگی میں ہے۔۔۔جب ہوش میں آئے گی تو ضرور پوچھے گی ۔۔۔ عنیا نے اپنی آنکھوں میں سے آتے آنسوؤں کو ہتھیلی سے خشک کرتے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
حدید بھائی کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔ بھیا کو ۔۔۔عنیا نے اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا تھا۔۔۔۔سوائے فوزیہ سکندر کے سب ایک دوسرے کے مضبوط ظاہر کر رہے تھے۔۔۔
وہ اب اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے جو حد سے زیادہ حساس تھی۔۔انکے سامنے خود کو بہت مضبوط ظاہر کر رہی تھی۔۔۔۔
ہارون سکندر۔۔۔۔ نے آئی سی یو سے نکلتے احمر کو دیکھا تھا۔۔۔۔ ٹانگیں ساکت ہوئی تھیں۔۔۔۔ اسے لگ رہا تھا۔۔۔۔ کہ وہ زمین بوس ہو جائے گا ۔۔۔۔ ایسا ہی ہوتا اگر وہ دیوار کا سہارا نہ لیتے۔۔۔ ڈیڈ ۔۔۔۔ حدید تڑپ کر آگے بڑھا تھا۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا ۔۔۔ اگر احمر نے کچھ ایسا کہہ دیا۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔
اللہ نہ کرے ،اللہ نے کرے کچھ ایسا ہو۔۔۔
انکل۔۔۔ خُبیب بھائی کو ہوش آگیا ہے ۔۔۔۔پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔۔ آپ ان سے مل لیں۔۔۔ ہارون سکندر اور حدید تیزی سے آئی سی یو کی طرف بڑھے تھے۔۔۔اندر داخل ہوتے ہی اپنے بیٹے کو دیکھا جسکی بند آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔
ہارون سکندر کا دل بری طرح دھڑکنے لگا۔۔۔۔وہ بنا پلک جھپکائےاسے دیکھ رہے تھے۔۔۔ خُبیب سکندر کی بند پلکوں کی جنبش دیکھتے ہی۔۔۔ہارون سکندر نے بے تابی سے اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔
جانتے تھے کہ وہ اب کسے پکارے گا۔۔۔۔ آنکھوں کو وہ کھول نہیں رہا تھا ۔۔۔ یا وہ کھولنا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔ اتنی دیر میں جنت روتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔ وہ ہچکیوں سے بلند آواز میں رو رہی تھی ۔۔۔ ہارون سکندر نے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔ خود کو سنبھالو ۔۔۔ کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھتی خُبیب سکندر کا ہاتھ تھام گئی تھی۔۔۔خُبیب سکندر نے آپنی بند آنکھیں اس کے آنے پر بھی نہیں کھولی تھیں۔۔۔
وہ اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔۔سب کو شکوہ کناں نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ہارون سکندر نےآنکھ کے آشارے سے سب کو باہر جانے کا کہا۔۔۔۔۔ وہ خود بھی انکے ساتھ کمرے سے باہر کی سمت بڑھے تھے۔۔۔۔
***********************
خُبیب سکندر اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکائے ہوئے اس کے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتے بے آواز آنسو بہا رہا تھا۔۔۔۔ جنت خوش بختی کے ان سعد لمحات کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔
ڈر گئی تھی ہر وقت اسکو کھونے کاخوف سر پر منڈلاتا رہتا تھا۔۔۔اتنے دن ان سے دور رہنے کی وجہ سے خوف زدہ سی تھی۔۔۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ پھسل کر گر رہے تھے۔۔۔۔وہ اس سے اتنی محبت کرتے ہیں۔
ایک بھاری بوجھ اسکے دل سے اترا تھا۔۔۔۔ اس نے بلا خوف اپنی آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔۔
اسے یوں لگا تھا۔۔۔ کہ اسکے سارے دکھ ختم ہوگئے ہیں۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے اپنے اندر ہمت بحال کرتے ہوئے اسے پکارا تھا۔۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔جنت نے انکی بڑھی ہوئی شیو مرجھائے چہرے کو دیکھا یوں لگ رہا تھا ۔۔۔۔کہ جیسے صدیوں سے بیمار ہیں۔۔۔
جنت بڑی ہمت اور حوصلے سے خُبیب سکندر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔اپنی انگلیوں سے انکی آنکھوں میں بہتے آنسو صاف کئے تھے۔۔۔
آپ رو کیوں رہے ہیں۔۔۔ ؟
وہ اسکی بات کا جواب دیئے بغیر ہی بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔کمرے میں سناٹے کا راج تھا۔۔۔
وہ اسے وہی کھڑے بنا پلک جھپکے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جنت کو اپنا جسم یخ ٹھنڈا محسوس ہو رہا تھا ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ٹانگوں کی جان نکل رہی ہو۔۔۔اسکا پورا وجود کانپ رہا تھا۔۔۔خُبیب سکندر نے اسکی غیر ہوتی حالت کو دیکھ کر ایک ہی جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھا تھا۔۔۔
اِزنا ۔۔۔۔۔اِزنا۔۔۔۔ وہ اسے پکارے جا رہا تھا۔۔۔۔ جنت کے لب ہلنے سے انکاری تھے۔۔۔۔وہ بیڈ سے بے جان قدموں سےاٹھ کر تیزی سے اسے تھام گیا تھا۔۔۔۔
اسکا یخ ٹھنڈا ہاتھ پکڑتے وہ ڈاکٹر کو پکارنے لگا۔۔۔۔۔ اسکی پکار سن کر ڈاکٹر جو تیزی کے روم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ وہ اسے دوہری ہوتے دیکھ کر پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
آپ کیا فیل کر رہی ہیں ۔۔۔۔ ؟
مم۔۔۔ میرے پیٹ میں شدید درد ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ آپ اسے جلدی سے میرے روم میں لے کے آئیں ۔۔۔ وہ اسے گود میں اٹھاتے روم سے باہر ڈاکٹر کے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔
*************************************
خُبیب سکندر ۔۔۔ بے بسی سے روم کے بند دروازے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔کتنی دیر سے وہ ایسے ہی کھڑا تھا۔۔۔
ہارون سکندر ایس پی سلمان کی کال پر اسکے آفس گئے تھے ۔۔۔ حدید کو ساتھ بھیجا تھا۔۔۔۔ ڈیڈ کی طبعیت اسے ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔
پتہ نہیں اغواہ کار کون تھے۔۔۔۔۔ جنت کی طبعیت کاخیال کرتے اس نے اس سے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔
پہلے ہی وہ اتنی تکیف برداشت کر رہی تھی۔۔۔اور اب پتہ نہیں کیسی طبعیت ہو گی۔۔۔۔
دماغ سوچ سوچ کر ماؤف ہو رہا تھا۔۔۔وہ مضطرب سا ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔۔۔عجیب سی بے سکونی نے اسے جکڑ لیا تھا۔۔۔۔۔ یا اللہ خیر ۔۔۔۔ کب سوچا تھا۔۔۔؟
کہ میں اس حال میں دیکھوں گا ۔۔۔۔”یا اللہ ۔۔۔۔ ”میں تو اب ہر پل یہ دعا کرتا تھا ۔۔۔۔ کہ اس کے سارے دکھ سمیٹ لے۔۔۔۔ میں نے تو عہد کیا تھا۔۔۔۔ کہ اسے زندگی میں کبھی دکھ نہیں
آنے دوں گا۔۔۔۔
وہ محبت کی ترسی ہوئی تھی۔۔۔ کسی چیز کی اسے حوس نہیں تھی۔۔۔ لاکھوں روپے اپنی الماری میں رکھتا۔۔۔ لیکن اگلے دن دیکھتا وہ ویسے ہی پڑے رہتے تھے۔۔۔۔
کبھی کوئی ڈیمانڈ نہیں کرتی تھی۔۔۔۔ کبھی باہر گھومنے کا کہتا تو چہرے پر مسکان سجائے کہتی مجھے آپ کے ساتھ گھومنا نہیں مجھے آپ کے ساتھ جینا ہے ۔۔۔۔ مجھے اپنی باتوں سے حیران کر دیتی تھی۔۔۔
بیٹھی اسے دیکھتی رہتی تھی۔۔۔کبھی تھوڑا سا ادھر ادھر ہو جاتا تو پاگلوں کی طرح ڈھونڈنے لگتی ۔۔۔۔ خُبیب صاحب۔۔۔۔ ڈاکٹر کی آواز پر سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا۔۔۔۔
میری وائف کیسی ہیں ۔۔۔؟
ماشااللہ پہلے سے کافی بہتر ہیں۔۔۔
اصل میں ہیضے کی وجہ سے ان کے پیٹ میں درد ہو رہا تھا۔۔۔۔ بچہ ماشا اللہ بلکل ٹھیک ہے۔۔۔ بس وہ خوف سے لیٹ نہیں رہی تھیں۔۔۔ کہ بچے کو کچھ ہو نہ جائے کم عمر ہے۔۔۔۔ ماشااللہ آپ تو سمجھدار ہیں ۔۔۔۔ ڈاکٹر بات پر اسکا چہرا سرخ پڑا تھا۔۔اسے لگا جیسے ڈاکٹر اس پر طنز کر رہی ہے۔۔۔۔
اب آپ پیشنٹ سے مل سکتے ہیں۔۔۔ یہ ہی بات پہلے بتا دیتی اتنی لمبی تقریر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔اسنے دل میں سوچا تھا۔۔۔
وہ ڈاکٹر کو نظر انداز کرتے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔
***********************************
خُبیب سکندر۔۔۔ اب چھوٹے چھوٹے قدم لیتا اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔جو سائیڈ پر کروٹ لئے بیڈ پر لیٹی تھی۔۔۔۔چادر سے خود کو پوری طرح کور کیا ہوا تھا۔۔۔
وہ بلکل اسکے قریب کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔اب اس نے بڑی نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔۔
کیسی ہو۔۔۔۔؟
میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ وہ آنکھیں بند کئے ہی بولی تھی۔۔۔۔وہ بے بسی کی تصویر بنے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ اس کے بس میں ہوتا تو وہ ساری تکلیف خود جھیلتا۔۔۔۔کسی بھی دکھ کو اسکے قریب بھٹکنے نہ دیتا۔۔۔
اِزنا۔۔۔۔ آنکھیں کھولو ۔۔۔۔ اسکی بند آنکھیں اسے تکلیف دے رہی تھیں ۔۔۔جب تک آپ والے حلیے میں نہیں آجاتے اس وقت تک میں آنکھیں نہیں کھولوں گی۔۔۔
کیا میرا حلیہ اتنا خراب ہے ۔۔۔۔؟
کہ تم مجھے دیکھو گی نہیں۔۔۔ جواب وہ کچھ نہیں بولی تھی بس رونے لگی تھی۔۔۔
اسکی آنکھوں میں آنسو لڑیوں کی صورت میں بہہ رہے تھے۔۔۔۔
اس نے بہت نرمی سے اسکے آنسو خشک کئے تھے۔۔۔ اسکے چہرے پر درد کے آثار نمایاں تھے۔۔۔
جو اسے دیکھ کر بہادر بنی لیٹی ہوئی تھی۔۔۔
۔اِزنا ۔۔۔۔ ایک بات پوچھوں ۔۔۔۔ سچ سچ بتاؤ گی۔۔۔۔ کیا آپکو مجھ پر اعتبار نہیں ہے۔۔۔ اسنے اپنی آنکھیں زور سے میچیں تھیں۔۔۔
کس نے تمہیں اغواہ کروایا تھا۔۔۔ خود کو اسنے زرا بھی جزباتی نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔۔یہ معمولی بات نہیں تھی۔۔۔ کہ اس نے خُبیب سکندر کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا۔۔۔۔ یہ سب کی دعائیں تھیں جو اسکی عزت محفوظ رہی تھی۔۔۔۔
میری تائی نے۔۔۔ وہ بمشکل بولی تھی۔۔۔۔۔
تمہاری تائی کو ہمارے گھر کا کیسے پتہ چلا ۔۔۔ ؟
اور اس نے تمہیں اغواہ کیوں کیا۔۔۔۔۔؟
اصل میں جو سارا بزنس تھا وہ میرے ابو کا تھا۔۔۔۔۔ تائی کو لگا کہ میری شادی امیر گھرانے میں ہو گئی ہے۔۔۔ تو کہیں میرے سسرال والے جائیداد کا مطالبہ نہ کر لیں ۔۔۔۔انہوں نے سوچا کہ سیدھا مجھے مار کر پتہ صاف کر دوں ۔۔۔۔ ایک بار ماں نے مجھے بچایا۔۔۔۔ میری وجہ سے غربت کی زندگی بسر کی ۔۔۔۔ اور اب آپ نے بچا لیا۔۔۔۔
خُبیب سکندر نے اسکی بند آنکھوں کو دیکھا۔۔۔۔ اس سے مزید پوچھنے سے گریز کیا ۔۔۔۔اسے یہ ہی جاننا تھا ۔۔۔ کہ اسے کڈنیپ کس نے کیا ہے۔۔۔ باقی اس نے سوچ لیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔۔۔ اب اس اسکے ماتھے پر لب رکھے تھے۔۔۔
جنت نے اسکا ہاتھ پکڑ تےاس پر اپنے لب رکھے تھے۔۔۔آنکھیں ہنوز بند ہی رکھی تھیں۔۔۔ جس پر وہ گہرا مسکراتے ہوئے اٹھا تھا۔۔۔۔
*****************************
رات سے ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔۔۔اب ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی تھی۔۔۔وہ جب ہاسپٹل سے گھر کے لئے نکلا تھا۔۔۔ہلکا ہلکا اندھیرا تھا ۔۔۔ پوری طرح دن نہیں نکلا تھا۔۔۔۔
عینا کو اسکے گھر چھوڑا ۔۔موم ضد کر کے وہی رک گئی تھیں۔۔۔۔حدید ہاسپٹل میں ہی تھا۔۔۔
اسنے سکیورٹی کا پورا انتظام کیا تھا۔۔۔۔
وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہا تھا۔۔۔۔اسکا زہہن ایک ہی بات پر اٹکا ہوا تھا ۔۔۔اب اس نے ڈرائیو کرتے ہوئے۔۔۔اپنے ڈیڈ کو سنجیدگی سے دیکھا جو خاموشی سے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے کسی گہری سوچ میں گم تھے کبھی انکی پیشانی پر بل پڑتے کبھی سمٹتے ۔۔۔۔
ڈیڈ ۔۔۔ کیا بات ہے ۔۔۔۔؟
آپ اتنے پریشان کیوں ہیں۔۔۔۔؟
نہیں ایسی کوئی بات نہیں انہوں نے بات بدلی تھی۔۔۔ آپکو پتہ ہے ازنا کو اسکی تائی نے اغواہ کر وایا ہے۔۔۔. ہاں میں جانتا ہوں۔۔۔ مجھے صدیق صاحب کے وفادار یونس نے بتایا جو گڈو کے ابا ہیں ۔۔۔
ڈیڈ مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ عورت ہمیں کیسے جانتی ہے۔۔۔؟
کیا وہ پہلے سے ہی ازنا پر نظر رکھے ہوئے تھی۔۔۔ ؟
ہو سکتاہے ۔۔۔۔
ہارون سکندر ۔۔۔۔نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔۔۔
ڈیڈ۔۔۔میرا خیال ہے کہ ہمیں پہلے ایس پی سلمان سے مشورہ کر لینا چاہئے۔ میں کر چکا ہوں۔۔۔۔۔۔ مقابلے کے دوران چار سپاہی شدید زخمی ہو گئے تھے۔۔۔ وہ انکی عیادت کے لئے ہاسپٹل میں تھا۔۔۔ صدیق صاحب کے وفادار یونس اور اسکے کچھ ساتھیوں نے گرفتاری دی ہے۔۔۔اور کچھ بھاگ گئے تھے۔۔۔۔۔ بہت خون خرابا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ کتنے ہی لوگ بے چارے ناحق مارے گئے۔۔۔
خطرہ ابھی تک ٹلا نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں نے گھر کے سارے ملازموں کو چھٹی کروا دی ہے۔۔۔ گارڈز بھی نئے تعنیات کئے ہیں۔۔۔
جب تک جنت کچھ بہتر نہیں ہوجاتی اس وقت تم اس پر دھیان دو باقی سب میں دیکھ لوں گا۔۔۔۔
ڈیڈ پہلے نماز پڑھ لیں وہ مسجد کے قریب گاڑی کھڑی کرتے ہوئے بولا۔۔۔تو ہارون سکندر نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
************************************
خُبیب سکندر بڑے اہتمام سے تیار ہوا تھا۔۔۔۔ بلیک شلوار قمیض پہن کر خود کو ایک نظر ڈریسنگ مرمر میں دیکھ رہا تھا۔۔۔ بالوں میں برش کرتے کئی بار اپنا ہئیر اسٹائل چینج کر چکا تھا۔۔۔۔ میں اس وقت تک آنکھیں نہیں کھولوں گی جب تک آپ اپنے اصلی حلیے میں نہ آئے ۔۔۔
گہری مسکراہٹ اس کے چہرے کی زینت بنی تھی۔۔۔ ایک دم حسن کی دھاڑ پر وہ جلدی سے روم سے باہر کی سمت بڑھ رہا تھا۔۔۔
ایک دم اسکی نظر حسن پر پڑی جو ہارون سکندر پر پسٹل تانے کھڑا تھا۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے جلدی سے اپنی جیب سے پسٹل نکالا ۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ڈیڈ پر پسٹل تاننے کی ۔۔۔ خُبیب تم گولی نہیں چلاؤ گے پہلے اس کی بات سن لو ۔۔۔ ہارون سکندر نے اسے التجائی نظروں سے دیکھا۔۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے فارم ہاؤس پر حملہ کرنے کی۔۔۔۔۔
اور میری مما کہاں ہے۔۔۔۔؟
وہ اسکا گربیان پکڑتے ایک مکا اس کے جبڑے پر جڑ گیا۔۔۔۔خُبیب سکندر کے قدم لڑکھڑائے تھے۔۔۔
کیا ازنا اسکی کزن ہے ۔۔۔ ؟
یہ کیساا نکشاف تھا۔۔۔ ؟
اور اسکی بیوی نے ان سے کیوں چھپایا تھا۔۔۔۔؟
بتاؤ مجھے کہاں ہے میری مما۔۔۔۔ ؟
وہ دوبارہ اسکے منھ پر جڑ گیا تھا۔۔۔جس پر خُبیب سکندر ہوش میں آیا تھا۔۔۔
اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو کڈنیپ کرنے کی۔۔۔وہ بھی بدلےمیں اسکے منھ پر مکا مارتے ہوئے شیر کی طرح دھاڑا تھا۔۔۔۔
میں تمہاری بیوی کو کیوں کڈنیپ کرواؤں گا۔۔۔۔؟
وہ پاگلوں کی طرح اسکا گربیان پکڑ گیا تھا۔۔۔۔
اس کا مطلب ہے کہ اسکی مما نے بھی سچ سے اسے بے خبر رکھا تھا۔۔۔ چھوڑو میرا گریبان اسنے غصے میں اسکے دونوں ہاتھوں کو جھٹکا تھا۔۔۔
صدیق اکمل سے تمہارا کیا رشتہ ہے۔۔۔۔؟
ہارون سکندر اب ان دونوں کو درمیان آتے ۔۔۔ حسن سے گویا ہوئے تھے۔۔۔۔
جو دونوں خونخوار نظروں سے ایک دوسرے کو گھور رہے تھے۔۔۔۔
میرے چچا تھے۔۔۔۔اب وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ تو انکی وائف کہاں ہے۔۔۔؟
ہارون سکندر نے اپنا دوسرا سوال کیا تھا۔۔۔۔ انکی ڈیتھ ہو گئی ہے۔۔۔۔ ہارون سکندر کے ساتھ خُبیب سکندر بھی چونکے تھے۔۔۔۔
کیسے ہوئی تھی ڈیتھ تمہیں یاد تو ہوگا۔۔۔۔۔۔ ؟
چچانے مجھے ایجو کیشن کے لئے لندن بھیج دیا تھا۔۔۔ کچن میں گیس لیک ہونے کی وجہ سے وہ جل گئی تھیں۔۔
یہ کس نے بتایا تھا ۔۔۔ ؟
مما نے ۔۔۔۔ پر آپ یہ سب مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں ۔۔۔؟
اپنی مما کو ڈھونڈو وہ کہاں ہے۔۔۔۔؟
ہم انکے بارے میں نہیں جانتے ۔۔۔ یہ سچ ہے کہ اِزنا تمہارے فارم ہاؤس سے ملی ہے۔۔۔ باقی کی تفصیل تم ایس پی سلمان سے پوچھ سکتے ہو۔۔۔
خُبیب ۔۔۔۔۔یقین کرو میں نے بھابھی کو کڈنیپ نہیں کیا۔۔۔مجھے نہیں پتہ یہ سب کس نے کیا ہے۔۔۔
تمہیں لگتا ہے کہ میں ایسی گھٹیا حرکت کروں گا۔۔۔۔ وہ اسکے سامنے نظریں جھکائے کھڑا تھا۔۔۔ اور تمہیں کس نے بتایا۔۔۔ کہ میں نے تمہاری مما کو کڈنیپ کیا ہے۔۔۔خُبیب سکندر بمشکل اپنا غصہ ضبط کرتےہوئے بولا تھا۔۔ مجھے میرے خاص ملازم نے بتایا۔۔۔ پھر اسی سے پوچھو تمہاری
مما کہاں ہے۔۔۔۔؟
حسن اسکی بات سنتے ہی تیزی سے داخلی دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔۔
خُبیب سکندر نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو پکڑا تھا۔۔۔۔ سب سے زیادہ غصہ تو اسے اِزنا پر آ رہا تھا۔۔۔۔ اگر وہ اپنی تائی کو جانتی تھی تو اس نے بتایا کیوں نہیں۔۔۔۔۔؟
ہارون سکندر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔ اسے لگ رہا تھا کہ اسکا دماغ پھٹ جائے گا۔۔۔
ڈیڈ۔۔۔میں ہاسپٹل جارہا ہوں۔۔۔ وہ بمشکل بولا تھا۔۔۔۔میں بھی چلتا ہوں ۔۔۔۔ اسے اتنا غصے میں دیکھ کر ہارون سکندر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔ اب وہ تیزی سے داخلی دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔۔ اسکا غصہ اب کیا طوفان لائے گا۔۔۔؟
یہ سوچتے ہی اسکا دل دہل گیا تھا۔۔۔
وہ اسکے پیچھے ہی داخلی دروازے کی طرف بڑھے تھے۔۔۔.
***********************************
