Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 3)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 3)
Ehsaas By Raheela Bano
آفس سے واپسی پر ہارون سکندر جنت کی طرف آئے تھے۔دروازے پر ہلکی سی دستک دی تھی ۔اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑھا۔۔۔۔۔دروازہ کھلتے ہی جنت جو حیرت کے عالم میں ہارون سکندر۔۔۔۔ کو دیکھ کر خوشی سے چہکی تھی۔
ہارون سکندر ۔۔۔۔ مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئے تھے۔میری بیٹی کیا کر رہی ہے۔۔۔۔؟وہ بڑی اپنائیت سے بولے تھے۔۔۔۔انکے محبت بھرے انداز پرجنت انہیں پر امید نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
آپ نے ماموں سے بات کی ۔۔۔۔۔۔۔آپ نے امی کے بارے میں بتایا وہ روم میں انٹر ہوتے کرسی انکے قریب کرتے۔۔۔۔۔ ایک ہی سانس میں بول رہی تھی۔
جنت بچے۔۔۔۔۔ میری بات ہوئی تھی۔ کسی عورت نے میری کال ریسیو کی تھی۔
لیکن اس نے بتایا کہ آپ کے ماموں کی ڈیتھ ہو گئی ہے۔اس کے بعد میری بات سنے بغیر کال کاٹ گئی ۔۔۔۔میں نے کئی بار کوشش کی لیکن نمبر بند جا رہا تھا۔وہ دونوں بات کرتے ہوۓ کوثر صدیق کو بھول ہی گئے تھے ۔جو اب انکی باتیں سن کر بری طرح رونے لگی۔۔۔۔جنت بھاگ کرکوثر صدیق کی طرف بڑھی۔شاید اس کے پاس کہنے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں تھا۔
کوثر صدیق ۔۔۔۔۔ کی دل دہلا دینے والی چیخیں سن کر جنت اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔ہارون سکندر۔۔۔۔ بڑے کرب سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔روتے ہوئے کوثر صدیق کی سانس اکھڑنے لگی۔۔۔۔ہارون سکندر ۔۔۔۔ نے ڈاکٹر کو کال کی تھی۔۔۔
دوسری طرف پہلی ہی بیل پر ڈاکٹر نے ریسیو کر لی تھی۔۔۔ جنت جلدی کرو میری ڈاکٹر سے بات ہو گئی ہے۔ جنت نے جلدی سے اپنی چادر کا نقاب کیا تھا۔۔۔وہ گود میں اٹھاتے گاڑی کی طرف بڑھی وہ اپنی ماں کو آسانی سے اٹھا لیتی تھی
۔ ہارون سکندر۔۔۔۔۔۔ اس کی ہمت پر حیران ہوا تھا۔ حالات نے اسے بہت مضبوط بنا دیا تھا۔۔۔۔۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھول کر پچھلی سیٹ پر اپنی ماں کو لیٹایا خود بھی وہی بیٹھ گئی تھی۔
انکل۔۔۔۔ جلدی گاڑی چلائیں وہ روتے ہوئے بمشکل بولی تھی۔ یا اللہ میری امی کو ٹھیک کر دینا میرا ان کے سوا کوئی نہیں ہے۔۔۔ ہارون سکندر۔۔۔۔ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوۓ اس بچی کی آہو بکا سن رہا تھا۔۔۔۔
***********************************
ہارون سکندر۔۔۔۔ نے اپنی بیوی کو کال کی تھی۔ دوگھنٹے ہونے کو تھے لیکن وہ ابھی تک ہاسپٹل نہیں پہنچی تھی۔۔۔۔ زندگی میں پہلی بار اسکو اپنی بیوی پر شدید غصہ آرہا تھا۔۔۔۔اس نے سامنے کھڑی جنت کو دیکھا ۔۔۔۔جو اپنی ماں کو ایک ٹک دیکھ رہی تھی۔
تھوڑی دیر بعد کوثرصدیق گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔۔ وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی لیکن بول نہیں پا رہی تھی۔نرس بھاگ کر ڈاکٹر کو بلانے گئی تھی۔امی مجھے چھوڑ کے مت جانا ۔۔۔۔۔۔۔یا اللہ مجھے اتنی بڑی سزا مت دینا۔۔۔۔۔میں تیری آزمائش کے قابل نہیں۔۔۔۔۔۔۔ کوثر صدیق ۔۔۔۔۔ کی بند آنکھوں کو دیکھ کر جنت ایکدم چیخیی تھی۔۔۔ اتنی دیر میں ڈاکٹر بھی آگیا ۔۔۔۔۔ وہ اب تسلی سے کوثر صدیق کو چیک کر رہا تھا۔۔۔
ڈاکٹر صاحب میری امی ٹھیک ہیں نہ وہ پاگلوں کی طرح ڈاکٹر کو بازو سے جھنجور رہی تھی۔ سوری بیٹا اللہ تعالی تمہیں صبر دے ڈاکٹر نے یہ کہتے ہوئے وہ باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔جنت اب اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔۔ہارون سکندر۔۔۔۔۔ نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔
امی آپ کہتی تھی نہ رونا نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں نہیں رو رہی اب آپ اٹھ جائیں۔۔۔۔آپ کی جنت آپ کے بغیر جی نہیں پائے گی۔۔۔۔وہ تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔۔۔۔ہارون سکندر۔۔۔۔۔۔ نے نم نگاہوں سے جنت کو دیکھا۔۔۔۔ خاندان ہوتےہوئے بھی وہ بے یارو مددگار تھی۔۔۔۔۔ اس کے سا منے اسے اپنا دکھ بہت چھوٹا سا لگا تھا۔۔۔ اسے بس اسی بات کا دکھ ہوتا تھا۔۔۔ کہ اس کا کوئی بہن بھائی نہیں ہے۔وہ تو لڑکا تھا زمانے کی ٹھوکر یں برداشت کر گیا۔۔۔. لیکن یہ بچی کیسے یہ سب برداشت کرے گی۔۔۔۔۔؟
اسکے لئے تو وہ فیصلہ لے چکا تھا۔۔۔۔ اب ڈیڈ باڈی کو کہاں لیکر جانا تھا ۔۔۔۔؟ یہ پوچھنے کے لئیے اس نے بڑی ہمت کر کے جنت کو پکارا تھا۔۔۔۔
جنت بچے میں میں چاہتا ہوں کہ تمہارے خاندان والوں کو اطلاع کر دوں۔۔۔۔انکو جنہوں نے میرے باپ کو ماننے سے ہی انکار کر دیا ۔۔۔کہ۔۔۔۔۔ وہ کسی صدیق اکمل کو جانتے ہی نہیں۔۔۔۔۔انکل وہ بہت ظالم ہیں۔۔۔۔ وہ اپنے گلے کو جکڑے روتے ہوئے اسے بتا رہی تھی۔۔۔۔ اسکی ہولناک چیخیں پورے کمرے میں گونج رہہیں تھیں۔۔۔
وہ فوزیہ سکندر۔۔۔۔ کی آواز پر چونکا تھا۔۔۔۔۔جو اب بت بنی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ تم جنت کو سنبھالو میں ابھی آتا ہوں ۔۔۔۔۔ ہارون سکندر یہ کہتے ہوئے باہر کی سمت بڑھا تھا۔۔۔
**********************************************
فوزیہ سکندر۔۔۔۔ اس باہمت لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جس نے اپنی ماں کا کفن خود سلائی کیا تھا۔۔۔۔۔ خود ہی اس کو غسل دیا تھا۔۔۔۔وہ شدت غم سے رو رہی تھی۔۔۔۔۔ایسا ہی وقت اس پر آیا تھاجب اس کے باپ کی آنکھیں بند ہوئی تھیں۔۔۔
اسی طرح وہ تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔۔۔۔ پر اس کو سنبھالنے والی اس کی والدہ تھی۔۔۔۔ اس کے تایا، ماموں ،پھپھو، خالہ، انکے پچے سب اپنے رشتے تھے جو ان دونوں کو سنبھال رہے تھے۔۔۔۔۔
پھر بھی اس کے باپ کی کمی کوئی رشتہ بھی پوری نہیں کر سکا تھا۔۔۔ حتی کہ اسکا چاہنے والا شوہر بھی نہیں۔۔۔۔۔جب وہ بیمار ہوتی۔۔۔ یاجب کسی سے ناراض ہوتی۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔ اسے اپنا باپ شدت سے یاد آتا تھا۔۔۔۔۔ کوئی بھی تو اسے فوزی کہہ کر نہیں پکارتا تھا۔ گھر داخل ہوتے ہی فوزی فوزی پکارتے ہوئے اسے ڈھونڈتے تھے جوانکے آنے سے پہلے چھپ جاتی تھی۔۔
ڈھیر ساری چیزیں اسکے لئے لاتے تھے۔۔ وہ دس سال کی تھی ۔۔۔۔جب اس کا باپ اس دنیا سے رخصت ہوا تھا۔۔۔۔ سکول میں کالج میں یونی میں کبھی بھی تو نہیں بھولی تھی۔۔۔
اپنی رخصتی پر کتنا روئی تھی کتنی شدت سے یاد آئی تھی۔۔۔ وہ دن یاد کر تے ہوئے اس نے تڑ پ کر جنت کو گلے لگایا تھا۔ اس کا تو کوئی بھی نہیں تھا۔۔ نہ بہن۔۔۔۔ نہ بھائی۔۔۔۔۔ نہ باپ۔۔۔۔ نہ کوئی رشے دار۔۔۔۔ ایک ماں تھی۔۔۔ وہ بھی اس نے کرب سے کو ثر صدیق کے مردہ چہرے کو دیکھا تھا۔۔۔
وہ جنت کو اپنے ساتھ لپٹائے شدت سے رو دی تھی اس کے سامنے اسے اپنا دکھ چھوٹا سا لگا تھا۔۔۔جس کا اس بھری دنیا میں کوئی اپنا نہیں تھا ۔۔۔۔ یا اللہ اس دنیا میں اتنے دکھی لوگ بھی ہیں۔۔۔۔اس نے خوف سے جھرجری لی تھی۔۔۔۔
جنت اس چہرے کو جی بھر کے دیکھ لو کچھ ہی دیر میں یہ چہرا تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے گا۔۔۔فوزیہ سکندر۔۔۔۔۔ نے اسے خود سے الگ کیا تھا۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔ کہ وہ اسے کس طرح دلاسا دے۔۔۔۔
یہ سنتے ہی جنت کی ہولناک چیخیں بلند ہوئی تھیں۔ میری ماں کے جنازے کو کند ھا دینے والا کوئی اپنا نہیں ہے۔۔۔ ان اپنوں نے میری ماں کو مار دیا۔۔۔۔ وہ تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔۔۔۔ میں کندھا دوں گی اپنی ماں کے جنازے کو۔۔۔۔ میں خود اتاروں گی قبر میں اپنی ماں کو ۔۔۔۔۔
اسکے بین سن کر وہاں بیٹھی سب عورتیں رو پڑی تھیں۔۔۔ فوزیہ سکندر۔۔۔۔ نے تڑپ کر اسے گلے لگایا تھا۔۔۔جنازہ اٹھانے کے لئے چند لوگ آگئے تھے۔۔۔ہارون سکندر ۔۔۔ جنت کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
اتنی دیر میں ایک عورت بین کرتے ہوئے ہوئے گھر میں داخل ہوئی تھی۔ سب اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔۔۔
اماں جنت روتے ہوئے بولی تھی۔فوزیہ سکندر اور ہارون سکندر نے اس بوڑھی عورت کو دیکھا جو جنت کو گلے لگائے تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔۔۔۔ تم نے ایک بار بھی اپنی اماں کو یاد نہیں کیا۔۔۔۔۔وہ کوثر صدیق کا منھ دیکھ کر شدت سے رو رہی تھی۔جنت کو بمشکل فوزیہ سکندر نے پکڑا تھا۔
”ماں جی ۔۔۔۔۔!”
ہمیں جنازہ اٹھانے دیں۔۔۔ ہارون سکندر جنازہ اٹھانے کے لئے آگے کی طرف بڑھا۔۔۔
نہیں انکل میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی۔۔۔ اس کی دل دہلا دینے والی چیخیں پورے گھر میں گونج رہی تھیں۔جنت بیٹا صبر کرو۔۔۔۔میں ہوں نہ تمہارے پاس اب تم میرے ساتھ رہو گی۔۔۔۔ اماں جو روتے ہوئے اسے کہہ رہی تھی۔ ہارون سکندر۔۔۔ جنازہ اٹھاتے ہوئے اسکی بات پر بری طرح چونکا تھا۔۔۔.
****************************************
ہارون سکندر۔۔۔۔۔ تدفین کے بعد رات نو بجے کے قریب جب گھر واپس آیا ۔۔۔۔تو گھرمیں سناٹا چھایا ہوا تھا۔۔۔۔ پورا چاند بڑی آب و تاب سے چمک رہا تھا۔۔۔ چاند کی روشنی میں ہر چیز صاف دیکھائی دے رہی تھی۔
جنت چار پائی پر بیٹھی ابھی تک رو رہی تھی۔۔۔۔۔ہارون سکندر ۔۔۔۔تیزی سے اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔جنت بچے تم یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو۔۔۔۔؟
تمہاری آنٹی کہاں ہے۔۔۔؟
وہ اندر کمرے میں اماں کے پاس ہیں۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے بمشکل بولی تھی۔۔۔
یہ اماں کون ہے۔۔۔۔۔؟
یہ وہ سوال تھا ۔۔۔۔جو اسے پریشان کئے ہوئے تھا۔ میں ہوں نہ تمہارے پاس اب تم میرے ساتھ رہو گی۔۔۔۔ اس کا ذہہن اسی بات پر ہی اٹکا ہوا تھا۔۔۔ وہ جنت کے معاملے میں کسی پر بھی بھروسا نہیں کر سکتا تھا۔
طویل خاموشی کے بعد وہ بولی تھی۔۔۔انکل ۔۔۔۔یہ ساتھ والا گھر اماں کا ہے ۔اماں کی تین بیٹیاں تھیں ۔۔۔تینوں شادی شدہ ہیں۔ابا جب زندہ تھے تو ان کا زیادہ وقت ہمارے گھر میں ہی گزرتا تھا۔ ابا کی وفات کے بعد انکی چھوٹی بیٹی انہیں زبردستی اپنے پاس لے گئی تھیں ۔۔
میں نے اپنی مس سے انہیں کال کروائی تھی۔۔۔۔اچھا میری بات غور سے سنو۔۔۔۔ تم ان کے ساتھ کہیں نہیں جاؤ گی۔۔۔جو بھی ہو جائے ۔۔۔۔۔ سن رہی ہو نہ۔۔۔۔۔جنت نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔ اٹھو اپنی آنٹی کو لےکر آؤ میں اسے گھر چھوڑ آؤں۔۔۔ نہیں آنٹی نے نہیں جانا۔۔۔۔آپ چلے جائیں۔۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے بولی تھی۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔ تم بھی جاؤ اندر جا کے سو جاؤ رات کا فی ہوگئی ہے۔ہارون سکندر نے اسے پکڑ کر کھڑا کیا تھا۔ بازو آگ کی طرح تپ رہی تھی۔تمہیں تو بہت تیز بخار ہے ۔۔۔۔ فوزیہ۔۔۔۔۔فوزیہ۔۔۔۔۔ فوزیہ سکندر بھاگتی ہوئی باہر آئی تھی۔۔۔ تم لوگوں نے بچی کو دیکھا ہی نہیں وہ بخار سے تپ رہی ہے۔۔۔
اگر میں نہ دیکھتا تو یہ ایسے ہی یہاں پڑی رہتی۔۔۔۔ فوزیہ سکندر ۔۔۔نے جلدی سے اسے پکڑا تھا۔
تم اسے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرو۔۔۔۔ میں ڈاکٹر کو بلا کے لاتا ہوں۔۔۔۔وہ یہ کہتے ہوئے باہر کی سمت بڑھا تھا۔۔۔
*********************************
گھڑی رات کا ایک بجارہی تھی ۔۔۔۔گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز رات کے سناٹے میں بری لگ رہی تھی۔۔۔۔ ہارون سکندر۔۔۔۔۔ اب اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔اسے آج پھر اپنی زندگی کی کٹھن ترین رات یاد آئی تھی۔۔جسے وہ زندگی میں کبھی یاد کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ فوزیہ سے فون پر بات کر کے اسے تسلی ہوئی تھی ۔۔۔۔ کہ وہ اب پہلے سے کافی بہتر ہے۔۔۔۔لیکن وہ ابھی تک سوئی نہیں تھی۔
“یا اللہ” اس بچی کو صبر دے جس کا اس بھری دنیا میں تیرے سوا کوئی نہیں۔۔۔ ہارون سکندر ۔۔۔۔ اس بچی کو لیکر بہت حساس ہو گیا تھا۔۔۔۔شائد دونوں کا دکھ ایک تھا۔۔۔۔
اسی احساس کے تحت اس نے جنت کو تنہا نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔اپنی بیوی کو وہی چھوڑ آیا تھا۔۔۔۔۔
وہ جو اس ماحول کی عادی بھی نہیں تھی۔گرمی بھی اتنی شدید تھی۔۔۔ اوپر سے اس گھر کے پنکھے جو نام کی ہوا دیتے تھے ۔۔اتنے زیادہ مچھر اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا تھا۔۔۔جن پر انکے کاٹنے کے نشان ابھی تک تھے۔
ماں جی ۔۔۔۔سے بات کر کے وہ کافی حد تک مطمعن ہو گیا تھا۔۔۔ انکے مشورے سے ہی جنت کے نکاح کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔ وہ جس طرح جنت سے محبت جتا رہی تھی۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ وہ خُبیب کی عمر کو لیکر۔۔۔۔ وہ اسے آگے سوچنا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ اگر خُبیب نے انکار کر دیا۔۔۔۔
اس بات نے اسے مذید پریشان کر دیا تھا۔۔۔ وہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا۔۔۔” یااللہ ” اس مشکل وقت میں میری مدد فرما۔۔۔۔۔اب وہ کمرے کی کھڑ کی کھول کر باہر کی طر ف دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔ سامنے لان میں خُبیب کو ٹہلتے دیکھ کر پریشان ہوا تھا۔۔۔۔یہ اس وقت لان میں کیا کر رہا ہے۔۔۔۔؟
اب وہ لائیٹر سے سگریٹ جلا رہا تھا۔۔۔ اس نے سگریٹ کب سے پینا شروع کر دئیے۔۔۔۔ اب وہ سگریٹ پیتے ہوئے کسی گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔۔ اپنے بتیس سالہ بیٹے کا کردار اسکے سامنےآئینے کی طرح شفاف تھا۔۔۔۔
اپنی منفرد سوچ کی وجہ سے جہاں جاتا تھا وہی چھا جاتا تھا۔۔۔۔ “یااللہ ” میرے بیٹے کی زندگی کو اتنا خوبصورت بنا دے۔۔۔۔۔ کہ لوگ اس کی قسمت پر رشک کریں۔۔۔یہ اس پہر ایک باپ کی دعا ہے۔۔ اسے قبول فرما۔۔۔۔اسنے تاروں سے بھرے آسمان کو دیکھا جس پر چاند بڑی شان کے ساتھ چمک رہا تھا۔۔۔
******************************************
