930K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehsaas (Episode 23)

Ehsaas By Raheela Bano

ہارون سکندر ۔۔۔ مضطرب سا روم میں چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔۔ اسنے فوزیہ سکندر کو زبردستی گھر بھیج دیا تھا۔۔۔ حدید کی داہہنی بازو ٹوٹنے کی وجہ سے کھانے پینے میں دقت ہو رہی تھی۔۔۔۔کرن کے بابا ۔۔۔۔ہاسپٹل حدید کی خیریت معلوم کرنے آ رہے تھے۔۔۔ وہ حدید کے اٹھنے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔

کرن اسلام آباد گئی تھی ۔۔۔ رات دس بجے تک واپسی کا کہا تھا۔۔۔

ساتھ یہ بھی کہ اسکے آنے تک انہیں روک کر رکھیں گے۔۔۔ اسکے بابا کی تو ڈیتھ ہو گئی تھی۔۔۔۔ تو اب اسکی مدر پر شدید غصہ آرہا تھا۔۔۔ وہ زندہ تھے تو انکے ساتھ جھوٹ کیوں بولا۔۔۔۔۔؟

ڈیڈ۔وہ حدید کی آواز پر مڑے تھے۔ حدید پہلے مجھے یہ بتاؤ ۔۔۔۔ تمہارے سسر زندہ کیسے ہو گئے۔۔۔۔۔؟

تمہاری ساس نے جھوٹ کیوں بولا۔۔۔۔۔؟

وہ یہ تو اسے دیکھتے ہی پہچان گئے تھے۔۔۔۔۔ کہ وہ عادل کی کزن ہے۔۔۔ جس کے باپ کی وجہ سے اسنے اتنے برے دن دیکھے تھے پر اپنے بیٹے کی خوشی کی وجہ سے خاموش ہوگئے تھے۔۔۔۔اپنے

ڈیڈ کو کسی گہری سوچ میں غرق دیکھ کر وہ گویا ہوا۔۔۔۔

انہوں نے جھوٹ نہیں بولا۔۔۔۔ اصل میں کرن کی مما کی شادی گاؤں میں ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ وہاں ایڈجسٹ نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے دونوں میں طلاق ہو گئی تھی۔۔۔

پھر انکی دوسری شادی ہوئی ۔۔۔۔ دس سال بعد انکے دوسرے شوہر کی بھی ڈیتھ ہو گئی ۔۔۔ کرن پہلے شوہر میں سے ہے اور حماد دوسرے شوہر میں سے۔۔۔۔

یہ تو مجھےشادی کے بعد کرن نے بتایا تھا۔۔۔ پھر جب ہم نے آپ سے مری جانے کی اجازت لی تھی ۔۔۔۔۔ اس وقت ہم مری نہیں ان سے ملنے گئے تھے۔۔۔

میں آپکو بتانا بھی چاہ رہا تھا۔۔۔۔ لیکن کرن نے مجھے منع کر دیا کہ اگر اسکی مما کو پتہ چلا تو وہ ناراض ہو جائیں گی۔۔۔۔۔ اب وہ میری خیریت معلوم کرنے نہیں آ رہے بلکہ مجھ سے ریکویسٹ کرنے آ رہے ہیں۔۔۔کہ میں انکی بیٹی کو اسلام آباد جاب کرنے دوں۔۔۔جو میں انہیں صاف منع کر چکا ہوں۔۔۔۔میں نے انہیں اپنا آخری فیصلہ سنا دیا ہے ۔۔۔۔ جب میں اسکے لئے ہاسپٹل بنوا رہا ہوں ۔۔۔۔۔ تو اسے وہاں جاب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔؟

ہارون سکندر ۔۔۔۔اسکی آخری بات سن کر پریشان ہوا تھا۔۔۔۔ وہ اسلام آباد اسکو بتائے بغیر گئی ہے۔۔۔ وہ لڑکی اپنی مرضی کی مالک تھی۔۔۔ یہ تو وہ جانتے تھے۔۔۔۔ لیکن اسنے شوہر سے زیادہ اپنی جاب کو فوقیت دی تھی۔۔۔ اب دونوں کے درمیان جو آنا کی دیوار کھڑی ہو گئی ہے ۔۔۔۔ وہ خطرناک تھی۔۔۔۔

جس ماں نے خود دوسرا نکاح کیا ہے ۔۔۔۔؟

وہ اپنی بیٹی کو کیا سیکھ دے گی۔۔۔۔ ؟

خُبیب سکندر جو دروازے پر کھڑا اسکی ساری گفتگو سن چکا تھا۔۔۔۔وہ آگے بڑھ کر ہارون سکندر سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔ ڈیڈ ۔۔۔۔ جو پروجیکٹ میں نے اسلام آباد میں شروع کیا ہے۔۔۔۔؟

میں سوچ رہا ہوں ۔۔۔۔ حدید اسکو دیکھے۔۔۔۔۔ بھائی میرے سر پر پہلے ہی گہری چوٹ آئی ہے جانتے ہیں نہ اسکی وجہ سے کتنی دیر بعد ہوش آیا تھا۔۔۔۔

اور کیوں مجھے دوبارہ بے ہوش کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔؟

حدید بیٹا ۔۔۔خُبیب صحیح کہہ رہا ہے۔۔۔ اور اگر تمہیں کوئی مشکل ہو تو میں تمہاری ہیلپ کر دوں گا۔۔۔۔ڈیڈ ۔۔۔۔ بات اسلام آباد جانے کی نہیں ہے۔۔۔ بات آپ لوگوں سے دور رہنے کی ہے۔۔۔۔ جب آپ لوگ عمرہ کرنے گئے تھے ۔۔۔۔ تو میں نے ایک مہنہ کیسے گزارا تھا ۔۔۔۔خُبیب بھائی سے پوچھیں دن انگلیوں پر گنتا تھا۔۔۔۔

نہیں بلکل نہیں۔۔۔۔میں کسی صورت وہاں نہیں جاؤں گا۔۔۔۔حدید بات کو سمجھنے کی کوشش کرو میں اگر وہاں جاؤں تو ڈیڈ کوپیچھے سے سب ہینڈل کرنا مشکل ہو جائے گا۔۔۔۔

چلو اگر یہ نہیں جا رہا تو میں اسے دیکھ لوں گا تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔وہ بڑے رسان سے بولے تھے۔حدید اب ان دونوں کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہاتھا کہ وہ کیا جواب دے ۔۔۔۔؟

وہ جان گیا تھا ۔۔۔۔ کی وہ یہ سب اسکا گھر بچانے کے لئے کر رہے ہیں ۔۔۔۔ لیکن وہ اتنی آسانی سے پیچھے ہٹنے والا نہیں۔۔۔۔۔ وہ اپنی بیوی کی رگ رگ سے واقف تھا۔۔۔وہ اس طرح کرکے خود اسکی نظروں میں زلیل نہیں ہونا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

وہ آئے روز اسکی دھمکیوں سے تھک چکا تھا۔۔۔۔ اسکی بدتمیزی مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔

اگر اسے عورت ہو کر اپنا فیوچر عزیز ہے تو میں مرد ہو کر اپنا فیوچر داؤ پر کیوں لگاؤں۔۔۔۔؟

وہ دل میں فیصلہ کر چکا تھا۔۔۔۔۔

وہ ایک نظر دونوں پر ڈالتے آنکھیں بند کر چکا تھا۔۔۔۔

***********************************************

فوزیہ سکندر ۔۔۔کی طبعیت بہت زیادہ خراب تھی۔۔۔۔ تیز بخار سر میں شدید درد کی وجہ سے آنکھیں بھی کھول نہیں پارہی تھیں۔۔۔۔۔ جنت نے انہیں میڈیسن دے کے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کر رہی تھی ۔۔۔

اسنے ایک لمحے کے لئے بھی انہیں تنہا نہیں چھوڑا تھا۔۔۔جنت مجھے وضو کروا دو ۔۔۔۔ میں نے نماز پڑھنی ہے۔۔وہ اپنی نقاہت زدہ آواز سے بولی۔۔۔۔ موم آپ کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ جیسے ہی کچھ بہتر ہوگی آپ پڑ ھ لینا۔۔۔۔ نہیں میری نماز قضا ہو جائے گی۔۔۔۔ مجھے اپنے بیٹے کے لئے دعا مانگنی ہے۔۔۔۔

والدہ نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا۔۔۔۔ ایک ہی جھٹکے نے اسے اللہ کے اتنا قریب کر دیا تھا۔۔۔۔ جنت میرے سر میں درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔ جنت نے پانی کا باؤل ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے سر دبانے لگی تھی۔۔۔

بخار پہلے سے کافی بہتر ہو گیا تھا۔۔۔۔

والدہ مجھ سے اپنے بیٹے کی حالت دیکھی نہیں جارہی۔۔۔۔ وہ اتنی تکلیف میں ہے۔۔۔اسکے تو سوئی بھی چبھ جائے تو پورے گھر کو اکٹھا کر لیتا ہے۔۔۔ اتنی چوٹوں میں وہ کس طرح مسکراتے ہوئے سب کو دلاسہ دے رہا تھا۔۔۔۔

میرا بیٹا کوئی بڑی تکلیف میں ہے ۔۔۔۔ والدہ وہ باقاعدہ سسکیوں سے رونے لگی۔۔۔۔والدہ اپنی بیٹی کو اس طرح روتے دیکھ کر پریشان ہو گئی تھیں۔۔۔

انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کے کس طرح چپ کروائے۔۔۔۔

جنت نے انکے ہچکولے کھاتےوجود کو اپنے ساتھ لگایا تھا۔اس سے بھی انکا اس طرح بلک بلک کر رونا برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔بس کریں موم۔۔۔۔۔جنت نے اپنی انگلیوں کے پوروں سے انکے آنسو صاف کئے۔۔۔۔

میں اپنے بچوں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی میں ان سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔۔۔ ہر پل ان کی خوشیوں کی انکے اچھے نصیبوں کی دعائیں مانگتی ہوں۔۔۔

اگر تم اللہ سے دعائیں مانگتی ہو تو تمہیں ان دعاؤں پر یقین بھی ہونا چاہئے, والدہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسکے اترے ہوئے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔

جنت کی آنکھوں میں آنسو ستاروں کی طرح ٹوٹ کر گر رہے تھے۔۔۔۔ انکے لئے تو دعائیں کرنے والے ہیں ۔۔۔۔۔ میرے لئے تو دعائیں کرنے والا بھی کوئی نہیں۔۔۔۔

ایک ماں تھی وہ بھی نہیں رہی۔۔۔۔ اب اس سے بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔۔ آنسوؤں کا بوجھ دل پر پڑنے سے دل ہی ڈوبنے لگا تھا۔۔۔۔ جنت دونوں ہاتھ منھ پر رکھ کر بلک بلک کر رونے لگی۔۔۔۔

فوزیہ سکندر ۔۔۔۔نے تڑپ کر اسے اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔۔۔کمزوری سے اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔۔والدہ نے بھی اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔ وہ اور شدت سے رونے لگی۔۔۔۔ موم میرے لئے تو دعائیں کرنے والا کوئی نہیں۔۔۔۔

وہ ہچکیاں لیتے بمشکل بولی تھی۔۔۔۔۔

فوزیہ سکندر ۔۔۔۔نے اسے شدت سے اپنے ساتھ لگایا تھا۔۔۔۔ میں کرتی اپنی بیٹی کے لئے دعائیں۔۔۔۔پتہ میں نے اور تمہارے ڈیڈ نے وہاں اللہ کے گھر میں تمہارے لئے دعائیں مانگیں تھی ۔۔۔۔۔فوزیہ سکندر ۔۔۔۔نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے اسکے آنسو صاف کئے تھے۔۔۔۔ یا اللہ اس کی جھولی خوشیوں سے بھر دینا۔۔۔۔ اسنے خدا کے حضور دعا مانگتے اپنے لب اسکے ماتھے پر رکھے تھے۔۔۔۔

جنت نے انکے ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھوں سے لگائے تھے۔۔۔۔ دروازے میں کھڑے خُبیب سکندر ۔۔۔ کو اسکا یہ انداز بھا گیا تھا۔۔۔۔وہ چھوٹی سی لڑکی اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔

وہ واپس اپنے روم کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔

*******************************************

حدید ۔۔۔۔ کے ایکسیڈنٹ کی وجہ سے کام کابرڈن بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ وہ میٹنگ اٹینڈ کرکے سیدھا جیل گیا۔۔۔۔اتنے دنوں میں وہ خود تو جیل میں اسکے پاس جا نہیں سکا تھا۔۔۔لیکن حیدر کے زمے لگایا تھا۔۔۔ آج خودجا کر عاقب کو جیل کی قید سے آزاد کروایا تھا۔۔۔۔

پھر اسے اور اسکی فیملی کو عادل صاحب کے مشورے سے گاؤ ں بجھوا دیا تھا۔۔۔۔اسکی ماں کس طرح روتے ہوئے اسے دعائیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔وہ جزباتی منظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا۔۔۔۔

گاؤں سے آئے ہوئے لڑکے شہر میں اسکے پاس آکر بہت خوش تھے۔۔۔۔۔ اپنا کام دل لگا کر کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔

عورتوں سے انکے مسائل پوچھتے پھر تحقیق کرکے ضرورت مند عورتوں کےگھر گھرجا کر مہنے کا راشن دے کر آتے ۔۔۔۔۔ان سارے لڑکوں کی ایک اچھی بات تھی۔ کے وہ اس کام کو نیکی سمجھ کر رہے تھے

اسے ان سے کسی بھی قسم کی شکایت نہیں تھی۔۔۔ وہ آج ان کو ہو ٹل لے کر آیا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ اس ہوٹل کو بڑی حسرت سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

جب اسنے کھانے کا پوچھا تو بولے سر۔۔۔۔ آپ اپنی مرضی کا منگوا لیں ۔۔۔۔

سر جو آپ منگوائے گے ۔۔۔ وہ یہ کھا نہیں سکیں گے۔۔۔حیدر نے مینیو کارڈ پکڑتے ۔۔۔آرڈر لکھوایا تھا۔۔۔۔۔ اور خُبیب سکندر نے اپنے لئے چائے منگوائی تھی۔۔۔۔ کچھ کھانے کو دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔ گھڑی پر ٹائم دیکھا رات کے آٹھ بج رہے تھے۔۔۔۔۔

اسے ابھی ہاسپٹل بھی جانا تھا۔۔۔۔ صبح حدید نے زبردستی اسے میٹنگ اٹینڈ کرنے کے لئے بھیج دیا تھا۔۔۔ میٹنگ سے ابھی فارغ ہی ہوا تھا۔۔۔تو وہ عورت آفس پہنچ گئی تھی ۔۔۔۔وہ اس معاملے کو جلد از جلد نمٹانا چاہتا تھا۔۔۔۔سو وہ نمٹا چکا تھا۔

موبائل پر بار بار بیل کی وجہ سے اسنے مو بائل کوٹ کی جیب سے نکالا۔۔۔ ڈیڈ کی کال تھی۔۔۔۔ اسنے بیک رنگ کی تھی ۔۔۔۔ حیدر کو پیسے تھماتے وہ سب سے ہاتھ ملاتا ۔۔۔ گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔

******************************************************

دروازے پر ہلکی سی دستک پر داخل ہو نے والے کو دیکھ کر دونوں سکتے کے عالم میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔عادل ۔۔۔۔۔ہارون سکندر کے ہونٹوں نے ہلکی جنبش کی تھی۔

آواز کہیں ہلک میں ہی دب گئی تھی ۔۔۔۔ ڈیڈ ۔۔۔۔۔ یہ کرن کے بابا ہیں ۔۔۔۔ حدید کی آواز پر بھی وہ ساکت وجود کے ساتھ اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔وہ اسکے بچپن کا دوست تھا۔۔۔۔۔۔ گاؤں سے ایسا ناطہ توڑا کبھی وہاں کا رخ ہی نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔

محرم میں جب اماں اور ابا کی قبر پر جاتا تھا تو کبھی گاؤں کا رخ نہیں کیا تھا۔۔۔قبرستان سے ہی واپس پلٹ آتا تھا۔۔۔ اب تو کافی عرصہ گزر گیا تھا وہ قبرستان بھی نہیں گیا تھا۔۔۔۔ایسا ہی کچھ عادل صاحب کا حال تھا۔۔۔۔

دونوں ایک دوسرے کو ایک ٹک دیکھ رہے تھے۔۔۔حدید دونوں کو اس طرح دیکھ کر سمجھ تو گیا تھا ۔۔۔ کہ یقینا ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔۔۔

عادل صاحب نے اپنی نظریں جھکائیں تھی ۔۔۔۔وہ اس شخص کا سامنا مزید نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔ حدید ہارون سکندر کا بیٹا ہے اپنی بیٹی کے حالات وہ حدید کی زبانی سن چکا تھا۔۔۔۔جیسے ہی

وہ واپس جانے کے لئے پلٹا۔۔۔۔تو ہارون سکندر۔۔۔۔ نے اسے آگے بڑھ کر گلے سے لگایا تھا۔۔۔۔

عادل صاحب اندر ہی اندر جزبز سا اپنے ہونٹوں کو بھنچے اسکے گلے لگاکھڑا تھا۔۔۔آنسو روانی سے اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے کب چاہا تھا کہ اس سے اس طرح ملے گا ۔۔۔۔۔

پہلے والا بوجھ ابھی کندھوں پر تھا۔۔۔ اور اب یہ نئے سرے سے کرن کی ماں اس شخص کی بیٹی ہے جس کی وجہ سے جیل گیا تھا۔۔۔۔ اسکا دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا ۔۔۔۔دل کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں ۔۔۔

کمرے میں خاموشی کےراج کے ساتھ کتنی دیر ایک دوسرے کو گلے لگائے کھڑے رہے تھے

ہارون تم مجھ سے ناراض ہو ۔۔۔۔۔ وہ بھیگی آواز میں بولا ۔۔۔۔۔ کتنے عرصے بعد دونوں ایک دوسرے کو مل رہے تھے۔۔۔۔وہ اسکے بولنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔ ہوں ناراض تم سے ۔۔۔۔ عادل صاحب اسکی بات پر تڑپ گئے تھے۔۔۔ ہارون میری بات کا یقین کرو جب مجھے پتہ چلا تو میں ابا کے ساتھ شہر آیا تھا۔۔۔۔

لیکن تمہیں بہت تلاش کیا ۔۔۔۔ پھر میری ملاقات خُبیب سے ہوئی۔۔۔۔۔اسکے منھ سبے ساختہ ہی نکل گیا ۔۔۔۔جس پر ہارون سکندر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔اس کی شکل بہت حد تک تم سے ملتی دیکھ کر میں نے اس سے پو چھا تو اسنے مجھے بتایا کہ وہ تمہارا بیٹا ہی ہے۔

میں نے تم سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو اس نے بتایا کہ تم عمرہ کرنے گئے ہو۔۔۔۔۔۔اسنے بڑی سہولت سے بات کو سنبھالا تھا۔۔۔۔

ہارون سکندر کی پیشانی پر ہلکی ہلکی لکیریں نمودار ہوئی تھیں۔۔۔۔

ڈیڈ ۔۔۔آپ لوگ ساری باتیں کھڑے کھڑے کریں گے بیٹھے گے نہیں ۔۔۔۔ حدید کی بات سن کر وہ دونوں ہی صوفے پر بیٹھ گئے۔۔۔

تم نے ثمینہ کو طلاق کیوں دی۔۔۔۔۔؟

صوفے پر بیٹھتے ہی اسنے پہلا سوال داغا تھا۔۔۔۔جس پر عادل صاحب پریشانی سے ماتھا مسلنے لگے تھے۔۔۔۔

اس کا مطلب ہے

۔یہ حقیقت سے آشنا نہیں۔۔۔میں نے طلاق نہیں دی تھی اسنے خود لی تھی۔۔۔وہ نظریں جھکائے بولا۔۔۔۔

ہارون میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں ۔۔۔۔۔اسکی سزا میری بیٹی کو مت دینا۔۔۔۔وہ ہاتھ جوڑے کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔ ہارون سکندر نے جلدی سے اسکے ہاتھ تھامے تھے۔

میں تمہیں اتنا گرا ہوا لگتا ہوں، میں جب پہلی بار ملا تو میں نے اسے پہچان لیا تھا ۔۔۔۔ چاہتا تو انکار بھی کر دیتا پر مجھے اپنے بیٹے کی خوشی عزیز تھی۔۔۔۔۔اب اس بات کی خوشی ہے کہ وہ تمہاری بیٹی ہے۔۔۔

میری کونسا تم سے ذاتی عداوت ہے جو تم نے ایسے سوچ لیا ۔۔۔ویسے بھی تم مجھے اتنے سالوں بعد ملے ہو ,چاہتا تو تمہیں پہچاننے سے ہی انکار کر دیتا۔۔۔ وہ مضبوط لہجے میں بولا۔۔۔۔

ہارون ۔۔۔۔۔تمہارے ساتھ جو بھی ہوا میں اسکی وجہ سے شرمندہ ہوں۔۔۔۔بس دل پر ایک بوجھ تھا۔۔۔جس کی وجہ سے میں بے چین رہتا تھا۔۔۔بس ایک مجرمانہ احساس کے ساتھ سوچتا کہ کاش۔۔۔۔!!

میں تمہیں اپنے ماموں کے ساتھ نہ بھیجتا۔۔۔میں تو شاید تلافی بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔تم جو چاہو مجھے سزا دے سکتے ہو۔۔۔میں اسکے لئے تیار ہوں۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔عادل میں تو تمہارا شکر گزار ہوں ۔۔۔۔ کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں۔۔۔۔ اس میں تمہارا بڑا اہم کردار ہے اگر تم مجھے شہر نہ بھجتے تو شاید میں کچھ بھی نہ ہوتا۔۔۔ جو کچھ میرے ساتھ ہوا ۔۔۔وہ شاید اسی طرح میری قسمت میں لکھا تھا۔۔۔۔تم میری نظروں میں کل بھی سرخرو تھے اور آج بھی سرخرو ہو۔۔۔۔ ہارون سکندر ۔۔۔۔نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔

اسلام و علیکم۔۔۔۔۔ ! سلام کرتے وہ عادل صاحب کو حیرت کے عالم میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔ ! تم بھی اپنے باپ کی طرح مجھے دیکھ کر سکتے میں کیوں آ گئے ہو۔۔۔۔؟

وہ مسکراتے ہوئے بولے۔۔۔

نہیں انکل یہ سکتے میں کہاں آئے ہیں جو آیا ہے اسکی طرف کسی نے نظریں کرم ہی نہیں کی ،وہ برا سا منھ بناتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔جس پر دونوں نے بھرپور قہقہ لگایا تھا۔

خُبیب سکندر ۔۔۔۔ہونقوں کی طرح دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ کہ انکل حدید کے سسر ہیں ۔۔۔اسےاس انکشاف پر شاک سا لگا۔۔۔

اتنی دیر میں کرن بھی آگئی تھی۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔ وہ بھاگ کر انکے کے ساتھ لپٹ گئی تھی۔۔۔۔ آپ آگئے مجھے یقین نہیں آ رہا۔۔۔میں نے موم کو بتایا تو وہ کہہ رہی تھیں کہ آپ کبھی نہیں آئے گے ۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے بتا رہی تھی۔۔۔۔

انکل۔۔۔۔۔ مجھے تو حیرت ہو رہی ہے کہ آپکی بیٹی روتی بھی ہے۔۔۔میں تو آج تک یہ ہی سمجھتا رہا کہ یہ بس رولاتی ہی ہے۔ حدید نے گہرا مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

تم اپنا منھ بند ہی رکھو۔۔۔۔

وہ بغیر کسی لحاظ کے بولی ۔۔۔۔جس پر حدید نے سختی سے جبڑے بھنچے تھے۔۔۔۔۔اسے دیکھتے سب نے ایک دوسرے سے نظریں چرائی تھیں۔۔۔۔

عادل صاحب ۔۔۔۔ کاچہرا ایک دم سرخ پڑا تھا۔۔۔۔۔

ڈیڈ ۔۔۔۔میری ڈاکٹر سے بات ہو گئی ہے۔۔۔ ہم سب گھر چلتے ہیں ۔۔۔۔ موم کی کال آئی ہے۔ کہ کھانا ریڈی ہے۔۔۔ خُبیب سکندر نے موقعہ سنبھالتے ہوئے بات کی۔۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔ بابا ۔۔۔۔میں چلتی ہوں ۔۔۔۔ کرن ۔۔۔۔ نے منھ بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔

تم میرے ساتھ چلو گی ۔۔۔ ویسے بھی حدید کو تمہاری ضرورت ہے۔۔۔عادل صاحب ۔۔۔۔ نے زرا سختی سے کہا تھا۔۔۔۔

وہ بابا۔۔۔۔ مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔۔۔ عادل صاحب ۔۔۔ اسے اپنے ساتھ لگاتے ہو ئے ہارون سکندر کے پیچھے ہی بڑھے تھے۔۔۔

خُبیب سکندر۔۔۔۔ اب حدید کی طرف بڑھا۔۔۔۔

*****************************************************