930K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehsaas (Episode 19)

Ehsaas By Raheela Bano

خُبیب سکندر ۔۔۔۔ڈاکٹر کو ساری تفصیل سے آگاہ کر کے خود لاؤنج میں صوفے پر بیٹھا ڈاکٹر کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اسکی سانسیں اٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔وہ دو دن سے سوئی نہیں تھی۔۔۔۔

اسکی طبعیت بگڑتی جارہی تھی۔۔۔۔پہلے تو وہ کمرے میں ہی موجود تھا۔۔۔۔ پھر ڈاکٹر نے اسے باہر جانے کا کہا۔۔۔۔

ایسی کیا بات تھی ۔۔۔ ؟

جو ڈاکٹر نے اسے باہر بھیج دیا۔۔۔۔ اب وہ بے چینی سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔

زندگی میں پہلی بار اتنا پریشان ہوا تھا۔۔۔آج وہ اس سے ناراض تھی ۔۔۔۔۔کئی بار اسے خفگی سے دیکھا لیکن اس کے ڈر کی وجہ سے کچھ بولی نہیں تھی۔۔۔

اسکی نم آنکھیں جن کی وجہ وہ تھا۔۔۔ پریشانی سے اپنا ماتھا مسلنے لگا۔۔۔۔

ڈاکٹر کو باہر آتے دیکھ کر وہ اسکی طرف بڑھا۔۔۔۔ کیسی ہے میری وائف۔۔۔۔؟

ڈاکٹر نورین نے مسکراتے ہوئے اسے مبارک دی تھی ۔۔۔۔ اس نے ڈاکٹر کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔مبارک ہو خُبیب صاحب ۔۔۔۔

”آپکی وائف پریگننٹ ہے۔۔۔۔۔”

ڈاکٹر کی بات سن کر وہ خوش ہونے کی بجائے بری طرح لڑکھڑایا تھا۔۔۔۔ ڈاکٹر نورین ناسمجھی کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ اسکی نیند کا مسئلہ جو ہے ۔۔۔۔

ڈاکٹر کو وہ اپنی طرف اس طرح دیکھتے پاکر بولا تھا۔۔۔۔ اصل میں سٹریس کی وجہ سے آپکی وائف کو نیند نہیں آتی۔۔۔۔ میں نے میڈیسن لکھ دی ہیں۔لیکن مجھے انہوں نے کچھ نہیں بتایا ۔۔۔۔ آپ شوہر ہیں ۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہونا چاہئے۔۔۔۔۔وہ اتنا سٹریس کس چیز کا لے رہی ہیں۔ بظاہر بھی وہ خوش نظر نہیں آرہی ہیں ۔۔۔۔خُبیب سکندر نے ڈاکٹر کی بات پر سختی سے لب بھنچے تھے۔

والدہ جوعشاء کی نماز پڑھ کر جنت سے چائے کا کہنے کے لئےآ رہی تھی۔۔۔کبھی ایسا نہیں ہوا تھا جنت بغیر کہے ہی عشاء کے بعد چائے لیکر آ جا تی تھی ۔پھر گھنٹوں تک ان کے پاس بیٹھی رہتی تھی ۔وہ اب لاؤنج میں لیڈی ڈاکٹر کو دیکھ کر ٹھٹھکی تھیں۔۔

دوپہر کھانے کے ٹائم تو وہ ٹھیک ٹھاک تھی ۔ اب اچانک کیا ہو گیا ہے۔؟

والدہ کو تشویش ہوئی تھی۔۔اللہ خیر کرے۔۔۔۔ پریشانی سے خُبیب کو آواز دی تھی۔۔۔۔جی والدہ کہتے ہوئے پھر ڈاکٹر کی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔۔

آپ ان کا منتھلی ٹیسٹ کروائیں۔۔۔۔ اور یہ جو ٹیسٹ میں نے لکھ کر دیئےہیں۔۔۔۔ یہ بھی کل کروائیں۔۔۔۔

ڈاکٹر صاحبہ بہت شکریہ۔۔۔۔ کوئی بات نہیں خُبیب صاحب۔۔۔۔۔ وہ یہ کہتی ہوئےبا ہر کی سمت بڑھی ۔۔۔۔

****************************************

والدہ اور خُبیب سکندر ایک ساتھ ہی روم میں انٹر ہوئے تھے۔۔۔۔ اسنے کمرے کےچاروں طرف نظر دوڑائی لیکن جنت روم میں نہیں تھی۔۔۔آگے بڑھ کر دیکھا تو واش روم کا بھی دروازہ کھلا تھا۔۔۔۔ والدہ جو اسے اتنا فکر مند دیکھ کر پر سکون ہوئی تھی۔

خُبیب کیا ہوا تھا جنت کو ۔۔۔۔ ؟دن میں تو اچھی بھلی تھی ۔۔۔والدہ نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔۔

اب خُبیب سکندر کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔کہ وہ والدہ کو کیا بتائے۔۔۔؟

اتنی دیر میں وہ خُبیب سکندر کے جوتے اٹھا ئے ڈریسنگ روم سے باہر نکلی تھی۔اتنی طبعیت خراب میں بھی اسے اسکے جوتوں کی پڑی تھی۔۔۔۔ اس طرح کام کرتے دیکھ کر کسی کو کیا پتہ چلے گا کہ یہ بیمار ہے۔؟

یہ آپ کے جوتے وہ جوتے قریب رکھتے ہوئے بولی۔ والدہ نے اسکی سوجی آنکھوں کو دیکھتے نظریں چرائی تھیں۔ جنت جیسے ہی دو قدم چلی ایک دم سر چکرانے سے گرتی خُبیب سکندر ۔۔۔۔ گرنے سے پہلے اسے مضبوطی سے تھام گیا تھا۔۔۔۔

والدہ کو تو پہلے ہی شک تھا ۔۔۔ لیکن اب یقین ہوتے ہی وہ گہرا مسکرائی تھی۔۔۔ خُبیب بیٹا ۔۔۔۔۔منھ میٹھا کرواؤ ۔۔۔۔

خُبیب سکندر ۔۔۔۔ والدہ کی بات کا جواب دیئے بغیر اسے اپنے ساتھ لگائے ۔۔۔بیڈ تک لاتے اسے نرمی سے بیڈ پر لیٹایا تھا۔۔۔۔۔

سائیڈ ٹیبل پر کچھ میڈیسن دیکھ کر ان کی تصویر لے کر کرن کو سینڈ کی تھی۔۔۔۔کہ یہ میڈیسن کھانے سے بچے پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔۔۔۔

وہ میں نے والدہ کے لئے چائے بنانی ہے ۔۔۔۔ جنت بچے تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔میں چائے ملازمہ سے بنوا لوں گی۔۔۔۔ تم آرام کرو۔۔۔وہ جنت کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے شفقت سے بولی تھیں۔۔ جنت نے انکا ہاتھ پکڑتے اپنے لب انکے ہاتھوں پر رکھے تھے۔۔۔۔ جیتی رہو میری بچی وہ یہ کہتے ہوئے روم سے باہر کی سمت بڑھی ۔۔۔۔ آپ والدہ کو روم تک چھوڑ آئیں وہ اپنی نقاہت زدہ آواز میں بولی تھی۔۔۔

رک جائیں والدہ ۔۔۔۔میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے انہیں پیچھے سے آواز دی تھی۔

جس پر والدہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔۔

تم جنت کا خیال رکھو۔۔۔۔ میں چلی جاؤں گی۔۔۔۔ والدہ کے بار بار جنت کہنے سے اسنے اپنے جبڑے سختی سے بھینچے تھے۔ لیکن کہا کچھ نہیں تھا۔

اتنی دیر میں حدید شور مچاتا مٹھائی کا ڈبہ ہاتھ میں پکڑے روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ والدہ منھ میٹھا کریں۔۔۔ڈبہ سائیڈ پر رکھتے والدہ کو گول گول گھمانے لگا۔۔۔۔والدہ مجھے مبارک تو دے دیں۔۔۔ خُبیب سکندر موبائل پر سب کے مبارک کے میسج دیکھ چکا تھا۔۔۔۔ کرن نے خبر منٹوں میں پھیلا دی تھی۔

والدہ ڈبے میں سے برفی کا ایک ٹکڑا نکالتے ہوئے خُبیب سکندر کی طرف بڑھی۔۔پہلے خُبیب کو کھلائی پھر وہ ہی بچا ہوا ٹکڑا جنت کے منھ میں ڈالا جنت وہ کھاتے ہوئے شرم سے سرخ پڑتی اپنے دونوں ہاتھوں سے منھ چھپا گئی تھی۔

والدہ یہ کیا ۔۔۔۔۔؟

میرا منھ میٹھا کیوں نہیں کروایا۔۔۔۔۔۔؟

”جب تم خوشخبری سناؤ گے تو تمہارا منھ میٹھا کرواؤں گی ۔۔۔”

پھر آپ کو دو سال اور انتظار کرنا پڑھے گا۔۔۔۔۔ بقول میری بیوی کے کہ وہ ابھی بچی ہے ۔۔۔۔ جنت سے بھی چھوٹی ہے ۔۔۔والدہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔۔ جنت نے بھی اپنی نظریں جھکائیں تھیں۔

وہ ایسے ہی جو منھ میں آتا سب کے سامنے بول دیتا تھا۔۔۔

اب وہ خُبیب سکندر کی طرف بڑھتے اسے اپنے گلے سے لگاتے مبارک دے رہا تھا۔۔۔۔۔

حدید کی نظر اچانک جنت پر پڑی جو بیڈ سے نیچے گرنے لگی تھی ۔۔بھابھی۔۔۔

خُبیب سکندر نے اسے ایک جست میں گرنے سے پہلے تھاما تھا۔حدید گاڑی نکالو۔۔۔۔ اِزنا آنکھیں کھولو۔۔۔۔ وہ اسکے چہرے کو تھپک رہا تھا۔۔۔

وہ اسکے بے حوش وجود کو اٹھاتے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔ اسے اپنا وجود یخ ٹھنڈا پڑھتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔ باتوں میں احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ اسے ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔۔وہ بمشکل گاڑی تک پہنچا تھا۔۔۔ حدید نے جلدی سے گاڑی کادروازہ کھولا تھا۔خُبیب سکندر اسے سیٹ پر لیٹاتے اسکا سر اپنی گود میں رکھا ۔۔۔۔ حدید نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔۔۔۔

خُبیب بھائی میں نے کرن کو کال کر دی ہے۔ آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔

اس ٹائم ڈاکٹر مل جائے گی ۔۔۔۔ وہ پریشانی کے عالم میں حدید سے پوچھ رہا تھا۔۔۔

خُبیب بھائی میں نے کرن کو کال کر دی ہے آپ پریشان نہ ہوں۔وہ اپنےبھائی کو دلاسہ دیتے ہوئے بولا۔۔۔

**********************************************

وہ کب سے ہاسپٹل کے کوریڈور میں چکر لگا رہا تھا۔۔۔۔ حدید نے اب اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا بھائی بیٹھ جائیں ۔۔۔۔ اس طرح تو آپ تھک جائیں گے۔۔۔

نہیں میں ٹھیک ہوں خُبیب سکندر نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔ ڈاکٹر کو روم سے باہر نکلتے دیکھ کر دونوں ڈاکٹر کی طرف بڑھے تھے۔۔۔۔

آپ میں سے ساحر کون ہے ۔۔۔۔۔؟

ڈاکٹر کے پوچھنے پر دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔۔ امی میں نور کے بھائی کے ساتھ آئی ہوں لفظ اسکے کانوں میں گونجے تھے۔۔۔۔اسنے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں۔۔۔۔آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔حدید اپنے بھائی کی آنکھوں کی بڑھتی سرخی دیکھ کر بولا تھا۔۔ اب تو ڈیڈ بھی نہیں ہے

یااللہ خیر ۔۔۔۔وہ دل ہی دل میں سب اچھا ہونے کی دعائیں مانگ رہا تھا۔۔۔۔۔

خُبیب سکندر غصے سے روم کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔ وہ بیڈ پر بند آنکھیں کئے لیٹی تھی۔

آپ کہاں چلے گئے ہیں ۔۔۔۔۔ ؟

میں آپکو کیوں نہیں اچھی لگتی۔۔۔۔؟

زرد رنگت بڑی بڑی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے خشک ہونٹ جو اسنے سختی سے بھنچے ہوئے تھے۔بند پلکیں جو ابھی تک اس نے جھپکائی نہیں تھیں۔۔۔

”اِزنا ۔۔۔۔۔”

میں کب سے آپکو بلا رہی ہوں آپ بول کیوں نہیں رہے تھے۔۔۔۔؟

سب کے لئے آپ خُبیب سکندر ہیں ۔۔۔۔ میرے آپ ساحر ہیں جنکے سحر میں نکلتی ہی نہیں ہوں۔۔یہ سنتے ہی اسکی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اسکے اندر لگی آگ کچھ ٹھنڈی پڑی تھی۔

میں آپ کو اس لئے بتا رہی ہوں۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے کہ ساحر کا سنتے ہے آپ کی آنکھیں سرخ ہوگئی ہوں گی آپ کا دل کر رہا ہو گا۔۔۔۔میری جان لینے کو ۔۔۔تاکہ آپ مجھے کوئی سزا نہ دیں ۔۔۔۔اب میں آپ کی کوئی بھی سزا سہہ نہیں سکوں گی۔۔۔۔

وہ اسے دیکھے بغیر بول رہی تھی۔۔۔۔خُبیب سکندر نے اسکی بند آنکھوں کو دیکھا۔۔۔۔ پھر کچھ کہے بغیر ڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے اٹھا تھا۔۔۔

***************************************************

وہ ایک دن میں ہی مرجھا سی گئی تھی ۔۔۔ اس کو کچھ بھی نہیں ہے بس پریشانی لی ہے کمزوری کی وجہ سے بے ہو ش ہو گئی ہیں ۔۔۔ ڈرپ لگا دی ہے ۔۔۔۔ اس سے وہ بہتر فیل کریں گی۔۔۔ آپ کی وائف نے بتایا ہے کہ وہ ایک ہفتے سے نیند کی ٹیبلیٹ کھا رہی ہیں لیکن دو دن سے ٹیبلیٹ کھانے سے بھی نیند نہیں آ رہی ۔۔۔۔ اس طرح اپنی مرضی سے میڈیسن کھانا ان کی صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔

باقی یہ میڈیسن میں نے لکھ دی ہیں آپ نے باقاعدگی سے دینی ہیں۔۔۔۔ پریگنینسی کے ابتدائی دن ہیں ویسے بھی بہت ویک ہیں ۔ان کے کھانے پینے کا خیال رکھیں۔طبعیت سنبھلنے میں وقت لگے گا۔۔۔ایچ بی بھی کم ہے۔۔۔۔

وہ خاموشی سے ڈاکٹر کی لمبی تقریر سن رہا تھا۔۔۔۔ کلائی پر بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھا۔۔۔۔ رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحبہ وہ پھر بے ہوش گئی ہیں ۔ نرس نے آ کر جیسے دھماکہ کیا تھا۔

ڈاکٹر کے پیچھے خُبیب سکندر بھی روم سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔ اب وہ صیح معنوں میں پریشان ہوا تھا۔۔۔۔

ایسی کیا بات تھی۔۔۔۔۔؟

جس کا وہ اتنا سٹریس لے رہی تھی۔۔۔۔ اب وہ یہ سب پیار سے ہی پوچھ سکتا تھا۔۔۔۔۔

صبح موم ڈیڈ بھی آ رہے ہیں وہ اسے ہاسپٹل میں دیکھ کر پریشان ہونگے ان کے آنے سے پہلے اس کی طبعیت کا سنبھلنا بہت ضروری ہے۔۔۔۔

**************************************

ساری رات اسی طرح کٹ گئی تھی۔۔۔۔ خُبیب سکندر جو اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا۔۔۔۔ وہ تھوڑی ہی دیر میں سو گئی تھی ۔۔۔۔ اتنا اثر تو میڈیسن نے نہیں کیا تھا۔۔۔۔

جتنا اثراسکی انگلیوں نے کیا تھا۔۔۔۔؟

اسے گہری نیند میں دیکھ کر اسکا سر تکیے پر رکھتے۔۔۔ فجر کی نماز کے لئے اٹھا تھا۔۔۔۔

حدید کو وہ گھر بھیج چکا تھا اور اسے سختی سے منع کیا تھا کہ وہ عینا کو نہ بتائے۔۔۔ ؟

وہ اسے اکیلا بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔کہیں پھر نہ بے ہوش ہو جائے وہ یہ خیال آتے ہی پھر دوبارہ چئیر پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔خُبیب سکندر اسے ایک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔چہرے پر بلا کی معصومیت تھی۔

وہ اسکے خوف سے کچھ بھی نہیں بتاتی تھی۔۔۔۔۔

ہر وقت اسکی آنکھوں میں خوف ہوتا تھا زرا سا سخت لہجہ اپناتا تو تھر تھر کانپنا شروع کر دیتی تھی۔۔۔۔۔

اپنی ذات سے باہر نکل کر اسکے بارے میں تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔۔۔ وہ کتنا بے رحم بنا اسکے رونے سسکنے کو نظر انداز کر دیتا تھا۔۔۔

اسکا یہ ہی انداز اسے ڈپریشن میں لے گیا تھا۔۔۔۔ وہ بھول ہی تو گیاتھا کہ وہ بھی انسان ہے۔۔۔۔ لیکن وہ تو روتے دھوتے چپ چاپ اسکا ہر ظلم برداشت کرتی تھی۔۔۔۔ وہ پلٹ کر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا تھا۔۔۔۔

جب کبھی وہ اسے دیکھتی تو اسے بری طرح جھڑک دیتا تھا۔ وہ گھنٹوں ڈریسنگ روم میں بیٹھی روتی رہتی تھی۔

وہ کرب سے آنکھیں بند کئے کرسی کی بیک کے ساتھ ٹیک لگا گیا تھا۔۔۔۔۔

******************************************************