Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 12)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 12)
Ehsaas By Raheela Bano
خُبیب سکندر کو گھر میں آئے ہوئے ایک گھنٹہ ہو گیا تھا۔۔۔۔وہ اسے گھر میں ہر جگہ دیکھ چکا تھا۔۔۔وہ کہیں بھی نہیں تھی۔۔ تھک ہار کر روم میں آیا تھا۔۔۔۔ غصہ کی وجہ سے اسکی آنکھیں لال انگارہ ہوگئی تھیں۔۔۔۔ سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر اس کاموبائل دیکھ کر۔۔۔ اسکا دماغ ہی گھوم گیا تھا۔۔۔۔
ملازموں سے پوچھنا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔گھر میں بھی کسی سے پوچھنا گوارہ نہ تھا۔۔۔۔۔وہ کمرے میں مضطرب سا ٹہل رہا تھا۔۔۔۔
دروازہ کھلنے پر اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔وہ اپنی میکسی سنبھا لتی آ رہی تھی۔۔۔
کہاں گئی تھی تم۔۔۔۔ ؟
اسکی دھاڑ پر وہ ایک دم اچھلی تھی۔۔۔۔۔ پپ۔۔۔ پارلر۔۔۔۔وہ خوف سے بس اتنا ہی کہہ سکی تھی۔۔۔۔
کس سے پوچھ کر گئی تھی۔۔۔۔۔ اسنے ٹیبل پر پڑا گلدان دیوار پر دے مارا ۔۔۔ گلدان ٹوٹ کر پورے کمرے میں بکھر گیا تھا۔۔۔۔ جنت اب ہراساں نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
آپ ۔۔۔۔ ایک لفظ نہیں اور۔۔۔۔۔ اگر بولی تو زبان کھینچ لوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔جنت اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھتے خوف سے اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی۔۔۔
غصہ میں کچھ بھی تو سننا انہیں گوارہ نہیں تھا۔۔۔۔ اب وہ جلدی سے ڈریسنگ روم میں گھسی تھی الماری کھول کر بلیک سوٹ نکالا جو وہ کل ہی لے کے آئے تھے ۔۔۔۔اسنے اسی وقت پریس کر کے الماری میں لٹکا دیا تھا۔۔۔۔۔۔
قمیض بیڈ پر رکھتے شلوار واش روم میں لٹکانے گئی تھی۔۔۔ میں تو انکو خوش کرنے کے چکر میں گئی تھی۔۔۔۔ پر اس جلاد نے قسم کھائی ہے مجھے ذلیل کرنے کی۔۔۔ اتنی دیر میں دروازے پر دستک ہوئی تھی۔۔۔۔
میم جلدی آجائیں سب آپ لوگوں کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔ بس دس میں ہم لوگ آئے۔۔۔۔وہ دروازہ بند کرتے پلٹی تھی۔۔۔۔انہیں وہی بت بنے کھڑے دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔۔۔ بلیک پینٹ پر بلیک ہی شرٹ پہنے اسے گھو ر رہے تھے۔۔۔۔
وہ اسے کچھ بھی تو نہیں کہہ سکتی تھی۔۔۔۔ اس جلاد کے قہر کا سامنا کرنے کی اسکے اندر اتنی ہمت نہیں تھی۔ وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔۔۔پتہ نہیں اب کتنی دیر تک اسے کھڑے رہنا تھا۔۔۔
*****************************************
ہارون سکندر ۔۔۔مضطرب سا صوفےپر بیٹھا یہ سوچ رہا تھا۔۔۔ کہ اتنا وقت کا پابند بندہ ابھی تک روم سے باہر نہیں آیا تھا۔۔۔۔ احمر اور عینا بھی آچکے تھے ۔۔۔سب ان دونوں کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔اب انکی انگلیاں موبائل پر جنت کا نمبر ملا رہی تھیں۔۔۔دوسری طرف جنت کال اٹینڈ ہی نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اللہ خیر کرے اب انہیں عجیب سے وسوسے آرہے تھے۔۔
”بھابھی۔۔۔۔”
عینا کی آواز ہارون سکندر موبائل ٹیبل پر رکھتے کھڑے ہوئےتھے۔۔۔۔ عینا اسکے گال کے ساتھ گال ملاتے اب اسے گول گول گھما رہی تھی۔۔۔
”آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔”
ہارون سکندر نے نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا جو ضرورت سے زیادہ سنجیدہ چہرے لئے کھڑا تھا۔۔۔۔۔ سلام تو دور کی بات کسی کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں سمجھا۔۔۔۔اگر کسی سے سروکار نہیں تھا تو یہ سب کرنے کی کیا ضروت تھی ہارون سکندر کڑھ کر کر اپنے منھ میں ہی بڑبڑائے تھے۔۔۔۔
ایک دم تالیوں کی گونج سے وہ حواس کی دنیا میں لوٹا تھا۔۔۔۔سب کے ساتھ ہارون سکندر نے بھی انہیں مبارک دی تھی ۔۔۔اب وہ اپنی بیوی کو دیکھنے لگا۔۔۔۔اسکے چہرے پر سنجیدگی دیکھتے اسکی طرف قدم بڑھائے تھے ۔۔۔۔
کیا بات ہے بیگم۔۔۔۔۔؟ وہ آہستگی سے گویا ہوئے ۔۔۔۔۔
وجہ آپ جانتے ہیں۔۔۔تو پھر پوچھ کیوں رہے ہیں۔۔۔؟
کتنی بار کہا ہے اسے اسکے حال پر چھوڑ دو وقت کے ساتھ سب صحیح ہو جائے گا۔۔۔۔
وہ وقت کے ساتھ ٹھیک نہیں بدتمیز ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔۔ اور پتہ یہ ڈریس جو جنت نے پہنا ہے۔۔ ۔۔۔ جنت نہیں اِزنا۔۔۔ ہارون سکندر نے اسیے بیچ میں ہی ٹوکا تھا۔۔۔۔اچھا ۔۔۔اچھا۔۔۔یہ خود لیکر آیا ہے۔۔۔ہمیں پتہ نہیں کس چیز کی سزا دے رہا ہے۔۔۔فوزیہ سکندر چڑ کر بولی تھیں۔۔۔
خاموشی کا لبادہ ایسے اوڑھا ہے۔۔۔۔ جیسے اسکی شادی کر کے ہم نے کوئی گناہ کر دیا ہو ۔۔۔۔۔ بچی بیچاری ہر وقت ڈری سہمی رہتی ہے۔۔۔۔ وہ اسکے ڈر کی وجہ سے میرے ساتھ پارلر نہیں جا رہی تھی۔۔۔۔ اور میرے نمبر سے اسے کئی کالز کی جو موصوف نے اٹینڈ ہی نہیں کیں۔۔۔۔
اور سوچو آپنی کلاس کی لڑکی اس کے ساتھ گزارا کر لیتی ۔۔۔۔۔۔اب غصے میں فوزیہ سکندر کے منھ میں جو آرہا تھاوہ بول رہی تھیں۔۔۔۔وہ خاموش ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ بدتمیز ہے۔
میرے بیٹے میں کیا کمی ہے۔۔۔۔؟
یہ کلاس کا رونا تم میرے پاس نہ رویا کرو۔۔۔۔
وہ جس طرح کی لڑکی چاہتا تھا وہ اسے مل گئی ہے بس اسے سمجھنے میں ٹائم لگے گا۔۔۔۔
اور تم ایسے ہی میرے بیٹے میں کیڑے نہ نکالتی رہا کرو۔۔۔۔وہ دبی دبی آواز میں بولے۔۔۔فوزیہ سکندر ۔۔۔نے گھور کر ہارون سکندر کو دیکھا۔۔۔۔
”موم۔۔۔۔۔ آپ میرے ڈیڈ کو گھور کر کیوں دیکھ رہی ہیں۔۔”
عینا کیک دونوں کو پکڑاتے ہوئے بولی۔۔۔
ڈیڈ۔۔۔۔ یہ اپنے خُبیب بھیا بلکل موم پر گئے ہیں۔۔۔وہ قدرے اونچی آواز میں بولی۔۔۔جس پر ہارون سکندر کا بلندو بانگ قہقہ گونجا تھا۔۔۔سب ہی دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے۔
خُبیب سکندر سب پر قہر بار نظر ڈالتے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
*************************************************
جنت اسکے پیچھے ہی روم میں آئی تھی۔۔۔۔آپ نے اگر یہ سب کرنا تھا تو اتنا ارینج کرنے کی کیا ضروت تھی کوئی بھی آپ کے غصے کی وجہ سے انجوائے نہیں کر سکا۔۔۔۔۔
احمر بھائی کیا سوچ رہے ہوں گے۔۔۔۔؟
وہ غصے سے لال پیلی اسکے مقابل کھڑی تھی۔وہ اپنے غصے میں بھول ہی گئی تھی۔۔۔ کہ وہ شیر کی کھچال میں ہاتھ ڈال رہی ہے۔۔۔۔
آپ مجھ پر غصہ تھے نہ۔۔۔۔۔ خُبیب سکندر نے آگے بڑھتے ہوئے اسکے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھی تھی ۔۔۔
”جسے پکڑ کرجنت نے جھٹک دیا تھا۔۔۔۔لگتا ہے تمہیں اپنی جان پیاری نہیں ہے۔۔۔۔ خُبیب سکندر اسکا جبڑا دبوچے بولا۔۔۔ جان تو مجھے بہت پیاری ہے ۔۔۔۔ لیکن آپ کو اس سے اللہ واسطے کا بیر ہے۔۔۔۔۔ اور آپ نہ بات بات پر مجھ پر ہاتھ نہ اٹھایا کریں۔۔ورنہ میں ڈیڈ کو شکایت لگا دونگی۔۔۔۔۔”
پہلے ہی آپ کے تھپر سے میرے کان کا درد ابھی تک نہیں گیا۔۔۔وہ بولے جارہی تھی۔۔۔۔اور خُبیب سکندر سٹل ہوا اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔۔۔۔
جسکی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی۔۔۔۔۔۔دیکھنے میں ہی تم بچی لگتی ہو۔۔۔۔۔ دماغ تمہارا عورتوں کی طرح کام کرتا ہے ۔۔۔۔ایسے تو نہیں اتنے بڑے بزنس مین اور اسکے گھر والوں کو بیوقوف بنا لیا۔۔۔۔۔خُبیب سکندر کی زبان زہر اگل رہی تھی۔۔۔۔اور جنت اپنی ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھتے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے جکڑے زمین پر بیٹھتی چلی گئی ۔۔۔۔۔۔یہ طعنے تو شایداس کے مقدر میں لکھ دیئے گئے تھے۔۔۔۔
***********************************************
خُبیب سکندر ڈاکٹر احمر کے بلانے پرہاسپٹل آیا تھا۔۔۔۔کافی دیر انتظار کرنے کا بعد احمر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔ سوری یار دیر ہو گئی اصل میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے۔ وہ اپنی ریوالوانگ چئیر پر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
کہ آپ نے کل جو مریض میرے پاس بھیجا ہے ۔۔۔میں نے اسے کے سارے ٹیسٹ کروائے ہیں ۔۔۔۔ لیکن اس بچے کا بچنا بہت مشکل ہے وہ تو بس اپنی سانسیں پوری کر رہا ہے۔۔۔
میں نے اس بچے کی ماں کو بتا دیا ہے ۔۔۔۔۔وہ بہت رو رہی ہے اسکے تن پر تو ڈھنگ کے کپڑے بھی نہیں ہیں۔۔۔۔کہہ رہی ہے سب کچھ بیچ کر اپنے بیٹے پر لگا دیا ڈاکٹر یہی کہتے رہے ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔ میں نے اسے حقیقیت اس لئے بتائی ہے کہ وہ ذہہنی طور پر تیار رہے۔۔۔۔
اور اس عورت نے منٹ منٹ بعد آ کر میرا دماغ خراب کر دیا ہے۔۔۔۔۔میں صرف تمہاری وجہ سے بر داشت کر رہا ہوں ۔۔۔ میری وجہ سے برداشت کر رہے ہو اللہ کے خوف کی وجہ سے نہیں۔۔۔۔خُبیب سکندر نے اسے دیکھتے ہوئے گہرا سانس لیا تھا۔۔۔۔
تم اسے ہاسپٹل میں ہی ایڈمٹ رکھو جتنے بھی چارجز ہوں میں پے کر دونگا۔۔۔۔
بات پیسوں کی نہیں ہے خُبیب بھائی ۔۔۔۔
یہ کون ہے۔۔۔۔؟
جسکی آپ اتنی سر دردی لے رہے ہیں۔۔۔ پتہ نہیں کون ہے ۔۔۔۔؟ احمر تم نے کبھی غور کیا کہ یہ جو برقعہ پہن کر پردے میں عورتیں مانگتی ہیں۔۔۔
کیا یہ سچ میں ضرورت مند ہیں ۔۔۔۔؟؟؟
پتہ نہیں خُبیب بھائی میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا۔۔۔میں تو آپ کے منھ سے سن رہا ہوں کہ پردے کر کے بھی عورتیں مانگتی ہیں یہ کہتے ہوئے اس نے زور دار قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔ جس پر خُبیب سکندر نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔
اچھا اب بتائیں۔۔۔وہ اب سنجیدیگی سے اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔یار میں سمجھتا تھا کہ عورتوں نے مانگنے کا یہ نیا طریقہ اپنا لیا ہے۔۔۔۔۔۔ ان کی تعداد دوسرے بھکاریوں کی نسبت کم ہے یا شاید مجھے لگتا ہے۔۔۔
اب پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ یہ سچ میں ضروت مند ہیں۔۔۔؟
یہ بھی بھکارن ہے۔۔۔۔ اس وقت اسکی آواز میں درد محسوس کرتے میں نے تمہارا ایڈریس دے دیا۔۔۔۔خُبیب بھائی آپ فکر نہ کریں میں اپنی پوری کوشش کروں گا۔۔۔۔احمر اسے یقین دلانے والے انداز میں بولا۔۔۔۔
اور سنو ۔۔۔۔انہیں کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہئے وہ یہ کہتے ہوئے کھڑا ہوا تھا ۔
کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔۔؟
میں نے آپکے لئے چائے منگوائی ہے۔۔۔۔ نہیں میں نے ابھی آفس بھی جانا ہے ڈیڈ پریشان ہونگے۔۔۔۔ میں انہیں بتا کر نہیں آیا۔۔۔۔ آپ انہیں
کال کر دیں۔۔۔نہیں شکریہ وہ یہ کہتے ہوئے اس سے ہاتھ ملاتا باہر کی طر ف بڑھا۔۔۔۔
********************************************
جنت اپنی امی کی تصویر پکڑے بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔۔ وہ واحد رشتہ تھا اسکے پاس جس سے وہ دنیا جہان کی باتیں کرتی۔۔۔۔ اور وہ مسکراتے ہوئے سنتی سنتی سو جاتی تھی۔۔۔۔ اب اسکی باتیں سننے والا کوئی نہیں اسکا درد باٹنے والا کوئی نہیں۔۔۔اس دل کرتا کہ وہ اپنی امی کو قبر سے نکال لائے۔۔۔یااپنی امی کی قبر اپنے گھر بنا لیتی اور نہیں اپنی ماں کی قبر کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتی رہتی۔۔۔ دل کو سکون تو ملتا۔۔۔۔
کیا ضرورت تھی شادی کرنے کی ۔۔۔اماں آپ کہتی تھی نہ شادی کے بعد تم سب بھول جاؤ گی۔۔۔۔ لیکن میں تو اپنے دکھ بھول ہی نہیں پائی۔۔۔کہتے ہیں مرنے والوں پر صبر آ جاتا ہے۔۔۔۔اپنی ماں کے مرنے پر صبر کروں یا اپنے شوہر کے دیئے گئے زخموں پر۔۔۔ جنہوں نے میری روح کو چھلنی کر دیا ہے۔۔۔۔
اماں آپ کہتی ہیں۔۔۔۔ کہ میں خوش قسمت ہوں۔۔۔۔ کہ مجھے۔۔وہ سب مل گیا ہے۔ جس کی ہر لڑکی خواہش کرتی ہے۔۔۔میں جب اس محل نما گھر کو دیکھتی ہوں جسے شاید خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔ پر مجھے ان چیزوں سے محبت نہیں ہے۔۔۔مجھے تو اپنے شوہرکی توجہ چاہئے۔۔۔۔
کیا مجھے اپنے شوہر کی محبت ملے گی۔۔۔۔؟
کل تک وہ اپنی ماں کی زندگی کی دعائیں مانگتے ہوئے روتی تھی۔۔۔۔اب میں شوہر کی محبت کے لئے تڑپ تڑپ کر دعائیں مانگتی ہوں۔۔۔
”پہلے خوف تھا ماں کہیں چھوڑ کر چلی نہ جائے ۔۔۔۔۔ اب یہ ڈر ہے کہ شوہر کہیں چھوڑ نہ دے۔۔۔۔”
بے شک ہر آنے والے کو جانا ہوتا ہے۔۔۔پر اب اس بھری دنیا میں میرا واحد سہارا میرا شوہر ہے ۔۔۔ مجھے اب انہیں نہیں کھونا۔۔۔۔ وہ کب سے رو رہی تھی۔۔۔۔؟
اب بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں موند گئی تھی۔۔۔
***************************************
جنت اب خُبیب سکندر کو دیوانہ وار دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ وہ کئی بار انسے معافی مانگ چکی تھی۔۔۔۔۔ لیکن انکی چپ ٹوٹی نہیں تھی اب تو وہ پچھتا رہی تھی۔۔۔۔ کہ کیا ضرورت تھی۔۔۔۔۔؟ اس دن زبان چلانے کی ۔۔۔۔آج اسکارزلٹ بھی آنا تھا۔۔۔۔
ڈیڈ کو بھی رول نمبر دیا تھا۔۔۔۔لیکن ابھی تک ان کی کال نہیں آئی تھی۔۔۔۔خُبیب سکندر کو لیپ ٹاپ پر کام کرتے دیکھ کر وہ اسکے قریب آئی تھی۔۔۔۔۔
آپ مجھ سے ناراض ہیں۔۔۔خُبیب سکندر بیڈ پربیٹھا تھوڑا سا کھسکا تھا۔۔۔۔ اسنے جنت کو یٹھنے کے لئے جگہ دی تھی۔۔۔ جنت نے بیٹھتے ہوئےاسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔۔۔کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ نہیں ہوں۔۔۔۔۔ پھر روز ایک ہی تکرار کیوں۔۔۔۔۔؟
اب وہ اسکا ہاتھ چھوڑتے دونوں پاؤں اوپر کر کے بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔پھر اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جیسے اسکے چہرے پر کچھ کھوج رہی ہو۔۔۔آپ کے چہرے پر جو دکھ کی چھاپ ہے۔۔۔وہ مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔۔۔وہ دکھی لہجے میں بولی۔۔۔۔ پوری عورت ہے۔۔۔ خُبیب سکندر نے دل میں سوچا تھا۔۔۔۔وقت اور حالات نے اسے وقت سے پہلے بڑا کر دیا تھا۔۔۔۔
اس نے لیپ ٹاپ بند کر کے سائیڈ پر رکھا تھا۔۔۔۔۔اب وہ اسکے پیٹ پر اپنی انگلیوں سے آڑھی ترچھی لائنیں بنا رہی تھی۔۔۔۔جس طرح اسنے گھر کی بھاگ دوڑ سنبھلی تھی وہ خود حیران تھا۔۔۔۔۔ جو لڑکی اسکی نظر میں ناقابل اعتبار تھی۔۔۔۔ پر سب سے بڑھ کر اسکے موم اور ڈیڈ اس سے خوش تھے۔۔۔
کرن کا گھر میں ہونا نہ ہونا ایک برابر تھا۔۔۔۔۔ وہ ایک گھریلو لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ جو اسے اپنے سرکل میں ملی نہیں تھی۔۔۔۔
جنت ۔۔۔سائیڈ ٹیبل سےپینسل اٹھاتے ہوئے اسکے ہاتھ پر کچھ لکھ رہی تھی۔۔۔۔ مت لکھو میرے ہاتھ پر کچھ۔۔۔زبان کس لئے ہے۔۔۔وہ خفگی سے بولا ۔۔۔۔۔یہ میرا رول نمبر ہے۔۔۔آپ میرا رزلٹ چیک کریں گے ۔۔۔۔ بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔خُبیب سکندر سیدھا ہو کے بیٹھا تھا۔۔۔۔ اور رزلٹ دیکھ کر کیا کرو گی۔۔۔۔؟
پلیز پلیز۔۔۔۔ وہ اب منتیں کرنے لگی۔۔۔ اتنی دیر میں دروازے پر دستک ہوئی تھی۔۔۔ اللہ خیر کرے وہ یہ کہتے ہوئے اٹھی تھی۔۔۔ کون ۔۔۔۔میم آپکو بڑے سر ۔۔۔بلا رہے ہیں۔۔۔ اچھا ان سے کہو میں ابھی آتی ہوں۔۔۔وہ دروازہ بند کرتے پلٹی تھی۔۔۔۔ ڈریسنگ مرمر میں خود کو دیکھتے ہوئے۔۔۔ ڈوپٹہ سیٹ کیا۔۔۔۔ میں ڈیڈ کی بات سننے جارہی ہوں۔۔۔ تھوڑی دیر تک آ جاؤں گی۔۔۔یہ کہتے ہوئے وہ پھرتی سے باہر نکلی تھی۔۔۔۔۔ کہ کہیں مقابل اسے روک نہ لے۔۔۔۔
***********************************
