930K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehsaas (Episode 11)

Ehsaas By Raheela Bano

خُبیب سکندر نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھا رات کے دس بج رہے تھے۔اور کھانے کے درمیان میں ہی اٹھ کر عینا کے ساتھ چلی گئی تھی۔۔۔اسے اسکا اسطرح کھانا چھوڑ کر جانا بلکل آچھا نہیں لگا تھا۔۔۔۔

کھانے کے بعد اب وہ سب لوگ لاؤنج میں بیٹھے تھے۔۔۔۔اور اسکی نظریں بھٹک بھٹک کر داخلی دروازے کی طرف جارہی تھیں۔۔۔جسے وہاں پر مو جود سب لوگ محسوس کر رہے تھے ۔۔۔۔ اتنی دیر میں عینا چائے لیکر آئی تھی۔۔۔۔اب اسے اسکے ساتھ نہ دیکھ کر اسکے غصے کا گراف مزید بڑھا تھا۔۔۔۔۔۔

اپنے بھائی کو غصے میں دیکھ کر عینا سب کو چائے کے کپ پکڑاتے ۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔ بھیا آپکی چائے بھابھی لا رہی ہیں۔۔۔وہ کہہ رہی تھیں ۔کہ آپ کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے وہ ادرک والی چائے بنا رہی ہیں۔۔۔۔

اصل میں وہ مجھے بنانی نہیں آتی۔۔۔۔ اتنی دیر میں وہ چائے کا کپ پکڑے چہرے پر مسکان سجائے آرہی تھی۔۔۔۔ وہ اسے چائے کا کپ پکڑاتے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔

ماشااللہ کتنی پیاری بچی ہے ۔۔۔۔۔ سلمہ بیگم ۔۔۔جو عینا کی ساس تھیں اس نے جنت کو دیکھتے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جس پر اسکی مسکان مزید گہری ہوئی تھی۔۔۔۔۔

بیٹا آپ نے ساڑھی کیوں چینج کی مجھے عینا نے تمہاری تصویر دیکھائی تھی۔۔۔بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔وہ جنت کو نیہارتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

اصل میں آنٹی اس پر چائے گر گئی تھی۔۔۔۔پھر لیٹ بھی ہو رہے تھے۔۔۔ اس لئے جلدی میں یہ پہن لیا۔۔۔

کیایہ اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔ ؟

جنت ۔۔۔۔جو اپنی دھن میں بول رہی تھی۔۔۔

اب ایک نظر خُبیب سکندر کو دیکھا۔۔۔۔ جو موبائل دیکھنے میں مصروف تھے۔۔۔جنت کے لئے سب سے مشکل کام اس شخص کے پاس بیٹھنا تھا۔۔۔۔

ہارون بھائی آپ نے تو ماشااللہ اپنے سارے فرض آدا کر لئے اب اللہ تعالی ان سب کو خوش رکھے ۔۔۔ انکی بات پر سب نے آمین کہا تھا۔۔۔۔۔

جی۔۔۔۔۔ اب تو ا انشااللہ اگلے مہنے عمرہ کرنے جائیں گے۔۔۔خُبیب سکندر ۔۔۔۔ نے انکی بات پر کان کھڑے کئے تھے۔۔۔۔ماشااللہ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔۔سلمہ بیگم مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔اب آپ ہمیں اجازت دیں کرن گھر پر اکیلی ہو گی ۔۔۔۔

ہارون سکندر صوفے سے کھڑے ہوتے بولے۔۔۔ اب سب ہی انکی تقلید میں کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔۔

********************************************

جنت صبح صبح نماز کے بعد لان میں جھولے پر بیٹھی تھی۔۔۔۔ اتنا بڑا لان اس میں بہت ہی خوبصورت پودے کچھ کیاریوں میں کچھ گملوں میں لگے ہوئے تھے گلاب کے پھولوں کی خوشبو پورے لان میں پھیلی ہوئی تھی۔۔۔

کلیوں کے پودے کلیوں سے بھرے پڑے تھے ایک سیاہ چڑیا چوں چوں کرتی کلیوں کے پودوں پر بیٹھتی کبھی اڑنے لگ جاتی۔۔۔۔ وہ چھوٹی سی چڑیا بڑی پیاری لگ رہی تھی۔۔۔وہ حسین منظر میں کھو سی گئی تھی۔۔۔۔

میم۔۔۔ وہ ملازمہ کی آواز پر چونکی تھی۔۔۔ جس کے ہاتھ پکڑی ٹرےجس میں دودھ کا گلاس اور ایک پلیٹ میں ابلے ہوئے انڈے تھے۔ مجھے نہیں کھانا یہ سب۔۔میم سر نے جو ڈائیٹ پلان دیا ہے اس میں آپکو یہ سب کھانا پینا ہوگا۔۔۔۔۔۔

اچھا تم اس طرح کرو اس دودھ کی چائے بنا دو۔۔۔وہ چائے کے ساتھ تو ابلے ہوئے انڈے کھا سکتی تھی ۔لیکن دودھ کے ساتھ نہیں۔۔۔۔میم آپ یہ دودھ پی لیں میں چائے بھی آپکو بنا دونگی۔۔۔۔۔۔ایسا کرو تم اسے روم میں لے جاؤ میں وہی آتی ہوں۔۔۔۔آپ کتنی اچھی ہیں۔۔۔ملازمہ چہک کر بولی تھی۔۔۔

وہ گھر کے تمام ملازمین کے ساتھ پیار سے بات کرتی تھی۔۔اور آپ کتنی پیاری ہیں ۔۔۔ میرا دل کرتا ہے کہ بس آپکو دیکھتی رہوں۔۔۔۔وہ یہ کہتے ہوئے جانے کے لئے بڑھی تھی۔۔۔۔جنت اسک پشت کو دیکھ رہی تھی۔ اب تو اسے اپنی تعریف بھی اچھی نہیں لگتی تھی۔۔۔۔

”ہائے اللہ”

میں اپنی مرضی سے کھا پی بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔اور وہ کل سےدو گھنٹے بعد کچھ نہ کچھ لئے جن کی طرح حاضر ہو جاتی تھی۔

واہ۔۔۔۔۔۔!! جنت تیری قسمت۔۔۔ان چیزوں کے لئے ترستی تھی۔۔۔۔ بھوک کی وجہ سے روتی کبھی امی کو کھلا کہ اسکے لئے بچتا ہی نہیں تھا اسنے اپنی ماں پر کبھی ظاہر نہیں کیا تھا کی وہ بھوکی ہے وہ اسی طرح روتے روتے سو جاتی۔۔۔۔۔فاقے کاٹے تھے۔۔۔بار بار پانی پی کر اپنا پیٹ بھرتی۔۔۔خدا کا شکر کرتی کہ پینے کے لئے پانی تو ہے۔۔۔۔۔

جب دل کرتا تھا تو یہ سب کھانے کے لئے دستیاب نہیں تھا۔۔۔۔ اب جبکہ دستیاب ہے تو کھانے کو دل نہیں کرتا۔۔۔۔آنسوؤں سے بھری آنکھیں بے دردی سے صاف کرتےکمرے میں جانے کے لئے اٹھی تھی۔۔۔۔۔

*********************************************

ماں جی نے جنت کو شوہر کے حقوق پر کتاب دی تھی ۔۔۔ جسے وہ پڑھ کر اوندے منھ لیٹی شدت سے رو رہی تھی۔۔۔ یا اللہ مجھے معاف کر دینا میں تو انہیں دل میں بہت برا بھلا کہتی ہوں۔۔۔۔ انکی اب میں بلکل نافرمانی نہیں کروں گی ۔۔۔۔

”یااللہ دنیا میں وہ معاف نہیں کرتے دوزخ کی آگ کی طرح جلتی ہوں۔۔۔اور مرنے کے بعد آپ معاف نہیں کریں گے وہاں بھی آگ میں جلوں گی۔۔۔”

میری تو بخشش کی دعا کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔۔۔۔یااللہ میں نے جو بھی کیا انجانے میں کیا۔۔۔۔میں پچاس نفل پڑھوں گی مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔

میں ان سے بھی معافی مانگ لوں گی۔۔۔۔ یا اللہ وہ بھی مجھے معاف کر دیں۔۔۔

انہوں نے بھی تو پہلے دن اتنی زور سے تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔ ابھی تک میرے کان میں درد ہوتا ہے ۔۔۔۔۔یااللہ میں تو چھوٹی سی ہوں ۔۔۔۔ وہ تو اتنے بڑے ہیں۔۔۔پورے سولہ سال مجھ سے بڑے ہیں۔۔۔۔۔اوپر سے چالاک بھی ہیں ۔میرا میک اپ کروا کر مجھے اتنا بڑا بنوا دیتے ہیں۔۔۔

یا اللہ آپ جانتے ہیں ۔

کہ وہ کتنے خطر ناک ہیں۔۔۔۔ مجھے کس طرح باندھ دیا تھا میں ساری رات روتی رہی مجھے معاف نہیں کیا تھا ۔۔۔۔

اور مجھے کہتے ہیں میں لالچی ہوں ۔۔۔۔میں نے دولت دیکھ کر ان سے شادی کی ہے ۔۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں نہ میں لالچی نہیں ہوں۔سب کہتے ہیں میں اتنی خوبصورت ہوں۔۔۔۔ ایک دن بھی میری تعریف نہیں کی۔

دروازے پر دستک سے وہ سیدھی ہوئی تھی۔۔۔

کمرے کی لائٹ اسنے آف کی تھی۔۔۔ دن میں بھی کمرے میں اندھیرا ہی لگتا تھا۔۔۔۔ میم یہ جوس۔۔۔۔لے جاؤ مجھ کچھ نہیں پینا۔۔۔۔ اور سنو دوبارہ نہ آنا مجھے جب بھوک ہوگی میں خود ہی کھا پی لوں گی۔۔۔۔

لیکن میم سر باہر بیٹھے ہیں وہ غصہ کریں گے ۔ایسا کرو یہ تم سر کو ہی دے دو انکا دماغ ٹھنڈا رہے گا۔۔۔۔

جی میم۔۔۔۔ وہ کہتے ہوئے باہر کی سمت بڑھی۔۔۔ اور وہ جلدی سے اٹھتے ڈریسنگ مرمر میں خود کو دیکھنے لگی۔۔۔ آج اسنے میرون سوٹ پہنا تھا۔۔۔۔۔ اب ہونٹوں پر میرون لپ اسٹک لگا نے لگی۔۔۔ آگے سےبالوں کی چھوٹی چھوٹی لٹیں نکالیں تھیں۔۔۔بس آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔۔۔

اب دوبارہ بیڈ پر آکر لیٹ گئی تھی۔

*********************************************

خُبیب سکندر ۔۔۔۔دیوان پر بیٹھا سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔۔۔ ڈیڈ عمرے پر جا رہے ہیں وہ بھی ایک مہنے کے لئے۔۔۔۔لیکن زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔۔۔ کہ وہ ایک دن کے لئے بھی کہیں گئے ہوں۔۔۔۔۔۔

یہ سوچ سوچ کر ہی اسکی جان پر بنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ کسی اور جگہ پر جاتے تو وہ روک لیتا ۔۔۔۔ لیکن اب وہ ایسی جگہ جارہے تھے کہ وہ روک بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔

اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔اسنے اپنی شرٹ کے اوپر والے دونوں بٹن کھولے تھے۔۔۔۔۔۔ڈیڈ آپ نہیں جانتے آپ میرے لئے کیا ہیں۔۔۔؟

آپ بچپن میں جب آفس سے تھوڑی دیر لیٹ ہوجاتے تو میں گیٹ کے پاس کھڑا آپ کاانتظار کرتا تھا۔۔۔ اس بات پر مجھے مما سے کتنی ڈانٹ پڑتی تھی۔۔۔

ایک بار جب آپ کراچی گئے تھے تین دن کے بعد آئے تھے تو مجھے اتنا تیز بخار ہوا تھا۔۔۔۔۔میں دس دن ہاسپٹل میں ایڈمٹ رہا تھا۔۔۔۔۔

آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔۔۔۔؟

کے مجھے کبھی اکیلے چھوڑ کر نہیں جائیں گے آپ اپنے ساتھ میرا بھی ٹکٹ کروا سکتے تھے لیکن نہیں کروایا۔۔۔۔

سوچ سوچ کر اسکی دماغ کی نسیں پھٹنے والی ہو رہی تھیں۔آنسو اسکی آنکھوں میں روانی بہہ رہے تھے ۔۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔۔۔ بچے اپنی ماں سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔خاص طور پر لڑکوں کے لئے یہی کہا جاتا ہے۔پر میں نے تو موم سے زیادہ آپ سے محبت کی ہے۔۔۔محبت نہیں بلکہ عشق کیا ہے۔۔۔۔۔؟

اب وہ دونوں ہاتھوں سے سر جکڑ گیا تھا۔۔۔۔

ایکدم لائٹ ہونے کی آواز پر سر اٹھا کر دیکھاتھا ۔کمرے میں اتنا سناٹا تھا کے بٹن دبنے کی آواز اس تک آئی تھی۔۔۔۔۔ کمرہ روشنی سے نہا گیا تھا۔۔۔۔۔ آپ کی طبعیت ٹھیک ہے ۔اِزنا کی آواز پر اسکی طرف دیکھے بغیر جلدی سے کھڑا ہوتے رکھ پلٹ گیا تھا۔۔۔۔ اب وہ اسکی طرف پشت کئے کھڑا تھا۔۔۔۔

آپ مجھ سے ناراض ہیں۔۔۔۔اسنے اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔۔ جس پر خُبیب سکندر نے رخ پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔۔ سو جاؤ۔۔۔ وہ نرم لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔

آپ لیٹ جائیں ۔۔۔۔تھک گئے ہونگے۔۔۔۔ وہ اسے ہاتھ سے پکڑتے بیڈ تک لائی تھی۔۔۔مجھے نیند نہیں آ رہی۔۔۔آپ جب لیٹیں گے نہ تو خود ہی آجائے گی۔۔۔وہ تکیہ درست کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔اب وہ چپل اتارتے بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔۔

آپ با لوں پر تیل لگاتے ہیں۔۔۔ میں آپ کے سر پر تیل کی مالش کرتی ہوں آپکو نیند آ جائے گی وہ اسکے گھنے سیاہ بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔۔ لائٹ آف کر کے میرے پاس آ جاؤ۔۔۔۔۔ اب وہ چھوٹی سی لڑکی اسکا سکون بن گئی تھی۔۔۔۔۔

**********************************

جنت کو لگا کے کسی نے اسکے ماتھے پر ہا تھ رکھا ہے۔۔۔۔پھر اپنی گال پر محسوس کرتے اپنی بمشکل آنکھیں کھولی تھیں۔۔ پھر آنکھیں بند کر کے کھولی تھیں۔۔۔ یہ اتنی جلدی کیسے آگئے۔۔۔۔۔؟

وہ اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھ کہ بیٹھی تھی۔۔۔۔

اب ڈوپٹہ درست کرتے بیڈ سے نیچے اتری تھی۔۔۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بات کس طرح شروع کرے ۔۔۔ اگر سونا ہے تو سو جاؤ۔۔۔ خُبیب سکندر اسے کہتے ہوئے دیوان پر بیٹھ گیا۔۔۔

اگر یہ ہی کہنا تھا تو پھر اٹھایا ہی کیوں۔۔۔؟

وہ منھ میں بڑبڑائی تھی۔۔۔

آپ پہلے چینج کریں گے۔۔۔یا کھانا کھائیں گے ۔۔۔اپنی جمائی روکتے ہوئے بولی۔۔۔

اسکو کیا ہوگیا ہے۔۔۔۔۔؟

جو اسے دیکھ کر جاگتی سو جاتی تھی۔۔۔۔۔۔ایکدم سے اسکی تبدیلی اسی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ رات کا ایک ایک منظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا۔۔۔۔وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ڈارک بلیو سوٹ میں ڈوپٹہ سر پر اوڑھے میک اپ سے بے نیاز چہرا وہ بہت پاکیزہ سی لگی تھی۔۔۔۔

ان تھوڑے سے دنوں میں اسک صحت بھی اچھی ہو گئی تھی۔۔۔ بتا بھی دیں وہ اپنی بند آنکھوں کو مسلتے ہوئے بولی۔۔۔ مجھے کچھ نہیں کھانا۔۔۔۔نہ ہی ابھی چینج کروں گا۔۔۔

باہر ڈیکوریشن والے آئے ہوئے ہیں ۔ آج حدید کی شادی کی سالگرہ ہے ۔۔۔ میں نے ان دونوں کے لئے سرپرائز رکھا ہے۔۔۔ یہ میں تمہارے لئے ڈریس لیکر آیا ہوں۔۔۔۔ اسے ایک بار دیکھ لو اورکسی چیز کی ضروت ہو تو مجھے کال کر دینا۔۔۔۔مجھے اچھا سا کوئی گفٹ لا دیں ۔۔۔ جو میں انہیں دونگی۔۔۔۔ میری پاس اتنے سارے کپڑے ہیں۔۔۔ آپ رہنے دیتے میں ان میں سے ہی ایک پہن لیتی۔۔۔۔

جتنا کہتا ہوں نہ بس اتنا کیا کرو۔۔۔۔۔؟

جب میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ جو کہیں گے میں وہ کروں گی ۔۔۔۔ تو آپ نے مجھے کیا کہا تھا۔۔۔۔۔۔وہ لہجے میں ڈھیروں معصومیت سموئے بولی۔۔۔۔

اسکی بات پر خُبیب سکندر کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ اسکی باتوں کو یاد رکھے ہوئے تھی۔۔۔۔ میں اب جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔ رات کو جلدی تیار ہو جانا۔۔۔۔وہ اسکی بات کا جواب دئیے بغیر باہر کی سمت بڑھا۔۔۔۔

پھر میرا حلیہ تو نہیں بگاڑیں گے وہ پیچھے سے بولی۔۔۔۔وہ تمہیں دیکھ کر بتاؤں گا۔۔۔۔ وہ یہ کہتے ہوئے رکا نہیں تھا۔۔۔۔۔

***************************************

خُبیب سکندر۔۔۔۔ شاپنگ سینٹر سے جیسے ہی باہر آیا مغرب کی آذان کی آواز پر وہ جلدی سے گاڑی کی طرف بڑھا۔۔۔۔ کہیں نماز ہی قضا نہ ہو جائے۔۔۔۔بیٹا۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔ اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا ایک عورت چادر نما برقعہ لئے بلیک باریک سے دو پلو منھ کے آگے گرائے ہؤے تھی۔

جی ۔۔۔۔اسے دیکھتے ہی سختی سے اس نے اپنے لب بھنچے تھے۔۔۔میرا ایک ہی بیٹا ہے ۔۔۔۔ وہ بہت بیمار ہے۔۔۔ میری کچھ مدد کر دیں۔۔۔

آپ کے بیٹے کو کیا ہے ۔۔۔۔؟

پتہ نہیں ڈاکٹر نے ٹیسٹ لکھ کر دیئے ہیں ۔۔۔ اتنے پیسے نہیں ہیں کہ ٹیسٹ کروا لوں۔۔۔۔۔پہلے بھی ہمدردی کی تھی جو گلے پڑھ گئی۔۔۔وہ منھ میں بڑبڑایا تھا۔

اللہ تعالی آپکو سلامت رکھے ۔۔۔نیک اولاد دے۔۔۔ روتے ہوئے اسے دعائیں دے رہی تھی۔۔۔۔اپنی جیب میں سے والٹ نکالتے احمر کاکارڈ دیکھنے لگا تھا۔۔۔

خُبیب سکندرنے کارڈ نکال کر اس عورت کو پکڑایا۔۔۔یہ ڈاکٹر احمر کا کارڈ ہے ۔۔۔۔ اس پر اس کا اور ہاسپٹل کا ڈریس لکھا ہوا ہے۔میں اسے کال کر دوں گا ۔۔۔۔ آپ اپنے بیٹے کو اسکے پاس لے جائیں وہ آپ سے فیس نہیں لے گا۔۔۔۔۔

”بہت شکریہ بیٹا۔۔۔۔”

وہ کارڈ پکڑتے آگے بڑھی تھی۔۔۔ سنیں ۔۔۔۔خُبیب سکندر نے دو ہزار روپے اسے دیئے تھے۔۔۔۔ وہ دعائیں دیتی آگے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔

خُبیب سکندر جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔۔۔ یااللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر تو نے دینے والوں میں رکھا ہے۔۔۔

وہ مین روڈ تک گاڑی تیز رفتاری سے لایا تھا۔۔۔ اس عورت کے چکر میں نماز قضا ہو گئی تھی۔۔۔۔۔ موبائل دیکھا تو موم کی اتنی زیادہ کالز آئی ہوئی تھیں۔۔۔۔ میسج ٹائپ کرتے ایک خوشگوار احساس کے تحت گاڑی کی رفتار مزید تیز کر دی۔۔۔۔۔

******************************