Ehsaas By Raheela Bano Readelle50334 Ehsaas (Episode 1)
Rate this Novel
Ehsaas (Episode 1)
Ehsaas By Raheela Bano
آج خُبیب کافی دنوں بعد واک کرنے کے لئے آیا تھا۔۔۔۔گھر میں اتنی مصروفیت تھی ۔۔۔ کہ وہ بھول ہی گیا تھا ۔۔۔ کہ آج یکم ہے۔ اس نے بینچ پر کٹورا پکڑے بیٹھی لڑکی کو دیکھا۔۔۔۔
جو بلیک گاؤن پر بلیک ہی حجاب کا نقاب کئے ہوئے تھی۔۔۔اسے دیکھتے ہی کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔ آج وہ پیسے لانا ہی بھول گیا تھا۔۔۔۔
اس نے اس کے کھسے میں مقید گورے پاؤں دیکھے۔۔۔۔پھر اس کے گورے گورے پتلے ہاتھوں کو دیکھا۔۔۔ پتلی پتلی لمبی انگلیاں رائٹ ہینڈ کی شہادت کی انگلی میں بلیک چھلہ پہنا ہوا تھا۔۔۔۔
پھر اس کی نظر اس کی خوبصورت سیاہ آنکھوں پر پڑی۔۔۔۔ گھنی سیاہ پلکیں اسے دیکھتے ہی جھکی تھیں۔۔۔۔
عجیب مانگنے والی تھی ہر مہنے کی یکم کو ہی مانگتی تھی ۔۔۔۔پھر اسے اگلے مہنے کی یکم کو ہی نظر آتی۔۔۔تقر یباً اسے چار سال ہو گئے تھے ۔۔۔اسے اسی طرح دیکھتے ہوئے۔۔۔۔ اس دورانیے میں اس لڑ کی کا قد تیزی سے بڑا ہوا تھا۔۔۔۔
اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کم سن تھی۔۔۔۔اس کے کٹورے میں چند سو سو کے اورپچاس کے نوٹ تھے۔۔۔اب وہ بے بسی سے خُبیب کی طرف دیکھ رہی تھی۔جو اس کے کٹورے میں پندرہ یابیس ہزار روپے ڈالتا تھا۔ ۔۔۔۔۔
میں آج پیسے بھول گیا ہوں۔کل لے لینا۔۔۔۔خُبیب نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
سر ۔۔۔۔میری امی کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔میں نے آج انہیں ہر حال میں ہاسپٹل لے کر جانا ہے۔۔۔۔مجھے پیسوں کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔وہ اب اسک منتیں کرنے لگی تھی۔۔۔
آپ کا گھر کہاں ہے۔۔۔۔؟
وہ ناچاہتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھا تھا۔۔۔۔
سر ۔۔۔۔میں جھوٹ نہیں بول رہی۔۔۔۔۔آپ میری بات کا یقین کریں۔۔۔۔سچ میں میری امی کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔آپ میرے ساتھ چل کر دیکھ سکتے ہیں۔ میرا گھر یہاں سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔وہ نم لہجے میں بولی۔
میرا گھر یہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہے۔۔تم تھوڑی دیر ویٹ کرو میں اپنی گاڑی لیکر آتاہوں۔۔۔ خُبیب۔۔۔۔ کو پتہ نہیں کیوں اس چھوٹی سی لڑکی کے لئے ہمدردی ہو رہی تھی۔۔۔۔؟
سر۔۔۔ مانگنے والی کو واپس آکر کون دیتا ہے۔آپ پہلےمیرے ساتھ چل کر میری امی کو دیکھ لیں۔۔۔ان کی حالت بہت خراب ہے میں بمشکل ان کو چھوڑ کر آئی ہوں۔میرے علاوہ ان کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔۔۔وہ اس کے لہجے میں درد محسوس کرتے اس کے ساتھ چل دیا۔
********************************************
وہ اس لڑکی کے ہمراہ چھوٹے سے دو کمروں پر محیط گھر میں پہنچا۔۔۔وہ بھاگ کر ایک کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔خُبیب بھی اسے کے پیچھےکمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔
اس نے بیڈ پر لیٹی اڈھیر عمر عورت کو دیکھا۔۔۔۔ جو بیڈ پر لیٹی بری طرح کھانس رہی تھی۔۔۔۔چھت پر لگا پنکھا ہلکا ہلکا چل رہا تھا خُبیب ۔۔۔۔منٹوں میں ہی پسینے سے نہا گیا۔۔۔۔
جنت تم کہاں چلی گئی تھی۔۔۔؟
وہ کھانستے ہوئے بمشکل بولی تھی۔
اس کا نام جنت ہے۔۔۔وہ پھیکا سا مسکرایا۔۔۔۔۔
خُبیب نے جنت کو دیکھا جو بیڈ کراؤن سے تکیہ لگائے اپنی امی کو بٹھا رہی تھی ۔۔۔
ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر اس کے منھ کو لگایا۔۔۔۔امی میں نور۔۔۔۔کے پاس گئی تھی۔۔۔۔اس کے بھائی کے ساتھ آئی ہوں۔۔۔اب وہ آپ کو ہاسپٹل لیکر جائیں گے۔۔۔اس کے ابو گھر پر نہیں تھے ورنہ میں انکے ساتھ آتی۔۔۔۔
خُبیب ناسمجھی سے جنت۔۔۔۔ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جو بڑی صفائی سے جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔۔
بیٹا۔۔۔۔ بہت شکریہ پہلے ہی آپ لوگوں کے بہت سے احسان ہیں۔۔۔آپ مشکل وقت میں ہمارے کام آئے ۔۔۔۔میں بیٹی کے دھن کے ساتھ کہاں دھکے کھاتی۔۔۔۔؟
یہ لڑکی مانگتی ہے۔۔۔ اسکی ماں کو نہیں پتہ خُبیب ۔۔۔۔نے سلگتی نظروں سے جنت کو دیکھا۔۔۔۔جو اس کے اس طرح دیکھنے پر نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔۔
آنٹی آپ کا کوئی رشتے دار نہیں ہے ۔خُبیب نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔ بیٹا غریب کاکون رشتے دار ہوتا ہے۔۔۔؟
جب صدیق صاحب۔۔۔۔۔ زندہ تھے تو انہوں نے ہمیں پھولوں کی طرح رکھا۔۔۔۔ ان کی آنکھیں بند ہوتے ہی سب اپنے پرائے ہو گئے ۔۔۔۔
اس کے گھر والوں نے مجھے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا۔۔۔۔جنت اس وقت سال کی تھی۔۔۔۔ان کے سارے بزنس پر قابض ہوگئے۔۔۔۔
یہ گھر میرے والدین نے میرے نام کیا تھا۔۔۔۔۔۔؟ اگر یہ نہ ہوتا تو پتہ نہیں ہمارا کیا بنتا۔۔۔۔۔؟
میرا ایک بھائی ہے۔۔۔۔۔وہ امریکہ میں ہے۔۔۔۔۔۔ بیس سال ہو گئے ہیں۔ وہ پاکستان نہیں آیا۔۔۔۔ کوثر صدیق یہ بتاتے ہوئے ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔
روتے ہوئے پھر وہ بری طرح کھانسنے لگی تھی۔۔۔۔۔ خُبیب جلدی سے اس ک طرف بڑھا۔۔۔۔۔
******************************************
خُبیب نے ہاسپٹل پہنچتے ہی اپنے ڈیڈ کو فون کیا تھا۔۔۔۔
خود اس نے ضروری میٹنگ میں جانا تھا۔۔۔۔ کوثر صدیق کی حالت بگڑتی جارہی تھی۔۔۔۔۔
جنت ایک کونے میں کھڑی آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔اس نے اس خوبرو شخص کو دیکھا جو جو بلیک شلوار قمیض میں ملبوس تھا ۔۔۔درمیانہ قد’ گندمی رنگ’ سیاہ گھنے بال ‘ کلین شیو’ بڑی بڑی آنکھیں ’اپنی سحر انگیز پرسنالٹی کے ساتھ چھایا ہوا تھا۔۔۔۔
تمام ڈاکٹر ۔۔۔اسے جی سر۔۔۔۔۔۔ جی سر۔۔۔۔۔ کہہ رہے تھے۔۔۔ دیکھنے میں وہ بہت بڑا آدمی لگ رہا تھا۔
جنت بھاگ کر اس کے قریب آئی تھی۔۔۔ ۔سر آپ میرا گھر خرید لیں لیکن میری امی کو بچا لیں۔۔ڈاکٹر آپ کی بات سنیں گے۔۔۔۔ان سے کہیں میری امی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔
جنت روتے ہوئے التجا کر رہی تھی۔۔۔آپ کی امی کی طبعیت کب سے ایسے ہے۔خُبیب سکندر ۔۔۔۔نے اپنا ماتھا مسلتے ہوئے روتی ہوئی اس لڑکی کو دیکھا۔۔۔۔سر۔۔۔۔جب میں نو سال کی تھی۔۔۔۔ جنت نے ہچکیاں لیتے ہوئے بتایا۔۔۔۔۔
آپ کی امی کی حالت بہت سیریس ہے ڈاکٹر کا کہنا ہے ان کابچنا بہت مشکل ہے۔۔۔۔اس کی بات سنتے ہی جنت نے اپنے چکراتے سر کو پکڑا تھا۔۔۔۔۔اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی خُبیب سکندر ۔۔۔۔نے اپنی مضبوط بانہوں میں تھاما تھا۔۔۔۔۔
وہ اسی طرح بازؤں میں اٹھائے ڈاکٹر کی طرف بڑھا۔۔۔ روم میں داخل ہوتے اس نے نرمی سے اسے بیڈ پر لیٹایا تھا۔۔۔۔
آپ بیٹھیں خُبیب صاحب۔۔۔۔ اس نے پا س پڑی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔
خود اسے دیکھنے کے لئے آگے بڑھی۔۔۔۔۔
خُبیب۔۔۔۔۔ پریشانی سے اپنے ہاتھ مسل رہا تھا۔۔۔انجان لوگوں کی مدد اسے مہنگی بھی پڑھ سکتی تھی۔لیکن وہ یہ سب الله تعالٰی کی رضا کے لئے کر رہا تھا۔۔۔۔
********************************************
ہارون سکندر۔۔۔۔ جب ہاسپٹل پہنچا تو وہ اپنے بیٹے کو دیکھ کر حیران ہوا۔۔۔۔۔ اپنے کام سے کام رکھنے والا اسکا بیٹا۔۔۔۔کسی کے لئے اتنا پریشان نظر آ رہا تھا۔۔۔۔خُبیب سکندر ۔۔۔۔۔ اپنے ڈیڈ ۔۔۔۔کو دیکھ کر ان کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔شکر ہے ڈیڈ آپ آ گئے۔۔۔۔
آپ نے اتنی دیر کر دی ۔۔۔۔۔مجھے میٹنگ کے لئے نکلنا ہے۔ڈیڈ وہ ماں بیٹی دونوں ہی ایڈمٹ ہیں۔۔۔۔اتنی دیر میں جنت بھاگتی ہوئی خُبیب سکندر کی طرف آئی تھی۔۔۔۔
ہارون سکندر ۔۔۔۔نے اس خوبصورت لڑکی کی طرف دیکھا۔۔۔۔ جو دیکھنے میں پندرہ سولہ سال کی لگ رہی تھی۔۔۔۔بلیک چادر کندھوں پر تھی۔لمبے سیاہ بال اسکی کمر پر جھول رہے تھے۔
سر آپ میری امی کو بچا لیں۔۔۔۔میرا ان کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔وہ خُبیب سکندر کو بازؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہی تھی۔
ہارون سکندر ۔۔۔۔۔بت بنا اپنے بیٹے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔جس نے آج تک کسی سے نرمی سے بات نہیں کی تھی۔
وہ اپنے دونوں بچوں کی شادی کرکے اسک بڑھتی عمر کی وجہ سے پریشان تھا۔۔۔۔۔اسے ایک اچھی لڑکی کی تلاش تھی۔۔۔۔
کیونکہ اسکا معیار دولت، تعلیم، حسن ،نہیں تھا۔
اسکا کہنا تھا کہ لوگوں نےاپنا معیار زندگی۔۔۔۔اچھا گھر تعلیم اور حسن بنا لیا ہے۔یہ تینوں چیزیں انسان کی سوچ پر اتنی غالب آچکی ہیں۔کہ رشتہ کرنے سے پہلے لوگ یہ تین چیزیں دیکھتے ہیں۔
وہ اس طرح پوچھنے پر چڑ جاتا تھا۔۔۔اسکی رشتے کی بات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی تھی۔
”بقول اسکے،۔۔۔لازمی نہیں اچھا گھر شعور کی ۔۔۔۔تعلیم دولت کی۔۔ اور حسن عقل۔۔۔۔ کی ضمانت ہو۔۔۔”
ہارون سکندر۔۔۔۔۔کے دو بیٹےاور ایک بیٹی تھی ۔بڑا بیٹا خُبیب سکندر اس سے چھوٹا حدید سکندر ۔۔۔۔ اسکی بیوی کرن جو ڈاکٹر تھی۔ دو سال ہو گئے تھے انکی شادی کو پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ابھی تک اولاد جیسی نعمت سے نہیں نوازا تھا۔۔۔
اور بیٹی عینا اسکا شوہر احمر وہ بھی ہارٹ سرجن تھا۔عینا کے پاس چھ ماہ کی بیٹی تھی۔حدید اور عینا دونوں خوش باش زندگی بسر کر رہے تھے۔۔۔
ڈیڈ۔۔۔۔ہارون سکندر ۔۔۔۔ خُبیب سکندر ۔۔۔ کی آواز پر چونکا تھا۔۔۔۔
جنت یہ میرے ڈیڈ ہیں ۔۔۔۔ تمہارے ساتھ جو بھی مسئلہ ہے ۔انہیں بتا دینا یہ آپ کی ہر معاملے میں ہیلپ کریں گے۔۔۔یہ کہتے ہوئے وہ تیزی سے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔ ہارون سکندر۔۔۔۔۔ نے جاتے ہوئے غصے سے اس کی پشت کو دیکھا تھا۔۔۔۔
********************************************
ہارون سکندر۔۔۔۔۔ چھوٹی سی اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔جو پاگلوں کی طرح ادھر ادھر چکر لگا رہی تھی۔۔۔اس کی اجڑی اور بکھری حالت دیکھ کر پریشان ہوا تھا۔۔۔۔۔
لیکن وہ اسے جھوٹی تسلی نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔وہ اس لڑکی کو دل میں اپنی بہو تسلیم کر چکا تھا۔۔۔۔یہ جانے بنا اس کا یہ فیصلہ اس لڑکی کو سولی پر لٹکانے سے کم نہ ہو گا۔۔۔۔
ہارون سکندر۔۔۔۔ دو دن سے جنت کے ساتھ ہاسپٹل میں تھا۔وہ یہ ذمہ داری کسی اور کو سونپ نہیں سکتا تھا۔۔۔
جوان لڑکی تھی۔اوپر سے مجبور۔۔۔۔وہ خُبیب سکندر۔۔۔۔ کو کئی بار کال کر چکا تھا۔۔۔۔ دوسری طرف نمبر بزی ہوتا۔۔۔اب کی بار تو ہارون سکندر ۔۔۔۔ کا دماغ ہی گھوم گیا تھا۔۔۔۔۔۔جنت جو ہارون سکندر۔۔۔۔ کو غصے میں دیکھ کر پریشان ہوئی تھی۔۔۔۔
انکل آپ گھر جانا چاہتے ہیں تو چلے جائیں۔۔۔۔میں امی کو دیکھ لوں گی ۔۔۔بس آپ ہمارا گھر بیچ دیں۔۔۔۔ سر ۔۔۔۔نے ہمارا گھر دیکھا ہوا ہے۔۔
جنت بھیگے لہجے میں بولی تھی۔۔۔ ہارون سکندر۔۔۔۔ نے اس لڑکی کو ترس کھاتی نگاہوں سے دیکھا۔جومسلسل رو رہی تھی۔
گڑیا۔۔۔تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔مجھے تم اپنا سمجھو۔۔۔۔آپ کا بہت شکریہ۔۔۔۔آپ نے مجھے اس قابل سمجھا۔۔۔۔۔
پر انکل۔۔۔۔۔۔
”کچھ سوچیں اتنی جان لیوا ہوتی ہیں۔جو انسان کو بے جان کر دیتی ہیں”
غریب کا کوئی نہیں ہوتا۔۔۔۔یہ دنیا بڑی ظالم ہے۔جنت روتےہوئے بولی تھی۔
جنت بچے ۔۔۔۔۔مایوسی گناہ ہے۔۔۔۔ ہمارے معملات اس پاک ہستی کے پاس ہیں۔۔۔جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔
ہارون سکندر۔۔۔۔۔ نے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا۔۔۔۔جس کو دکھوں نے وقت سے پہلے بڑا کر دیا تھا۔۔۔
*******************************************
