Tarbiyat by Tawasul Shah NovelR50819 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode29
Rate this Novel
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode01 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode02 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode03 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode04 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode05 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode06 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode07 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode08 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode09 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode10 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode11 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode12 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode13 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode14 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode15 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode16 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode17 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode18 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode19 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode20 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode21 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode22 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode23 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode24 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode25 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode26 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode27 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode28 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode29 (Watching)Tarbiyat by Tawasul Shah Last Episode
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode29
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode29
صبح ساڑھے گیارہ بجے جب سوزین کی آنکھ کھلی تو اسے تابش کہیں نظر نہیں آیا۔۔۔
سوزین اٹھتی اس سے پہلے ہی سوزین کا موبائل بچنے لگا سوزین نے بغیر دیکھے کال رسیو کی تھی ورنہ وہ کبھی دائس کی کال رسیو نہ کرتی۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو شادی کی پہلی صبح دائس کی چہکتی ہوئی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔
خیر چھوڑو تمہیں ایک گڈ نیوز دینی ہے کےزڈ عرف کمال زوبیر پکڑا گیا ہمارے گھروپ کے دو لوگوں کو کل رات ہی شک کی بناء پہ دوسرے ملک روانہ کیا گیا تھا جنہوں نے اسے اور دوسرے جرائم پیشے افراد کو بھی پولیس کسٹڈی میں پاکستان لایا۔۔۔
دائس نے سوزین کا جواب نہ پاکر اس کےزڈ کے بارے میں بتایا۔۔۔
اوو اچھا یہ تو واقع ہی گڈ نیوز ہے سوزین نے خوشی سے کہا۔۔۔
مذید اچھی خبر بن جاتی اگر اس مشن کی آخری کڑی بھی ہم جوڑتے جو مشن ہم دونوں نے شروع کیا تھا لیکن خیر ہماری شادی اس آخری کڑی کے راہ میں آگئ۔۔۔
اوو سوری تمہاری شادی داِئس نے جملہ درست کیا۔۔۔
اچھا اج میرا خاص دن ہے تم آٶ گئ تو اچھا لگے گا جہاں ہمارا سارا ڈیپاٹمنٹ اگھٹا ہوگا دائس نے بات مکمل کی اور بغیر سوزین کا جواب سنے رابطہ منقطع کردیا۔ ۔۔
سوزین شاور لینے کے بعد آفس یونفارم پہنے لگی تو اس اسکی وارڈروب میں یونیفارم ساڑھی لٹکی دیکھائی دی سوزین نے اس ساڑھی کو نکالا اور دیکھنے لگی۔ ۔۔
تو اسے ماضی کے خیالوں میں لپٹی ایک بات یاد آئی۔ ۔۔
باربی ڈول تم شادی کے بعد یونیفارم ساڑھی پہنا کرنا اچھا مجھے تم اس ڈریس میں زیادہ اچھی لگو گئ سوزین کو تابش کی کہہ بات یاد آئی تو وہ ساڑھی کھول کر پہنے لگی۔ ۔۔
سوزین تیار ہو کر آفیشل فنکشن میں چلی گئ کیوں کے ولیمے کا فنکشن لیٹ نائٹ ارینج کیا گیا تھا۔۔۔
آفیشل فنکشن شروع ہوچکا تھا سوزین کو سامنے ہی دائس نظر آگیا لیکن آج وہ سوزین کے قریب نہیں آیا تھا..۔۔
اسٹیج پہ جب فنکشن کا آغاز ہوا تو سوزین کی توجہ بھی اس طرف مبادل ہوئی۔۔
پیچھلے کہیں منتھ سے ہمارا ڈیپاٹمنٹ ایک خاص مشن پہ موجود تھا جس میں ہمارے ڈیپاٹمنٹ کے دو لوگوں کی بہت سخت محنت شامل ہے ان دونوں نے ہی سخت محنت کے بعد مشن کے کامیابی کی خوشخبری سنائی ہے۔۔۔
تو لیڈیز اینڈ جنٹل مین ہماری پھرپور تالیوں میں مسٹر تابش رضا کاظمی ہمارے انٹیلجنس آفسر کو ہم اسٹیج پہ آنے کی دعوت دیتے ہیں۔۔
دعوت ملنے پہ تابش پروقار چال چلتا ہوا اسٹیج پہ جا پینچا۔۔۔
یہ دائس کا نام تابش ہے تو مجھے دائس کیوں بتایا سوزین حیرانی سے دائس کا نام تابش منہ ہی منہ میں پکارتے ہوئے سوچنے لگی۔۔۔
خیر جو بھی تھا وہ بہت خوش تھا اور اس کے چہرے پہ خوشی اسے اور بھی جاذب دیکھاتی ہے سوزین داٸس کا چہرا اپنی آنکھوں میں لاتی ہوئی بولی۔۔۔
لیکن سوزین کا دھیان اب تک تابش کے پورے نام پہ نہیں گیا تھا “تابش رضا کاظنی” جو کے اس کے نکاح نامہ پہ بھی درج تھا سوزین ابھی بھی دائس اور تابش کو دو الگ الگ انسان سمجھ رہی تھی۔۔۔
یہ گولڈ میڈل ہم مسٹر تابش کو ان کے پہلے مشن کی کامیابی پہ انعام کے طور پہ دیتے ہیں جس مشن کو انہوں نے اپنی جان پہ کھیل کر دہشت گردوں کے بیچ رہ کر اور انڈین پی ایم کی جان بچا کر مکمل کیا تھا۔۔
اب ان کے دوسرے مشن کی بات کی جائے جو انہوں نے ہماری ڈیپاٹمنٹ کی معزز لیڈی ڈی ایس پی مس سوزین عمر آفندی کے ساتھ مل کر دوبئی میں مکمل کیا اور وہاں سے خطرہ ناک مجرموں کو بھی پکڑا۔۔
اب ہماری بھرپور تالیوں میں میں دعوت دیتا ہوں ڈی ایس پی سوزین عمر آفن۔۔۔ مائیک بوائے مزید کچھ کہتا کے تابش نے اس کے کان میں سرگوشی کی جس پہ وہ خاموش ہوگیا اور تھوڑی دیر بعد پھر سے بولنا شروع کیا۔۔۔
ہماری قابل اخترام لیڈی شادی جیسے پاک بندھن میں بندھ چکی ہیں جس کا مجھے ابھی ابھی ان کے شوہر مسٹر تابش سے معلوم ہوا ہے۔۔۔
ہماری پھرپور تالیوں میں مسسز تابش رضا کاظمی کو میں اسٹیج پہ آنے کی دعوت دیتا ہوں۔۔
سوزین ہکی بکی سی اپنا نام سن کر اسٹیج پہ پہنچی۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے سر کیا مزاق کررہے ہیں؟ میرا تماشہ مت بنوائے ہماری شادی کب ہوئی جو آپ نے ایسا کہا سوزین دھبی دھبی آواز میں منہ پہ مسکراہت رکھتے ہوئے تابش سے غصہ میں بولی۔۔۔
ارے بھئ اپنی بیوی کو بندا اب بیوی نہیں بولے گا تو کیا نوکرانی بولے گا۔۔؟
اب تم کیا چاہتی ہوں میں حرہ سے ہی رشتہ رکھتا یا آج بھی نقاب میں آتا یا شادی والی رات کی طرح سہرا پہنتا تاکے میری بیوی مجھ آج بھی نہ پہچاتے ہوۓ بھی پہچان لیتی کے نقاب میں تو میرا شوہر ہی آتا ہے۔۔
ت۔۔۔ تو۔۔۔ تو آپ تابش ہیں مطلب دائس اور تابش ایک ہی انسان ہیں؟ سوزین نے حیرت سے پوچھا؟؟۔
ہاں بالکل ایک ہی انسان ہے تمہارے سامنے تابش نے خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ بتایا۔۔
پھر ان دونوں کو گولڈ ٹرافی ملی تو دونوں ایک ساتھ اسٹیج سے نیچھے اتر گئے۔۔۔
میرج حال میں ولیمہ کا فنکشن شروع ہوچکا تھا۔۔
وائٹ اسپرٹ لائٹ میں ایک کپل حال میں انٹر ہوا۔۔
بلیک شروانی پہنے وہ اپنی دولہن کا لہنگا پکڑے اسے چلنے میں مدد دے رہا تھا کیوں کے اسکا لہنگا بہت ہیوی تھا جس وجہ سے اسے چلنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔۔۔
بلڈ ریڈ کلر کا ہیوی لہنگا جس پہ لائٹ گولڈن کلر کا کام بنا ہوا تھا میچنگ جولیری اور براڈل میک اپ وہ شارب کو بہت پیاری لگ رہی تھی اسی لیے تو شارب پورا راستہ اسکی تعریفیں کرتا ہوا آیا تھا۔۔۔
کل کی بابت شیزا آج شارب کو زیادہ پیاری لگ رہی تھی کیوں کے کل نکاخ پہ شیزا بہت سمپل تیار ہوئی تھی۔۔
اور آج شارب کے کہنے پہ شیزا نے ڈارک میک آپ اور اسی کی پسند کی ڈریسنگ کی تھی۔۔
شارب کو ہمیشہ سے ہی میک آپ کے ساتھ اچھی ڈریسنگ کی لڑکیاں پسند تھی شاہد اس نے اپنی ماں اور بہن کو ہمیشہ اسی حلیے میں دیکھا تھا اسی لیے۔۔
اب شارب اور شیزا اسٹیج پہ بیٹھ چکے تھے۔۔۔
تھوڑی دیر بعد دوبارہ اسپرٹ کی روشنی حال میں دیکھائی دی جہاں ایک آرمی کیل آتا ہوا دیکھائی دیا تھا دونوں نے بلیک بلیک ڈریسنگ کی ہوئی تھی۔۔
سوزین بلیک ساڑھی زیب تن کیے روشن چہرے پہ براڈل میک اپ بالوں کو ایک ساٸڈ اسٹاٸل بناٸے آہستہ قدم اٹھاتی تابش کے ساتھ آرہی تھی۔۔
آرمی ڈریس میں فوجی ہیٸر سٹاٸل میں چوڑی باڈی اور چہرے پہ پروقار مسکان لیے وہ بھی بلیک شیروانی میں ملبوس تھا دونوں کسی ملک کے شہزادہ شہزادی لگ رہے تھے حال میں جمع دوستوں رشتہداروں کو دیکھتے ہوۓ وہ اپنی دولہن کا نازک ہاتھ تھامے ہوئے اسٹیج کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
موویز اور فوٹو سوٹ کے بعد کھانا کھل گیا جس کے بعد تمام مہمانوں نے آہستہ آہستہ رخصت لی ولیمے کا فنکشن اختتام کو پہنچا اور شیزا اور شارب کو گھر لے جایا گیا۔۔۔
شیزا کو شارب کے کمرے میں لایا گیا وہ بیڈ پہ بیٹھی شارب کا ویٹ کررہی تھی جو آج ولیمے کے دن بھی آفس کے کسی کام سے نکل گیا تھا۔۔
پیچھلے ایک گھنٹے سے وہ اسکا ویٹ بن کسی بےزاری اور منہ لٹکائے کر رہی تھی شیزا اپنی قسمت پہ خدا کا شکر ادا کررہی تھی جس نے پہلے اسے آزمائش میں ڈالا اور اب اسے شارب کے روپ میں اچھا ہسبنڈ عطا کیا تھا اور اس سے بڑھ کر یہ فیملی شیزا اپنے روشن مستقبل پہ رب کا شکرگزار تھی۔۔
بےشک آزمائش کے بعد اللہ کی طرف سے سکون ہے اور ایسے میں اس نے اگر ایک آدھ گھنٹہ اپنے شوہر کا انتظار کرلیا تو اسکی نظر میں کوئی بڑی بات نہیں تھی۔۔
ابھی وہ ان ہی سوچو میں تھی کے کلک کی آواز سے دروازہ کھل گیا شارب شیزا کا سجا ہوا روپ دیکھ کر حیرت اور خوشی سے کمرے میں داخل ہوا۔۔
کیون کے اسے لگا تھا شیزا سو چکی ہوگی لیکن وہ اسکا ویٹ کر رہی تھی۔۔۔
شیزا میری جان شارب نے آتے ہی اسے اہنے سینے سے لگا لیا سوری یار لیٹ ہوگیا اور تھنکس میرا ویٹ کرنے کے لیے اس نے خوشی سے مذید اسے اپنی باہوں میں چھپا لیا۔۔
کوٸی بات نہیں اپنے شوہر کا انتظار کرنا مجھے اچھا لگا شیزا نے پلکیں جھکا کر کہا۔۔
ہممم میری جان وہ اسے بیڈ پہ لیٹاتے ہوئے اپنی تھکن کو جذبات کا رنگ اوڑاتے ہوئے وہ شیزا کو ایک بار پھر سے شرمانے پہ مجبور کرچکا تھا۔۔۔ ۔
ولیمے کے بعد شارب شیزا اور باقی گھر والے تو گھر جاچکے تھے لیکن تابش اور سوزین اپنے آفس کے گیسٹ کے ساتھ کچھ آفیشلی ولیمے منارہے تھے
جو کے ان کے افس کی طرف سے ارینج کیا گیا تھا۔۔۔
جہاں انھیں راولپنڈی ڈی ایچ اے میں ایک گھر گاڑی ملی تھی کیوں کے سوزین کی کارکردگی دیکھ کر اسے ڈی ایس پی کے علاوہ تابش کے ساتھ آرمی مشنز میں لایا گیا تھا کیوں کے سوزین جس پولیس اسٹیشن میں تھی وہ آرمی کے تحت کام کرتا تھا۔۔۔۔
رات کے دو بجے کے قریب وہ لوگ فری ہوئے اب وہ گاڑی میں بیٹھے گھر کی جانب جارہے تھے۔۔
آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا تابش سوزین نے کچھ غصے اور کچھ تھکاوٹ سے اسے گھوتے ہوۓ کہا۔۔۔
کیوں کیا کیا میں نے تابش نے اس سے پوچھا؟؟
یہ دائس اور تابش میں مجھے الجھا کر رکھا ہوا تھا اس نے ناراضگی سے کہا۔۔۔
ارے یار وہ ضروری تھا میں مشن پہ تھا نا تابش نے بات بنائی۔۔۔
رہنے دیں بس مشن مکمل ہوچکا تھا پھر بھی آپ نے مجھے اندھیرے میں رکھا سوزین کہہ کر ونڈو سے باہر دیکھنے لگی۔۔۔
نہیں یار ایک بات بتاٶ تمہیں غصے کس بات پہ ہے؟
اپنی محبت دائس ملنے پہ یا تابش ہی دائس کیوں ہے اس پہ تابش نے اس سے بظاہر سیریس ہو کر پوچھا تو سوزین اس کی بازو پہ مکے برسانے لگی۔۔۔
جاٸیں میں آپ سے بات نہیں کررہی سوزین نے منہ بسورتے ہوۓ کہا۔۔
اچھا سوری بابا تابش نے مسکراتے ہوٸے کہا اور ڈراونگ کے دوران ہی سوزین کے ہونٹ کے پاس تل پہ جھکا۔۔۔
تابی۔۔ پیچھے رہ کر گاڑی ڈرائو کریں میں بھری جوانی میں لنگڑی لہولہی نہیں ہونا چاہتی سوزین نے اسے پیچھے ہٹاتے ہوٸے کہا جس پہ تابش کا زوردار قہقہا گاڑی میں گونج گیا۔۔۔
گاڑی کارپورچ میں کھڑی کرکے تابش نے سوزین کی ساٸڈ پہ آکر اس کی طرف کا ڈور کھولا اس کے بعد سوزین کی طرف ہاتھ بڑھایا جیسے تھامتے ہوٸے سوزین گاڑی سے باہر آٸ۔۔۔
گھر کے تمام افراد سوچکے تھے تابش اور سوزین اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہے تھے کے ساتھ والے کمرے سے حرہ باہر نکلی۔۔۔
تابی۔۔۔ حرہ بھاگ کر اچانک تابش کے گلے سے لگ اور رونے لگی۔۔۔
حرہ پیچھے ہٹو تابش نے اسے غصے سے خود سے الگ کیا۔۔
ت۔۔ ت۔۔ تابی تابی مجھے معاف کردیں نا میں آپ کے بغير نہیں رہ سکتی پلیز وہ روتے ہوۓ تابش کے پیروں میں بیٹھ گٸ۔۔۔
اٹھو۔۔۔ تابش نے اسے سختی سے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا۔۔
میں تمھیں کبھی معاف نہیں کرو گا سمجھی تم اور میرے قریب مت آیا کرو مجھے نفرت ہے تمہارے وجود سے اور ہہ میری بیوی ہے سوزین میری بچپن اور جوانی کی پسند تابش نے سوزین کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا تو حرہ نے غصے سے سوزین کا منہ نوچنا چاہا لیکن تابش نے حرہ کو غصے سے پکڑتے ہوۓ اس کے منہ پہ تھپڑ رسید کیا۔۔۔
میں نفرت کرتا ہوں تم سے میری بیوی کو چھونے کی بھی کوشش کی مجھے سے برا کوٸی نہیں ہوگا تابش کہہ کر اپنے کمرے میں جانے لگا لیکن حرہ نے اوپر سے چھلانگ لگاٸی
حرہ نے چلا کر کہا جب آپ میرے بن نہیں سکتے تو میری اس زندگی کا کوٸی فایدہ نہیں یہ کہتے ہی وہ اوپر والے پورشن سے کود گٸ۔۔
نیچھے ٹیبل پہ پڑا عقاب جس کے پنجھے میں پکڑاٸی گٸ تلوار تھی حرہ اس تلوار پہ آلگی تلوار کا ساٸذ کافی بڑا تھا جس وجہ سے تلوار حرہ کے پیٹ کو چیرتی ہوٸی اندر گھس گٸ حرہ کی دردناک چیخ سن کر باقی سب بھی اپنے اپنے کمروں سے باہر آۓ اور حرہ کو جلدی سے ہوسپیٹل پہنچایا لیکن حرہ ہوسپیٹل پہنچتے ہی دم توڑ چکی تھی۔۔
After 3 year later’
تمام اسٹاف کے جانے کے بعد اپنا کام ختم کرنے کے بعد وہ دروازہ کو ناق کرتے ہوۓ اندر داخل ہوا۔۔۔
سامنے ہی چیٸر کے ساتھ سر ٹکاٸے چھت کو گھورتے ہوۓ نفوس نے سر اٹھا کر سامنے دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی کیوں کے اسے معلوم تھا آنے والا کون ہے۔۔۔
بھاٸی۔۔ شارب نے صاٸب کو پکارہ جو کسی دوسری دنیا میں کھویا ہوا تھا
ہممم اس نے سر اٹھا کر سامنے کھڑے اپنے چھوٹے بھاٸی کو دیکھا۔۔
گھر چلیں نا بھاٸی بہت دیر ہوگٸ ہے۔۔
نہیں یار تم چلے جاٶ۔ مجھے ابھی کافی کام ہے صاٸب نے لیپ ٹاپ کو اون کرتے ہوۓ کہا اور ہاں تم نے کل امریکا کے لیے نکلنا ہے نا جاٶ جاکر تیاری کرو اور بھابھی کا خیال رکھنا۔۔۔
شیزا کو دماغ میں روسولی تھی جس کا علاج کروانے شارب اور شیزا کو آج امریکا کے لیے نکلنا تھا
بٹ بھاٸی آپ اکیلے کیسے سنبهالیں گۓ کام شارب نے فکرمندی سے کہا۔۔
ڈونٹ وری تم آرام سے جاٶ اور بھابھی کا علاج کروا کر واپس آٶ تب تک میں یہاں ہوں صاٸب کے کہنے پہ وہ ہاں میں گردن ہلاتے ہوۓ چلا گیا۔۔
مزید کچھ دیر کام کرتے کرتے اسے اڑھاٸی سال پہلے کا منظر یاد آگیا۔۔۔
اڑھاٸی سال پہلے ہی وہ رہا ہوکر باہر آیا تھا اس کے بعد صاٸب سلوای کے ہوسٹل اس سے ملنے گیا تھا اس نے سلوای کو ہر طرح سے یقین دلینے کی کوشش کی تھی کے وہ ایسا نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو لیکن سلوای نے اسکی کسی بات کا یقین نہیں کیا تھا۔۔۔۔
صاٸب کو جب جیل ہوٸی اس کے بعد سلوای نے خود کو پڑھاٸی میں مصروف کرلیا تھا بس وہ انیلہ سے بات کرتی سوزین سے وہ سخت ناراض تھی کے اس نے اسے پہلے کیوں صاٸب کے متعلق نہیں بتایا جب وہ جانتی تھی تو۔۔۔۔
سوزین نے اسے بہت بار بات کرنا چاہی لیکن سلوای اسکی مکمل بات سنتی ہی نہیں تھی سلوای سوزین کی شادی میں بھی شریک نہیں ہوٸی تھی۔۔۔
چھ ماہ پہلے ہی سلوای ڈاکٹر بن چکی تھی اب وہ اپنی جاب شروع کرچکی تھی کبھی کبھار اسے ٹوٹ کر صاٸب کی یاد آتی لیکن وہ اسے دھوکےباز کہہ کر اپنے دل کو ڈپٹ دیتی۔۔۔۔
وہ اپنا بیگ اٹھا کر گھر کے لیے نکل رہی تھی کیوں کے اس کی ڈیوٹی کا وقت ختم ہوگیا تھا۔۔
ڈاکٹر سلوای ڈاکٹر جاوید آپ کو بلارہے ہیں واڈ بوائے نے اسے کہا تو وہ اسکی بات سن کر ڈاکٹر جاوید کے روم میں چلی گٸ۔۔۔
یس سر آپ نے بلایا تھا؟
ہمم ڈاکٹر سلوای یہ رہا عرق جو ہمارے ہوسپیٹل کی دوسری برانچ نے بنایا ہے یہ کرونا واٸرس کی بڑھتی ہوٸی وبا کو دیکھ کر تیار کی ہے۔۔۔
ہمارے ہوسپیٹلز نے کاظمی والوں کو اسپیشل ماسک بنانے کے آرڈرز دیٸے ہیں جن کے اندر اس عرق کو شامل کرنا ہے۔۔
یہ ماسک ہمارے ہوسپیٹل کے ڈاکٹرز اور یہاں آنے والے مریضوں کے لیے آرڈر پہ تیار کیے جارہے ہیں
کل آپ نے ہوسپٹل لیٹ آنا ہے تو یہ عرق کاظمی ٹیکسٹاٸل پہنچاتی آٸیے گا ڈاکٹر جاوید نے اپنا چشمہ درست کرتے ہوۓ سلوای کو عرق کی بوتل پکڑاٸی جسے سلوای کو مجبورن پکڑ لیا۔۔
ڈاکٹر سلوای وہ جانے لگی تو ڈاکٹر جاوید نے دوبارہ اسے پکارہ۔۔
یس سر
یہ یاد سے اپنوں ہاتهوں سے پہنچاٸے گا۔۔
اوکے سر سلوای نے بچارگی سے کہا اور چل پڑی یہ بہت ہی سخت ڈاکٹر تھے کوٸی بھی ان سے بحث کرکے اپنی شامت نہیں بلواتا تھا
سلوای صاٸب کا سوچ رہی تھی وہ اسکا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے عرق لیتے ہوٸے جھجک رہی تھی لیکن وہ جاوید سر کو انکار بھی نہیں کرسکتی تھی۔۔
سلوای بیٹا آگی تم روکنگ چیٸر پہ بیٹھی انیلا بیگم نے اپنا چشمہ درست کرتےٕ ہوۓ کہا۔۔
جی رانی ماں آگٸ ہوں اس نے بیڈ پہ تھکے ہوۓ انداز میں بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔
میں فریش ہو کر آتی ہوں ماں آپ بھی ڈاٸنگ حال میں آجاٸیں میں نے مسرت بی کو کھانا لگانے کا کہہ دیا ہے سلوای کہتے ہوۓ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گٸ
ان گزرے ہوۓ تین سالوں نے کاظمی اور آفندی والاز سے بہت کچھ چھین لیا تھا تین سال پہلے عمر آفندی، شاہد کاظمی اور شعیب کاظمی تینوں ایک بزنس کانفرنس کے تحت امان گۓ تھے۔۔۔
تابش، صاٸب اور شارب نے شعیب اور شاہد کو بہت منع کیا کے اب آپ دونوں بزنس کے معاملات سے دور رہیں اور سکون سے گھر رہ کر ریسٹ کریں لیکن دونوں بھایوں کو عمر کے ساتھ جانا تھا۔۔
ان کا کہنا تھا جتنا بزنس کا ہمارا تجربہ ہے اتنا تمہارے نہیں اور ویسے بھی اس کانفرنس سے ہمیں بہت فایدہ ہوگا اور ہمارا کاروبار مزید پھیل جاٸے گا۔۔
کونفرنس باحیر آفیت ہوٸی جس سے تینوں کی کمپنز کو بہت فایدہ ہوا تھا۔۔
کونفرنس کے بعد وہ دوبارہ امان سے پاکستان کے لیے پلین میں سوار ہوۓ لیکن یہ سفر ان تینوں کا ابدی سفر میں بدل گیا پلین میں کسی مسلے کے تحت پلین کریش ہوگیا اور وہ تینوں ہی خالق حقيقی سے جاملے۔۔۔۔
انیلا بیگم اور زینب بیگم بیوگی کی چادر اوڑھے زندگی سے منہ موڑ چکی تھیں اسی لیے جاتے ہوۓ تین سالوں نے ان کو بوڑھاپے میں ڈھال دیا تھا۔۔
دونوں بس اب بچوں کے لیے جی رہی تھیں۔۔
تابش آج جلدی گھر آچکا تھا وہ اپنے کمرے میں آیا لیکن سوزین ابھی تک گھر نہیں پہنچی تھی وہ اپنا ٹروزر اٹھاکر واشروم میں چلا گیا۔۔
آج وہ اور اس کا عملہ ریڈ کے لیے نکلے تھے لیکن اس کے عملے کی بیوقوفی سے مجرم بچ کر نکل گۓ تھے باقی تمام پولیس اسٹیشن کے لیے نکل گۓ تھے لیکن سوزین وہاں سے گھر کے لیے نکل گٸ کیوں کے وہ بہت لیٹ ہوچکی تھی اور تابش سخت ناراض ہوتا جب وہ واپس آتا اور سوزین کو اپنے سامنے نہ پاتا
اور ایسا ہی ہوا تھا جب سوزین گھر واپس آٸی تو تابش کمر کیے سو رہا تھا یہ اسکی ناراضگی کا اظہار تھا۔۔
وہ سچ میں سوچکا تھا سوزین اسے ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی اسی لیے صبح منانے کا سوچ کر چینج کرنے جانے لگی تو اسے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہتھکڑی کا خیال جو وہ جلدی کے چکر میں ساتھ لے آٸی تھی وہ ہتھکڑی کو ساٸڈ ٹیبل پہ رکھ کر چینج کرنے چلی گٸ۔۔
صبح جب تابش کی آنکھ کھلی تو اپنے سینے پہ سر رکھے سوزین کو سوتے پایا تابش اسے آنکھیں بھر کے دیکھنے لگا کتنی خوبصورت ہے میری بیوی۔۔
سوزین کو نیند میں جب اپنے چہرے پہ کسی کی نظر کی تپش محسوس ہوٸی تو اس نے فورا آنکھیں کھلیں تو تابش اسی کو دیکھ رہا تھا سوزین نے تابش کے لگے میں بازو ڈالتے ہوۓ کہا۔۔۔
سوری تابی جی میں رات کو لیٹ ہوگٸ۔۔۔
اچھا یعنی جسٹ کل رات کے لیے سوری اور جو پورے ہفتہ سے تم مجھے روز ٹل رہی ہو اس کا نقصان کون بھرے گا تابش نے اس کے تل کو مس کرتا مزید اس کے اوپر آتے ہوۓ کہا۔۔
آپ نا تابش بہت ٹھرکی ہو ذرا سے قریب کیا آٶ پھسل ہی جاتے ہیں سوزین اسکی سانسوں کو اپنے گردن پہ محسوس کرکے پیچھے کرتی ہوٸی بولی۔۔
ہاں تو اچھی بات ہے نا اپنی بیوی پہ پھسل رہا ہوں تمہیں کیا مسلہ ہے تابش بغير پیچھے ہٹے اس کی گاٶں کی ڈوریاں کھولتا ہوا بولا۔۔
وہ ڈوریاں کھولنے کے بعد اس کے اسٹرپ ہٹا رہا تھا تبہ سوزین نے اسے دوبارہ پیچھے کرتے ہوۓ کہا تابی پلیز ابھی آفس کا وقت ہورہا ہے رات کو پلیز وہ اس کی شدت دیکھ کر اٹھ کرجانا چاہ رہی تھی۔۔۔
خاموش زینی تابش کہتا ہوا ساٸڈ ٹیبل سے ہتھکڑی اٹھاکر سوزین کے دونوں ہاتھوں کو ہتھکڑی پہناتا ہوا ایک ہاتھ سے اس کا دوسرا اسٹرپ بھی کھنچ کر ہٹا چکا تھا اور اس کی زبان کو اپنے ہونٹوں سے قابو کرچکا تھا۔۔
سوزین سمجھ چکی تھی تابش اب اس کی ایک نہیں سنے گا وہ اپنی محبتیں اس پہ نچھاور کرتا اپنی طلب کو محبت سے پورے کرنے تک دونوں ہی آفس سے لیٹ ہوچکے تھے اس لیے سوزین بار بار اسے گھوری سے نواز رہی تھی جب کے تابش اس کے گھورنے پہ جلانے والی مسکراہت اس کی طرف اچھل رہا تھا۔۔
وہ اپنے نم بالوں میں جلدی جلدی برش پھیرنے لگی اب وہ مرر میں اپنے یونیفارم ساڑھی کو سیٹ کرتی تیاری ہوگٸ تھی۔۔۔
چلیں جلدی سوزین تابش کو کہتی جلدی سے سیڑیاں اترنے لگی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
