Tarbiyat by Tawasul Shah NovelR50819 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode19
Rate this Novel
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode01 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode02 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode03 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode04 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode05 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode06 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode07 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode08 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode09 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode10 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode11 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode12 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode13 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode14 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode15 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode16 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode17 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode18 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode19 (Watching)Tarbiyat by Tawasul Shah Episode20 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode21 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode22 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode23 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode24 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode25 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode26 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode27 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode28 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode29 Tarbiyat by Tawasul Shah Last Episode
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode19
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode19
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
یہ کیا ہوا صائب؟؟
ان کی گاڑی اور بافی تمام گاڑیاں بیریئل لگا کر. بند کر دی گی تھی۔۔
تم ادھر روکو میں سامنے پولیس سے پوچھ کرآتا ہوں۔۔
ہممم اوکے۔۔
انسپکٹر صاحب ہماری گاڑی اور یہ سب گاڑیاں کیوں بند ہیں ؟ ہمیں جانا تھا اپنے فلائٹ پہ وائف ساتھ ہے میرے۔۔
سوری جنٹلمین ہمیں افسوس یے کے آپ سب کو پرابلم ہوگی لیکن ابھی کچھ دیر پہلے ہمارے سر آئی جی پی صاحب کے بیٹے کا قتل ہوگیا ہے اسی روڈ پہ اسے لیے صبح چار بجے تک یہ تمام لوگ یہاں ہی پھس چکے ہیں۔۔
آپ ایسا کریں یہاں پہ ہی سامنے ہوٹل میں رک جایں، جب تک روڈ کھل نہیں جاتے۔۔
ہممم صائب اسے پولیس والا کی بات سن کر سلوای کو لے کر سامنے ہوٹل میں چلا گیا وہ دو روم لینا چاہتا تھا بٹ انھیں ایک ہی روم ملا تھا۔۔۔
روم میں پہنچا کر سلوای کے چودہ طبق روشن ہوگئے تھے کیوں کے کمرے میں صرف ایک ہی بیڈ تھا اور صوفہ چھوٹے سائز کے تھے۔۔۔
ی۔یہ۔۔۔کیا بیڈ ایک ہی ہے نہ ہی سونے کے لیے صوفہ ہے سلوای نے پرشانی سے منہ ہی منہ میں بڑبڑیا۔۔
تو تمھیں اس سے کیا پرابلم ہے؟؟ صائب نے بیڈ کی جانب اشارہ کر کے پوچھا؟؟
نہیں صائب میرا مطلب ہے اگر میں بیڈ پہ لیٹوں گئ تو آپ کہاں،.؟؟
میں بھی بیڈ پہ لیٹوں گا اور تم بھی اسی بیڈ پہ صائب نے اسی پہ زور دے کر کہا۔۔
ن۔ نہیں نہیں صائب ایسے کیسے ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہم ایک بیڈ پہ نہیں سو سکتے۔۔۔
اچھا جی ویسے تو بڑی بیوی بنتی پھرتی ہو، ابھی کہہ رہی ہو ہم کیسے ایک بیڈ پہ سو سکتے ہیں صائب نے اس کی نقل اتاری۔۔
پر صائب۔۔۔۔
خاموش سلوای اب ایک لفظ نہیں تم نے اسی بیڈ پہ سونا ہے، بیوی ہو تم میری نکاح میں ہو میرے پھر کیا مسلہ ہے؟؟ تمھیں اور میں بھی دو بیڈ رومز لے رہا تھا دوسرا ملا نہیں تو میں کیا کرو،؟ صائب کہتے ہی دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گیا اور اپنا موبائل یوز کرنے لگا۔۔
یہ ناراضگی کا اشارہ تھا سلوای جان چکی تھی صائب اس سے ناراض گیا ہے۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*
مبارک!!۔۔ ہو آپ کو وہ بالکل ٹھیک ہیں اور کومہ سے باہر بھی آچکی ہیں دوایوں کے زیر اثر بےھوش ہیں کچھ ہی دیر میں انھیں ھوش آجائے گا پھر آپ انھیں لے جاسکتے ہیں۔۔
ڈاکٹر نے عمر صاحب کو بتایا۔۔
شکر نے میرے مالک میری بچی ٹھیک ہے۔۔
یہ اللہ پاک کا معجزہ ہی لگتا ہے کے وہ زندہ ہیں ورنہ وینٹیلیٹر اسکرین پہ ان کی سانسیں رک چکی تھیں اور ہم نے ہر طرح سے چیک کرنے اور تصلی کرنے کے بعد ہی ان کی موت کی تصدیق کی تھی، پھر پورے دس منٹ بعد ان کی سانسیں واہس لاٹی ہیں ہم خود خیران ہیں خیر جس کو رب رکھے اسے کون چکھے ۔۔
جی بالکل ڈاکٹر صاحب آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔
ڈاکٹر بات کرنے کے بعد جاچکا تھا۔۔
ڈاکٹر عمر صاحب کا جاننے والا تھا اسی لیے لمبی گفتگو کرکے گیا تھا۔۔
ڈاکٹر کے جانے کے بعد عمر صاحب نے گھر انیلا بیگم کو اطلاع دی تھی جو سوزین کی ایسی خیر سے چار گھنٹے بےھوش رہی تھیں لیکن کچھ دیر پہلے انھیں ھوش آیا تو عمر صاحب نے بتایا تھا کہ سوزین کی سانسیں چل پڑی ہیں تب جاکر وہ تھوڑی مطمعن ہوئی تھی۔۔
انیلا بیگم کو جب پتہ چلا کہ سوزین کچھ دیر میں گھر آرہی ہے تو انیلا بیگم اپنی چوٹ جو انھیں گرنے سے آئی تھی اس کی پروا کیے بغیر شکرانے کے ناوافل ادا کرنے کے لیے اٹھ گئ۔۔
عمر صاحب نے بھی ہوسپیٹل میں صدقہ خیرات کی اور سوزین کے کمرے کی طرف چلے گئے کیوں کے ابھی انھیں نرس بتا کر گئ تھی کہ سوزین کو ھوش آگیا ہے اب وہ مل سکتے ہیں۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*
صائب!!..
کھڑوس پیا۔۔!!
صائب سر۔۔۔!!
سلوای کتنی دیر صائب کو مختلف ناموں سے پکار رہی تھی لیکن صائب کانوں میں ہنڈ فون لگا موبائل پہ کوئی کلیپ دیکھنے میں مصروف تھا، بس اسی وجہ سے وہ اسے اگنور کررہا تھا۔۔۔
سلوای صائب کے قریب جا کر خاموشی سے موبائل میں ہونے والی کارروائی دیکھنے لگی۔۔
یہ کسی موویز کا سین تھا۔۔
ہیرو جاتی ہوئی ہیرون کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکتا ہے، پھر اس کے کندھے پہ بکھرے بالوں کو پیچھے کرتا ہے اور اپنے ہونٹ اس کے کندھے پہ رکھ لیتا ہے، جس وجہ سے ہیرون صاحبہ پلٹ کر ہیرو کے سینے پہ ہاتھ رکھ لیتی ہے۔۔
ہیرو ہیرون کے کانوں کے پیچھے بالوں میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے ہونٹ کے قریب کرتا ہے، ابھی ہیرو ہیرون کے ہونٹوں پہ جھک ہی رہا ہوتا ہے کہ کلیپ ختم ہوگیا۔۔
صائب شاید مزید دیکھنے کے موڈ میں تھا اس لیے ویڈیو ختم ہونے پہ اپنا موبائل ببڈ پہ رکھ کر دوسری جانب کروٹ لی تو وہاں آنکھوں کو روز سے بند کیے سلوای کو پایا۔۔
صائب بےقابو ہو کر سلوای کے جانب بڑھ اور اسے پکڑ کر اپنے خسارے میں لے لیا سلوای صائب کے خسارے میں اپنی اتھل پتھل ہوتی دڑکنوں کو مشکل سے قابو میں کررہی تھی۔۔
وہ صائب کے ناراض ہو جانے کے ڈر سے خاموش ہی رہی، صائب نے اب اسے اپنے اور بھی قریب کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں پہ اٹیک کیا تھا، سلوای اچانک ہونے والے اٹیک کے زیر اثر اپنی آنکھیں خیرانی سے کھولے صائب کو پیچھے کررہی تھی، لیکن صائب کو نے جانے کیا ہوا تھا کے وہ آج سلوای سے تمام تر دوریاں مٹانے پہ لگا ہوا تھا۔۔۔
صائب سلوای کے ہونٹوں کو بخشتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر اس کی شرٹ کو اوپر کرنے لگا صائب ابھی شرٹ کو پیٹ تک ہی لایا تھا کہ سلوای نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کانپتی ہوئی آواز میں کہا پلیز صائب پیچھے ہٹیں۔۔
میں آپ بیوی ہوں لیکن ابھی ہماری رخصتی نہیں ہوئی پلیز ابھی یہ سب ٹھیک نہیں، صائب نے دیکھا سلوای کی آنکھوں میں التجا اور پرشانی واضح تھی۔۔
صائب اسے چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
سلوای اپنی رکی ہوئی سانسوں کو بحال کرتی بلکونی میں جا کھڑی یوئی۔۔
دس منٹ بعد کلک کی آواز سے دروازہ کھلا اور صائب اندر داخل ہوا سلوای نے اسے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا کیوں کے وہ اس کے پرفیوم کی خوشبو کو اچھی طرح پہچانتی تھی۔۔۔
چاند رات مبارک میری جان، صائب نے اس کی گال پہ اپنے پیار کا دوسرا تیسرا بوسا دیا۔۔
آج آپ کا ٹھرکی والا کرایکٹر زیادہ لمبہ نہیں ہوتا جا رہا؟ سلوای نے پیار بھرے غصہ سے اس کا کالر پکڑتے ہوئے پوچھا۔۔
سلوای کیا کروں یار اب نہیں رہا جاتا تمھارے بغیر صائب نے اس کی کمر کے گرد باتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔
تب ہی صائب کا موبائل بجنے لگا تو صائب سلوای کو چھوڑ کر کال سننے لگا۔۔
جی انکل کیسے ہیں آپ،؟ صائب نے عمر صاحب کی کال اٹھا کر کہا۔۔
میں ٹھیک ہوں بیٹا۔۔۔
تم اور سلوای ٹھیک ہوں نا۔۔
جی جی انکل ہم دونوں بھی ٹھیک ہیں۔۔
بیٹا سوزین کو ھوش آگیا ہے اور ابھی میں اس کے کمرے میں جارہا ہوں پھر اسے گھر کے کر جانا ہے۔۔۔
اوووووووو شکر ہے انکل اسے ھوش آگیا۔۔
بس بیٹا رب کا جتنا شکر ادا کرو کم یے۔۔
انکل ہم صبح اٹھ بجے تک مری پہنچ جائے گئے۔۔
وہ ابھی دراصل یہاں کچھ مسلہ بنا تھا جس وجہ سے روڈ بلاک تھے ورنہ ہم آج رات کو ہی آنے والے تھے۔۔
اچھا بیٹا ٹھیک ہے خیر سے آو اب میں رکھتا ہوں۔۔
عمر صاحب نے فون رکھ دیا۔۔
سوزین کومہ سے واپس اگئ ہیں سلوای۔۔
سچ صائب، سلوای نے خوشی سے یقین دہانی کروائی؟؟
ہنڈرٹ پرسنت سچ سلوای۔۔
اوو صائب آپ نے کتنی اچھی بات بتاتی اور سلوای اسے کے گلے لگ گئ، تو صائب نے اس خود میں بیچ لیا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
عمر صاحب جب کمرے میں پہنچے تو سوزین دوسری جانب منہ کیے کھڑی تھی۔۔
زینی بیٹا!!..
سوزین نے پلٹ کر دیکھا تو آرام سے آرام سے چلتی عمر صاحب کے قریب چلی گئ۔۔
میرا بچا اب ٹھیک ہوگیا ہے نا، سوزین یہ سنتے ہی بابا کہہ کر عمر صاحب سے لپٹ گئ۔۔۔
میرا بچا بہت مس کیا اس ایک منتھ میں میری گڑیا۔۔۔
بابا مجھے سب یاد آگیا ہے، میں آپ کی سگی بیٹی نہیں ہوں، سوزین نے روتے ہوئے کہا۔۔
نہیں میرا بچا تم میری بیٹی ہو، تو کیا ہوا کے میں رشتے میں تمھارا باپ نہیں چچا لگتا ہوں تو۔۔
چچا؟؟
ہاں سوزین میں تمھارا چچا ہوں تمھارے بابا غظم کا چھوٹا بھائی۔۔۔
ہاں بیٹا یہ سچ ہے۔۔
پر بابا مجھے ممی اور رانی ماں سے ملنا ہے۔۔
بیٹا انیلا تو گھر پہ ہے نا تمھاری رانی ماں۔۔
نہیں بابا میری رانی ماں میری نانو سوزیں کی آنکھوں کے سامنے ایک نورانی پیارا سا چہرا گھوم گیا تھا۔۔۔
بیٹا تم گھر چلو سب سے ملواں گا تمھیں۔۔
اور عمر صاحب اسے لے کر گھر کے نکل گئے۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
کاظمی صاحب آپ کا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے، ایک صفائی والے نے شاہد کو سجدے میں گرا دیکھ کر اسے بتایا۔۔
شکر ہے میرے مولا آج پانچ دن بعد میرا بچا خطرے سے باہر آیا ہے۔۔
وہ رب کے خضور سجدے شکر میں گرا۔۔
شاہد شارب سے ملنے ہوسپیٹل کے کمرے میں گیا جہاں آج چھ دن بعد اس کا بیٹا ھوش میں آیا تھا۔۔
بابا!!… شارب نے شاہد کو دیکھ کر اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔
بابا مجھے معاف کردیں۔ میں نے کبھی آپ کا کہا نہیں مانا اور آج میں بہت بڑی چھوٹ کھا کر بیٹھا ہوں، بابا پلیز مجھے معاف کردیں میں اب آپ کا اچھا بیٹا بن کر دیکھوں گا۔۔
میرا پیارا بیٹا شاہد نے شارب کو سینے سے لگا لیا تو شارب کو باپ کی آغوش میں بہت سکون ملا تھا۔۔۔
حرہ کا جب سے گھر سے باہر جانا بند ہوا تھا وہ رات کو روز روہیل کو اپنے بیڈ روم میں بلا لیا کرتی تھی، اپنے کمرے کی کھڑکی کے راستہ، پھر وہ دونوں مل کر ڈرنک کرتے اور پھر وہ سب بھی جو پہلے کیا کرتے تھے۔۔۔
لیکن شاہد یا کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی تھی کے حرہ اپنے کمرے میں رہ کر بھی اپنی آوارہ فطرت نہیں چھوڑی تھی۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
سوزین انیلا بیگم سے مل کر بہت خوش ہوئی تھی لیکن وہ اپنی ممی اور رانی ماں، تابی بھیا، ماموں شعیب، ماموں شاہد، اور اسے اپنے پیارے دوست سے بھی ملنا تھا۔۔
سوزین کو سب یاد آگیا تھا، اسی لے اس نے دوبارہ عمر صاحب سے نہیں پوچھا تھا اپنے رشتوداروں کے بارے میں کیوں اسے یہ بھی یاد تھا کے وہ زوبی اسے ادھر پاکستان لے کر آگیا تھا وہ اس کے سب اپنے تو انگلینڈ میں تھے وہ اب ان سب کو کیسے ڈھونڈے گئ، یہ سوچ کر سوزین کی آنکھوں میں نمی آگئ۔۔
صبح انیلا بیگم عمر صاحب ناشتہ کررہے تھے کہ گھر میں صائب اور سلوای داخل ہوئے۔۔۔
عید مبارک ماں بابا سلوای بھاگ کر انیلا بیگم اور عمر صاحب سے ملی۔۔۔
آپی عید مبارک سلوای سوزین کے گلے لگ گئ۔۔
عید مبارک سلو کیسی ہو؟؟
میں بالکل بھی ٹھیک نہیں ہوں آپ پورا ایک منتھ سوتی رہی بغیر اپنی سلو کی پروا کیے سلوای نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔۔
اچھا بابا آئندہ تمھارا خیال کیا کرو گئ اب تو ناراضگی چھوڑ دو سوزین نے سلو سے کہا۔۔۔
ہممم اچھا ٹھیک ہے۔۔۔
السلام علیکم عید مبارک سب کو صائب نے سب کو مشترکہ السلام اور عید مبارک کہا اور باری باری سب سے ملنے لگے۔۔۔
و علیکم السلام بیٹا آپ کو بھی عید مبارک عمر انیلا نے صائب کو ملتے ہوئے کہا۔۔۔
آپ کیسی ہیں سالی صاحبہ،؟؟
میں ٹھیک ہوں صائب آپ سنایں کیسے ہیں؟؟
میں تو آپ کے سامنے ہوں خیر شکر ہے آپ ٹھیک ہو گئ ورنہ آپ کے لیے سب بہت پرشان تھے۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
ایس پی شازم اس آپریشن میں صرف دو دن باقی ہیں اور آپ ایسا کریں کے یہ پتہ لگائے کہ ان لوگوں نے کہاں کہاں پی ایم کو ٹارگٹ بنایا ہے، اور اس میں کتنے لوگ شامل ہیں ایک آدمی شامل تو نہیں ہو سکتا، دو دن بعد انڈیا کے پرائم منسٹر نے ہمارے پاکستان آنا ہے۔۔
ان لوگوں نے انڈیا کے پی ایم کو پاکستان میں قتل کی ایک ہی وجہ سامنے آئی ہے کہ وہ پاکستانیوں پہ یہ الزام لگانے چاہتے ہیں کہ انڈیا کے پی ایم کو ہم نے قتل کروایا جس وجہ سے دونوں ملکوں میں دوستی کا بڑھتا ہوا ہاتھ دشمنی کے کھنجر میں تبدیل ہو جائے اور دونوں ملکوں میں جنگ کی شرح اور تھنگا فساد برپا ہو۔۔
اوکے سر میں معلوم کروا کے آپ کو انفارم کرتا ہوں۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
انیلا بیگم نے سوزین کے لیے آرام کی عرض سے اس کے لیے الگ بیڈ روم سیٹ کروایا تھا تاکے رات میں اسے سلوای پرشان نہ کرئے۔۔۔
رات کے کوئی بارہ کا وقت تھا، سوزین کو اپنے کمرے کی کھڑکی سے کوئی سایہ اندر آتے نظر آیا۔ اس نے اٹھ کر لیمپ اون کیا اور اٹھ کر کھڑکی کی جانب بڑھ گئ لیکن تب ہی لائٹ چلی گئ۔۔۔
سوزین واپس بیڈ پہ موبائل لینے کی عرض سے سے جانے لگی تھی تاکے وہ اس کی ٹارچ اون کرسکے لیکن۔۔ اس نے ابھی ایک ہی قدم بڑھائے تھا کہ اسے کسی نے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگا لیا۔۔
سوزین کچھ بولنے ہی والی تھی لیکن مقابل نے اس کے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر ششششش۔۔۔ کہا۔۔
میں اچھی طرح جانتا ہوں، تم ایک بہادر پولیس والی ہو لیکن اس وقت تمھارے کمرے میں کوئی چور یا کرائمنل نہیں آیا ہے اس لیے خاموشی سے رہو، اس نے سوزین کے کان میں سرگوشی کی۔۔
باربی ڈول!! تم اپنا بالکل خیال نہیں رکھتی ہو، جانتی ہوں نا مجھے کیسا لگتا ہے تمھارا اپنا خیال نہ رکھنا۔۔؟
مقابل نے اس کے فیس پہ سرخ گلاب کو گھماتے ہوئے کہا۔۔
سوزین اندھرے میں گلاب کو دیکھ نہیں سکتی تھی لیکن یہ سرخ گلاب کی مہک تھی جو اسے بچپن سے بہت پسند تھی تو پھر وہ اپنی پسندیدہ خوشبو کو اندھرے میں بھی بھلا کیسے نہیں پہنچانتی؟؟
ت۔۔ تا۔۔ ب۔۔۔ شششش سوزین دوبارہ سے کچھ کہنے والی تھی کے اسے نے دوبارہ سے ششش کہا جس پہ سوزین فورا خاموش ہو گئ۔۔
آج کے بعد اگر اپنے آپ کو کچھ ہونے دیا نا تو میں تمھارے پولیس ڈیپاٹمنت کو دیکھا لو گا، اب اس نے گلاب کو سوزین کے ہونٹوں پہ گھماتے ہوئے کہا۔۔
اب وہ اسے اپنے ساتھ ڈریسنگ کی طرف لے گیا، اس نے اندھیرے میں ہی لپس اسٹک نکلی اور مرر پہ کچھ لکھنے لگا۔ پھر وہ سوزین کو اختیات سے بیڈ پہ دھکا دیتا ہوا جہاں سے آیا تھا وہاں سے واپس چلا گیا۔۔
اس کے جانتے ہی کمرا روش ہوگیا کیوں کے لائٹ جانے سے پہلے سوزین نے لائٹ اون کی تھی۔۔۔
سوزین کی نظر فورا سے مرر پہ پڑی جہاں لپس اسٹک سے بڑا سا لکھا تھا”باربی ڈول یو آر آل ویز می”
“تم ہمشہ سے میری ہو”
تابی۔۔۔ سوزین نے زیر لب کہا۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*
جاری ہے
