Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode10

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode10

:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
کےزڈ اور رضا دونوں کسی خاص بندے سے ملنے پنڈی گئے ہوئے تھے۔۔
ابھی کےزڈ میٹنگ میں ہی تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا۔۔
کےزڈ نے نام دیکھا تو مائکل تھا، ڈیول کے بعد یہ لڑکا گینگ کا لیڈر تھا، کےزڈ کا بہت وفا دار بھی تھا، کےزڈ اسے پہ سارا کام چھوڑ کو خود رضا کے ساتھ ادھر آگیا تھا۔۔۔
ہاں جلدی بولو مائکل کےزڈ نے کال اٹھا کر کہا؟
کےزڈ صاحب ایک بلبل ملی ہے، یونی سے اٹھایا یے اسے، بہت کمال کی ہے کےزڈ اس کے بہت دام ملیں گئے لیکن ایک بہت بڑا مسلہ ہے، یہ اپنی جان لینے کے در پہ ہے اگر اسے ابھی ٹھیک نہیں کیا تو یہ کیسے بھی فرار ہو سکتی ہے۔۔۔
ہاں تو میں کیا کرو مائکل کےزڈ نے غصہ سے کہا۔۔
کےزڈ اگر آپ کہیں تو میں اسے چکھ لو پہلے، ایسے یہ کہیں بھاگنا بھی بند کر دے گئ۔۔۔۔
ہاں مائکل کر لے جو کرنا ہے تجھے اب مجھے ڈسٹرب مت کریو۔۔
شکریہ کےزڈ۔۔۔
مائکل کو اجازت ملنے کی دیر تھی اس نے اس معصوم جو مشکل سے انیس برس کی ہوگئ، بری طرح درندگی کا نشانہ بنایا، اس نے اس معصوم کی جان سے پیاری عزت کو تار تار کرنے کے بعد اسے رسیوں سے بندھ دیا۔۔۔
لوگ دوسروں کی عزتوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کے انھیں بھی یہ خساب دینا ہوگا، یہ قرص جو اب یہ لے رہے ہیں، یہ قرص واپسی ان سے لیا جائے گا اج نہیں تو کل، ان کی بیٹی ، بہن ہی صورت میں۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
زوبی نے دعا کو پاکستان اپنے گھر لایا، وہ اسے بہت اچھی لگی تھی تب ہی تو وہ اسے سے شادی کرکے لایا تھا، اور ہمیشہ اسے بیوی بناکر رکھنا چاہتا تھا۔۔
دعا کو پاکستان آئے چار دن ہوچکے تھے۔۔
دیکھو دعا میں اب تمھارا شوہر ہوں، بےشک تم سے عمر میں بڑا ہوں، لیکن تم میری بیوی ہو میں تمھارا شوہر ہوں، یہ ڈریس پہن کر جلدی سے آو باہر ہمارے خاندان والے آئے ہیں تمھیں دیکھنے کو۔۔۔
زوبی پہلے سے شادی شدہ مرد تھا، لیکن اس کے ہاں ابھی تک اولاد نہیں تھی، اسی لے اس نے اپنی ماں کو کہا تھا کہ میں اس سے نکاح کرکے لایا ہوں۔۔۔
یہ ہے آپ کی نیئ بہو۔۔
زوبی کی ماں نے دعا کو دیکھ کر کہا چل ٹھیک ہے تم اسے نکاح کرکے لایا ہے، یہ بیوی ہے تیری لیکن ابھی یہ بہت چھوٹی ہے، جب تک یہ بڑی نہیں ہوجاتی یہ میرے کمرے میں رہے گئ، زوبی کو ماں کی بات ماننی پڑی اور دعا زوبی کی ماں کے کمرے میں رہنے لگی۔۔
آج ان کے ہاں اپنے خاندان والوں میں چھوٹی سی تقریب تھی، ولیمہ کی اسی لے زوبی نے دعا کو ریڈ کلر کا گرارا دیا پہنے کے لیے۔۔
آج چار دن سے دعا کو یہ تو معلوم ہوگیا تھا کہ اس کے کمرے میں ایک باہر کو کھلتا دروازہ ہے۔۔
دعا گرارا پہن کر پیچھے کے راستہ سے بھاگ گئ۔۔۔
وہ اندھا دھن بھاگ رہی تھی، بھاگتے بھاگتے وہ کچی سڑک پہ پہنچ چکی تھی۔۔
زوبی یا اس کی ماں کو دعا پہ اس لیے شک نہ گزرا کیوں کے آج چار دن سے دعا بالکل نارمل بی ہیو کررہی تھی، اس نے بھاگنے کی یا کچھ الٹا سیدھا کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔
وہ بھاگ رہی تھی، اسے بس یہ معلوم تھا کہ آج اسے اس اندھیرے میں کہں دور بھاگ کر جانا ہے، ان لوگوں سے بہت دور جہاں اس تک زوبی کا سایہ بھی پہنچ نہ سکے۔۔۔
وہ کبھی پیچھے دیکھتی اور پھر آگئے کو بھاگتی اسے ایک طرف سے چھوٹی سی روشنی دیکھائی دی تو وہ اور بھی تیز اس کی طرف بھاگنے لگی، آہستہ آہستہ وہ روشنی قریب آرہی تھی اور وہ ایک گاڑی کی روشنی تھی۔۔
دعا کو اس گاڑی تک پہنچانا تھا اور کسی بھی طرح وہ اس گاڑی میں بیٹھے کر بھاگنا چاہتی تھی۔۔
دعا گاڑی کے قریب پہنچی تو ہڑبڑی میں وہ اپنے ہی گرارے سے الجھ کر گاڑی پہ جا لگی، اور گاڑی نے اسے اٹھا کر کسی فٹبال کی طرح سامنے پڑے بڑے پتھر پہ دے مارا۔۔۔
دعا کا سر پتھر پہ لگا اسے ایسا لگا جیسے اس کے سر سے گرم گرم کچھ نکل کر بہہ رہا ہو، پھر اسے نے دیکھا ایک مرد اور ایک عورت اس گاڑی سے بھاگ کر اس کی جانب بڑھیں۔۔۔
دعا اس عورت کے مہربان ہاتھوں میں جا کر بولی آنٹی پلیز مجھے ان سے بچا لیں وہ اتنا ہی بول پائی تھی کے اس کی آنکھوں کے آگئے اندھرا چھا گیا وہ اس عورت کی گود میں بے ھوش ہوگئ۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
رات کو کھانا کھانے کے بعد سلوای تو آرام سے بیڈ پر سوگئ اور صائب کو صوفے پر سونا پڑا جس وجہ سے اسے رات بھر سکون کی نیند نہیں آئی تھی کیوں کے اسے صوفے پر سونے کی بالکل بھی عادت نہیں تھی۔۔۔
صائب کی جب آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا صبح ہوچکی تھی۔۔
اس نے گردن گھما کر سامنے دیکھا جہاں سلوای سو رہی تھی، لیکن اب وہاں صرف بلیکنٹ پڑا ہوا تھا۔۔۔
صائب اٹھ کر کمرے کے ساتھ بنی گیلری میں آگیا، جہاں کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔
صائب اس سے باہر نکلا تو سامنے ہی وہ ٹپ ٹاپ بنی برف کے ساتھ کھلنے میں مصروف تھی، وہ برف سے سنوء مین بنا رہی تھی وہ اپنے کام میں اس قدر مصروف تھی کہ کسی کے آنے کا معلوم بھی نہیں کرسکی۔۔
صائب کو ایک شرارت سوجھی۔۔
صائب نے برف کا گولا بنا کر اپنے دھیان میں لگی سلوای کے منہ پہ مارا۔۔
سلوای اچانک ہونے والے حملہ کے لیے تیار نہیں تھی تبی برف لگنے سے ایک دم چیلا اٹھی۔۔۔
ہاہاہا اب مزا آیا نا رات کو کھڑوس کہا تھا یہ اس کا خساب برابر ہوا، صائب نے ایک اور گولا بناتے ہوئے اسے رات کی بات یاد کروائی تھی اور ساتھ ہی دوسرا گولا اس کے سنوء مین پہ مارا جو برف لگنے سے ٹوٹ کر گر چکا تھا۔۔
سلوای منہ کھولے اپنے سنوء مین کو دیکھنے لگی جیسے وہ اتنی محنت سے بنا چکی تھی بس سر ہی تو رہ گیا تھا سنوء مین کا۔۔۔
صائب۔۔ سلوای نے سر کا تاکلف کیے بنا اسے نام سے پکارا تھا۔۔۔
رکویں اب آپ میں بتاتی آپ کو سلوای برف کا گولا بنائے اس کے پیچھے بھاگنے لگی جو اس کا سنوء مین توڑنے کے بعد فرار کا راستہ ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔
سلوای کافی دیر سے صائب کے پیچھے بھاگ رہی تھی وہ اسے نہ ہی پکڑائی دے رہا تھا نہ ہی برف لگنے دے رہا تھا۔۔۔
ایک بار پھر سلوای برف لیے اس کے پیچھے بھاگی۔۔
صائب پاوں سیلپ ہونے کی وجہ سے پیٹھ کے بل برف پہ گر گیا سلوای کیوں کے اس کے بالکل پیچھے تھی اس لے وہ بھی صائب کی وجہ سے اپنا بیلنس برقرار نہ رکھ سکی اور منہ کے بل صائب کے اوپر جا گر۔۔۔
سلوای کے صائب کے اوپر گرنے والے مومینٹ پہ سلوای تو برف کے جیسے فریز ہوگئ تھی کچھ شرم سے اور کچھ گرنے سے، لیکن صائب صائب کو موقع مل گیا تھا اپنا پسندیدہ کام کرنے کا،، وہ سلوای کے چہرے پہ بکھرے بالوں کو ٹھیک کرنے لگا اور اس کی آنکھوں میں جھنکنے لگا،، جہاں اسے اس وقت شرم اور پرشانی ہی نظر آئی جہاں ہر وقت شرارت اور غصہ رہتا تھا۔۔۔
سلوای جب ھوش میں آئی تو وہ ایک دم سے اٹھی لیکن اپنے گلے میں پڑنے والے کھچاٶ سے دوبارہ صائب پہ گر گئ۔۔
کیوں کے اس کے گلے کی چین صائب کی شرٹ میں بری طرح پھس گئ تھی۔۔
سلوای کا دوبارہ اسی کنڈیشن میں گرنے سے اسے بہت زیادہ رونا آرہا تھا وہ بھی بس رونے کو تھی لیکن، صائب نے اس کی رونی صورت دیکھ کر جلدی سے چین اپنی شرٹ سے نکالی تو سلوای نے خدا کا شکر ادا کیا اور کمرے میں بھاگ گئ۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
سوزین بیٹا تمھارے بابا ابھی تک افس سے واپس نہیں آئے، ان کا فون بھی نہیں لگ رہا اور نہ ہی ان کے آفس میں کوئی فون اٹھا رہا ہے۔۔۔
انیلا بیگم نے جب سوزین کو لیپ ٹاپ پہ سلوای سے بات کرتے دیکھا تو اسے اشارے سے کال بند کرنے کو کہا۔۔
جب سوزین نے سلوای کو بائے کہا تو انیلا بیگم نے پرشانی سے سوزین کو ساری بات بتائی۔۔۔۔
رانی ماں آپ پرشان مت ہوں میں، ابھی بابا کے آفس جاتی ہوں، آج سوزین جلدی پولیس اسٹیشن سے واپس آگی تھی اسی لے اب وہ بالکل فرش تھی۔۔۔
ارے نہیں زینی بیٹا تم خود تھکی ہوئی آئی ہو، اب اتنے دور پھر سفر کرو گئ۔۔ انیلا بیگم نے بیٹی کی تھکن کا سوچ کر کہا۔۔۔
ارے نہیں رانی ماں میں بالکل فرش ہوں اور بابا کا آفس کون سا زیادہ دور ہے ایک گھنٹے کی ڈرائو ہے ابھی گئ اور ابھی واپس آئی۔۔
سوزین نے اسے تصلی دی اور گاڑی کی کی لے کر باہر نکل گئ۔۔۔
سوزین ٹروزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس کھلے بالوں میں ہی باہر نکل گئ۔۔۔
ابھی وہ تھوڑی دور ہی گئ تھی کہ اچانک اس کی گاڑی کو کچھ لوگوں نے گھیر لیا سوزین نے مشکل سے ٹائروں کی چرچراہٹ سے گاڑی کو بریک لگی۔۔
یہ ایگل گینگ تھا۔۔۔ سوزین ان لوگوں کو پہچان چکی تھی، کیوں کے ان کے چہرے ایگل کے ٹیٹو سے چھپے ہوئے تھے وہ پہچانے نہیں جاسکتے تھے۔۔۔
سوزین نے ڈش بورڈ پہ نظر ڈالی لیکن وہاں ریوارول موجود نہیں تھا، اس نے فورا ڈش بورڈ کے نیچھے باکس کھول کر دیکھا لیکن وہاں بھی ریوارول نہیں تھا۔۔۔
اب سوزین کو یاد آیا تھا یہ تو سلوای کی گاڑی تھی اس کا ریوارول تو اس کی اپنی گاڑی میں تھا۔۔۔
اوو شٹ سوزین نے کہا۔۔۔
اترو نیچھے ایک آدمی نے سوزین سے کہا اور وہ خاموشی سے باہر نکل گئ۔۔۔
چلو وہ آدمی سوزین کو لیے ایک وین میں بیٹھ گئے۔۔۔۔
یہ پانچ آدمی تھے جو سوزین کو گن پوانٹ پر یہاں لیے بیٹھے تھے۔۔۔
تم تینوں جاٶ جو کام مائکل سر نے دیا وہ پورا کرکے آٶ، ہم اس ڈی ایس پی کو مائکل سر کے پاس پہنچاتے ہیں۔۔
ان کے لیڈر زاہد نے کہا جو مائکل کے بعد ان کو کام وغیرہ سمجھاتا تھا۔۔۔
پپو اسے گن پوانٹ پر رکھ اگر ذرا بھی ہوشیاری کرئے تو چھ کی چھ گولیاں اس میں دھک دینا زاہد نے سوزین کے ہاتھ پیچھے باندھتے ہوئے پپو سے کہا۔۔۔
کھول مجھے تم جانتے نہیں میں تم سب کا کیا خشر کرو گئ۔۔۔۔۔
سوزین نے غصہ سے زاہد سے کہا۔۔
یہاں سے بچ کر جاو گئ تب کچھ کرو گئ نا زاہد اسے کہتا ہوا وین سے باہر کھڑا ہوکر مائکل سے بات کرنے لگا۔۔۔
چلو مائکل سر کے بار پہ چلو، زاہد نے ڈرائور سے کہا۔۔کیوں بھئ بار پہ کیوں پپو نے پوچھا۔۔۔
وہ اس لیے پپو کےزڈ سر تو اس شہر میں ہیں نہیں اس لیے مائکل سر اس بلبل سے آج دل بہلانا چاہتے ہیں۔۔۔۔
واہ بھئ ویسے یہ تو غلط بات ہے نا بھئ شکار ہم لاتے ہیں اور مزے وہ لیتے ہیں۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا نہیں پپو اس دفع ہمیں بھی موقع دیں گئے مائکل سر انھوں نے یہ وعدہ کیا ہے اپنے بعد ہماری باری ہے
باری باری۔۔۔
زاہد نے پپو کو آنکھ مار کر وہ سب بتایا جو مائکل نے اسے فون پہ کہا تھا۔۔۔
ایک بات تو بتاو کےزڈ کو اگر پتہ چلا تو وہ ہمیں نہیں چھوڑیں گئے یار، پپو نے خدشہ طاہر کیا۔۔
ارے انھیں بتائے گا کون تو فکر مت کر زاہد نے بےفکر ہو کر کہا۔۔۔
یا اللہ آج مجھے بچا لینا میں ہوں بھی ناہتی ورنہ اپنی عزت پہ بات آتی تو خود کو ہی ختم کرلیتی، سوزین بےشک بہادر پولیس والی تھی لیکن تھی تو ایک لڑکی نا اور اس کے اندر سے بھی ایک کیڈنیپ کی گئ لڑکی بول رہی تھی۔۔۔
بار پہ پہنچ کر اسے ایک کمرے میں لایا گیا، ابھی مائکل پہنچا نہیں تھا۔۔
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ باہر سے گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی۔۔ اور پھر ایک لڑکا اندر داخل ہوا۔۔۔
تم۔۔۔۔ زاہد اور پپو نے خیرانی سے آنے والے کو دیکھا اور ایک ساتھ بولے تم۔۔۔۔
ہاں میں اسے ہاتھ لگانے کی سزا تو ابھی ہی دونوں کو ملنی ہے۔۔
آنے والے نے ان پہ گن تان لی۔۔
تم غدار ہو، کے ڈر تمھیں معاف نہیں کریں گئے، یہ لفظ دونوں کے منہ میں رہ گئے آنے والے نے دونوں کو ایک ایک گولی پیشانی پر ماری جس سے وہ اگلا سانس بھی نہیں لے سکے۔۔۔
چلوں وہ سوزین کو پکڑے جانے لگا تو سوزین کے ہاتھ پاٶں منہ بندھے تھے اس نے ہاتھ بڑھا کر رسیاں کھولنے چاہی لیکن وہ بہت سخت تھیں اسی لے مقابل نے سوزین کو چیئر سے اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔۔ اور جلدی سے باہر نکل گیا۔۔۔
وہ اسے کے گلے میں پڑی چین کو دیکھنے لگی، جہاں ڈی لٹک رہا تھا۔۔۔
سوزین کچھ بول نہیں پارہی تھی، کیوں کے اس کا منہ بھی بندا ہوا تھا۔۔۔
وہ اس کو اچھی طرح پہچان چکی تھی وہ پہلے اسے کہاں دیکھ چکی ہے۔۔
اب وہ سوزین کو اپنی گاڑی میں بیٹھا کر خود ڈرائو کرنے لگا۔۔
سوزین کی گاڑی کے پاس پہنچ کر اس نے اس کی رسیاں کھولی اور منہ بھی۔۔۔
جاو تم گھر اس نے اسے گاڑی کی طرف اشارہ کیا، اور آئندہ رات میں ریوارول کے بغیر گھر سے نہیں نکلنا۔۔۔
تم کون ہو؟؟, اور وہ لوگ تمھیں غدار کیوں کہہ رہے تھے؟؟ اور مجھے بچانے کا کیا مقصد ہے تمھارا؟؟
سوزین نے اپنی پولیس ٹون میں آتے ہوئے پوچھا۔۔۔
پہلی بات مجھے تم کہہ کر مت مخاطب کرنا دوبارہ آپ کہہ سکتی ہو تم۔۔
اور دوسری بات یہ سب میں تمھیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا گھر جاو رات ہوگئ ہے بہت۔۔
ابھی سوزین اس سے کچھ اور پوچھنے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن کار میں پڑا سوزین کا موبائل رنگ کرنے لگا تو سوزین اس طرف متوجہ ہوگئ۔۔
سوزین کہاں ہو بیٹا تمھارے بابا گھر آگئے ہیں تم بھی جلدی سے آجاٶ۔۔
اوکے رانی ماں میں بھی پہنچ رہی ہوں۔۔
سوزین نے جب کال بند کر کے پیچھے دیکھا تو وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی کو آگے بڑھا چکا تھا۔۔
سوزین بھی کار میں بیٹھ کر گھر والے راستہ پہ ڈال چکی تھی۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
وہ دونوں میاں بیوی اسے اپنے ساتھ مری لے کر آگئے تھے۔۔۔۔
دعا کو جب ھوش آیا تو اسے نے ایک عورت کو اپنے سرہانے بیٹھا پایا۔۔۔
اس نے اسے پہچانے کی کوشش کی تو وہ اسے پہچانے نہیں پائی رہی تھی۔۔۔
اس نے اپنے دماغ پہ زور ڈالا اور یاد کرنے لگی وہ کہاں ہے؟ کون ہے ؟ کہاں سے آئی ہے؟ لیکن اسے کچھ بھی یاد نہیں آرہا تھا۔۔
میں کہاں ہوں؟؟
دعا نے اٹھتے بیڈ پہ بیٹھ کر کہا۔۔۔
بیٹا آپ سیف ہو جہاں بھی ہو، اس عورت نے اس کے سر پہ نرمی سے ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
کیا نام ہے آپ کا بیٹا؟؟
میرا نام۔۔۔ کیا نام ہے میرا مجھے یاد کیوں نہیں آرہا رہا دعا نے اپنے سر کو تھام کر کہا۔۔
ارے آپ کا نام سوزین یے نا بیٹا اس عورت نے اسے جلدی سے اپنے ساتھ لگا کر کہا۔۔۔
آپ رانی ماں ہو نا دعا کی یاداشت تو جاچکی تھی لیکن اسے یہ نام ابھی تک یاد تھا۔۔
جی ہاں میں آپکی رانی ماں ہی ہوں نا۔۔۔
رانی ماں مجھے کیا ہوا ہے سر میں اتنی پین کیوں ہے؟.
بیٹا آپ کو سر پہ چوٹ لگی تھی نا اس لیے پین ہورہی ہے۔۔
اتنے دیر میں ایک سرونٹ کھانے کی ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔۔
زینی بیٹا کھانا کھا لو پھر آپ کو میڈیسن بھی دینی ہیں۔۔
دعا نے کھانا کھایا اور پھر دوائی لینے کے بعد سو گئ۔۔
آج دعا کو اس گھر میں آئے ہوئے ایک منتھ ہوگیا تھا، اب اس کی چوٹ بھی ٹھیک ہوگی تھی۔۔
ڈاکٹر نے انھیں بتایا تھا وہ بس اپنے رشتوں کو بھول چکی ہے باقی اس کا ذہن پڑھائی کے لیے بالکل ٹھیک ہے۔۔
ڈاکٹر کے کہنے پہ مسٹر اینڈ مسسز آفندی دونوں نے شہر کے اچھے اسکول سے سوزین کو میٹرک کا ٹیسٹ دلوایا تو سوزین نے سب سبجکٹ میں اچھی کارکردگی دیکھائی تو ان دونوں نے اسے اچھے کالج میں فرسٹ ائیر میں داخلہ دلوا دیا۔۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *