Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode18

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode18

:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
ررر۔۔ن۔۔ن۔نی۔ م۔۔م۔ں۔۔رانی ماں ممی۔۔۔۔۔۔
مامی پلیز ایسا مت کریں میرے ساتھ!!
میں نہیں رہ پاو گئ پلیز۔۔۔ ایسا مت کریں۔۔۔
زینی بیٹا میری جان تم اٹھ گئ۔۔
انیلا بیگم بھاگ کر اس کے پاس پہنچی، لیکن وہ دوبارہ بیڈ پہ گر گئ۔۔۔۔
ڈاکٹر۔۔۔۔ دیکھو تو میری زینی کو کیا ہوگیا ہے، انیلا بیگم نے ڈاکٹر کو آتے دیکھا کر کہا۔۔۔
ڈاکٹر نے اسے چیک کرنے کے بعد اس پہ سفید چادر جو اس کے وجود پہ پڑی ہوئی تھی اسے اس کے منہ پہ بھی ڈال دیا۔۔
سوری شی از اکسپائر۔۔
“Sorry she is expire”
انیلا بیگم نے جب ڈاکٹر کے یہ لفظ سنے تو بےھوش ہو کر گر پڑھیں۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
پیلا دے پیلا دے۔۔۔۔
پیلا دے دیوانی میں ہوں جس کی آئی ایم بیڈ گرل آئی لائک وسکی۔۔۔۔۔
حرہ انگلی میں گاڑی کی چابی کو گھماتی گنگناتی ڈگمگاتی اپنے گھر میں داخل ہورہی تھی۔۔۔
شاہد جو نیند سے پانی کی طلب سے جاگا تھا، جگ میں پانی نہ پا کر وہ کچن میں پانی پینے آیا تھا جب وہ اپنے کمرے میں جانے لگا تو اس کی نظر گھر کے اندر آتی حرہ پہ پڑی، جو گرتی پڑتی آرہی تھی ساتھ گانے کے بے ترتیب بول بولتے ہوئے۔۔۔
حرہ۔۔۔!!
شاہد نے اس کی ایسی حالت دیکھ کر اسے غصہ سے پکارا۔۔۔۔
بابا آپ جاگ رہے ہیں، حرہ نے اچانک باپ کی آواز سن کو خیرانی سے باپ کو دیکھا۔۔
کہاں سے آرہی ہو تم؟ شاہد اس کے سر پہ پہنچ چکا تھا۔؟
بابا و۔۔ وہ نائٹ کلب سے اسے نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے جواب دیا۔۔
تم نے شراب پی ہے شاہد کو اس کے منہ سے شراب کی سمیل آئی تو اسے نے حرہ کو سختی سے بازویوں سے پکڑ کر پوچھا؟؟
چھوڑیں بابا درد ہورہا ہے حرہ نے ناٹک کرنے کی کوشش کی۔۔
چٹخ۔۔۔ چٹخ۔۔۔۔ شاہد نے زبردست قسم کے دو تھپڑ حرہ کے منہ پہ لگائے جس سے وہ زمین پر گر گی۔۔۔
تم میں ذرا سی بھی شرم نہیں حرہ ایک تو صبح کے تین بجے گھر آرہی ہو شراب پی کر جب پوچھا رہا ہوں تو آگئے سے ناٹک کرتی ہو۔۔
شاہد نے اسے بالوں سے پکڑ کر کہا۔۔۔
شور کی آواز سن کر ارمہ بھاگی چلی آئی۔۔
شاہد۔۔ چھوڑو حرہ کو پاگل ہوگئے ہو کیا۔۔ ارمہ حرہ کو چھڑوانے آگئے آئی تو شاہد نے ایک کھنچ کر اسے کہ منہ پہ بھی دی جس سے وہ سامنے پڑے صوفے پہ جا گری۔۔۔
ساری کی ساری غلطی تمھاری ہے ارمہ یہ تمھاری جوان بیٹی ہے جو رات کے اس پہر گھر آرہی ہے ، شراب پی کر نائٹ کلب سے؟؟ یہ ہی تربیت کی ہے نا تم نے اپنے بچوں کی.؟.
ارمہ شاہد کے سامنے خاموش ہو چکی تھی, ورنہ وہ جانتی تھی اب اس کے سامنے بولنے کا مطلب ہے دوبارہ سے تھپڑ کھانا۔۔
تم تو چلو نا میرے ساتھ ، شاہد ارمہ کو خاموش دیکھ کر حرہ کو بالوں سے پکڑ کر اس کے کمرے میں لے گیا۔۔۔۔
آج کے بعد تمھارا گھر سے باہر جانا. بند، شاہد اسے بیڈ پہ دھکا دے کر اسے کمرے میں لاق کر چکا تھا۔۔۔
رائمہ کیا ہوا تمھیں کیوں وامٹینگ کررہی ہو تم؟؟
شارب نے اسے اپنے بازویوں میں لیتے ہوئے پوچھا۔۔
پتہ نہیں کیا ہوا ہے یار رائمہ نے لاپروائی سے کہا۔۔
چلو ڈاکٹر کے پاس چلو، رائمہ کے نہ نہ کرتے کے باوجود شارب اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔۔۔
ڈاکٹر نے رائمہ کی پریگننسی بتائی تھی ۔۔۔
رائمہ یار اب تو مان جاو شادی کے لیے دیکھو اب تو ہمارا پیار تمھارے پیٹ میں پل رہا ہے۔۔۔
شارب یار تم ایک ہی بات کر کر کے تھکتے نہیں ہو، اور تمھیں کیا پتہ میرے پیٹ میں پلنے والے بچے کے باپ تم ہو؟؟ رائمہ نے گھٹیا پن کی انتہا کرتے ہوئے کہا۔۔
کیا مطلب پھر کون ہے اس کا. باپ؟ شارب نے غصہ سے رائمہ کو دیکھ کر پوچھا؟؟
جبران کا بچا ہے یہ تمھارا نہیں سمجھے۔۔ اسے نے چلا کر کہا
چٹخ۔۔ اتنی زلیل عورت ہو تم ایک ساتھ دو دو مردوں کے ساتھ ریلیشنشپ میں ہو.. ؟ شارب کا غصہ سے برا حال ہوا جب سے پتہ چلا کہ رائمہ اس کے علاوہ بھی کسی کے ساتھ ریلیشنشپ میں ہوسکتی ہے؟؟
یو رائمہ نے سامنے پڑی گن اٹھا کر شارب پہ تان لی اور شارب پہ گولی چلا دی۔۔۔
شارب اپنے سامنے اس کا اصلی چہرا دیکھ رہا تھا جس سے اس نے زندگی میں سب سے زیادہ چاہا اور پیار کیا تھا، وہ مزید کچھ سوچ نہیں سکا اور اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
آج دن کو پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ فلاں جگہ ڈرگز اسمگل ہونے والے ہیں۔۔
ایس ایچ آو مروا نے اس لوکیشن پہ پہنچے کر اس آدمی کو بھی پکڑا تھا اور اسے کے پاس ڈرگز سے بھرا بیگ بھی پکڑا تھا۔۔۔
شاباش مروا ہمیں اپنی ڈیپاٹمنت کی لیڈیز پہ فخر ہے
تھنکس سر۔۔
اچھا مروا وہ (M.I.P.M.P) کوڈ کا کام کہاں تک پہنچا پتہ کریں ذرا، ایس پی شازم نے اسے کہا۔۔
اوکے سر میں پانچ منٹ میں پتہ کرکے آپ کے پاس ریپوٹ لاتی ہوں، وہ سلیوٹ کرتی باہر چلی گئ۔۔
سر اس کاڈ کا مطلب مل گیا۔۔
مروا نے شازم کے سامنے فائل رکھتے ہوئے کہا۔۔
(M.I.P.M.P)
“مرڈر آف انڈیا پرائم منسٹر ان پاکستان”
(Murder of Indiana prime minister in Pakistan)
سر آپ اوپر یہ بات پہنچا دیں مروا نے شازم کو کہا۔۔
ہمم آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں میں ابھی آئی جی سر کو انفارم کرتا ہوں۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*
سلوای اور صائب کراچی پہنچ چکے تھے، آج پانچ دن ہوچکے تھے انھیں کراچی میں۔۔
عمر صاحب نے سوزین کے فلائٹ کی چابی دی تھی، سلوای اور صائب کو جو سوزین کراچی میں رہتے وقت استمال کیا کرتی تھی۔۔
صبح سحری میں سلوای اتھتی تو صائب آگئے سحری بناکر بیٹھا ہوتا، اور افطاری سلوای کو بنانا ہوتی تھی، کیوں کے صائب ایک دن سے زیادہ ہوٹلنگ اگر کرتا تو اسے کوئی پرابلم ہوجاتی اس لیے اسے ڈاکٹر نے کہا تھا کم ہوٹلنگ کرنے کو اس لیے سحری صائب اور افطاری سلوای بناتی تھی۔۔۔
صائب صبح سحری بناتا تو سلوای سکون سے سو رہی ہوتی وہ صائب کی کوئی ہلپ نہیں کرتی تھی سحری بنانے میں بس سحری کر کے نماز اور قران پاک کی تلاوت کرتی اور پھر سو جاتی، جب کے افطاری ٹائم پہ صائب سلوای کے روزے سے برا حال دیکھ کر خود ہی اس کی آدھے سے زیادہ ہلپ کردیا کرتا تھا۔۔۔
ارے سلوای اٹھ جاو نا سحری کا وقت نکلا جا رہا ہے، یہ صائب اسے تیسری بار اٹھانے آرہا تھا۔۔۔
آپ جایں میں آرہی ہوں اب کی بار سلوای نے تنگ آکر اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
اففف اس کھڑوس کو کیسے سمجھاو مجھے آج روزہ نہیں رکھنا ہے، پھر لگتا ہے مجھے اس کنڈیشن میں بھی روزہ رکھوائے گا۔۔۔
سلوای منہ کو عجیب غریب طرح بناتی ہوئی اٹھ گئ۔۔
سلوای سحری کرنے کے بعد دوبارہ آکر سوگئ۔۔۔
سلوای!؟ صائب اس کے سر پہ کھڑا تھا۔۔
یار جایں نا اپنے کمرے میں مجھے سونا ہے سلوای نے چڑ کر کہا۔۔۔
آج تم نے نہ نماز پڑھی نہ قران پاک کی تلاوت کی کیوں اٹھاو پہلے یہ کام کرو پھر سونا۔۔۔
ارے بھئ آپ کو کیا ہے آپ نے میری قبر میں نہیں جانا جایں میں نے نہیں کرنا کچھ بھی اس وقت دن میں کرلو گئ سلوای صائب کو پکڑ کر دروازے کے باہر لے گئ اور خود اندر سے کمرا لاق کرلیا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
ابھی کچھ منٹ ہی گزرے تھے کے سوزین کی کھڑکی سے اندر ایک لڑکا کودا۔ اس پہ سفید چادر اور وینٹیلیٹر اسکرین پر بالکل سیدھی لائنز دیکھ کر اس کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا۔۔۔
اس نے اس کی سفید چادر کو پیچھے ہٹایا اور اس کی کمیز کے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اسے روز سے جھنجھوڑا تم ایسے نہیں جاسکتی ہو سمجھی تم!!
اب تو تمھیں میری زندگی میں آتا تھا پلیز!!
اٹھ جاو پلیز اسے مت کرو میرے ساتھ میں کیسے جیوں گا تمھیں بغیر۔۔۔؟؟
اس نے غم و غصہ سے دو تین بار اور جھنجھوڑا لیکن اسے کے وجود میں کوئی جنش نہ ہوئی۔۔۔
تمھیں اٹھنا ہوگا یہ کہتے ہی اسے نے سوزین کے منہ پہ زور زور سے تھپڑ مارانا شروع کر دیئے۔۔۔
ایک۔۔۔۔۔ دو۔۔۔۔ تین۔۔۔۔۔ چار۔۔۔
سوزین کے منہ سے سانس کی آواز نکلی اور وینٹیلیٹر اسکرین پہ بھی بالکل سیدھی لائنز میں ٹیڑا پن ہوا تو وہ لڑکا اسے چھوڑ کر نرس کو بتانے گیا اور کچھ ہی دیر میں سب ڈاکٹر نے سوزین کو میشینوں سے جھکڑ دیا تھا۔۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*
شارب کو زخمی حالت میں ہوسپیٹل آئی سی یو میں منتقل کیا گیا۔۔۔
ارمہ اور شاہد پرشان حال ہوسپیٹل کے کوریڈور میں کھڑے تھے۔۔
ڈاکٹر نے کہا تھا پیشنٹ کی حالت بہت نازک ہے آپ دعا کریں انھیں دعا کی بچا سکتی ہے۔۔۔
ارمہ پرشانی سے چکر کاٹ رہی تھی، شاہد بھی بہت پرشان تھا وہ جیسا بھی تھا اس کا بیٹا تھا خون تھا اس کا شاہد کے قدم مسجد کی طرف اٹھ گئے، اب وہ ہی ہے وہ میرے بیٹے کی زندگی لٹا سکتا ہے شاہد کاظمی نے سن ہوتے دماغ کے ساتھ سوچا اور مسجد کی جانب چلا گیا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*
دن کے وقت جب صائب اپنے کام سے واپس آنے کے بعد گھر آیا اور نماز ظہر پھر قران پاک کی تلاوت کی اب وہ بیڈ پہ لیٹ گیا تھا۔۔
سلوای کہاں ہے کافی دیر سے آیا ہوں نہیں آئی وہ، ویسے تو وہ روز اس کے آنے پہ اس کے پاس روزے کا پوچھنے ضرور آیا کرتی تھی، پھر آج کیوں نہیں آئی یہ سوچ آتے ہی وہ سلوای کے کمرے میں پہنچا تو بیڈ پہ بکھری بیڈ شیٹ اور بلیکنٹ پڑا ملا کیوں کہ تھوڑی بہت ٹھنڈ تھی۔۔
سلوای!!.. صائب اسے کمرے میں نہ پا کر کچن کی طرف بڑھ گیا۔۔
سلوای جو ابھی کچھ دیر پہلے اٹھی تھی اور اپنا کمرے تک ٹھیک نہیں کیا تھا کیوں کے اسے زور کی بھوک لگی تھی اس لیے وہ کچن میں پہنچی اور اپنے لیے فریش فروٹ چاٹ بنا کر کھانے لگی۔۔
سلوای کو جب صائب کی آواز سنائی دی تو اس نے فروٹ چاٹ کا باٶل فلیم شلف کے نیچھے رکھ دیا۔۔
کیا کررہی ہو سلوای یہاں پہ؟ صائب نے فرج کے پاس کھڑی سلوای کی جانب دیکھا۔۔
کچ۔۔ کچھ نہیں وہ میں پانی میرا مطلب ہے فروٹس چیک کرنے آئی تھی کہیں ختم تو نہیں ہوگئے۔۔
یار فروٹس تو کل ہی میں لایا تھا تمھیں بتایا بھی تو تھا۔۔۔
ہاں مجھے یاد نہیں رہا تھا۔۔
اچھا چلو میرے کمرے میں آفس کا کچھ کام ہے ہلپ کروا دو میری۔۔
صائب اسے کا ہاتھ پکڑ کر لے گیا اور سلوای بےچارگی سے فلیم شلف کی جانب دیکھتی ہوئی صائب کے ساتھ باہر چلی گئ۔۔
افففففففففف شکر ہے ختم ہوگیا کام میں تو بہت تھک گئ ہوں صائب اچھا جی تو لو ریسٹ کر لو ادھر صائب نے اپنی بازو کھول کر کہا۔۔
ویسے آپ کو شرم انی چاہے، روزہ رکھ کر بھی آپ کا ٹھرک پن ختم نہیں ہوا۔۔
یار اب بیوی سے بندا ایسا کہہ تو سکتا ہے نا گناہ نہیں ہوتا۔۔
جی نہیں روزے میں ہوتا ہے سلوای اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔۔
چل بیٹا صائب مارکیٹ جا کر افطاری لے آ آج مجھے نہیں لگتا تیری بیگم کا موڈ ہے افطاری بنانے کا، صائب خود کلامی کرتے ہوئے کچن کی طرف چلا گیا تاکہ دیکھ لے کیا کیا لانا ہے۔۔
صائب سب دیکھنے کے بعد جب واہس جانے لگا تو اس کی نظر فلیم شلف کے نیچھے پڑی صائب نے باول نکلا تو اس میں چاٹ تھا صائب نے اس کو سونگ کر چیک کیا یہ تو فریش چاٹ ہے یعنی میڈم کا آج روزہ نہیں۔۔۔
وہ کچن سے نکل کر مارکیٹ چلا گیا۔۔
نیکسٹ ڈے سلوای کچن میں افطاری بنا رہی تھی اج صائب گھر میں نہیں تھا اس نے سلوای کو بتایا تھا کہ افطاری کے پہلے آجائے گا۔۔
سلوای ساری افطاری بنا چکی تھی اب اس نے وقت دیکھا آدھا گھنٹا باقی تھا افطار میں۔۔
افف اتنی بھوک لگی رہی مجھے تو، سلوای نے کہتے ہوئے اپنے لیے پلیٹ میں سموسے، پکوڑے، رول اور باقی سب چیزوں میں سے ایک ایک اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھ لی اور ڈاینگ ٹیبل پہ بیٹھ کر مزے لے لے کر کھانے لگی۔۔۔
وہ پلیٹ میں پڑے آخری رول کا بائٹ لے رہی تھی جب دو آنکھوں نے اسے دیکھا۔۔
سلوای کو باہر آواز فیل ہوئی تو وہ جلدی جلدی اپنی پلیٹ دھونے لگی۔۔
شکر ہے سکون سے کھا لیا ورنہ کھڑوس پیا دیکھا لیتے تو کیا ہوتا۔۔۔
یار سلوای کیا ہوا تم کچھ کھا کیوں نہیں رہی؟؟
صائب نے سلوای کی پلیٹ میں سب ویسے ہی پڑا دیکھ کر کہا..۔
صائب مجھے نا بھوک نہیں یے۔۔
اچھا برتن کچن میں رکھو دھونے کے بعد اچھی سی تیار ہوجاو ہم کراچی گھوم کر آتے ہیں ویسے بھی ہمیں چاند رات کو پنڈی کے لیے نکلنا ہے۔۔ آج 29 روزہ ہے شاید آج رات کو چاند نظر آجایے۔۔
ہمم اچھا جی میں یو گئ اور یوں آئی۔۔ سلوای نے باہر جانے کا سن کر خوشی سے کہا۔۔
وہ دونوں سارا کراچی گھوم کر آئے تھے۔۔
اب سمندر کنارے چل رہے تھے۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے چاند نکلنے کا علان ہوگیا تھا سب لوگ خوشیاں منانے لگ گئے تھے۔۔
سب لوگ گھروں سے باہر نکل آئے تھے اور دیکھتے دیکھتے سمندر کنارے بہت بھیڑ ہوگی تھی۔۔
ویسے میڈم صاحبہ تم نے تو روزے رکھے نہیں۔۔
ن۔ نہیں تو میں نے سارے رکھیں ہیں اور آج اگر روزہ ہوتا تو میں آج بھی رکھتی سلوای نے صائب سے نظر چرائی۔۔
جھوٹ اس دن بھی تم چاٹ کھا رہی تھی اور آج. بھی جب میں گھر آیا تو تم کچن میں افطاری سے پہلے ہی افطاری کر رہی تھی صائب نے اس کی آنکھوں میں رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
سلوای یار ایسا کیوں کیا تم نے رمضان المبارک سال میں ایک بار آتا ہے اور اس میں بھی تم نے روزے چھوڑ دیئے صائب نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
صائب میں روزے رکھتی ہوں سارے اب میری کچھ مجبوری تھی تو اسی لیے تین چار روزے چھوڑے ہیں۔۔
جھوٹ تم نے ایک بھی نہیں رکھا صائب اپنی بات پہ قائم تھا۔۔
جب کہہ رہی ہوں مجبوری تھی لیڈیز پرابلم بھی تو ہوتے ہیں جس وجہ سب لیڈیز روزے چھوڑتی ہیں سلوای کو غصہ ہی تو آیا تھا۔۔ وہ سارے روزے رکھتی تھی اور یہ تھا کہ اسے درس دے رہا تھا۔۔۔
اوووووووو وہ بات تھی تو سوری یار معاف کردو صائب نے کانوں کو پکڑ کر کہا۔۔
جایں معاف کیا اب چلیں گھر مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*
جاری ہے❣️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *