Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode16

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode16

:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
ہاں صائب بتاو کیا ہوا؟؟
مبارکاں مبارکاں جی آخرکار ہماری پیاری دوست اور بھابھی بھی ہمیں مل گئ، صائب کی چہکتی ہوئی آواز تابی کو سنائی دی۔۔
یار یہ تو میں کل سے تیرے منہ سے بکواس سن رہا ہوں، کوئی نئ بات ہے تو بتاو ورنہ میں فون رکھ رہا ہوں، تابی نے تنگ آ کر مصروف انداز میں کہا۔۔
ارے سچ میں وہ آپ کی باربی ڈول ہی ہے آنٹی انیلا اور انکل عمر نے ساری بات بتا دی مجھے اور سوزین کسی غیر کے گھر بھی نہیں ہے، عمر صاحب اس کے چچا ہیں۔۔
لیکن انیلا آنٹی کا کہنا ہے، وہ ہمیں دولہن کے روپ میں ملی تھی اور وہ کسی سے ڈر کے بھاگ رہی تھی،پھر اس کا سر پتھر کے ساتھ ٹکڑایا تو اس کی یاداشت چلی گئ۔۔۔
صائب نے کافی لمبی تفصیل بتائی بن رکے اور اب وہ اپنا سانس ٹھیک کررہا تھا۔۔
ہممم اب دعا کا دولہن کے روپ میں ملنا بھی ایک معمہ ہے، اور یہ بھی کے ایسا کیا جائے جس سے اس کی یاداشت واپس جائے،، تابی نے پر سوچ لہجے میں کہا۔۔
ہاں بھیا یہ تو اب آپکو سوچنا ہے نا، میرا کام یہں تک تھا۔۔
اچھا سن صائب گھر میں فلحال کسی کو اس بارے میں مت بتانا۔۔۔ اور اپنے ساس سسر کو بھی منع کردینا کسی سے ذکر کرنے سے۔۔
اوکے تابی بھیا۔۔
چل ٹھیک ہے میں رکھتا ہوں اب۔۔
اللہ حافظ بھائی۔۔
:-*:-* 😘 :-*:-*:-*
انھوں نے کےزڈ کے کہنے پہ عیش مارکیٹ پہ حملہ کیا اور وہاں آئی تمام چالیس سے ساٹھ سالہ عورتوں جو خریداری کرنے نکلی تھی، مگر ایگل گینگ کے ہتھے چھڑ گئ تھیں۔۔
کےزڈ کو اطلاع دی گئ کے عورتوں کو کڈنیپ کرلیا گیا یے، وہ مال دیکھنے کے غرص سے بیسمنٹ کی جانب بڑھ گیا۔۔
کےزڈ سب عورتوں کو دیکھ رہا تھا، کے اسے کالی چادر میں لپتی عورت نظر آئی، مائکل بھی اس کے ساتھ ہی گن لیے آرہا تھا۔۔
ابے چادر ہٹاو اس کی کےزڈ نے مائکل سے کہا۔۔
وہ عورت جانی پہچانی آواز سن کر خود ہی اپنے منہ سے چادر ہٹاا چکی تھی، کےزڈ اسے دیکھ کر سکتے میں ہی تو آگیا تھا۔۔۔
شہناز تم۔۔۔؟؟؟
ہاں میں شہناز کمال۔۔
شہناز نے کےزڈ کے گربان سے اسے پکڑ کرکہا۔۔۔
شہن۔۔ شہناز ت۔۔ تم یہاں کیسے؟؟
جب انسان کفن بیچنے کا کاروبار کرنے لگے تو اپنی فیملی کا کفن پہلے تیار رکھنا چاہے کمال۔۔۔
شہناز نے چلا کر کہا۔۔
تم ایسا گھٹیا کام کرتے ہوں؟؟ راستہ میں ہم سب کو تمھارا یہ کتا سب بتا چکا ہے کہ کیوں تم نے ہمارا کڈنیپ کروایا، اس نے مائکل کو بہتریں لقب سے نوازہ۔۔
دیکھو ناز ہم گھر چل کر کے بات کرتے ہیں، چلو گھر۔۔
خبر دار مجھے ہاتھ بھی مت لگانا، شہناز نے مائکل سے گن جھپٹ کر کےزڈ پہ تان لی۔۔۔
ناز۔۔ شہناز تم کیا کررہی ہو مجھے پہ گولی چلاو گئ؟؟
تم نے سب کچھ چھن لیا میرا، اکلوتی بیٹی تھی میری وہ بھی ایسی غائب ہوگی کے آج تک کوئی سراغ نہیں ملا اس کا یہ تمھارے کرموں کا ہی پھل ہے جو میری شیزا مجھ سے دور چلی گئ۔، شہناز نے روتے ہوئے کہا۔۔
اچھا شہناز اسے تو ہٹاو تم لڑ لو مجھے سے کےزڈ نے اس کی منت کی۔۔
نہیں کمال نہیں مجھے ابھی کے ابھی طلاق چائے تم سے، طلاق دو مجھ ورنہ میں تمھیں شوٹ کر دو گئ۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہو تم شہناز تمھیں اندازہ بھی ہے کیا کہہ رہی ہو؟؟؟
میں نے کہا طلاق دو مجھ شہناز نے مائکل کی ٹانگ پر گولی چلائی ، اور مائکل ٹانگ پہ ہاتھ رکھ کر تڑپتے لگا۔۔
دیکھو کمال یہ گن تم نے ہی چلانا سیکھایا ہے اس لے میرا نشانہ چوکے گا برگز نہیں، اب میں تم پہ گولی. چلاو گی مجھے طلاق نہ دی تو۔۔
کےزڈ خاموش تھا جب شہناز نے گن کو ڈن کیا اس آواز پہ کےزڈ نے فورا کہا۔۔
میں تمھیں طلاق دیتا ہوں۔۔
اب دو لاو مجھے دو گن۔۔ کےزڈ نے اس سے گن مانگی۔
نہیں ابھی نہیں ، چلو بہنوں، شہناز اپنے ساتھ آئی عورتوں کو بولی کمال ہلنا بھی مت میں گولی چلانے میں دیر نہیں کرو گئ اب تو تم میرے شوہر بھی نہیں رہے۔۔
شہناز ابھی آگئ جاتی کے باہر سے آتے انسان نے آگ کا ایک گولا پھینکا اور سب عورتوں کو آگ لگ گئ، کیوں کہ شہناز سب سے آگے تھی اس لیے سب سے پہلے وہ ہی جلی اور دیکھتے دیکھتے سب عورتوں جل کر راکھ بن گھیں۔۔۔
گڈ جاب روما!!
اچھا ہوا تم وقت پہ آگئ ورنہ ہم تو آج پھنس گئے تھے، کےزڈ نے سامنے کھڑی عورت سے کہا جو فائر بال چھوڑ کر اب اپنی ساڑھی کے پلو سے ہاتھ صاف کررہی تھی جیسے اپنے ہاتھوں سے گناہ صاف کررہی ہو۔۔
مانتے ہو نا مجھے پھر کےزڈ روما نے کہا۔۔
ہاں جی ہم تو آپ کو تیس پینتس سال سے جانتے بھی ہیں اور مانتے بھی۔۔
بٹ سوری۔۔۔
فار وٹ کے زڈ نے ہونٹ باہر نکل کر کہا؟؟
یار تمھاری بیوی بھی ان میں جل گئ روما نے سامنے جلی ہوئی عورتوں کی جانب اشارہ کیا۔۔
ارے چھوڑو بیوی مائی فٹ اچھا ہوا مرگئ ورنہ میں نے خود مار دینا تھا اسے جسے وہ مجھے پہ گن تانے کھڑی تھی۔۔
ویسے اچھا ہوتا میں تم سے شادی کرتا یہ عذاب تو نہیں پالنا پڑتا۔ کےزڈ نے اس کا گال کھنچ کر کہا۔۔
ابے اسے کوئی ہوسپیٹل لے کر جاو کےزڈ نے کراہتے ہوئے مائکل کو دیکھ کر کہا اور خود روما کے ساتھ اوپر کمرے میں چلا گیا۔۔
-*:-*-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
کچھ دن پہلے ہی صائب نے ایک اور کونٹریک سائن کیا تھا، اور وہ آج صائب نے شروع کروائے تھا۔۔
کام کچھ ہوں تھا کے ان کے فیکٹری کے کپڑے سے لیڈیز انڈر گورمنٹ اسٹیچ کرنے تھے۔۔
پورے دس ہزار سیٹ بنانے تھے۔۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی صائب کو ڈیزائنر کی ویڈیو موصول ہوئی تھی، جو ڈیزائن میں تھوڑی تبدیلی کی گئ تھی کیوں کے یہ کمپنی سب سے الگ ڈیزائن بناتی تھی۔۔
صائب پہلے تو کچھ دیر سلوای کا ویٹ کرتا رہا تاکہ وہ یہ ویڈیوز ان لڑکیوں تک پہنچائے جو خاص ایسے آرڈرز کے لیے صائب نے ہفتہ پہلے آپائنٹمنٹ کی تھیں۔۔
جب اسے سلوای کے آنے کے آثار کم لگے تو وہ خود ہی فیکٹری چلا گیا۔۔ اور ویسے بھی جب سے سلوای کا صائب سے نکاح ہوا تھا اسے جب جی چیتا تب چھٹی کر لیتی صائب کے پوچھنے پہ وہ کہتی اس آفس کی مالک ہوں جب میری مرضی چھٹی کرو، اور صائب اس کی اس بات پہ خوش ہوجاتا ورنہ تو سلوای کم ہی اسے بات کرتی سلوای کا کہنا تھا کے صائب نے اسے دھوکا دیا ہے اپنا اور اس کے رشتہ کا چھپا کر۔۔
سلوای آفس پہنچی تو اسے معلوم ہوا صائب فیکٹری گیا ہے۔، ان نیو لڑکیوں کو کچھ سمجھانے۔۔
کون سا کونٹریک یے مونہ چیک کر کے بتاو، سلوای نے سامنے بیٹھی لڑکی سے پوچھا۔۔
جی میم میں چیک کرکے بتاتی ہوں۔۔
انڈر گورمنٹ اسٹیچنگ والا میم۔۔
ہی ہی ہی اب مزا آئے کا مسٹر صائب کاظمی کو تنگ کرنے میں اور سلوای بھی گاڑی لے کر فیکٹری چکی گئ۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*::-*
کےزڈ صاحب ایک بات معلوم ہوگئ، ڈی ایس پی کے متعلق، رضا نے صوفہ پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
کون سی رضا کےزڈ نے اس کی جانب دیکھ کر پوچھا؟۔۔
روما ابھی ابھی یہاں سے ہوکر گئ تھی، رضا کے زڈ کی وائف کے واقع سے ناواقف تھا کیوں کے اس وقت رضا اپنے کسی ضروری کام سے باہر گیا تھا جو کے وہ کےزڈ کی اجازت سے گیا تھا۔۔
وہ یہ کے اس کو بے ھوش کرنےکا طریقہ معلوم ہو گیا ،،جب وہ آپ کے سامنے آئے تو آپ نے بس اسے تین بار کہنا ہے، میں تمھیں طلاق دیتا ہوں، بس پھر وہ بے ھوش ہوجائے گئ اور ہم اسے اپنے ساتھ لے جائے گئے تب آپ اسے ختم کردینا۔۔
ہاہاہا رضا لیکن میرے ایسے کہنے سے وہ بے ھوش کیوں ہونے لگی، کےزڈ نے مزاق بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ اس لیے کےزڈ کیوں کے میں اس کی ڈاکٹر سے مل کر آرہا ہوں جو اس کے سر درد کا علاج کرتی آ رہی ہے۔۔
اس کا کہنا ہے اس کی لائف میں یہ لفظ بہت برے دور کی یاد دلاتے ہیں ایک بار اس کے سامنے یہ لفظ تین بار کہنے ہیں وہ بے ھوش۔۔
ہیں رضا ایسا بھی ہوتا ہے؟؟
کےزڈ نے آنکھیں چھوٹی کر کے کہا۔۔
جی اس دنیا میں سب ہوتا ہے۔۔
روما کے منع کرنے پہ کےزڈ نے سوزین کی کیڈنیپگ کا رضا کو نہیں بتایا تھا اور روما کے کہنے پہ ہی وہ رضا کو لاہور بھجوا رہا تھا، روما کا کہنا تھا رضا کو چھوڑ جاو یہاں ہی اور تم دوبئ چلے جاو ایک منتھ کے لیے رضا کو آدھر ہی رہنے دو کیوں کے مجھے اس کی ضرورت پڑ سکتی یے۔، اور کےزڈ نے ایسا ہی کیا تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی سوزین کےزڈ کے سامنے تھی، سوزین کو اس کا چہرا جانا پہچانا لگا اور ساتھ ہی اسے آہستہ آہستہ چکر آنے لگے۔۔
مائکل سوزین کے منہ پہ کلوروفلور لگانے لگا جس کو کےزڈ نے روک دیا۔۔۔
ہاہاہا چلو رضا کی بات کو آزماتے ہیں کےزڈ کے نے تین بار کہا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں۔۔
اور سوزین سچ مچ کی بے ھوش ہوگئ۔۔
کےزڈ تو رضا کی بات کو سچ مان بیٹھا تھا جو آدھی سچ اور آدھی چھوٹ تھی۔۔۔
کےزڈ نکلو اپنے آدمیوں کو لے کر پولیس نے ہماری ڈیمانڈز مان لی ہیں ایئرپوٹ پہ پہنچو جلدی سے، روما کی کال جب کےزڈ کو موصول ہوئی تو وہ بے ھوش سوزین کو وہاں چھوڑ کر بھاگے۔۔۔
یہ پولیس کا بھی پلین تھا کہ سوزین کے زریعہ ہم ان تک پہنچ جائے گئے، لیکن سوزین تو سچ میں بےھوش ہوگئ تھی۔۔
رضا جو اپنی خاص چیزیں ادھر بھول گیا تھا جب واپس اڈے پہ پہنچا تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا البتہ ڈی ایس پی سوزین عمر آفندی زمین پر پڑی ہوئی تھی۔۔۔
رضا نے جب اسے دیکھا تو اسے فورا ہوسپیٹل پہنچایا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
صائب ابھی ان لڑکیوں کو سمجھا رہا تھا کہ سلوای وہاں پہنچی۔۔
سامنے پڑا ایک سمپل دیکھ کر سلوای صائب کو دیکھ کر گھورنے لگی۔۔۔
صائب اسے دیکھ کر باہر آگیا۔۔
جی تو تم یہاں کیا کررہی ہو۔؟؟.
یہ تو مجھے آپ سے پوچھنا چائے آپ کیا کررہے ہیں یہاں اور چل کیا رہا تھا یہاں؟؟
کیا میں تو ہہاں کام سمجھنے آیا تھا صائب نے سیریس ہوکر کہا۔۔
اچھا یہ کام آپ کو سمجھتے ہوئے ذرا شرم نہیں آئی، سلوای نے کمر پہ ہاتھ رکھ کر لڑاکوں عورتوں کی طرح کہا۔۔
شرم کیسی یہ تو بھئ لباس کا حصہ ہیں نا، اور شرم تو تمھیں آنی چاہے نا تم یہ سب یوز کرتی ہوں مجھے کیوں آئے، صائب کہہ کر باہر کی جانب نکل گیا۔۔
اچھا تو میں آپ کو بتاو میں بیوی ہوں آپ کی اوکے آئندہ یہ سب نہیں کرنے دو گئ سلوای نے صائب کے آگئے کھڑے ہو کر کہا۔۔
جس سے صائب نے اسے کمر سے پکڑ کے دیوار کے ساتھ لگا لیا۔۔۔
اچھا تو بیوی جی آپ آجاتی نا انھیں سمجھنے اگر اتنا ہی برا لگ رہا ہے تو صائب نے اپنا پسندیدہ رومینس جھاڑا سلوای کے بال کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے مزید اس کے قریب ہوا۔۔۔
تو آپ مجھے بتاتے تو میں آجاتی نا سلوای نے اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز کیا تھا۔۔۔
ہممم آئندہ بتایا کرو گا، صائب مزید اس کی نیک پہ جھک رہا تھا جب سلوای نے اسے پیچھے کیا۔۔
یہ فیکٹری ہے آپکا آفس نہیں جہاں آپ اپنا ٹھرک پن کھل کے دیکھتے ہیں، وہ اسے کہتی ہوئی باہر گاڑی میں جا کر بیٹھ گئ۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
وہ ساڈھی کا پلو سنبھلے گھر میں داخل ہوئی، تو سامنے اپنے شوہر کو چکر کاٹتے پایا۔۔
آگئ تم ؟مل گئ فرصت؟؟
یہ وقت ہے گھر آنے کا ہاں؟؟
ارے شاہد کیا ہوگیا ہے ابھی ایک ہی تو بجا ہے نا۔۔
ایک ہی بجا ہے؟ تمھیں معلوم ہے کس وقت کی گھر سے نکلی ہو؟؟
ناشتہ کرکے نکلی تھی تم۔۔
بس بھی کیا کرو شاہد یہ کیا ٹپیکلی شوہروں کے جیسے بی ہیو کررہا ہو آج شاہد۔۔
اس نے شاہد کے گلے میں بازو ڈال کر کہا۔۔۔
پیچھے ہٹو تم آج میرا غصہ ایسے کم نہیں کرسکتی ہو شاہد نے اسے دھکا دے کر دور کیا ارمہ دروازہ سے اندر آتے شارب سے ٹکرائی وہ گرتی لیکن شارب اسے سنبھل چکا تھا۔۔۔
بابا۔۔۔۔! آپ ایسے نہیں کرسکتے میری ممی کے ساتھ شارب نے غصہ سے باپ کو دیکھا تو ،،شاہد نے شارب کو غصہ سے گربان سے پکڑ کر دو منہ پہ دی۔۔
خاموش بالکل خاموش اس میں تمھیں بولنے کا کوئی حق نہیں رزلٹ دیکھا یے اپنا شاہد بری طرح شارب کو پیٹ رہا تھا۔۔۔
شاہد پلیز چھوڑو شارب کو جوان بیٹے پہ ہاتھ نہیں اٹھاتے۔۔
ارمہ بیگ یہ تمھاری تربیت کا اثر ہے کے آج تمھارے دونوں بچے بگھڑ چکے ہیں نہ ہی یہ پڑھ سکے گئے نہ ہی اچھے انسان بن سکے گئے۔۔
ارے جب تم اتنے سالوں میں نہیں بدلی تو یہ بھی تمھاری اولاد ہیں۔۔
شادی کے بعد عورت کا نام بدل جاتا ہے لیکن تم تو ارمہ بیگ تھی اور ارمہ بیگ ہی رہی تم تو کبھی ارمہ شاہد کاظمی بن ہی نہیں سکی۔۔ جیسی تمھاری ماں نے تمھاری تربیت کی ویسے ہی تم نے اپنے بچوں کی ہے۔۔۔
کال دیکھا تھا اپنا خون میں نے صائب وہ بھی تو تمھاری اولاد ہے لیکن اس کی تربیت بھابھی جان نے کی اسے لیے آج وہ اتنی بلندی پہ ہے دنیا کے نام ور بزنس ٹائقون میں نام آتا ہے اس کا بھائی صاحب کا سارا بزنس وہ سنبھلا ہوئے ہے اور تمھارا شارب اسے تو آوارہ گردیوں سے کی فرصت نہیں۔۔
شاہد آج پھوٹ ہی تو پڑا تھا، ساری زندگی اس نے ارمہ کو. کبھی روکا ٹوکا نہیں اسے لیے اسے آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
ڈاکٹر میری سوزین کو کون ہوسپیٹل لایا تھا، عمر صاحب نے ڈاکٹر سے پوچھا؟؟
کوئی لڑکا تھا میں جانتی نہیں اسے۔۔
اچھا ہماری زینی کیسی ہے اب؟ انیلا بیگم نے پوچھا۔۔
وہ کومہ میں جا چکی ہے مسٹر اینڈ مسسز آفندی۔۔
کومہ میں انیلا بیگم نے دل پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
جی بالکل شاید اس نے وہ ہی منظر دوبارہ دیکھ یے جس وجہ سے اس کی یاداشت چلی گئ تھی تب ہی تو وہ کومہ میں چلی گئ ہے لیکن اب جب وہ کومہ سے باہر نکلے گی تب وہ اپنے میمری ریکور کر چکی ہوگی۔۔۔
ڈاکٹر کب تک کومہ سے باہر آگئ گئ سوزین؟؟
دیکھے یہ تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی سال بھی لگ سکتا ہے کچھ دن بھی اور کچھ منتھ بھی میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔۔
انیلا بیگم ڈاکٹر کی بات سن کر روتی ہوئی باہر نکل گئ۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *