Tarbiyat by Tawasul Shah NovelR50819
Last updated: 24 July 2026
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode01Tarbiyat by Tawasul Shah Episode02Tarbiyat by Tawasul Shah Episode03Tarbiyat by Tawasul Shah Episode04Tarbiyat by Tawasul Shah Episode05Tarbiyat by Tawasul Shah Episode06Tarbiyat by Tawasul Shah Episode07Tarbiyat by Tawasul Shah Episode08Tarbiyat by Tawasul Shah Episode09Tarbiyat by Tawasul Shah Episode10Tarbiyat by Tawasul Shah Episode11Tarbiyat by Tawasul Shah Episode12Tarbiyat by Tawasul Shah Episode13Tarbiyat by Tawasul Shah Episode14Tarbiyat by Tawasul Shah Episode15
Tarbiyat by Tawasul Shah
کےزڈ کو ہوش آیا تو رضا اس کے پاس پہنچا۔۔۔
سر آپ ٹھیک ہیں نا۔۔۔
ہاں ٹھیک ہوں رضا۔۔
سر آپ اس لڑکی کو دیکھ کر بےھوش کیوں ہو گئے تھے؟؟
کیوں کے وہ میری بیٹی شیزا ہے، کےڈز کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ دل پہ ہاتھ رکھ کر دوبارہ بےھوش ہو گیا۔۔۔
مقافات عمل۔۔۔۔
پورا ہوا رضا نے زیر لب کہا۔۔۔
سچ ہے ہم جو کرتے ہیں یہ ایک قرص ہے جس کی واپسی آپ کے گھر سے ہی ہوگی۔۔۔
عزت کے بدلے عزت۔۔ میرا رب ہے نا انصاف کرنے والا اور گناہوں کی سزا دینے والا۔۔۔
مرد جوانی میں جو گناہ کرتا ہے، اس کا کیا اس کی بیٹی کے آگئے آتا ہے۔۔
آج کر کل بھر۔۔۔ اسی لیے کہتے ہیں کے کسی کی بہن بیٹی کو غلط نگاہ سے دیکھو گئے تو تمھاری بہن بیٹی بھی اس نگاہ سے بچ نہیں پائے گئ چائے اسے سات پردوں میں ہی چھپا کر کیوں نہ رکھ لو۔۔۔
رضا اپنے اڈے پہ پہنچا تو وہاں سب لوگ سو رہے تھے۔۔۔
وہ بیسمنٹ کی جانب بڑھ گیا وہ بےھوش سامنے پڑی تھی اور اس کے ساتھ بےھوشی والا انجکشن بھی پڑا ہوا تھا رضا نے ایک بڑی سی چادر لائی اور اس پہ ڈال ڈی پھر اسے اٹھاکر باہر لے آیا اور اپنے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈال کر خود گاڑی اسٹارٹ کرلی۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
آج پولیس اسٹیشن میں سوزین کو شدید سر درد تھا، لیکن وہ پھر بھی مسلسل کام کیے جارہی تھی۔۔۔
اچانک دور نے تیزی پکڑ اور وہ بےھوش ہوکر چیئر پہ جھول گئ۔۔۔
عمر صاحب کو انفارم کرنے پہ انھوں نے اپنی فیملی ڈاکٹر کے پاس پہنچانے کو کہا۔۔۔
عمر صاحب اور انیلا بیگم بھی ہوسپیٹل پہنچ چکے تھے۔۔۔
ڈاکٹر کیا ہوا ہے اب سوزین کو؟؟ انیلا بیگم نے فورا سے ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔
دیکھے یہ دوسرا اٹیک تھا نیکسٹ اٹیک لاسٹ ہوگا جس کے بعد میں یقین سے کہہ سکتی ہوں اس کی یاداشت مکمل طور پہ واپس آجائے گئ۔۔۔۔۔
لیکن یہ لاسٹ اٹیک کب ہوگا ڈاکٹر؟ عمر صاحب نے کہا۔۔۔
اس بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے آفندی صاحب ڈاکٹر نے پیشے ور مسکرہت سے کہا۔۔۔
جہاں انیلا بیگم اور عمر صاحب سوزین کی یاداشت واپس آنے پہ خوش تھے، وہاں ہی پرشان بھی تھے، کہ اگر سوزین کی یاداشت واپس آنے کے بعد وہ ان دونوں سے دور چلی گئ تو وہ کیا کریں گئے، انیلا بیگم اور عمر صاحب دونوں ہی اپنے سگی اولاد سلوای سے زیادہ سوزین کو چاہتے تھے۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
سوزین کے آنے سے آفندی ہاوس میں خوشیوں نے دستک دی، آفندی صاحب کا کہنا تھا یہ بچی ہمارے لیے بہت لکی ثابت ہوئی ہے، جب سے وہ اس گھر میں آئی ہے تب سے ان کو لگاتار خوشیاں ہی مل رہی ہیں، پہلے تو آفندی صاحب کو بہت بڑا پروجیکٹ ملا تھا جس سے وہ اگلے چھ سال تک بہت پیسا کما سکتے تھے، دوسرا کل انیلا بیگم کو اچانک چکر آگئے، ڈاکٹر کے پاس لے جانے پہ معلوم ہوا کے وہ ماں بنے والی ہیں۔۔
آج دس سال سے جو خوش خبری سنے کے لیے ان کے کان ترس گئے تھے، آج وہ خبر سنی کو ملی تھی۔۔۔
انیلا بیگم عمر صاحب اور بھی زیادہ سوزین کے ساتھ پیار کرنے لگے، ان دونوں کا کہنا تھا سوزین کی پروریش ہم نے اولاد کی طرح کی تو رب تعالی نے ہیمں خوشیاں عطاء کی بے شک انیلا آپ بالکل درست کہہ رہی ہیں۔۔۔
پھر جب سوزین کا سیکنڈ سمسٹر اسٹارٹ ہوا تو ایک پیاری سی بچی ان کے گھر میں آئی گول مٹول سی ننھی پری سوزین اسے سے بہت پیار کرتی تھی، اس کا نام بھی سوزین نے رکھا تھا سلوای۔۔۔
وقت کا کام ہے گزر جانا اور وقت پر لگا کر گزر گیا وقت کے ساتھ ساتھ سوزین اور سلوای میں محبت بڑھتی گٸ سوزین کی تو جان بستی تھی سلوای میں اور سلوای سوزین کی لاڈلی سوزین کے زریعہ وہ سب باتیں منوالتی جو اس کی کوئی نہیں مانتا تھا۔۔
سلوای سوزین کے بےجا لاڈ پیار سے تھوڑی خود سر اور بگھڑ گئ تھی۔۔
جسے وقفے وقفے سے انیلا بیگم درست کرنے کی کوشش کرتی لیکن سلوای کہاں سدھرنے والی تھی۔۔۔
