Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode03

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode03

*°°°°°°*
“آپ کا کام ختم ہوگیا؟؟
انیلا بیگم نے کمرے میں آکر دیکھا جہاں عمر صاحب ابھی بھی لیپ ٹاپ لیے بیٹھے تھے، تبھی انہوں نے عمر صاحب کو مخاطب کر کے کام کا پوچھا، پوچھنا کا مقصد تھا وہ خود سے ہی لیپ ٹاپ رکھ دیں۔۔۔ یہ انیلا بیگم کی پرانی عادت تھی جو کہ عمر صاحب جانتے تھے۔۔
جی بیگم آپ نے کہا اور کام ختم، عمر صاحب نے مسکرا کر بیوی کی جانب دیکھا اور لیپ ٹاپ بند کردیا۔۔۔
وہ آپ کچھ کہہ رہے تھے ؟سوزین کے بارے میں انیلا بیگم نے یاد کرواتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ہاں میں یہ کہہ رہا تھا، بچی نہیں ابھی ابھی میشن کامیاب کیا ہے، تو کیوں نہ ہم سوزین کے لیے سرپرائز پارٹی پلین کرئے، ایسے اسے مصروف روٹین سے ہٹ کر وقت گزارنے کا موقع مل جائے گا ورنہ وہ کہاں اپنے لیے وقت نکالتی ہے۔۔
ہاں کہہ تو آپ ٹھیک رہے ہیں، ویسے سلوای نے بھی بات کی تھی مجھ سے لیکن میں نے اس کی بات پہ توجہ نہیں دی۔۔۔
ٹک ٹک۔۔۔
سلام! ماں بابا۔۔۔
وعلیکم اسلام بچے کیسا رہا دن؟؟
عمر صاحب نے شفقت سے سوزین کہ سر پہ ہاتھ رکھ کر پوچھا۔۔۔
بہت ٹف بابا باکل وقت نہیں ملتا سر کھجانے کا بھی، سوزین نے بھی تھکے ہوئے انداز میں کہا اسے بھی ریسٹ چاہے تھی لیکن وہ کام کا حرج نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
کل تو چھٹی ہے نا زینی، جی رانی ماں سنڈے ہے آپ کو یاد نہیں کیا؟؟
یار تھا لیکن کنفرم نہیں تھا اس لے پوچھا۔۔
زینی بیٹا آو تمہارے لیے کھانا نکال دو۔۔
جی ماں آپ نکالے میں چینج کرکہ آتی ہوں۔۔۔
*°°°°°°*
پیپ۔۔۔ پیپ۔۔۔
کاظمی صاحب آپ نے خود ساتھ ہو کر لڑکیاں شیپ میں منتقل کروائی ہیں نا؟؟
کےزڈ نے کال کرتے ہی کام کی بات کی یس سر میری نگرانی میں منتقل کروائی ہیں۔۔۔
اوکے کاظمی صاحب خوش کیا آپ نے ہم کو۔۔۔
خیر شام میں ایک پارٹی ہے آپ آئے گئے تو ہمے اچھا لگے گا۔۔۔
سو سوری سر پلیز مجھے ان پارٹیز سے دور ہی رکھئے، ایک تو مجھے باکل پسند نہیں یہ پارٹیز اور دوسرا ایسے میں کسی کی بھی نظر میں آسانی سے آسکتا ہوں جو میرا اور آپ کے لیے باکل بھی اچھا نہیں۔۔۔
آپ کو جب لڑکیوں کو بجھوانا ہو تو میں خاصر ہوں۔۔
گڈ کاظمی صاحب گڈ۔۔ ہم متاثر ہوئے آپ کی سمارٹنس سے ہمے خوشی ہوئی ایک قابل انسان ہم میں شامل ہوا ہے، اور دوسرا آپ بےفکر رہے جب آپ کی ضرورت ہو گئ تب آپ کو بتایں گئے ورنہ آپ کو ڈسٹرب نہیں کریں گئے یہ کہتے ہی کےزڈ نے کال رکھ دی۔۔۔
ڈیول کل کی پارٹی کے انتظامات کیسے ہیں؟؟
بہت اچھے ہیں کےزڈ صاحب۔
اوکے ڈیول میں چلتا ہوں گھر میں بیٹی کی طبیعت خراب ہے ہہاں سنبھل لینا۔۔
اوکے کےزڈ صاحب۔۔۔
کےزڈ بغیر ماسک کے اکیلا گاڑی ڈرائو کر کے گھر جارہا تھا کیوں کہ رات کافی ہو چکی تھی۔۔ کہ اس کی گاڑی پہ کچھ آدمیوں نے حملہ بول دیا، ایسے میں کےزڈ نے اپنے گاڑی میں پڑی ریوارول نکالی اور گاڑی سے ہاہر نکل گیا اور وہ بھی فائرنگ کرنا لگا اتنے میں اسی کی پستول کی گولیاں ختم ہوگی کےزڈ نے مشکل سے پستول لوڈ کی لیکن جب تک چلاتا مقابل نے اس پہ فائر کردیا تھا۔۔۔ یہ گولی کےزڈ کو اپنے سینے میں اترتی نظر آرہی تھی تب ہی اچانک کےزڈ کو کسی ہاتھ نے پیچھے کی طرف دھکا دیا کےڈز تو دھکے کی وجہ سے بچ گیا لیکن جو جس نے کےڈز کو بچایا اسکے کندھے پہ گولی لگنے سے اس کی شرٹ خون سے بھر چکی تھی۔۔
کےزڈ نے اس لڑکے کو اٹھایا اور آپنی گاڑی میں ڈالا اور گاڑی کو ہوسپیٹل کی طرف ڈال دیا۔۔
کےزڈ اپنے اڈے سے تھوڑی دور ہی آیا تھا کہ اس پہ حملہ ہوگیا تھا، اب اس نے ڈش بورڈ پہ پڑا اپنا ماسک پہنا جو ہمیشہ اسکے فیس پہ ہوتا ہے اور کےزڈ کو یہ بھی تھا کہ اس پہ دوبارہ حملہ نہ ہوجائے اس لے اس نے ڈیول کو کال کر کے اپنی پلٹن کو بلا لیا تھا۔۔۔
*°°°°°°*
کل رات کو سوزین نے سلوای کو بابا کے ساتھ بزنس جوائن کرنا کو کہا تب سلوای نے کہا نہیں آپی میں اپنے دم پہ کچھ کرنا چاہتی ہوں، اپنا آفس جوائن کرکے مجھے ہمیشہ ایسا ہی لگے گا جیسے میں اس مقام کی حق دار ہی نہیں تھی جس پہ ہوں۔۔۔
تو پھر سلو کیا کرنا کا ارادہ ہے تمہارا؟؟؟
آپی میں نے نیوز پیپر میں ایک دو کمپنیز کے بارے میں پڑھا ہے، جہاں لیڈی مینجر کی پوسٹ خالی ہے صبح جا کر دیکھو گئ۔۔۔
پر سلو۔۔۔ ان سب کی کیا ضرورت ہے، سوزین نے کوفت سے کہا۔۔
یار آپی ضرورت ہے بہت ضرورت ہے سلوای نے معصوم شکل بنا کر کہا یار آپی اور نہیں تو میری خواہش سمجھ کر ہی مان جائے۔۔۔
اوکے پر میری بھی ایک شرط ہے سوزین نے بھی آنکھیں گھما کر کہا۔۔۔
مجھ آپ کی ہر شرط قبول ہے، سلوای نے جلدی میں جو منہ میں آیا کہہ دیا تھا، لیکن اب سوچنے لگ گئ تھی کہ سوزین پتہ نہیں کیا کہہ دے۔۔۔
پر شرط کیا ہے سلوای نے منہ لٹکا کر کہا۔۔۔
شرط یہ ہے کہ اگر تو اس بار میں سلیکٹ نہ ہوئی تو پھر تمھیں وہ ہی کرنا ہوگا جیسا بابا کہے گئے۔۔۔
یہ کیا بات ہوئی یار آپی سلوای نے دوبارہ سے صد کرنا چاہی، بس سلوای اب ایک لفظ نہیں سنو میں سوزین نے سیریس ہو کر کہا تو سلوای نے بھی خاموشی سے کہا اچھا جی جیسا آپ کہے گئ، اب خوش۔۔
سلوای سوزین سے ہر بات منوالتی تھی، لیکن جب سوزین غصہ میں جو کہہ دیتی تو پھر سلوای کو بھی اسے مانا ہوتا تھا ہر حال۔۔۔
*°°°°°°*
کےزڈ ہوسپیٹل پہنچا تو لڑکے کو آئی سی یو میں لے جایا گیا، کیوں کے اس کی حالت بہت خراب تھی۔۔۔
ڈاکٹر اس لڑکے کو کسی بھی قیمت پہ بچا لو اسے مرنا نہیں چاہے ڈاکٹر کان کھول کر سن لو۔۔۔
کےزڈ کو ڈاکٹر باہر آتا دیکھائے دیا تو وہ اس کی جانب لپکا۔۔۔
کیسا ہے وہ ڈاکٹر۔۔۔۔
اب خطرے کی کوئی بات نہیں ہے، گولی کندھے کو چھو کر گزر گئ، زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے اب تک بےہوش ہیں، پر ہم نے بلڈ لگا دیا ہے، ایک گھنٹے تک انھے ہوش آجائے گا آپ پھر مل سکتے ہیں ان سے۔۔۔۔۔
*°°°°°°*
عظم اور دیا کو دوبئ شفٹ ہوئے آج آٹھ سال گزر چکے تھے۔۔
چار پانچ سال تک تو دیا اور عظم میں سب ٹھیک چلتا رہا عظم دیا کے ساتھ عایاشی کی زندگی گزارتا رہا۔۔ وہ کہتے ہیں نا بیٹھ کر کھانا سے تو قارون کا خزانہ بھی ختم ہوجاتا ہے، عظم کے ساتھ بھی یہ ہی ہوا جب تک پیسا تھا اڑاتا رہا جب پیسا ختم ہوا تو عظم کا پیار بھی دیا کے لیے ختم ہوگیا اب دونوں میں آئے دن لڑائی جھگڑا رہنے لگے تھے،، جب دونوں میں لڑائی ہوتی اور عظم پیسوں کا رونا روتا تو دیا کہتی تب ایسے اڑانے کے بجائے اگر کوئی بزنس کیا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنے کو ملتا لیکن عظم پرشان ہونے یا پشتانے کی بجائے دیا کو پیٹنا شروع کر دیتا اور اب تو عظم نے دیا کو اولاد نہیں ہونے پہ بھی باتیں سنانی شروع کر دی تھی۔۔
عظم کا باہر کہیں لڑکیوں کے ساتھ آفیر تھے جو عظم نے ہی دیا کو بتایا تھا۔۔
دیا ان سب کو اپنے میکے میں کسی کو نہیں بتاتی تھی کیوں کہ عظم سے شادی کا فیصلہ اس کا اپنا تھا تو اب وہ اپنی ماں بھائی کو کیوں پرشان کرتی یہ سب بتا کر۔۔۔
آج کافی دن سے دیا کو اپنی طبیعت خراب محسوس ہو رہی تھی، دیا جب ڈاکٹر کے پاس گئ تو اس نے ایک منتھ کی پریگننسی بتائی تو دیا خوشی سے پاگل ہو گئ۔۔
رات کو جب عظم گھر آیا تو دیا نے اسے بھی بتایا لیکن وہ کوئی خاص خوش نہیں ہوا بلکہ اس نے دیا کو یہ کہہ دیا کہ، دیکھو دیا اب میں تمھارے ساتھ نہیں چل سکتا، اگر تو مجھ سے ڈائیورس چاہتی ہو تب بھی میں دینے کو تیار ہوں، اگر رہنا چاہتی ہو تو رہو لیکن میں ڈیزی سے بہت جلد شادی کررہا ہوں کیوں کے اس کے پاس بہت پیسا ہے، یہ کہتے ہی عظم اٹھ کر دوسرے روم میں چلا گیا۔۔۔
نو ماہ بعد دیا کے ہاں ایک پیاری سی بیٹی پیدا ہوئی تو انگلینڈ سے اس کے میکے والے سب اس کی بیٹی کی مبارک بات دینے کے لیے آئے۔۔۔
دیا نے ماں کو اب تک کچھ بھی نہیں بتایا تھا اور عظم کو بھی بتانے سے منع کیا تھا لیکن عظم کو کیا تھا وہ بتاتی تو بھی نہ بتاتی تب بھی اس کی زات کو کیا فرق پڑنا تھا۔۔
خیر فرحت بیگم آئھیں اور نواسی کے لیے ڈائمنڈ کی چین لائی جو انھوں نے بچی کے گلے میں ڈال دی، کچھ دن رک کر واپس سب انگلینڈ چلے گئے۔۔۔
عظم نے اپنی بچی دعا کی چین لے لی جس سے چھ منتھ آرام سے کٹ گٸے دیا کو کوئی دھمکی دیٸے بن اور وقتی طور عظم نے دوسری شادی کا نام بھی نہیں لیا تھا دیا کا خیال تھا عظم ٹھیک ہوجائے گا لیکن اسے نہیں پتہ تھا، جب مرد کو مفت کی کھانے کی عادت پڑ جائے تو پھر وہ مفت کی ہی توڑتا ہے چایے وہ بغیرتی کی ہی کیوں نہ ہو۔۔۔
ایک ہفتہ سے دیا کی طبیعت بہت خراب تھی جب وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچی تو اس ڈاکٹر سے معلوم ہوا اسے تو کینسر ہے جو لاسٹ اسٹیج تک پہنچ چکا ہے، ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق اگر کچھ دنوں میں اس کا علاج شروع نہ کیا گیا تو اس کی زندگی بس چند دن کی مہمان ہے۔۔۔
جب دیا نے عظم سے اپنی بیماری کا ذکر کیا تو اس نے سنگدلی کی حد پار کردی۔۔
تم پہ میں کہاں پیسے خرچ کرو ہاں!! میرا خود کا خرچہ ڈیزی اٹھاتی ہے، تم ایسا کرو اپنی ماں کے پاس چلی جاو۔۔۔
نہیں عظم میں ماں کو کچھ نہیں بتاو گئ آپ اٹھائے گئے میرے خرچے آپ میرے شوہر ہیں، دیا بھی پھٹ پڑی تھی آخری وہ اتنے سالوں سے برداشت کر رہی تھی۔ اسی بات پہ دونوں میں شدید لڑائی شروع ہوچکی تھی، دیا مار کھاتے کھاتے گر گئ جب دوبارہ سے عظم اسے مارنے کے لیے بڑھا تو سائڈ ٹیبل سے لمپ اٹھا کر دیا نے عظم پہ دے مارا، لیکن وہ عظم کو لگا نہیں بلکہ وہ بچ گیا اور دوبارہ اسے بری طرح پئٹنے لگا، زلیل عورت عذاب بنا کر رکھ دی ہے میری زندگی طلاق دیتا ہوں میں تمھیں طلاق طلاق۔۔۔ مار کھانے سے دیا بےہوش نہیں ہوئی تھی لیکن جب عظم نے اسے تین دفاع طلاق دی تو یہ سنتے ہی دیا ہوش و خراش سے بگانہ زمین پر گر گئ، اور وہ اپنی چھ منتھ کی بچی کو اکیلا چھوڑ کر گھر سے نکل گیا۔۔۔
*°°°°°°*
سلوای آج اس کمپنی میں انٹرویو کے لیے آئی تھی۔۔
سلوای جب بوس کے آفس میں ناق کرکے داخل ہوئی تو سامنے ایک لڑکا دیوار کی طرف منہ کیے چیئر پہ سر ٹکائے ریلیکس انداز میں بیٹھا تھا۔۔۔
اسلام علیکم سر!!!
صائب نے جب جانی پہچانی آواز سنی تو چیئر گھما کر سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔۔
صائب نے جب سلوای کو دیکھا تو حيرت سے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔
صائب اس ساڈھے چار فٹ کی نازک سی لڑکی کو غور سے دیکھنے لگا، جو اس دن کی طرح ٹائٹ جینز پنٹ اور ٹاپ میں ملبوس تھی اور اوپر چھوٹا سا اسکاف گلے میں ڈال رکھا تھا۔۔۔
مس یہ اسکول نہیں ہے چھوٹے بچوں کا، میرے خیال میں آپ غلطی سے یہاں آگئ ہیں۔۔۔
صائب نے پچھلی بار کا خساب اس طرح پورا کرنا کا ساچا۔
نہیں سر سلوای کو صدمہ ہی تو لگا تھا خود کو سکول گرل سن کر۔۔
صائب اس کے اتنی معصومیت سے نہیں کہنے پہ پھر سے اس کو غور سے دیکھنے لگا، اتنی چھوٹی سی اور اوپر سے ڈریسنگ اففف صائب نے اپنی نظر اس پر سے ہٹا کر کہا۔۔ کیا نہیں سر؟؟
سلوای جو صائب کو دیکھ کر حیران تھی اور کچھ الٹا بولنے والی تھی لیکن سوزین کی کہی بات یاد کر کے آرام سے بولی۔۔۔
نو سر میں یہاں جاب کے لیے ہی آئی ہوں آپ میری سی وی دیکھ لیں اور میرا انٹرویو لے لیں پھر آپ کو معلوم ہو گا کہ میں اسکول گرل نہیں بلکہ جاب گرل ہوں۔۔۔
ہممم اوکے دیکھوں تو آپ کی سی وی
صائب نے سی وی دیکھ کر کندھا اچکا کر سلوای کو دیکھا اور اس سے انٹرویو بھی لیا جو کے سلوای نے اچھی طرح دیا۔۔
ویلڈن مس سلوای عمر آفندی۔۔۔
صائب نے کھلے دل سے اسے سراہا۔۔۔
جواب میں سلوای نے سڑی ہوئی شکل سے صائب کو دیکھا اس کا انداز صاف جتانے والا تھا جیسے کہہ رہی ہوں ریجیکٹ کر کے دیکھاو۔۔۔
آپ پھر کل سے جوائن کرلیں مس سلوای آر یو آپاونٹڈ۔۔
تھنکس سر۔۔ سلوای نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔ آپ باقی کی معلومات باہر ہمارے مینجر نعمان سے لے لیں۔۔۔
*°°°°°°*
آج ایک ویک بعد جب اسے ہوسپیٹل سے ڈسچارج کیا گیا تو وہاں موجود کےزڈ کے آدمی اسے عزت سے وین میں بیٹھ کر اڈے پہ لے آئے، کےزڈ کا کہنا تھا جس نے اس کی جان بچا کر اپنی جان کو خطرے میں ڈالا اسے جب ہوسپیٹل سے چھوڑا جائے تو پہلے اسے اڈے پہ لایا جائے اور اس کے آدمیوں نے ایسا ہی کیا تھا۔۔
اڈے پہ پہنچ کر اسے ایک کمرے میں لا کر بیڈ پہ لیٹا دیا گیا کیوں کے ابھی بھی وہ مکمل طور پہ ٹھیک نہیں ہوا تھا۔۔
یہ ایک درمیانے سائز کا کمرا تھا، جو کہ شیشے کی دیواروں سے بنا ہوا تھا، لیکن شیشے پہ ویلوٹ کے بھاری پردے گرائے گئے تھے، کمرے میں بس دو ہی فرنیچر موجود تھے ایک خوبصورت سا بیڈ جس پہ وہ اس وقت موجود تھا اور ایک سائڈ پہ صوفہ لگا ہوا تھا۔۔۔
وہ اٹھا کر بیڈ کی بیک سے سر ٹکا چکا تھا، وہ آنکھیں بند کیے اپنے ذہن کو سکون پہنچا رہا تھا کیوں کہ ایک ویک میں وہ زیادہ تر بے ہوش ہی رہا تھا جس سے اس کا جسم لیٹے لیٹے تھک چکا تھا۔۔
اسے کمرے میں کسی کی آہٹ سنائے دی تو اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا، سامنے وہ ہی آدمی تھا جو اس نے اس کے حصہ کی گولی اپنے سینے پہ کھائی تھی۔۔
سلام صاحب!! اس لڑکے نے کےزڈ کو دیکھ کر کہا۔۔
وعلیکم اسلام لیٹے رہو لیٹے رہو کےزڈ نے اس اٹھتے دیکھ کر کہا اور خود ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔
پہلے تو بھئ اپنا نام بتا دو تاکہ تم سے حال احوال پوچھنے میں آسانی رہے کےزڈ نے مسکرا کر کہا؟؟
میرا نام رضا ہے صاحب۔۔۔
اچھا تو کیسی طبیعت ہے اب رضا؟؟
اب باکل ٹھیک ہوں صاحب اتنی سی چوٹ میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی رضا نے لاپروائی سے کہا۔۔
گڈ اسٹرونگ مین کےزڈ نے اس کا بازو تھپتھپایا۔۔
مجھے جانتے ہو؟ کےزڈ نے رضا سے پوچھا؟
صاحب آپ کو کون نہیں جانتا کمال روبیر شہر کے جانے مانے ریئس ہیں آپ۔۔
ہممم یہ بتاو میری جان کیوں بچائی؟؟
صاحب میری زندگی میں ایسا کوئی نہیں ہے جسے میرے نہ ہونے سے کوئی غم ہوتا میری زندگی ویسے بھی خراب ہے مر جاتا تو اچھا تھا، آپکو اس لیے بچایا کے آپکی فیملی کو ضرورت ہوگئ آپ کی اگر میرے کرنے آپ کی فیملی خوش رہے تو میرے لیے یہ ہی بہت ہے، کیوں کے میری تو کوئی فیملی ہی نہیں ہے رضا یہ کہتے ہوئے جیسے کسی کو سوچ رہا تھا۔۔۔
کیا ہوا تھا تمھارے ساتھ؟ کےزڈ کو محسوس ہوا جیسے اس کے ساتھ کچھ تو ضرور ہوا ہے۔۔
یہ ہوا میرے ساتھ اور مجھ اپنی زندگی سے نفرت ہوگئ، اب تو اتنا برا حال ہے کہ کھانا بھی چار چار دن نہیں ملتا نہ کچھ کرنا کو دل کرتا ہے۔۔۔
دکھ ہوا تمھاری کہانی سن کر۔۔۔
اچھا جیسا تم نے کہا تم بیوٹیشن تھے، اب تمھیں یہ کام آتا ہے لڑکیوں کا میک آپ کرنا؟
جی اب بھی آتا ہے رضا نے مختصر کہا۔۔
میرے ساتھ کام کرو گئے کےزڈ نے کہا؟؟
کون سا کام صاحب؟
یہ ہی بیوٹیشن کا۔۔ پھر کےزڈ نے اسے کام کے متعلق بتایا تو رضا نے کام کرنے کی حامی پھر لی۔۔۔
*°°°°°°*
جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *