Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode07

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode07

:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
بچوں چلو کھانا لگ گیا ہے،کھا لو پہلے بعد میں کیرم کھیل لینا، زینب نے سب بچوں کو کہا۔۔
مما میں نہیں آرہی مجھے بھوک نہیں ہے، دعا نے انکار کرتے ہوئے کہا۔۔
ارے نہیں بیٹا جب کھاٶ گئ تو بھوک لگ جائے گئ زینب نے نو سالہ دعا کو سمجھانا چاہا۔۔
مما پلیز مت فورس کریں نا، اس نے منہ لٹکا کر کہا۔۔
باربی ڈول چلو ڈائنگ ٹیبل پر انیس سالہ تابی نے کہا تو دعا کو اٹھنا پڑا کیوں کہ وہ اس سے بہت ڈرتی تھی۔۔
لیکن تابی اسے اتنا ہی پیار کرتا تھا، وہ الگ بات تھی کہ دعا تابی کے پیارا اور خیال رکھنے کو روھب جھاڑنا اور ڈانٹنا سمجھتی تھی۔۔
صائب پہلے ہی ٹیبل پر سب کا ویٹ کر رہا تھا تو تابی نے شارب، حرہ تم دونوں بھی چلو تابی نے پانچ پانچ سالہ شارب اور حرہ کو کہا وہ دونوں بھی خاموشی سے اٹھ گئے کیوں کہ تابی سے بچا پارٹی بہت ڈرتی تھی کیوں کہ وہ سب میں سے بڑا تھا۔۔۔
آج سے پانچ سال پہلے ارمہ کو جب دوبارہ پریگننسی ہوئی تو اس نے پچھلی بار کی طرح واہ ویلا مچا دیا، کے مجھے بچا پیدا نہیں کرنا پر شاہد نے اسے اس بار کہا کہ یہ لاسٹ ٹائم بچے کو پیدا ہونے دو اس کے بعد میں تمھیں بچے کا نہیں کہوں گا۔۔
جب نو ماہ گزرے تو اس کے ہاں دو جڑواں بچے پیدا ہوٸے، ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔۔۔
فرحت بیگم نے دونوں بچوں کے اسلامی نام رکھنا چاہے تو ارمہ نے منع کردیا کے وہ اپنے بچوں کے نام خود رکھے گئ پہلے بھی شاہد اور فرحت بیگم نے صائب رکھ دیا تھا تو اس بار ارمہ نے شارب اور حرہ رکھا جس پہ شاہد نے کہا ارمہ نام ایسا رکھنا چاہے جو بچے کی شخصيت پہ اچھا اثر ڈالیں میرے خیال میں ان دونوں ناموں کا کوئی اچھا مطلب نہیں ہے لیکن ارمہ نے شاہد کی ایک نہ سنی اور اپنی مرضی چلائی۔۔۔
دعا اب بےشک بڑی ہوچکی تھی لیکن اس کا فرحت بیگم کے بغیر گزار نہیں تھا وہ آج بھی ان کے ساتھ بیڈ پہ سوتی تھی۔۔۔
بچپن میں اسے زینب فرحت بیگم کو نانی ماں کہنا سیکھاتی تو وہ نانی ماں کی جگہ رانی ماں کہتی زینت بار بار نانی کہتی اور دعا ہر بار نانی کو رانی کہتی اسی لیے اب وہ اپنی نانی ماں کو رانی ماں ہی کہا کرتی تھی۔۔۔
تابی شروع سے ہی دعا سے بہت پیار کرتا تھا، خود اسکول چھوڑنے جاتا، اور خود واپس لاتا خود ہوم ورک کرواتا اپنے ساتھ کھانا کھلاتا یہاں تک کہ وہ کبھی کبھار دعا کی کھنگھی بھی کردیا کرتا، وہ خود سے بھی زیادہ دعا کا خیال رکھتا تھا اور دعا اس کے اس قدر خیال رکھنے کو روھب جھاڑنا اور غصہ کرنا سمجھتی تھی،، تابی کا دعا کے لیے اس قدر پیار دیکھ کر زینب تابی سے کہا کرتی یہ تمھاری بہن ہے نا اسی لیے تم اس کا خیال رکھتے ہو لیکن تابی ہمیشہ یہ ہی کہتا کہ یہ میری بہن نہیں ہے یہ میری باربی ڈول ہے، کیوں کے بہنے باربی ڈول نہیں ہوتی وہ لڑائی کرتی ہیں جیسے اس کے دوست کی بہن کرتی ہے۔۔
دعا اور صائب میں اچھی دوستی تھی، اسی لیے وہ صائب کی پڑھائی میں کافی ہلپ کرتی تھی
بہت ذہين اور لائق تھی اور اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔۔
صائب آج بھی زینب کو ماں کہتا تھا جب کہ اپنی ماں کو دوسرے بچوں کی طرح چچی کہتا تھا ارمہ بھی صائب سے بالکل پیار نہیں کرتی ارمہ کا کہنا تھا اس کے بس دو ہی بچے ہیں شارب اور حرہ جو بالکل ارمہ کے جیسے تھے۔۔۔۔
فرحت بیگم کی تین اولادیں تھیں۔۔
دیا، شعیب ، شاہد۔۔۔
دیا کی ایک بیٹی دعا تھی، جو عام طور پہ تو بہت بہادر تھی لیکن تابی کے سامنے وہ ہمیشہ سے بہت ڈرپوک ثابت ہوتی محتصر یہ کہ وہ اس کے سامنے بولنے کی بھی ہمت نہیں رکھتی تھی۔۔ باقی بلا کی خوبصورت لائق اور ذہین بچی تھی، جو زینت اور فرحت بیگم سے بہت محبت کرتی تھی۔۔۔۔
شعیب کو اولاد کے نام پہ صرف ایک بیٹا ہی تھا تابی جو گھر میں بھی اور باہر بھی بہت سمجھدار جانا جاتا تھا، خودار، سمجھدار، اور رشتوں کی عزت اور قدر کرنے والا بچا تھا
سب کزنز میں سے بڑا ہونے اور گھر میں پہلے بچے کی وجہ سے سب کا لاڈلا جس کی کسی بات سے کوئی بھی گھر والا انکار نہیں کرتا تھا۔۔۔۔
شاہد کی تین اولادیں تھی۔۔
سب سے بڑا صائب اور اس کے بعد حرہ اور شارب۔۔
صائب معصوم سا سلجھا ہوا اور اپنے آپ میں مگن رہنے والا بچا تھا، جس جو پسند آجائے اسے وہ اپنے دم پہ حاصل کر کے رہتا تھا، چاہے وہ کتنا ہی مشکل کام ہو یا چیز۔۔۔
صائب سے ڈیڈھ سال چھوٹے حرہ اور شارب تھے یہ دونوں ٹونز تھے۔۔
بلا کے بدمزاج، صدی، نا لایق، اور بےتمیز بچے تھے دونوں بہن بھائی ٹونز تو تھے ہی لیکن دونوں کی عادات بھی ایک جیسی تھی۔۔ حیر اور سے تو نہیں لیکن تابی سے یہ دونوں بھی چھپتے پھرتے تھے، کیوں کہ تابی بےتمیز حرہ شارب کو دو تین جڑ بھی دیتا تھا جس سے وہ روتے ہوئے ارمہ کے پاس پہنچتے۔۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
ماں بابا میں نے آفس ٹریپ سے کینڈا جانا ہے… سلوای نے عمر صاحب اور انیلا بیگم کو مخاطب کر کے کہا۔۔
کوئی ضرورت نہیں دوسرے ملک جانے کی وہ بھی اکیلے انیلا بیگم نے پہلی فرصت میں انکار کیا۔۔
ارے یار ایک آپ تو چپ کریں نا مجھے بات کرنے دیں بچی سے، عمر صاحب نے ناراض لہجے میں بیوی کو کہا تو انیلا بیگم کم عمر لڑکیوں کی طرح شوہر سے ناراض ہوکر چلی گئ۔۔۔
کب جانا ہے سلوای؟؟
بابا صبح کی فلائٹ ہے۔۔
کون کون جارہا ہے آفس سے عمر صاحب نے دوسرا سوال پوچھا؟؟
بابا سر کے ساتھ جانا ہے دوسرے مینجر نے بھی جانا تھا لیکن ان کا اچانک انتقال ہوگیا جس وجہ سے میرا جانا بہت ضروری ہے۔۔ سلوای نے تفصیل سے جواب دیا۔۔
اوکے بیٹا جاٶ تم اپنا خیال رکھنا۔۔
جی بابا سلوای نے مسکرا کر کہا۔۔
چلو بیٹا میں اب تمھاری ماں کو منا لو عمر صاحب مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔۔۔۔
سوزین پولیس اسٹیشن میں کسی کیس پہ غور و فکر کر رہی تھی کہ ٹیلی فون بجنے لگا۔۔۔
ڈی ایس پی سوزین عمر آفندی لسنگ؟؟ اسپیکر سے ایک مردانہ آواز ابھری۔۔
یس ڈی ایس پی سوزین ہیئر۔۔
میڈم اس ایڈیس پہ پہنچ جائے یہاں کیڈنیپنگ ہونے والی ہے۔۔۔
آپ کون بات کررہے ہیں؟؟
ہیلو۔۔۔ ہیلو سوزین نے پکارہ لیکن دوسری جانب سے کال بند ہوچکی تھی۔۔۔
خشمت یہ کال ٹریس کرو جلدی سوزین نے آرڈر دیا۔۔۔
جی میڈم۔
میڈم یہ تو پولیس اسٹیشن کے پاس سے کیا گیا ہے۔۔
اوو نو وہ باہر کی جانب بھاگی۔۔
سوزین پولیس جیپ لے کر اس ایڈیس پہ نکل گئ تھی۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-
بڑا سا سفری بیگ لیے، ہمشہ کی طرح وہ ٹاپ اور ٹائٹ میں مجود گلے میں چھوٹا سا اسکاف لیے، آنکھوں پہ کالا چشمہ چڑائے،، وہ ایررپوٹ پہ کھڑی صائب کا ویٹ کررہی تھی، کیوں کے اس کے آنے کے بعد ہی دونوں نے ساتھ ساتھ اندر جانا تھا اور پھر ان کو کینڈا کے لیے اڑان بھرنی تھی۔۔
تھوڑی دیر بعد سامنے سے صائب آتا نظر آیا۔۔ وائٹ پنٹ شرٹ پہ بلیک ویسکوٹ ، بلیک ہی شوز پہنے ایک ہاتھ میں موبائل اٹھائے اور دوسرے ہاتھ میں بیگ پکڑے ہوئے وہ اس کی طرف ہی آرہا تھا۔۔۔
ویسے کھروس آج تو ہیرو لگ رہا ہے، سلوای نے ناک سکوڑ کر سوچا۔۔۔
صائب جب ایررپوٹ میں انٹر ہوا تو ہی وہ سلوای کو دیکھا چکا تھا، ہمشہ کی طرح اسی ڈریسنگ میں دیکھ کر صائب کو ہمیشہ کی طرح سلوای کی بابا پہ اسے غصہ آیا جو اسے ایسی ڈریسنگ کرنے کی اجازت دیتے تھے۔۔
چلیں محترمہ! صائب نے اس کی ڈریس پہ ایک نظر ڈال کر کہا۔۔
جی چلیں۔۔
پھر دونوں باقی کی تمام فارمیلٹیز کو پورا کرتے ہوئے بلین میں پہنچے۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
زینب کا اس دنیا میں صرف ایک بھائی ہی تھا جس کی کوئی اولاد نہیں تھی، اس کا بھائی سفير اور اس کی بھاوج ثانيہ دونوں پاکستان میں رہتے تھے بھائی تو زینب کا پہلے ہی بہت بیمار تھا اب جب ثانیہ کو بھی ٹی بی کے مرض نے آ گھبرا تو زینب نے پاکستان جانے کا سوچا لیکن دوسرے ہی دن اس کی بھاوج کا انتقال ہوگیا اب تو زینب کو جانا ہی تھا سو زینب فورا پاکستان چلی گئ۔۔۔
آج پندرہ دن ہوگئے تھے زینب کو پاکستان گئے ہوئے سات سالہ صائب زینب کو یاد کرتے بیمار ہوگیا۔۔۔
ادھر سفیر کی بھی طبیعت بہت خراب رہنے لگی تھی، سفیر نے جیتے جی اپنے ساری جاٸیداد زینب کے نام کردی تھی اور اب سفیر چاہتا تھا کہ شعیب اور تابی بھی پاکستان آجائے اور ادھر ہی رہیں زینت نے بیمار بھائی کو دیکھ کر انگلینڈ اپنے شوہر اور ساس سے بات کی جس پہ فرحت بیگم نے اسے کہا تمھارا بھائی ٹھیک کہہ رہا ہے اتنی بڑی جاٸیداد ہے جو تمھیں ہی سنبهالنی ہے، تو میری طرف سے اجازت ہے بے شک تم شعیب کے ساتھ پاکستان شفت ہو جاو۔ اور اپنی جاٸیداد کو سنبھلو، شعیب نے بھی ماں اور بیوی کی بات مانی اور پاکستان شفت ہونے کا فیصلہ کیا۔۔۔
صائب زینب کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا وہ سب کو معلوم ہوگیا تھا اج پندرہ دن ہی زینب کو ہوئے تھے لیکن صائب بری طرح بخار میں تپ رہا تھا اس سب کو دیکھتے ہوئے، فرحت بیگم نے صائب کو شعیب کے ساتھ زینب کے پاس بھجنے کا فیصلہ کیا جس پہ شاہد کو بھی کوئی عیتراض نہیں تھا جب شعیب نے دعا کو ساتھ چلنے کو کہا تو اس نے کہا میں رانی ماں کے بغیر کہیں نہیں جاٶ گئ۔۔
پھر اسے کسی نے فورس نہیں کیا۔۔
امی آپ بھی تو چلیں نا میرے ساتھ شعیب نے فرحت بیگم سے کہا۔۔
نہیں بیٹا ایسے میرا شاہد اکیلا پڑ جائے گا تم تو جانتے ہی ہو نا ارمہ کی کیا روٹین ہے۔۔
ٹھیک ہے امی آپ اجازت دیں پھر ہمیں۔۔
حیر سے جاٶ بیٹا۔۔
اللہ حافظ۔۔۔
تابی، صائب اور شعیب تینوں پاکستان روانہ ہوچکے تھے، شعیب نے اپنا بزنس بھی پاکستان ٹرانسفر کرلیا تھا۔۔
تابی کو جب سے پتہ چلا تھا کے اس کی باربی ڈول پاکستان نہیں جارہی وہ بہت بے چین تھا لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ دادو ماں کے بغیر نہیں رہ سکتی، اسی لیے وہ خاموش ہو گیا تھا اور وہ بھی تو زینب اور شعیب کو اکیلا پاکستان نہیں رہنے دے سکتا تھا، ان سب باتوں کا سوچ کر تابی خاموشی سے پاکستان شفت ہوگیا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-
سوزین ٹریفک میں پھس چکی تھی۔۔ جب سوزین اس آدمی کے دیئے ہوئے ایڈیس پہ پہنچی. تو وہ گرلز ہوسٹل تھا، جہاں سامنے گارڈ بےھوش گرا پڑا تھا۔۔
سوزین جب اندر گئ تو بہت سی لڑکیاں کیڈنیپ ہوچکی تھیں اور کچھ کو روم میں باندھ کر کیڈنیپر فرار ہوچکے تھے۔۔
سوزین کو ہاہر گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز سنائی دی تو وہ فورا باہر کی جانب بھاگی، وہاں کچھ لڑکیاں روتی ہوئی گاڑی میں مجود تھی، سوزین ابھی فائر کرتی کہ پیچھے سے اسے کسی نے منہ پہ کلوروفلور سے بھرا ٹشو رکھا تو وہ اس آدمی کی باہوں میں جھل گئ۔۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-
اج شعیب کی فیملی کو پاکستان شفت ہوٸے چھ ماہ گزر چکے تھے۔۔۔۔
ارمہ شاہد کے آفس جانے کے بعد فرحت بیگم کو چائے میں نیند کی گولیاں پیلا کر سولا دیا کرتی اور دعا سے گھر کے سارے کام کرواتی تھی، جو دعا خاموشی سے سب کام کر دیتی۔۔۔
کام کرنے کے بعد ارمہ اس کو اپنے کمرے میں بھج کر خود اپنے دوستوں سے ملنے چلی جایا کرتی۔۔۔۔۔
آج بھی اس نے فرحت بیگم کو چائے دے کر سولا دیا تھا اور دعا اپنے کمرے میں تھی۔۔۔
ارمہ کے موبائل پہ میسج ٹون بجی۔۔
“ٹو ڈے ایم کمینگ انگلینڈ”
ارمہ نے میسج ریڈ کیا اور نام بھی زوبی۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
وہ جلدی جلدی میں اپنی پیکنگ کررہی تھی، کیوں کے ابھی انھے مری کے لیے نکلنا تھا۔۔۔
بیگم کہاں تک پیکنگ پہنچی؟؟
اس کے شوہر نے پیکنگ کرتی اپنی بیوی سے پوچھا اور اپنے بیگ کو دوبارہ سے چیک کرنے لگا۔۔۔
کہاں پہنچنی ہے؟، وہاں کی وہاں ہے میں اکیلی ساری پیکنگ کیسی کرو؟
اوکے بیگم میں ہلپ کرواتا ہوں آپ کو۔۔
جی جی نیکی اور پوچھ پوچھ۔۔
دونوں پیکنگ کرنے کے بعد اپنے سفر پہ روانہ ہوچکے تھے۔۔۔
ابھی انہے پشاور سے نکلے پونا گھنٹا ہی ہوا تھا کہ گاڑی کچی سڑک پہ چل رہی تھی وہاں سے پھر انہے پکی سڑک پہ پڑ جانا تھا۔۔
وہ کچی سڑک کی وجہ سے گاڑی کی اسپیٹ کم کر چکا تھا۔۔
اتنے میں سامنے سے دس گیارہ سالہ بچی بھاگتی ہوئی آ رہی تھی، جس نے ریڈ کلر کا گرارا پہن رکھا تھا وہ ہڑبڑی میں بھاگتی ہوئی آ رہی تھی جیسے کوئی اس کے پیچھے ہو، وہ اپنے گاڑی کو بریک لگانے ہی والا تھا کہ سامنے سے بھاگتی ہوئی بچی اپنے ہی گرارے سے الجھ کر گاڑی پہ جا لگی اور گاڑی نے اسے فٹبال کی طرح اٹھا کر سائڈ پہ پڑے بڑے سے پتھر پہ دے مارا۔۔
وہ دونوں میاں بیوی بھاگ کر گاڑی سے باہر نکلے اور اس عورت نے اس بچی کا سر اپنی گود میں رکھ لیا جہاں سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔۔۔
آ۔۔۔آنٹ۔۔۔ ی۔۔ آنٹی مجھے بچا لیں وہ لوگ مجھے ساتھ لے جائیں گئے یہ کہتے ہی بچی کی گردن اس کی گود میں ایک طرح لڑکڑا گئ اور وہ بے ھوش ہوگئ۔، دونوں نے اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ ڈالا اور گاڑی کو ہوسپیٹل کی طرف ڈال دیا عورت موبائل پہ ہوسپیٹل کی لوکیشن نیٹ پہ ٹریس کرنے لگی کیوں کہ وہ اس شہر میں نیئے جا رہے تھے۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
ارمہ تم ریڈی ہو نا؟ شاہد نے شیشے کے سامنے اپنے بال سنوارتے ہوئے سامنے کھڑی اپنے بیوی سے پوچھا جو میک آپ کرنے کے بعد اب جولری پہن رہی تھی۔۔
بالکل شاہد میں ریڈی ہوں بس جولری پہن کر ارمہ نے ہاتھ میں بریسلیٹ پہنتے ہوا کہا۔۔۔
شاہد نے جن لوگوں سے پاٹنرشپ کی تھی، ان لوگوں نے اور شاہد نے ایک کونٹریکٹ سائن کیا تھا جو وجہ سے ان کی کمپنی کو بہت پرافٹ ہوا تھا۔۔۔
اسی خوشی میں دونوں نے ایک پارٹی تھرو کی تھی جہاں شاہد اور ارمہ کو جانا تھا۔۔
ارمہ اب اپنی ساڑی کا پلو سنبھلے کھڑی تھی تھوڑی دیر بعد دونوں پارٹی میں چلے گئے۔۔۔
اب دونوں پارٹی میں پہنچ چکے تھے۔۔۔
ارمہ شاہد کی بازوں میں ہاتھ ڈالے آ رہی تھی کہ سامنے سے آتا ویٹر ارمہ سے ٹکڑا گیا جس وجہ سے اس کے ہاتھ میں پکڑی ڈرنک کی ٹرے ارمہ پہ الٹ گئ اور اس کی ساڑی خراب ہوچکی تھی۔۔۔
یو ایڈیئٹ۔۔ مڈل کلاس۔۔ تم نے میرا ڈریس خراب کردیا، ارمہ ہلک کے بل چلائی۔۔۔
س۔۔ سوری میڈم صاحبہ غلطی ہوگئ، ویٹر نے ہاتھ جوڑ کر معافی طلب کی۔۔
سوری کر بچے تمھیں تو میں چھوڑو گئ نہیں، ارمہ اس کا گربان پکڑ کر اسے تھپڑ جڑنے والی تھی کہ شاہد نے ارمہ کا ہاتھ پکڑ لیا،
ارے ڈارلنگ تم کیوں اس کے منہ لگتی ہو دفع کرو اسے تم واشروم جا کر صاف کرلو میں ہہاں ہی تمھارا ویٹ کر رہا ہوں۔۔
شاہد کے کہنے پہ ویٹر فورا وہاں سے بھاگ گیا اور ارمہ ویٹر کو لعنت تعنت کرتی واشروم سائڈ چلی گئ۔۔۔
ارمہ اپنی ساڑی صاف کرنے کے بعد اب ٹھیک کر رہی تھی کہ وہاں کی لائٹ آف ہوگئ۔۔
اندھرے میں ہی ارمہ کی ساڑی کا پلو اس کے کندھے سے ہٹا اور اسے اپنے کندھے پہ کسی کے ہونٹ محسوس ہوئے تو اسے کسی کی یاد آئی تو اس نے وہ ہی نام پکارہ ہی تھا کہ لائت واپس اون ہوگئ اور وہ اس کا چہرا دیکھنے لگی۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *