Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode02

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode02

*°°°°°°*
“یہ ایک مارکیٹ تھی چمن مارکیٹ سامنے لگے بورڈ پہ لکھا صائب نے پڑھا۔۔ یہاں پہ پہنچ کر وین رک گئ تھی، اس کے بعد سب نے اپنے چہرے ماسک سے ڈھکے اس نقاب پوش نے صائب کی طرف بھی ماسک بڑھایا جو صائب نے خاموشی سے لے لیا۔۔
اب سب وین سے اتر اور چلنے لگے۔۔۔
بیس پچیس قدم چلنے کے بعد ایک شاپ میں سب گھس گئے شاپ کے اندر جاتے ہی وہ شاپ میں لگی سیڑیاں جو نیچھے کی طرف جاتی تھی سب اس سے گزر کے نیچھے پہنچے تو وہاں پہ لکڑی سے بنا فرش تھا اور کچھ کریساں اور کچھ اور لکڑی کا سامنان تھا، دیکھنے میں وہ شاپ کا اسٹوروم لگتا تھا لیکن یہ بس لگتا ہی تھا۔۔۔
ان میں سے ایک آدمی ایک چھوٹے سائز کی کارپٹ کو ہٹا کر ایک بٹن دباتا ہے جس سے سامنے والا لکڑی کا سارا فرش نیچھے کی جانب کھل گیا اور یہاں بھی سیڑیاں تھی سب کے ساتھ صائب کو بھی نیچھے جانا پڑا سب کے نیچھے جاتے ہی وہ فرش خود بخود پہلے جیسی خالت میں آگیا اور اوپر جانے کا راستہ بند ہوگیا۔۔۔۔
نیچھے بہت بڑا حال تھا تھوڑے آگئے جانے پہ اندر موجود آدمیوں نے نقاب پوش کے داخل ہوتے ہی احترام سے کھڑے ہو گئے اور نقاب پوش سامنے لگے صوفہ پر بیٹھ گیا۔۔
بیٹھ جایں کاظمی صاحب نقاب پوش نے صائب سے کہا تو وہ بھی سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
جاو جاکر کچھ لے آٶ کاظمی صاحب کے لیے نقاب پوش نے سامنے کھڑے لڑکے سے کہا جو فورا چلا گیا۔۔
اس سب کی ضرورت نہیں سر صائب نے کہا۔۔
ارے کیسے ضرورت نہیں اتنے میں وہ لڑکا صائب کے لیے مشروب لے کر آ گیا وہ نہ چارہ صائب کو پینا پڑا۔۔۔
سر میرے خیال میں بات کا آغاز کرنا چائے صائب نے ریسٹ واچ پہ نظر ڈال کر کہا کیوں کہ وہ اس نقاب پوش کو دیکھ رہا تھا جو ریلیکس انداز میں بیٹھا پاڈر نما چیز کو اپنی سانسوں میں کھنچنے میں مصروف تھا۔۔۔
چلیں کاظمی صاحب آپ کا انتظار ختم کردیتے ہیں کہتے ہی وہ نقاب پوش صائب کو لے کر ایک دروازے میں داخل ہوا۔۔۔
اندر جانے پہ صائب نے دیکھا جیل نما پانچ کمرے تھے جن میں بس سلاخیں لگی ہوئی تھی۔۔۔
لیکن چار پانچ الگ الگ سلاخیں تھیں۔۔۔
ان میں سے ایک میں سات سے دس سال کے معصوم بچے فرش پہ پڑے تھے۔۔۔
اس سے اگلی جیل میں گیارہ سے اٹھارہ سالہ بچے شامل تھے وہ بھی اندمنہ زمین پہ پڑے تھے۔۔۔
اس سے اگلی جیل میں سات سے دس سالہ بچیاں تھی اور اس سے اگلی میں گیارہ سال سے تیس سالہ نوجوان لڑکیاں تھیں ان لڑکیوں کا بھی حال ان بچوں کی طرح تھا وہ بھی بےہوش زمین پر پڑی ہوئی تھیں۔۔۔۔
اس سے آگۓ میں شیشے کا کمرا بنا ہوا تھا اور کچھ لڑکیاں تیار ہورہی تھی جب کہ اس کے ساتھ بنا کمرا بھی شیشے کا تھا لیکن ان پہ پردے گرے ہوئے تھے اور وہاں سے لڑکیوں کے رونے اور چلانے کی آوازیں آرہی تھی۔۔۔
کاظمی صاحب!!
نقاب پوش نے جب صائب کو حيران پرشان پایا تو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے کر اسے پکارہ۔۔۔
ج۔ی جی سر۔۔۔۔
آپ تو پرشان ہوگئے کاظمی صاحب لائف میں ایسے ایڈنچر تو ہوتے رہتے ہیں خیر یہ سب میرا بزنس ہے۔۔۔
یہ بچے بہرونے ملک میں ڈرگز اسمگلنگ اور دوسرے کاموں کے لیے ہمارے بڑے کام آتے ہیں اور یہ لڑکیاں جسم فروشی کے دھندے میں کام آتی ہیں، پاکستانی لڑکیوں کی دوسرے ممالک میں بہت مانگ ہے جس وجہ سے میرا بزنس چمکا ہوا ہے،۔۔
میرا کام اچھا سا چل رہا تھا لیکن ہمارا گینگ کے اس آدمی کو پولیس نے اریسٹ کرلیا جس کے زریعہ ہم بہرونے ملک لڑکیاں اور بچے بجھواتے تھے اس لیے آپکی دوستی کی ضرورت ہے۔۔۔
ان ہی بچوں اور لڑکیوں کو آپ کے شیپ کے زریعہ بہرونے ملک بجھوانا ہے مجھے یہ ہی کام تھا آپ سے ہم نے تو اپنی دوستی نبھا دی اب آپکی باری ہے۔۔
اور دو آہم باتیں اور ہیں۔۔
نقاب پوش نے صائب کو انگلی اٹھا کر بتایا۔۔۔
ایک یہ کہ اب آپ ہمارے رازدار بن گئے ہیں اور ہمارے کام دھندے کے بارے میں جاتے ہیں تو یہ بات میں کلیئر کردو ہم سے غداری کی سزا موت ہوتی ہے۔۔۔ چایے غداری کسی بھی طرح کی ہو چاہے ہمارے خلاف جا کر یا ہمارا ساتھ چھوڑ کر دونوں صورتوں میں موت غدار کے حصہ میں آتی ہے۔۔
اور دوسری آہم بات یہ “ایگل” کا ٹیٹو آپ کو اپنے کندھے پہ بنوانا ہوگا،یہ ہمارے گینگ کا رول ہے۔۔
نقاب پوش کی بات سن کر صائب کو پرشانی ہونے لگی کہ اس نے بہت غلط فیصلہ کیا تھا ان کی مدد لے کر پر اب وہ کر بھی کیا سکتا تھا وہ بری طرح بھس چکا تھا اور نکلنے کا راستہ کوئی نہیں۔۔۔
سر اس ٹیٹو کی کیا ضرورت ہے؟؟
بہت ضروری ہے کاظمی صاحب یہ ہمارے گینگ کی شناخت ہے اس انڈرولڈ کی دنیا میں ہمے ایگل گینگ کے نام سے بھی لوگ جانتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے۔۔
ڈیول لے جاٶ کاظمی صاحب کو اور ان پہ ہمارے ہونے کا ٹیگ لگا دو۔۔
اوکے کےزڈ (KZ)صاحب۔۔۔
*°°°°°°*
“ماں میں جا رہی ہوں سب فرنڈز میرا ویٹ کر رہے ہیں باہر۔۔۔
سلوای انیلا بیگم کو دیکھ کر بولی، انیلا بیگم کے ہاتھ دھگے کا دوسرا اسٹیپ لینا چھوڑ چکے تھے، انیلا بیگم نے دھگے اور کوریشیئے کو ٹیبل پر رکھ کر سلوای کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔۔۔
کہاں جانا ہے تمہیں رات کے اس وقت؟؟
رانی ماں وردا کی انگیجمنٹ ہوئی ہے تو اس نے سب دوستوں کو ٹریٹ دی ہے وہاں جانا ہے سلوای نے گلے میں اپنے چھوٹے سے اسٹالر کو ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔۔۔
کوئی ضرورت نہیں جانا کی رات کے اس وقت انیلا بیگم نے گھڑی پہ نظر ڈال کر کہا جو کہ رات کے نو بجا رہی تھی۔۔
ماں۔۔۔۔ سلوای نے رونے والی شکل بنائی۔
کیا ماں ؟؟ انیلا بیگم نے غصہ سے اسے دیکھا۔۔ اور اس طرح کی ڈریسنگ اب مت کیا کرو کتنی بار سمجھاوں بڑی ہوگی ہو تم گھر سے باہر ایسی ڈریسنگ مت کیا کرو پر تمہیں تو میری بات سنائی ہی نہیں دیتی۔۔ انیلا بیگم کا موڈ اور بھی خراب چکا تھا سلوای کی ٹائٹ جینز پنٹ اور اس پہ چپکا ہوا ٹاپ۔۔
بابا دیکھے نا رانی ماں جانے نہیں دے رہی ہیں میری فرنڈز باہر ویٹ کررہی ہیں۔۔۔
سلوای نے عمر صاحب کو جب آفس سے آتے ہوئے دیکھا تو جھٹ سے معصوم شکل بنا کر فریاد کی۔۔
جائیں بیٹا کچھ نہیں کہے گئ آپکی ماں عمر صاحب کو پتہ تھا سلوای نے تب تک صد کرنی ہے جب تک اسے اجازت نہیں مل جاتی اور وہ اس وقت اس اب کے موڈ میں نہیں تھے ان کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا اسی لیے انہوں نے اسے فورا سے جانے کو کہا۔۔۔
تھنکس بابا جانی سلوای باپ کی اجازت ملتے ہی ان کے گلے لگتی باہر بھاگ گئ۔۔۔
بیگم ایک کپ چاہے پیلا دیں سر میں درد ہے، عمر صاحب نے بیگم کو ناراض نظروں سے دیکھتے پا کر کہا اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔۔۔۔۔
*°°°°°°*
فرحت بیگم نے شوہر کے بزنس پہ اچھی محنت کی جس وجہ سے اب ان کی کمپنی کا ایک نام تھا انگلینڈ میں۔۔۔
وقت پر لگا کر گزر گیا تھا۔۔
اب فرحت بیگم کے تینوں بچے جوان ہوچکے تھے۔۔
سب سے بڑی بیٹی تھی دیا اس کے بعد دو جڑواں بیٹے بڑے بیٹے کا نام تھا شعیب اس سے آدھا گھنٹا چھوٹا کا نام شاہد تھا۔۔۔
اب تو ماشااللہ سے ان کے بڑے بیٹے شعیب نے بزنس سنبھل لیا تھا جب کہ شاہد نے تو کہہ دیا تھا اسے بہت پڑھنا ہے اس لیے اسے ابھی بزنس میں نہیں پڑنا۔۔۔
اب فرحت بیگم شعیب اور دیا کی شادی کا سوچ رہی تھیں۔۔ شعیب کے لیے تو وہ اپنی مرحوم بہن کی بیٹی کا رشتہ کیے ہوئے تھی جب کہ دیا بھی اپنے کالج فیلو عظم کو پسند کرتی تھی یہ بات اس نے اپنی ماں کو بتائی تو ماں نے لڑکے کو دیکھ بھال کر اور اسی فیملی کو دیکھ کر رشتہ قبول کر لیا۔۔
کچھ دن بعد فرحت بیگم نے ادھر دیا کو عظم کے سنگ رخصت کیا اودھر زینب کو شعیب کی دولہن بنا کر گھر میں لے آئی۔۔
شادی کے ایک منتھ بعد ہی زینب کو اللہ پاک نے اولاد کی خوش خبری دی۔۔
جب زینب کی ڈلیوری کا وقت قریب آیا تو زینب کی ڈلیوری نارمل ڈلیوری ثابت نہیں ہوئی بلکہ بچے کی پیداٸش کے وقت بچا دانی پھٹ گئ جس وجہ سے زینت مرتی مرتی بچی لیکن اب وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی تھی۔۔
فرحت بیگم اسی میں خوش تھیں کے ان کی بہو+بانجھی تو بچ گئ اور رہی بات بچے کی تو اللہ نے انہے چاند سے پوتے سے نوازہ تھا انہے اور کیا چایے تھا اسی میں وہ رب کے حضور سجدہ ریز ہوٸی۔۔
شادی کے کچھ منتھ بعد تو ماں باپ نے کچھ نہیں کہا ، عظم پورا دن گھر میں رہتا نہ باپ کا بزنس سنبھل رہا تھا نہ ہی کوئی اور کام کرتا جب ماں باپ نے بزنس سنبھلنے کو کہا تو عظم نے صاف انکار کر دیا کہ میں کوئی کام نہیں کرو گا باپ کی اتنی جاٸداد ہے وہ ہم دو بھایوں کی ہی تو ہے پھر کام کی کیا ضرورت۔۔۔
پر ماں باپ نے جب دیکھا کہ بڑا بیٹا تو بزنس سنبھلے گا نہیں تو چھوٹے کو کہہ دیا جو اس نے ماں باپ کی بات مانتے ہوئے بزنس سنبھل لیا۔ لیکن بات ادھر ہی ختم نہیں ہوئی عظم مہینے دو مہینے بعد لاکھ ڈیڈ لاکھ لیتا اور کچھ دیا اور اپنے پہ اڑاتا اور کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر آتا دیتا۔۔
اس سب کو لے کر عظم کے ماں باپ بہت پرشان تھے اور انہے نے بہو سے کہا کہ بیٹے کو سمجھائے لیکن جب دیا نے بزنس سنبھلنے کی بات عظم سے کی تو وہ الٹا اس پہ بگڑ گیا دیا نے تو دوبارہ بات نہیں کی پر جب عظم نے دوبارہ تین لاکھ کی رقم لینی چاہی تو اس کے باپ نے دینے سے انکار کر دیا ان کا کہنا تھا کام چھوٹا کرتا ہے اور اڑاتے تم جس پہ عظم اپنا حصہ کو لے کر دیا کے ساتھ دوبئی شفت ہوگیا۔۔۔
*°°°°°°*
کچھ دیر بعد جب صائب اس لڑکے کے ساتھ واپس آیا تو اسکے کندھے پہ ٹیٹو بنا دیا گیا تھا ایگل کا۔۔
جی تو کاظمی صاحب بن گیا ٹیٹو؟؟
جی سر بن گیا، صائب نے اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے کہا ورنہ تو اسے اس آدمی پہ بہت غصہ آرہا تھا جو کب سے اسے اس کی مرضی کہ بغیر کیا کیا کہہ رہا تھا جو صائب کو مجبورن منانا پڑ رہا تھا۔۔
اب ہماری تعریف بھی سن لیں کاظمی صاحب آپ نے پوچھا تھا پولیس اسٹیشن تو اب ہم آپ کو بتا دیتے ہیں۔۔۔
ہم ہیں انڈر ولڈ کے ڈون کےزڈ ہمے لوگ کےزڈ کے نام سے جانتے ہیں، ایگل گینگ کا بوس کےزڈ۔۔
ہمارا چہرہ آج تک کسی نے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ان سب میں سے جو میرے ساتھ کام کرتے ہیں انہوں نے بھی نہیں لیکن یہ سب میرے آدمی ہیں پر آپ ہمارے دوست ہیں اب دوست کہا ہے تو دوست سے کیا چھپانا، یہ کہتے ہی اس نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا جسے صائب دیکھ کر حیران رہ گیا یہ تو ملک کے عزت دار آدمیوں میں سے تھے پر اس عزت دار کا صائب اصلی چہرا دیکھ چکا تھا۔۔
سر آپ کو کب شیپ کی ضرورت پڑے گئ مجھ سے کونٹیکٹ کرلیجئے گا، صائب نے اپنا کارڈ کےزڈ کو دیا۔۔۔
کاظمی صاحب کل رات لڑکیوں کو بجھوانا ہے۔ اور آپ اپنے وٹس ایپ پہ چیک کرلیں میں نے ان لڑکوں کی پکس بھجی ہیں جو لڑکیوں کے ساتھ جائے گئے،۔۔
اوکے سر آپ بے فکر رہے آپ کا کام ہو جائے گا۔۔
ہمے معلوم ہے کاظمی صاحب آپ ہم کو شکایت کا موقع نہیں دیں گئے۔۔۔
جی جی بالکل۔۔ اب مجھے اجازت دیں کافی ٹائم ہوگیا ہے، صائب نے ریسٹ واچ دیکھ کر کہا۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے آجایں ہم آپ کو اوپر تک چھوڑ دیتے ہیں۔۔ اوکے کاظمی صاحب یہ ماسک پہن لیں آتے جاتے اس کا استعمال ضرور کیجیئے گا کےزڈ نے ماسک کی طرف اشارہ کیا تو صائب ماسک پہن کر وین میں آگیا اور وین نے اسے پولیس اسٹیشن کے قریب اتارا جہاں اسکی گاڑی کھڑی تھی۔۔۔
صائب اب آپنے آفس جا رہا تھا کیوں کے آفس سے اسے کچھ چیزیں لینی تھی پھر اسے گھر جانا تھا۔۔
آفس سے واپسی پہ جب اس نے مری روڈ یہ گاڑی ڈالی تو اس شالامار ریسٹورینٹ کے سامنے ایک لڑکی کھڑی نظر آئی، جو جینز پنٹ اور ٹاپ میں ملبوس تھی اور گلے میں چھوٹا سا اسٹالر لیے کھڑی تھی۔۔
شکل صورت میں کمال کی تھی کالے سیاہ بال بھی اس نے ٹیل کی شکل میں پونی بنائے ہوئے تھے اور آنکھوں پہ چشمہ لگا ہوا تھا، صائب کے گاڑی روکنے کی وجہ وہ لڑکی یا اسی کی خوبصورت نہیں تھی بلکہ اس لڑکی کے پیچھے سے پھٹی ٹاپ تھی جو اپنے چھوٹے سے اسٹالر لیے ڈھکنے کی نکام کوشش کررہی تھی۔۔۔۔
صائب کے گاڑی روکتے ہی اس نے صائب سے لفٹ کو کہا جو صائب نے اسے دے دی کیوں کے وہ اسے پرشان لگی اور اوپر سے صائب کو اسکی ٹاپ پھٹی ہوئی بری لگ رہی تھی اور جہاں وہ کھڑی تھی وہاں تو ہر آتا جاتا اسی کو دیکھ رہا تھا اور اوپر سے رات بھی کافی ہوگی تھی۔۔۔
سلوای آئی تو اپنی فرنڈز کے ساتھ تھی لیکن واپسی پہ ان سب کو لونگ ڈرائو کا پرگرام بن گیا لیکن سلوای نہیں جاسکتی تھی کیوں کی وہ اپنی رانی ماں کے غصہ سے اچھی طرح واقف تھی اس لیے اسے دس بجے تک گھر پہنچنا تھا، یہ ہی سوچ کر اس نے سوزین کو کال کی کے آتے ہوئے مجھے شالامار سے پک کرلے پہلے تو سوزین نے کہا اوکے میں آتی ہوں کچھ وقت تک لیکن پھر وہ ایک کیس میں الج گئ اور اسے اپنا جلدی جانا مشکل لگنے لگا۔۔اسی لے اس نے سلوای کو کال کر کے کہا تھا کہ وہ گھر چلی جائے۔ اسے آنے میں دیر ہوجائے گئ۔۔۔
سلوای جب ریسٹورینٹ سے نکلی تو باہر ایک لوڈنگ گاڑی کھڑی تھی جس میں لوہے کے راڈ لوڈ تھے سلوای اس کے ساتھ سے مشکل سے گزر رہی تھی کیوں کے اور کوئی راستہ تھا نہیں جس وجہ سے اس کی ٹاپ ایک راڈ میں اٹک گی سلوای نے کھنچ کر نکالنی چاہی تو وہ پیچھے سے کافی پھٹ گئ اب سلوای اپنے اسٹالر سے اسے ڈھکنے کی کوشش کررہی تھی لیکن وہ بلا چھوٹا سا اسٹالر کہاں اسکی پشت ڈھک سکتا تھا۔۔
یہ پہن لیں۔۔۔۔
صائب نے جب دیکھا کے سلوای بار بار اسٹالر اپنی پشت پہ ڈالتی یے لیکن وہ چھوٹے ہونے کی وجہ سے پھر ہٹ جاتا ہے تو اپنا کوٹ اتار کر اسکی جانب بڑھیا جو سلوای نے شکریہ کہتے ہوئے لے لیا۔۔۔
ویسے آپ کو کہا جانا ہے؟؟
ڈیفنس میں اترنا ہے۔۔۔
اتنی رات کو ریسٹورینٹ میں اکیلی کیسے آپ؟؟ صائب نے ایک کے بعد دوسرا سوال کیا۔۔۔
فرنڈز کے ساتھ آئی تھی وہ لونگ ڈرائو پہ چلی گئ تو میں ادھر رہ گئ۔۔۔
ہممم اچھا۔۔
بس ڈیفنس کچھ آگے ہی تھا تب صائب نے دوبارہ سے بات کا آغاز کیا۔۔۔۔
ویسے لڑکیوں کو ایسے ڈریس نہیں پہنے چاہے۔۔
کیسے سلوای نے پوری آنکھوں باہر نکلا کر صائب سے پوچھا؟؟
یہ ہی جیسے آپ نے پہنا ہے، صائب نے کندھا اچکا کر کہا۔۔۔
یو تم ہوتے کون ہو میری ڈریسنگ پہ کمینٹ پاس کرنے والے۔۔ روکو گاڑی اب کے ابھی سلوای نے غصہ سے پاوں مار کے کہا۔ جو تھوڑی دیر پہلے وہ پرشان تھی اپنے ٹاپ اور گھر جانے کی وجہ سے جب اسے دونوں مسلے خل ہوتے نظر آئے تو وہ سامنے والے کے سارے احسانات بھولا کر بےتمیزی سے بولی۔۔
اوو ہیلو آرام سے ہاں تمہارا نوکر نہیں جو یوں بات کررہی ہو۔۔۔
صائب کو اس ساڈھے چار فٹ کی لڑکی پہ کافی غصہ آیا پہلے تو اس نے اسکی ہلپ کی اور لفٹ دی دوسرا اسے بری ڈریسنگ کی پہچان کروائی اور وہ تھی کہ اسی پہ بگڑ رہی تھی۔۔۔
نکلو۔۔۔ صائب نے بھی بے مروتی سے گاڑی روک کر کہا اور فوار گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔۔
*°°°°°°*
“یس سر آپ نے بلایا تھا؟؟
اس نے اندر آتے ہی سلیوٹ کرکے سامنے بیٹھے اپنے سینیر سے کہا۔۔۔
یس جنٹلمین یہ کیس ہے آپ اسٹیڈی کرلیں اور آپ کو مشن پہ جانا یے۔۔
بہت ضروری کیس ہے آپ کے کام کا طریقہ سب کو پسند ہے اس پہ یہ کیس بھی آپ کے دوسرے کیسز کو دیکھ کر آپکو سونپا جا رہا ہے۔۔۔
اوکے سر میں ریڈی ہوں مشن پہ جانے کے لیے رات کو کیس اسٹیڈی کرلو گا، وہ سلیوٹ کرکے باہر نکل گیا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *