Tarbiyat by Tawasul Shah NovelR50819 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode11
Rate this Novel
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode01 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode02 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode03 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode04 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode05 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode06 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode07 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode08 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode09 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode10 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode11 (Watching)Tarbiyat by Tawasul Shah Episode12 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode13 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode14 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode15 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode16 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode17 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode18 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode19 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode20 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode21 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode22 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode23 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode24 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode25 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode26 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode27 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode28 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode29 Tarbiyat by Tawasul Shah Last Episode
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode11
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode11
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
کےزڈ اور رضا ابھی ابھی اڈے پہ پہنچے تھے۔۔
ہاں بتاو باقی سب کہاں ہیں؟ کےزڈ نے سامنے کھڑے اپنے بندے سے پوچھا؟؟
کےزڈ صاحب زاہد پپو اور باقی چار پانچ مائکل کے ساتھ گئے ہیں۔۔۔
اچھا وہ مائکل کسی لڑکی کا ذکر کررہا تھا، جب میں پنڈی تھا، وہ لڑکی بھاگی تو نہیں نا کہاں ہے وہ کےزڈ نے اس لڑکے سے پوچھا؟؟
کےزڈ صاحب وہ بیسمنٹ میں ہے، اور بھاگتی کیسے اسے مائکل نے اور اس کے بعد زاہد اور میں نے اچھے سے سبق سیکھایا ہے، اب کبھی بھاگنے کی کوشش نہیں کرئے گئ۔۔۔
چلو میں آتا ہوں دیکھ کر اسے تم چاہے لے کر آو ہمارے لیے۔۔
جی کےزڈ اور وہ لڑکا چائے لینے چلا گیا۔۔۔
چلو رضا دیکھتے ہیں۔۔۔
کےزڈ جب کمرے میں پہنچا تو وہ لڑکی اوندھے منہ زمین پہ بےھوش پڑی ہوئی تھی۔۔۔
رضا اسے سیدھا کرو،، دیکھو تو یہ کیا چیز ہے!! جسے دیکھ کر مائکل بھی رہ نہیں سکا۔۔۔۔
رضا نے جب اسے سیدھا کیا تو اسے کے چہرے پہ بال بکھرے پڑے تھے۔۔
کےزڈ نے آگے بڑھ کر اسے کے بکھرے بال پیچھے کیے تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ۔۔۔۔
وہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر گر گیا۔۔۔
رضا اسے اٹھا کر ہوسپیٹل لے گیا لیکن ابھی تک وہ خطرے سے باہر نہیں آیا تھا، لمحا لمحا اس کی طبیعت مزہد بگھڑتی جارہی تھی۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
ارے بیٹا تم کہاں چلی گئ تھی؟؟
سوزین جب گھر پہنچی تو انیلا بیگم اور عمر صاحب دونوں کو اپنا منتظر پایا۔۔
سوزین کو دیکھتے ہی انیلا بیگم نے فورا اس سے پوچھا۔۔۔
ماں بابا وہ ایک ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا تو ادھر پھس گئ تھی، سوزین نے اپنی ماں سے نظر چرا کر کہا۔۔۔
وہ اپنے ساتھ ہوئے واقع کا بتا کر ان دونوں کو پرشان نہیں کرنا چاہتی تھی اسی لیے اس نے ایکسیڈنٹ کا کہہ دیا۔۔۔
اچھا بابا آپ کہاں رہ گئے تھے ماں پرشان ہورہی تھیں۔۔۔
بیٹا آپ کی ماں کا تو کام ہی پرشانی کرنا ہے، میں نے کہاں جانا اس عمر میں عمر صاحب نے مزاق سے کہا تو دونوں ماں بیٹی ہنسے لگی۔۔۔
میں میٹنگ روم میں تھا اور میں نے ہی کوئی کال لینے سے منع کیا تھا بس اسی لے کال پک نہیں کی اور آپکی ماں پرشان ہو گھیں۔۔۔۔
بابا پلیز میری رانی ماں کو مت پرشان کیا کریں، آپ ایسے لیٹ ہوں تو ماں کو پہلے ہی انفارم کردیا کریں۔۔۔
اوکے بھئ آئندہ ایسا ہی ہوگا، اب کھانا لگا دیں بہت بھوک لگی ہے۔۔
عمر صاحب نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔
میں لگواتی ہوں کھانا آپ چینج کرکے آجائے۔۔۔
پھر تینوں نے ہلکے پھلکے ماحول میں کھانا کھایا اور اپنے اپنے روم میں چلے گئے۔۔۔
انیلا۔۔۔
عمر صاحب نے اپنا موبائل بند کر کے سائڈ ٹیبل پر رکھا اور ورڈروب میں منہ دیے اپنی بیوی کو پکارہ جو پتہ نہیں کیا تلاش رہی تھیں۔۔۔
جی۔۔۔ انیلا بیگم نے اپنا کام جاری رکھتے ہوئے جواب دیا۔۔۔
یار ادھر آئیں!! بات کرنی ہے آپ سے ضروری۔۔
انیلا بیگم ورڈروب کو بند کر کے عمر صاحب کے سامنے بیڈ پہ آکر بیٹھ گھیں۔۔
جی اب بتایں کیا بات کرنی تھی آپ نے؟
اپنے خان بخاری ہیں نا میرے بزنس پاٹنر، عمر صاحب نے بات کا آغاز کیا۔۔
جی جی میں جانتی ہوں انھیں۔۔
وہ اپنے بیٹے انیک بخاری جس نے ابھی ابھی وقالت کا امتحان پاس کیا ہے، اس کے لیے ہماری زینی کا پرپوزل لائے تھے، وہ تو مکمل طور پہ رشتہ ڈالنے گھر آنا چاہتے تھے لیکن میں نے کہا پہلے مجھے آپ سے بات کرنی چائے اس لیے ان سے وقت مانگ لیا۔۔ ۔
دیکھے عمر یہ تو آپ بھی جانتے ہیں، کہ سوزین ہماری اپنی بیٹی نہیں ہے، وہ ہمیں جس حالت میں ملی تھی، ہمیں نہیں معلوم وہ بس ایسی حالت میں ہی تھی یا جیسا میں سوچ رہی ہوں ایسا ہی ہے۔۔۔۔
آپ کیا سوچ رہی ہیں؟ انیلا کھل کر بتایں مجھے، عمر صاحب نے بیوی کو سوچ کے سمندر میں غوطے زن پا کر کہا۔۔
میں یہ سوچ رہی ہوں عمر۔۔
سوزین ہمیں شادی کے جوڑے میں ملی تھی اور پھر اس کی یاداشت چلی گئ. ۔
کہیں وہ کسی کے نکاح میں تو نہیں ہمیں یہ معلوم نہیں ہے، اور ایسے میں ہم اگر سوزین کا نکاح پہ نکاح کروا دیتے ہیں تو یہ گناہ کبیرہ میں آتا ہے۔۔۔۔
میں جانتی ہوں آپ سوزین سے سلوای سے زیادہ پیار کرتے ہیں اور ایک باپ کی سوچ سے انیک بہت اچھا لڑکا ہے ہماری سوزین کے لیے لیکن ہم تب تک کچھ نہیں کرسکتے جب تک اسی کی یاداشت واپس نہیں آجاتی۔۔۔۔
آپ خان بخاری کو کوئی مناسب بہانہ لگا کر انکار کریں، ابھی سوزین کے لیے ایسا ہی بہتر ہے۔۔
ہاں انیلا کہہ تو آپ بھی ٹھیک رہی ہیں، خدا جانے ہماری زینی کسی کے نکاح میں ہی ہو۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے میں انھیں مناسب بہانہ لگا کر معزرت کرلو گا۔۔
جی ٹھیک ہے۔۔
سلوای سے بات ہوئی آپکی کب تک واپس آئی رہی یے وہ؟ انیلا بیگم نے شوہر کو پرشان دیکھا تو فورا ان کا دھیان ہٹانے کے لیے سلوای کا پوچھنے لگی۔۔۔
نہیں آج بات نہیں ہوئی میری اب بات ہوئی تو پوچھ لو گا کب واپسی یے اس کی۔۔
ہممم چلیں اب سو جائیں آپ کچھ بھی سوچنے کی ضرورت نہیں ہے، انیلا بیگم نے ان کے ہاتھ پہ نرمی سے ہاتھ رکھ کر کہا تو عمر صاحب نے مسکرا کر ہاں میں گردن ہلائی دی۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
سلوای کمرے میں نہیں تھی، صائب اپنی پنٹ اٹھا کر واشروم میں جانے لگا، اسے نے ہاتھ سے پردہ سائڈ کیا اور واشروم میں چلا گیا، صائب نے پردہ سائڈ کیا تو وہ پردہ جھولتا ہوا ٹیبل پر پڑے گلاس پہ لگا اور گلاس فرش پر گر جس سے فرش پر پانی پھیل گیا، فرش بھی ایسے کلر کا تھا کہ اس پہ پانی گرا نظر نہیں آتا تھا۔۔۔
جی بابا بس دو دن بعد واپسی ہے، اور ماں کیسی ہیں، اور آپی۔۔
دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تو وہ ہنسنے لگی۔۔
اچھا ٹھیک ہے بابا ابھی ہمیں میٹنگ کے لیے نکلنا ہے، یہ لاسٹ میٹنگ ہے، اللہ حافظ۔۔
اور وہ کال ڈسکینٹ کرتی روم کی طرف چل پڑی۔۔۔
صائب بھی شاور لے کر بن شرٹ کے باہر آگیا اس نے سوچا سلوای کمرے میں نہیں اور اس کی شرٹ بھی تو بیڈ پر پڑی ہوئی تھی۔۔
وہ گلے میں ٹاول ڈالے باہر آیا اور ادھر سے سلوای روم میں داخل ہوئی تو صائب کو بن شرٹ کے دیکھ کر دوسری طرف منہ کرنے لگی لیکن فرش پر گرے ہوئے پانی سے پھسل گئ، ابھی وہ فرش پہ گرتی لیکن صائب کے ٹھنڈے ہاتھوں نے اس کی کمر سے اسے تھام لیا۔۔۔
صائب کے نم باہوں سے پانی کی بوندیں جب سلوای کے چہرے پہ گری تو اس نے آرام سے کہا چھوڑیں، لیکن صائب بن پلک جھپکائے اس کی آنکھوں میں دیکھے جارہا تھا۔۔
صائب چھوڑیں اسے نے تھوڑی اونچی آواز میں اور اسے پیچھے کر کے کہا تو صائب ھوش کی دنیا میں واپس لوٹا۔۔۔۔
صائب نے اسے ایسے ہی چھوڑ دیا جس سے سلوای فرش پر گر گئ۔۔۔
اففف مر گئ۔۔
کیوں چھوڑا مجھے سلوای نے رونے والی شکل بنا کر کہا۔۔۔
خود کہا تھا نا چھوڑو تو چھوڑ دیا صائب نے ہنسنے ہوئے کہا۔۔
چھوڑنے کو کہا تھا گرانے کو نہیں سلوای اٹھ کر دوسری جانب منہ کر کے بولی۔۔
اور آپ کو شرم نہیں آتی بن شرٹ کے کمرے میں گھوم رہیں ہیں۔۔۔
اچھا اب شرم بھی مجھے آئے بن شرٹ کے تم نے دیکھا تو شرم بھی تمھیں کرنی چایے مجھے نہیں، صائب بھی کہاں ہار مانے والا تھا۔۔
جاو باہر تاکہ میں شرٹ پہن سکو ورنہ پھر کہو گی شرم کریں۔۔۔
سلوای پاوں پٹھکتی باہر چلی گئ.۔۔
اففف کیسے گزار کرئے گا صائب بیٹا اس لڑکی کے ساتھ یہ ہر وقت گرتی پڑتی ہی رہتی ہے، صائب شرٹ پہنتے ہوئے سوچنے لگا۔۔
ویسے اسے گرنے سے بچانے تنگ کرنے میں بھی بہت مزہ آتا ہے، صائب نے مسکرا کر سوچا اور میٹنگ کے لیے ریڈی ہونے لگا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
کےزڈ کو ہوش آیا تو رضا اس کے پاس پہنچا۔۔۔
سر آپ ٹھیک ہیں نا۔۔۔
ہاں ٹھیک ہوں رضا۔۔
سر آپ اس لڑکی کو دیکھ کر بےھوش کیوں ہو گئے تھے؟؟
کیوں کے وہ میری بیٹی شیزا ہے، کےڈز کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ دل پہ ہاتھ رکھ کر دوبارہ بےھوش ہو گیا۔۔۔
مقافات عمل۔۔۔۔
پورا ہوا رضا نے زیر لب کہا۔۔۔
سچ ہے ہم جو کرتے ہیں یہ ایک قرص ہے جس کی واپسی آپ کے گھر سے ہی ہوگی۔۔۔
عزت کے بدلے عزت۔۔ میرا رب ہے نا انصاف کرنے والا اور گناہوں کی سزا دینے والا۔۔۔
مرد جوانی میں جو گناہ کرتا ہے، اس کا کیا اس کی بیٹی کے آگئے آتا ہے۔۔
آج کر کل بھر۔۔۔ اسی لیے کہتے ہیں کے کسی کی بہن بیٹی کو غلط نگاہ سے دیکھو گئے تو تمھاری بہن بیٹی بھی اس نگاہ سے بچ نہیں پائے گئ چائے اسے سات پردوں میں ہی چھپا کر کیوں نہ رکھ لو۔۔۔
رضا اپنے اڈے پہ پہنچا تو وہاں سب لوگ سو رہے تھے۔۔۔
وہ بیسمنٹ کی جانب بڑھ گیا وہ بےھوش سامنے پڑی تھی اور اس کے ساتھ بےھوشی والا انجکشن بھی پڑا ہوا تھا رضا نے ایک بڑی سی چادر لائی اور اس پہ ڈال ڈی پھر اسے اٹھاکر باہر لے آیا اور اپنے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈال کر خود گاڑی اسٹارٹ کرلی۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
آج پولیس اسٹیشن میں سوزین کو شدید سر درد تھا، لیکن وہ پھر بھی مسلسل کام کیے جارہی تھی۔۔۔
اچانک دور نے تیزی پکڑ اور وہ بےھوش ہوکر چیئر پہ جھول گئ۔۔۔
عمر صاحب کو انفارم کرنے پہ انھوں نے اپنی فیملی ڈاکٹر کے پاس پہنچانے کو کہا۔۔۔
عمر صاحب اور انیلا بیگم بھی ہوسپیٹل پہنچ چکے تھے۔۔۔
ڈاکٹر کیا ہوا ہے اب سوزین کو؟؟ انیلا بیگم نے فورا سے ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔
دیکھے یہ دوسرا اٹیک تھا نیکسٹ اٹیک لاسٹ ہوگا جس کے بعد میں یقین سے کہہ سکتی ہوں اس کی یاداشت مکمل طور پہ واپس آجائے گئ۔۔۔۔۔
لیکن یہ لاسٹ اٹیک کب ہوگا ڈاکٹر؟ عمر صاحب نے کہا۔۔۔
اس بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے آفندی صاحب ڈاکٹر نے پیشے ور مسکرہت سے کہا۔۔۔
جہاں انیلا بیگم اور عمر صاحب سوزین کی یاداشت واپس آنے پہ خوش تھے، وہاں ہی پرشان بھی تھے، کہ اگر سوزین کی یاداشت واپس آنے کے بعد وہ ان دونوں سے دور چلی گئ تو وہ کیا کریں گئے، انیلا بیگم اور عمر صاحب دونوں ہی اپنے سگی اولاد سلوای سے زیادہ سوزین کو چاہتے تھے۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
سوزین کے آنے سے آفندی ہاوس میں خوشیوں نے دستک دی، آفندی صاحب کا کہنا تھا یہ بچی ہمارے لیے بہت لکی ثابت ہوئی ہے، جب سے وہ اس گھر میں آئی ہے تب سے ان کو لگاتار خوشیاں ہی مل رہی ہیں، پہلے تو آفندی صاحب کو بہت بڑا پروجیکٹ ملا تھا جس سے وہ اگلے چھ سال تک بہت پیسا کما سکتے تھے، دوسرا کل انیلا بیگم کو اچانک چکر آگئے، ڈاکٹر کے پاس لے جانے پہ معلوم ہوا کے وہ ماں بنے والی ہیں۔۔
آج دس سال سے جو خوش خبری سنے کے لیے ان کے کان ترس گئے تھے، آج وہ خبر سنی کو ملی تھی۔۔۔
انیلا بیگم عمر صاحب اور بھی زیادہ سوزین کے ساتھ پیار کرنے لگے، ان دونوں کا کہنا تھا سوزین کی پروریش ہم نے اولاد کی طرح کی تو رب تعالی نے ہیمں خوشیاں عطاء کی بے شک انیلا آپ بالکل درست کہہ رہی ہیں۔۔۔
پھر جب سوزین کا سیکنڈ سمسٹر اسٹارٹ ہوا تو ایک پیاری سی بچی ان کے گھر میں آئی گول مٹول سی ننھی پری سوزین اسے سے بہت پیار کرتی تھی، اس کا نام بھی سوزین نے رکھا تھا سلوای۔۔۔
وقت کا کام ہے گزر جانا اور وقت پر لگا کر گزر گیا وقت کے ساتھ ساتھ سوزین اور سلوای میں محبت بڑھتی گٸ سوزین کی تو جان بستی تھی سلوای میں اور سلوای سوزین کی لاڈلی سوزین کے زریعہ وہ سب باتیں منوالتی جو اس کی کوئی نہیں مانتا تھا۔۔
سلوای سوزین کے بےجا لاڈ پیار سے تھوڑی خود سر اور بگھڑ گئ تھی۔۔
جسے وقفے وقفے سے انیلا بیگم درست کرنے کی کوشش کرتی لیکن سلوای کہاں سدھرنے والی تھی۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
کےزڈ کو ہوسپیٹل سے ڈسچارج کردیا گیا تھا۔۔
رضا اسے لے کر اڈے پہ پہنچا تو کےزڈ نے پہلا سوال یہ ہی پوچھا۔۔
شیزا کہاں ہے؟؟
کےزڈ سر آپ جب ہوسپیٹل تھے میں آپ کے ساتھ تھا پیچھے سے شیزا کہیں بھاگ گئ سوری سر اگر میں ہہاں ہوتا تو شاید کچھ کرسکتا اور شیزا کو کہیں نہیں جانے دیتا۔۔۔
کےزڈ رو رہا تھا اپنی بیٹی کے لیے لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔۔۔
یہ دیکھو رضا۔۔۔
کےزڈ نے اپنے موبائل میں ایک دس گیارہ سالہ بچی کی پکس دیکھائی۔۔۔
جسے دیکھ کر رضا کے چہرے پہ ایک رنگ آیا اور ایک گیا۔۔۔
یہ لڑکی میرے نکاح میں تھی، اس سے نکاح بھی اسی لیے کیا تھا کہ میری اولاد نہیں تھی، لیکن یہ بھاگ گئ میرے پاس سے پھر نہیں ملی مجھے۔۔۔ اس کے ایک سال بعد میرے گھر شیزا پیدا ہوئی۔۔
لیکن اب وہ بھی برباد ہوگئ۔۔۔
کےزڈ نے کانچ کے کلاس کو دور پھینکا۔۔
سر آپ کو یہ لڑکی کہاں سے ملی تھی۔۔۔
رضا نے سامنے پڑی بوتل سے کےزڈ کے لیے پیک بنایا اور کےزڈ سے نظر بچا کر اس میں ایک گوکی ڈال دی۔۔۔
کیا بتاو رضا۔۔۔
رضا نے اسے کلاس ہاتھ میں پکڑیا جسے کےزڈ ایک جھٹکے سے اپنے میدے میں اتار چکا تھا وہ نشے کی حالت میں رضا کو سب کچھ سچ بتانے لگا۔۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
جاری ہے۔۔۔
