Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode24

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode24

:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-
آج رات بارہ بجے سوزین اور دائس کی فلائٹ تھی۔۔
ساری پیکنگ کرنے کے بعد اب وہ بیگ بند کرنے کا ارادہ رکھتی تھی کے فوار سے لائٹ چلی گئ۔۔۔
اووو نو سوزین سائڈ ٹیبل کی جانب بڑھی تاکے موبائل اٹھا کر اس کی روشنی سے کچھ مدد لے سکے۔۔۔
ابھی وہ موبائل اٹھاتی کے کھڑکی کے اندر کوئی سایہ داخل ہوا۔۔
کون ہے۔۔؟؟ سوزین نے پوچھا اور اس کے ہاتھ اب موبائل کے بجائے اپنے ریوارول کو ٹٹول رہے تھےجو کے ڈرا میں رکھی تھی کیوں کے وہاں موبائل تو موجود نہیں تھا، اس لیے وہ ریوارول تلاش کرنے لگی،.
لیکن اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ اسے مل کے ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔
سوزین مزید اپنی تلاشی جاری رکھتی کے وہ سایہ چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور سوزین کو پکڑ کر اپنے خسارے میں لیا۔۔۔
چھو۔۔ڑو۔۔۔ مجھے سوزین نے خود کو چھڑواتے ہوئے کہا۔۔
باربی ڈول۔۔۔ سائے نے اس کے کان میں سرگوشی کی یہ سنتے ہی سوزین کے چلتے ہوئے ہاتھ ساکت ہو گئے۔۔۔
تابی۔۔ سوزین نے بےاختیات اس کا نام لیا۔۔
ششش۔۔۔ تابی نے اس کے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا۔۔
تم آج جا رہی ہو تو تمھیں الودع کرنے آیا ہوں تابی نے کہنے کے ساتھ سوزین کی کانوں کے ساتھ اپنے ہونٹ لگائے۔۔
جلدی واپس آجانا یہ نہ ہو میں بھی تمھارے پیچھے پیچھے آدھر چلا آؤں، سترہ سال سے تمھاری دوری برداشت بہت مشکل سے کی ہے اب مزید نہیں۔۔
تمھارے واہس آتے ہی سلوای کے ساتھ تمیں بھئ رخصت کرکے اپنے پاس لے آؤ گا۔۔
تابی نے سوزین کو کہتے ہوئے اس کے کندھے پہ اپنے ہونٹ رکھے۔۔
پلیز۔۔ تاب۔۔۔ سوزین نے اس کا پورا نام بھی نہیں لیا تھا کے اس نے سوزین کو بیڈ پہ دھکا دیا اور خود کھڑی سے باہر کود گیا۔۔۔
ان دونوں کو دوبئ کی سرزمین پہ اترے ہوئے چند گھنٹے ہی ہوئے تھے وی صبح کے ایک بجے دوبئ پہنچے تھے۔۔
سفر کی تھکان سے دونوں کو ریسٹ کی شدید ضرورت تھی اس لے وہ دونوں کچھ کھا پی کر اپنے اپنے رومز میں چلے گئے۔۔۔
دائس پہلے بھی کہیں بار دوبئ آچکا تھا کام کے تحت وہ جب بھی دوبئ آتا اسی ہوٹل میں ٹھہرتا تھا اسی لیے ہوئل کے مینجر سے اس کی اچھی سلام دعا تھی۔۔۔
آج بھی وہ سوزین کو لے کر اسی ہوٹل میں آیا تھا، جہاں دونوں رومز دائس نے ساتھ ساتھ لیے تھے۔۔۔
سوزین اپنے کمرے میں جبکہ دائس اپنے کمرے میں موجود تھا۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے ہی سوزین کی آنکھ کھلی تھی، اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں دن کے بارہ بج رہے تھے۔۔
سوزین اپنا ڈریس اٹھاکر واشروم میں چلی گئ تاکہ فریش ہو کر وہ دائس کے ساتھ کام پہ نکل سکے۔۔
تیار ہونے کے بعد سوزین نے دائس کو کال ملائی جو کے دائس اور سوزین نے پلین میں ہی اپنے نمبر سواپ کیے تھے تاکہ ایمجنسی میں کام آ سکے۔۔۔
لیکن مسلسل تین بار ٹرائی کرنے پہ بھی جب دائس نے کال نہیں اٹھائی تب سوزین نے موبائل رکھ کر دائس کے کمرے میں جانے کا ارادہ کیا۔۔
روم کے پاس پہنچ کر اس نے جب دروازے کو پش کیا تو وہ کھلتا چلا گیا۔۔
سوزین بغیر نیچھے دیکھے آگئے جارہی تھی، اس لیے اس نے فرش پہ پڑا ایکسائز ویل بھی نہیں دیکھا وہ بس دائس کو دیکھے آگئے بڑھ رہی تھی، جہاں وہ بغیر شرٹ کے فرش پہ لیٹا ہوا ایکسائز کرنے میں مصروف تھا۔۔۔
سوزین دائس سے تھوڑے ہی دور تھی کے وہ فرش پہ پڑے ویل سے پاؤں اٹکنے کی وجہ سے دائس پہ جا گری۔۔۔
سوزین دائس کے سینے پہ جا لگی وہ تو اچھا تھا کے دائس نے وقت رہتے ہوئے ویل کو اپنے سر سے پیچھے چھوڑ دیا ورنہ ویل کی وجہ سے سوزین زخمی ہوجاتی کیوں کے ویل دائس کے گلے اور سینے کے درمیان تھا۔۔۔
سوزین بن شرٹ کے جب دائس کے اوپر گئ تو شرم سے پانی پانی ہوگی۔۔
دائس نے مظبوظی سے اسے اپنی باہوں میں قید کر لیا تھا جیسے ابھی بھی سوزین کو چوٹ لگنے کا ڈر ہو۔۔۔۔
چھوڑیں دائس سر۔۔۔
سوزین کافی دیر سے اس کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ اسے چھوڑ ہی نہیں رہا تھا، وہ ایک ہاتھ سوزین کی کمر کی گرد لپیٹتے دوسرے ہاتھ سے اس کے ہونٹوں کے قریب تل کو مس کررہا تھا۔۔
سوزین کے دائس سر چھوڑیں کہنے پہ وہ ھوش کی دنیا میں لوٹا اور اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا، تو سوزین باہر بھاگ کر جانے لگی۔۔۔
سوزین بات سنو، دائس نے اٹھ کر تاول کندھوں پہ ڈالتے ہوئے اسے پکارا تو وہ بغیر اس کی طرف مڑے رک گئ۔۔
دائس نے دیکھا کے وہ شرم کی وجہ سے اسے دیکھنے سے گریز کررہی ہے تو اس نے کہا تم نیچھے چلو ناشتہ کا آرڈر دو میں چینج کرکے آرہا ہوں۔۔۔
سوزین بات سن کر بغیر کچھ کہے باہر چلی گئ۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:
صاحب جی باہر تین لوگ آئے ہیں شعیب صاحب کا پوچھ رہے ہیں، گارڈ نے آکر اطلاع دی تو ٹی وی لائنچ میں بیٹھے تمام لوگوں کے کان کھڑے ہوگئے۔۔۔
تم نہیں جانتے ان لوگوں کو صائب نے پوچھ؟؟
نہیں چھوٹے صاحب ان لوگوں کو پہلی بار دیکھا ہے۔۔
اچھا صابر تم ایسا کرو انھیں ڈرائنگروم میں بیٹھوں میں آتا ہوں، شعیب کاظمی کے کہنے پہ گارڈ چلا گیا۔۔
میں دیکھا کر آتا ہوں کون آیا ہے، تایا ابو میں بھی چلتا ہوں آپ کے ساتھ صائب نے بھی شعیب کے ساتھ ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
ڈرائنگروم میں پہنچنے پہ جب شعیب نے دیکھا ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھے اور ایک آدمی۔۔۔
آدمی دوسرے جانب منہ کیے کھڑا تھا جب کے لڑکا لڑکی صوفے پہ برجمان۔۔
شعیب اور صائب کو دیکھ کر وہ دونوں صوفے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
تب شارب نے السلام علیکم کہا۔۔
جب شاہد پلٹا تو صائب اور شعیب ایک منٹ کے لیے کچھ بول ہی نہیں سکے، لیکن شاہد نے جب شعیب کے پاؤں پہ ہاتھ رکھے تو شعیب ھوش میں آیا۔۔
بھائی جان مجھے معاف کردیں پلیز مجھے سے سترہ سال پہلے بہت بڑی غلطی ہوگئ تھی ، شاہد نے نم ہوتی آنکھوں سے کہا۔۔۔
ارمہ کے جھوٹ کے آگئے میں نے آپ کے سچ کا یقین نہیں کیا، مجھے ارمہ کا اصلی چہرا نظر ہی نہیں آیا، پلیز مجھے معاف کردیں، شاہد نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا تو شعیب نے شاہد کو اٹھا کر گلے سے لگا لیا۔۔
نہیں نہیں یار ایسا مت کہوں میں تم سے ناراض نہیں ہوں شاہد۔۔۔
شعیب نے بھی نم ہوتی آنکھوں سے کہا اتنے عرصے بعد بھائی بھائی کے گلے لگا تھا تو دونوں بھایوں کو بہت سکون ملا تھا ساتھ ہی دونوں کی آنکھیں بھی نم تھی۔۔۔
شاہد بس کرو یار ادھر بیٹھو شعیب نے اسے صوفے پہ بیٹھایا۔۔
صائب جاؤ اپنی ممی کو بلا کر لاؤ شعیب نے کہا تو صائب زینب کو بلانے چلا گیا۔۔
تھوڑی دیر بعد زینب بھی ڈراینگروم میں داخل ہوئی تو وہ شارب اور حرہ سے ملنے کے بعد شاہد سے ملی۔۔
شاہد نے ارمہ کے بارے تمام باتیں بتاتی کے اس نے فرحت بیگم کی جان لی دعا کو پاکستان بجھوانا اور ابھی جو ارمہ بزنس کر رہی تھی سب بتایا لیکن وہ بات شاہد نے. گول کردی کے ارمہ عورت نام پہ ایک دھبہ ہے، یہ بات وہ بتاتا بھی کیسے اس کی مردانگی پہ گہری ضرب لگتی تھی۔۔۔
شاہد نے بھابھی زینب سے بھی معافی مانگی تو زینب نے بھی اسے بڑا دل کرکے معاف کردیا۔۔
بیٹا آپ بھی مجھے معاف کردو آپ کو کبھی باپ کا پیار نہیں دیا پایا سوری بیٹا سب سے معافی مانگنے کے بعد شاہد نے جب صائب کے سامنے ہاتھ جوڑے تو صائب نے بھی باپ کا گلے لگا لیا۔۔۔
ایسا مت کہیں بابا جانی معافی مانگ کر مجھے گناہگار مت کریں صائب نے روتے ہوئے کہا تو شاہد نے صائب کو مزید اپنے گلے سے چپکا لیا۔۔
معافی تلافی کے بعد شاہد نے تعارف کروایا
بھائی جان بھابھی جی یہ ہے میرا چھوٹا بیٹا شارب اور یہ ہے میری بیٹی حرہ، شاہد نے باری باری دونوں کا تعارف کروایا تو دونوں سب سے ملنے لگے۔۔۔۔
شارب حرہ یہ ہیں آپ کے تایا شعیب کاظمی یہ ہیں آپ کی تائی ماں زینب بھابھی شاہد نے شعیب کے ساتھ بیٹھی زینب کی طرف اشارہ کر کے بتایا۔۔۔
اور یہ ہے میرا بڑا بیٹا صائب آپ دونوں کا بڑا بھائی۔ شاہد نے سب کا تعارف کروانے کے بعد صائب کا بھی کروایا۔۔۔
صائب شارب کے بغل گیر ہوا اور حرہ کے سر پہ پیار سے ہاتھ رکھا۔۔
تھوڑی دیر بعد شعیب نے کہا بھئ زینب لنچ کا انتظام کرو نا کیا مہمانون کو بھوکا رکھنا ہے اور ان کے کمرے بھی سیٹ کروا دو شعیب کے کہنے پہ زینب بیگم جی کہتی ہوئی باہر نکل گئ۔۔
تم ایسا کرو شاہد بھائی کے لیے ہمارے روم کے ساتھ والا روم سیٹ کردو اور شارب اور حرہ کے لیے اوپر تابی اور صائب کے رومز کے ساتھ والے دو روم سیٹ کردو زینب بیگم ملازمہ کو ہدایت دیتی ہوئی اب کچن کی جانب بڑھ گئ۔۔۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:
آج دوبئ میں سوزین اور دائس کو پندرہ دن ہوچکے تھے وہ اب اپنے مشن میں کافی حد تک کامیاب ہوچکے تھے۔۔۔
سوزین اور دائس کو ملے ہوئے چھ منتھ کا عرصہ ہوچکے تھے۔۔
ابھی مسلسل پندرہ دن اتنے قریب رہنے سے سوزین کے دل میں چھپی دائس رضا کے لیے فیلنگ اب اور بھی تیزی پکڑ چکی تھیں۔۔۔
سوزین آج بھی مسلسل دائس رضا کو ہی سوچ رہی تھی،، لیکن وہ شاید یہ بھول بیٹھی تھی کے وہ کسی کی منکوحہ ہے کسی کے نکاح میں ہے کیا سوزین اتنے مقدس رشتہ سے بےوفائی کر پائے گئ؟؟
سوزین کے زمیر نے چیخ کر اس سے سوال کیا۔۔
میں تابی سے محبت نہیں کرتی جب کے دائس کی پرسنیلٹی اس کی خوبصورتی اور اس سے بڑھ کر اچھے اخلاق نے سوزین جیسی خود میں رہنے والی لڑکی کے دل میں محبت جگا دی ہے سوزین نے زمیر کو ڈپٹ کر دل کی سن کر کہا۔۔
لیکن نا محرم کی محبت زیادہ دن تک قائم نہیں ریتی سوزین کے زمیر نے اب اسے آئینہ دیکھایا۔۔۔
م۔۔میں تابی سے ڈائیورس لے لو گئ کہہ دو گئ کے میں آپ سے محبت نہیں کرتی بلکہ میرے دل دماغ پہ بس دائس رضا کا قبصہ ہے، سوزین نے معمولی سی دلیل اپنے زمیر کو دی۔۔
ہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا پاگل لڑکی دائس کی محبت۔۔
یہ مت بھول تم اس سے محبت کرتی ہو
وہ تمھارے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے وہ تمھیں معلوم نہیں اگر دائس نے تمھاری محبت کو انکار کردیا تب کیا کرو گی۔۔ ؟؟
سوزین کے زمیر نے اسے دوبارہ سے وہاہی لا کر کھڑا کیا۔۔۔
ابھی وہ مزید اپنے دل اور زمیر کی لڑائی جاری رکھتی کے اس کے موبائل پہ آتی دائس کی کال نے اسے دوبارہ دائس کی یاد میں قید کر دیا۔۔۔
السلام علیکم!! یس سر؟؟ سوزین نے کال پک کرکے کہا۔۔
و علیکم السلام سوزین آپ میرے روم میں آئے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔
اوکے سر میں آتی ہوں سوزین فوار دائس کے روم میں چلی گئ۔۔۔
کچھ دیر ایدھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد دائس نے کہا سوزین میں کچھ کہنا چاہتا ہوں تم سے لیکن میں وہ بات تم سے تب کہوں گا اگر میں جیت گیا تو۔۔۔
کیا مطلب سر جیت گئے تو سوزین نے ناسمجھی سے اسے دیکھ کر کہا؟؟
مطلب میں اور تم کلائی لگانے والے ہیں اگر میں نے تمھیں ہارا دیا تب میں وہ بات کہوں گا ورنہ یہ بات میں اپنے دل میں ہی دفن کردو گا۔۔۔
دائس نے اپنے ڈیپارمنٹ کی کسی لیڈی سے سنا تھا کے ڈی ایس پی سوزین کلائی لگانے میں بہت ماہر ہیں وہ کسی کو بھی ہارا سکتی ہیں اور واقع میں ہی سوزین نے کلائی کمپٹیشن میں ٹاپ کیا تھا جس میں سوزین نے لڑکے اور لڑکیوں دونوں کو ہارا کر ٹاپ کیا تھا، اسی لیے دائس نے کلائی لگانے کو کہا۔۔۔۔
اوکے سر آجایں سوزین نے فورا ٹیبل اور چیئرز کی طرف اشارہ کیا۔۔
دونوں میں کلائی کمپٹیشن ہوا لیکن سوزین بری طرح سے ہار گئ۔۔۔
میں ہار گئ سر سوزین نے بےچارگی سے کہا۔۔۔
ہممم یعنی مجھے بات تمھیں بتانی پڑے گئ۔۔
جی سر بتایں،؟ سوزین نے چیئر سے اٹھ کر کہا۔۔
مس سوزین عمر آفندی دائس اس کا نام لبتے ہوئے اس کی جانب بڑھ تو سوزین آہستہ آہستہ پیچھے ہونے لگی جب سوزین دیوار کے ساتھ لگ تھی تو دائس نے دونوں ہاتھ دیوار پہ رکھ کر سوزین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنا شروع کیا۔۔۔
دیکھو سوزین میں یہ نہیں کہتا کے مجھے تم سے کوئی جنونی قسم کی محبت ہے یا میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں تو ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔
مجھے تم بس اچھی لگی ہو اور آج سے نہیں چھ منتھ پہلے جب پہلی بار تمھیں دیکھا تب میں تمھارا نام تک نہیں جاتنا تھا تم مجھے بہت اچھی لگی تم شاید اب اس بات پہ میرا مزاق بناؤ لیکن مجھے تمھارے ہونٹ کے پاس یہ تل تمھارا اور بھی دیوانہ بناتا ہے مجھے، اور میں تم سے نکاح عشق کرنا چاہتا ہوں،،، کیوں کے رب تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کے جو عورت تمھیں پسند ہو اس سے نکاح کرلو اور میں تمھیں پسند کرتا ہوں۔۔۔
اور پتہ ہے سوزین مجھے تمھارے جواب کی ضرورت نہیں ہے کیوں کے تمھاری آنکھوں میں مجھے سب دیکھتا یے، دائس اس کے تل پہ اپنا انگوٹھا مس کرتے ہوا سوزین کے ہونٹوں پہ جھکا تو سوزین کے سن ہوتے اسباب میں جان آئی پلیز دائس۔۔۔
سوزین نے اپنے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور اسے کے بازویوں کے گھیرے سے نکل کر اپنے روم میں بھاگ گئ۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:
آج وہ اپنوں کے بیچ بہت خوش تھا رات کا کھانا وانا کھا کر وہ اپنے روم میں چلا گیا کل صائب اسے اس کی بہو سے ملوانے والا تھا جس سے اس کے بیٹے کا نکاح ہوا تھا۔۔۔
وہ آکر بیڈ پہ بیٹھتا ہی تھا کے اسے پہلے کی طرح وٹس ایپ ویڈیو موصول ہوئی جہاں پھر سے ارمہ کی ہی ویڈیو تھی۔۔۔
جہاں پہلے ارمہ ایک آدمی کے سے
بغیرتی کرتی شاہد کر نظر آئی اور اس سے کچھ دن بعد کی ویڈیوز میں وہ اسی آدمی کے ساتھ نظر آئی جس سے ارمہ نے دعا کا نکاح کروایا تھا اس کے ساتھ ارمہ کو دوبارہ دیکھ کر شاہد نے موبائل کو دیوار پہ دے مارا جس سے موبائل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔۔
اب مزید شاہد میں برداشت نہیں رہی تھی کے وہ ارمہ کی بغیرتی دیکھ پاتا برداشت کر پاتا شاہد نے سوچ لیا تھا کے اب اس نے ارمہ کے ساتھ کیا کرنا ہے اس لیے اس نے ساری باتوں کو ذہن سے جھٹک کر ارمہ کو اپنے دوسرے موبائل سے کال ملائی۔۔۔
ہیلو ڈارلنگ کیسے ہو تم ارمہ نے شاہد کی کال اٹینڈ کرکے خوشگوار موڈ میں کہا۔۔
میں ٹھیک ہوں تم کب آرہی ہو بہت مس کررہا ہوں میں تمھیں شاہد نے یہ کہتے ہوئے سامنے پڑے کلاس کو ہاتھ میں پکڑا اور دبا کر توڑ دیا جس سے شاہد کا ہاتھ خون سے پھر گیا۔۔۔
بس دو تین دن تک آتی ہوں میں تمھارے پاس ارمہ نے کہا۔۔۔۔
اچھا شاہد پھر ملتے ہیں ابھی کچھ کام ہے، ارمہ نے کال بند کر دی، لیکن شاہد کو شاہد پیچھے کسی مرد کی آواز صاف سنائی دی تھی جس نے ارمہ کو بلایا تھا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *