Tarbiyat by Tawasul Shah NovelR50819 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode17
Rate this Novel
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode01 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode02 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode03 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode04 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode05 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode06 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode07 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode08 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode09 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode10 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode11 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode12 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode13 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode14 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode15 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode16 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode17 (Watching)Tarbiyat by Tawasul Shah Episode18 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode19 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode20 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode21 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode22 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode23 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode24 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode25 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode26 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode27 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode28 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode29 Tarbiyat by Tawasul Shah Last Episode
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode17
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode17
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
آج پندرہ دن بعد کےزڈ نے رضا کے ساتھ کونٹیکٹ کیا تھا۔۔۔
رضا مائی بوائے تمھیں چھوڑ کر آنا پڑا پولیس نے اچانک ریڈ ڈال دی تھی اس لیے ہمیں وہاں سے نکلنا پڑا ورنہ ہم پکڑے جاتے۔۔
کےزڈ نے اسے وصاخت دینی چایے۔۔
ارے سر میں سمجھ سکتا ہوں آپ کی بات کو، میں پاک میں سیف ہوں۔۔
آپ یہ بتایں آپ کی واپسی کب ہے؟؟۔
ہاں رضا عید کے تیسرے دن واپس آرہا ہوں، ساتھ بہت بڑا آپریشن (M.I.P.M.P) لے کر۔۔۔
جس سے انڈیا اور پاکستان میں بڑھتا ہوا دوستی کا ہاتھ تباہی اور بربادی کا کھجر بن جائے گا اور ہمیں دشمن پاکستان سے بہت فائدہ ملے گا۔۔
کےڈز نے رضا کو اپنے خطرناک ارادوں سے آگاہ کیا۔۔۔
سر اس کوڈ کا کیا مطلب ہے؟ رضا کی پیشانی پہ لاتعداد بل پڑے۔۔۔
رضا ہماری کال ٹریس ہو سکتی ہے اس لیے اس کا مطلب تو میں پاک آکر ہی تمھیں سمجھاو گا۔۔
اچھا ٹھیک ہے سر میرے لائق کوئی کام ہے،؟ اس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔
ہاں رضا تم روما سے مل لینا اسے تمھاری ضرورت ہے۔۔
کون روما سر ..؟
رضا نے پوچھا کیوں کے وہ اس نام کی عورت یا لڑکی سے نہ تو ملا تھا کبھی نہ ہی کےزڈ نے اسے کبھی بتایا تھا۔۔
وہ ہماری پاٹنر ہے رضا میرے بہت کام کی ہے اس سے مل لینا میں ایڈیس تمھیں وٹس ایپ کرتا ہوں ساتھ اس کی پکس بھی اوکے کےزڈ سر آپ سنٹ کریں میں مل لیتا ہوں۔۔
رضا کے کال بند کرتے ہی کےزڈ نے ایڈیس اور پکس سنٹ کی رضا نے میسج سین کیا سامنے پکس والی کا چہرا دیکھ کر رضا کے پیروں کے نیچھے سے زمین نکل گئ۔۔
اوو مائی گاڈ۔۔۔
رضا نے اپنا سر تھام لیا تھا، اس کی پکس دیکھ کر۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
ایس ایچ آو مروا ڈیپاٹمنت کو سوزین جیسی ایماندار اور بہادر لیڈیز کی سخت ضرورت ہے۔۔
ان کے کومہ میں جانے سے ہمارے بہت سے کیسز رک گئے ہیں انھوں نے بہت سے کیسز اپنے سر لیے ہوئے تھے ، جن میں وہ آئے روز کامیابی حاصل کر رہی تھیں لیکن اس دن کے حادثے کے بعد وہ کومہ میں چلی گھیں اس دن ان کے ساتھ کیا ہوا وہ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔۔
ایس پی شازم نے افسوس سے ایس ایچ آو مروا کو بتایا۔۔
جی سر میں نے بھی ان کے بارے میں بہت سنا ہے۔۔
آئی وش میں بھی ان کی طرح کام سکو مروا نے ایس پی شازم سے کہا۔۔
آئی ہوپ۔۔
اب آپ جایں اور کام کریں۔۔
ابھی مروا باہر نکل ہی تھی کہ ایس پی شازم کا انٹرکام بج اٹھا۔۔
جی سر شازم نے کہا۔۔
شازم آپ اس کوڈ کا مینگ تلاش کروایں۔۔ امیجیٹلی۔
اوکے سر۔۔
یس سر چپراسی اندر داخل ہوا۔۔
اے ایس پی کو بجھو۔۔
اے ایس پی شاہنواز!
یس سر (M.I.P.M.P) کوڈ کا مینگ تلاش کریں، بہت خطرناک میشن ہے، ایس ایس پی کے سخت آرڈرز ہبں۔۔
اوکے سر وہ سلیوٹ کرکے باہر نکل گیا۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
برکتوں اور رحمتوں والے اس مقدس مہینہ میں انیلا بیگم رو رو کو سوزین کی صحت یابی کی دوا مانگتی تھی، عمر صاحب کی. بھی حالت کچھ کم نہیں تھی بلکہ سوزین کی اس کنڈیشن سے پورے آفندی ہاوس میں دل دہلا دینے والا سکوت چھا گیا تھا، شرارتی سلوای کی بھی ہنسی کہیں غائب ہوچکی تھی۔۔۔
آج سلوای آفس نہیں گئ تھی کیوں کے کل اسے صائب کے ساتھ کراچی جانا تھا بزنس کے سلسلے میں، آج پندرہ رمضان المبارک تھا، سلوای صبح سے سوزین کے پاس ہوسپیٹل مجود تھی، جب سے سوزین کومہ میں گئ تھی سلوای ڈیلی اس کے پاس ہوسپیٹل آتی اور گھنٹوں سوزین سے باتیں کرتی کے شاید اس کے سوئے ہوئے اسباب میں جنش ہو، لیکن سولہ روز گزر چکے تھے سوزین اسی خالت میں کومہ میں مجود تھی۔۔۔
افطاری سے آدھا گھنٹا پہلے سلوای گھر کے لیے نکلی کیوں کے انیلا بیگم کا سخت آرڈر تھا کہ افطاری گھر پہ ہی کرنی ہے۔۔
مال کے قریب سے گزرتے وقت اسے یاد آیا کے اسے اپنی ایک ضرور چیز لینی تھی کیوں کے آج سحری کے بعد اسے صائب کے ساتھ کراچی کے لیے روانہ ہوجانا تھا اور اسے اس کی جب ضرورت ہوتی تو وہ صائب سے کسی صورت کہہ نہیں سکتی تھی،، اسی لیے وہ مال میں گھس گئ۔۔
دس منٹ کے بعد اپنی مطلوبہ چیز لینے کے بعد جب وہ مال سے باہر نکلی تو سامنے سے صائب اسے ریسٹورینٹ جانا ہوا، نظر آیا جو مال کے سامنے مجود تھا۔۔
خیرانی کی بات یہ نہیں تھی کے صائب ریسٹورینٹ جارہا تھا بلکہ سلوای کو روکے رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ صائب ایک لڑکی کے ساتھ جارہا تھا، اسے دیکھا کر سلوای نے ہاتھ میں اٹھائے شاپنگ بیگ کو کار میں پھینکنے کے انداز میں رکھا اور اپنا موبائل اٹھا کر کال ملانے لگی، اس کے اندر کی جاسوسی بیوی جاگ چکی تھی۔۔۔
جی فرمائے محترمہ! آپ کو آج یاد کیسے آگئ؟
صائب نے کال پک کرکے کہا۔۔؟
مجھے یاد نہیں آرہی یہ بتایں آپ کہاں ہیں؟ میرا مطلب ہے آپ ابھی میرے گھر آیں۔۔۔
ارے ارے اتنا مس کررہی ہو رات میں ویسے بھی ہم جا تو رہے ہیں نا ادھر بتا لینا جو بتانا ہوا،، فلحال میں اپنے ایک پرانے کالج دوست کے ساتھ ہوں افطاری کرنے آیا ہوں۔۔
دوست لڑکی یا لڑکا؟ سلوای نے پوچھا؟؟
ارے بھئ لڑکا ہے صائب نے فیکٹری والی بات کو ذہن میں لاتے ہوئے سلوای کو کہا۔۔
اب صائب ہیلو ہیلو ہی کہتا رہا لیکن سلوای کال کٹ کر چکی تھی۔۔
سلوای جب اندر پہنچی تو وہاں پہ صائب اور وہ لڑکی خوشی کیوں میں مصروف تھے جب کہ ویٹر سامنے افطاری کے لازمات لگا رہا تھا۔۔
سلوای جاکر صائب کے سامنے کھڑی ہوکر اسے بری طرح گھورنے لگی۔۔
سلوای تم ادھر۔۔؟؟
جی میں ادھر ہی اور یہ ہے آپ کے کالج کا دوست ؟.. سلوای نے انگلی سے سامنے بیٹھی لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔۔
صائب یہ کون ہیں؟ ثانیہ نے اس طرح صائب سے بات کرتی لڑکی کی جانب اشارہ کر کے پوچھا۔۔
یہ کیا. بتایں گئے تمھیں میں بتاتی ہوں تمھیں میں ان کی وائف ہوں۔۔۔
تم یہاں سے فورا نکل جاو ورنہ میں اپنے روزے کا خیال کیے بغیر تمھاری وہ کرو گئ کے تم نے نہ تو آج تک سنی ہوگی نہ ہی دیکھی ہوگئ۔۔۔، ،
سلوای نے بےرخی اور بدتمیزی کے تمام تر ریکاڈ توڑتے ہوئے کہا۔۔
ثانیہ سلوای کی بات سن کر فورا سے کرسی سے اٹھی۔۔
ٹھیک ہے صائب ہم پھر کبھی ملتے ہیں اور باہر نکل گئ۔۔۔
ثانیہ ثانی۔۔ صائب اسے روکتا ہی رہا لیکن اس نے صائب کو مڑ کر دیکھا بھی نہیں۔۔۔
اب سلوای آرام سے کرسی پہ بیٹھ چکی تھی۔۔
یہ کیا کیا سلوای تم نے وہ میری کالج فرنڈ تھی کتنے عرصے بعد ملی تو میں اسے افطاری کے لیے یہاں لے آیا۔۔۔
وہ کیا سوچتی ہو گی یار؟ صائب نے سلوای کو گھوری سے نوازہ تھا۔۔
تو مجھے سے یہ کیوں کہا کے لڑکا ہے اگر آپ سچ کہتے تو میں کبھی یہاں نہیں آتی، سلوای نے کھجور اٹھا کر صائب کو پکڑائی اور خود بھی دعا پڑھنے کے بعد کھائی کیوں کے افطاری کا وقت ہوگیا تھا۔۔۔
کیا مجھے گھورے جا رہے ہیں؟ سلوای نے سموسے کا بائٹ لیتے ہوئے کہا۔۔
تم نے اچھا نہیں کیا ثانیہ کے ساتھ یہ افطاری اس کے لیے آرڈر کی تھی میں نے صائب نے نفی کرتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں تو اس افطاری پہ میرا بلکہ اس افطاری کو آرڈر کرنے والے پہ. بھی میرا حق ہے صرف۔۔
سلوای نے کندھا اچکا کر کہا اور کھانے میں مصروف ہوگی۔۔
تب ہی اس کا موبائل بجنے لگا رانی ماں کالنگ لکھا دیکھ کر سلوای نے آنسر کے آپشن کو پریس کیا۔۔
سلوای کہاں پہ ہو تم؟؟ افطاری بھی ہوچکی ہے تمھیں معلوم ہے؟؟
ماں ماں کولڈوئن۔۔
میں نے افطاری بھی کر لی اور آپ کے داماد کے ساتھ ہوں، انھوں نے زبردستی افطاری پہ روک لیا بس ابھی گھر پہنچ رہی ہوں، سلوای نے معصوم آواز میں کہا۔۔
اچھا اچھا پھر ٹھیک ہے بیٹا انیلا بیگم نے کہہ کر۔فون بند کردیا۔۔
میں نے کب روکا تھا؟؟
افطاری پہ میں بتاتا ہوں ساسو ماں کو کے یہ بھوک اس ثانیہ کی افطاری کھا گئ۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا سلوای آفندی کسی کو اپنا حق کھانے کی اجازت نہیں دیتی سلوای نے صائب کو ایک خوبصورت سی شکل بنا کر دیکھائی۔۔
او ہیلو اب آفندی سے نکل چکی ہو، جملہ درست کرو، اب تم سلوای صائب کاظمی ہو۔۔
اوکے میں چلتی ہوں گھر صبح ملاقات ہوتی ہے، سلوای صائب کا غصہ والا فیس دیکھا کر اس کی گال کھنچ کر نکل گئ۔۔
اففف ظالم لڑکی۔۔ صائب نے زیر لب کہا۔۔
ابھی سلوای نماز عشاء اور نماز تراویع ادا کرکے آئی تھی، اب وہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر شام کو ہوئے واقع کے متعلق سوچنے لگی، صائب کے بارے میں سوچ کر سلوای کے چہرے پہ مسکرہٹ آگئ۔۔
کھڑوس پیا۔۔ سلوای کھڑوس کے ساتھ پیا کا تڑکا لگانے کے بعد پھر خود ہی ہنسنے لگی۔۔
ارے ارے یہ کس بات پہ انتا مسکرایا جارہا ہے،؟؟
انیلا بیگم نے سلوای کو مسکراتے دیکھ کر کہا۔۔
کچ۔۔ کچھ بھی تو نہیں ماں۔۔ سلوای آدھر اُدھر دیکھ کر کہا۔
مجھے معلوم ہوگیا ہے تم داماد جی کے بارے میں سوچ رہی ہو، تمھارے آدھر اُدھر دیکھنے سے ہی سمجھا گئ سب، انیلا بیگم نے کہا تو سلوای مزید شرمندہ ہوئی۔۔
ایسے ہی اللہ پاک میری بچی کو خوش رکھے صائب کے ساتھ۔۔
سلوای نے دل ہی دل میں آمین کہا تھا۔۔
بس اب ایک ہی کمی ہے میری زینی کو اللہ پاک ٹھیک کر دیں انیلا بیگم کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔
ماں ان شاء اللہ سوزین آپی جلد ٹھیک ہوجایں گئ، سلوای نے انیلا بیگم کے ہاتھوں کو تھام کر کہا۔۔
پیپ۔۔۔ سلوای کے موبائل پہ میسج ٹون بجی اور ساتھ ہی وٹس ایپ کا ٹوٹیفیکشن اسکرین پر آیا۔۔
سحری میں ہمیں نکلنا ہے اوکے تیار رہنا لیٹ مت کروانا۔۔
کس کا میسج ہے سلوای؟؟
ماں صائب ہیں صبح کے لیے یاد کروا رہے ہیں کہ لیٹ مت کروانا۔۔۔
ہاں بیٹا تم اپنی پیکنگ ابھی کرلو یہ نہ ہو لیٹ ہو جاو۔۔
جی ماں ابھی کرتی ہوں۔۔۔
سلوای ورڈروب سے اپنے ڈریس نکالنے لگی تو سامنے لٹک رہی شرٹ اور ٹاپس نظر آئے جو وہ پہنا نکاح کے بعد سے چھوڑ چکی تھی، اب سلوای کمیز شلور اور چوڑی دار پاجامہ فراح پہنتی تھی، اسے نے ڈریسز نکال کر اپنی باقی کی پیکنگ مکمل کی اور نکاح کے ہفتے بعد کا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔۔۔
سلوای ٹائٹ جینز اور شارٹ شرٹ میں ملبوس آفس میں آئی صائب اپنے آفس والوں کی نظریں سلوای پہ دیکھ کر سہن نہیں کرسکا اور سلوای کو پکڑ کر اپنے آفس لے گیا۔۔
صائب کیا کررہے ہیں کہاں لے جارہے ہیں مجھے۔۔؟؟
دروازہ لاق کرنے کے بعد صائب نے سلوای کی شارٹ دونوں کندھوں سے پکڑ کر چاک کردی اور زمین پہ پھنک دی..
سلوای نے روتے ہوئے دوسرے جانب منہ کر لیا۔۔۔
تمھیں کتنی بار سمجھا چکا ہوں ایسی ڈریسنگ مت کیا کرو۔۔
لوگوں کی گندی نظریں تم پہ برداشت نہیں کرسکتا میں سلوای۔۔۔
آئندہ اگر ایسی ڈریسنگ میں نظر آئی تو یہ پھاڑنے میں بھی دیر نہیں لگواٶں گا صائب نے اس کی جینز کی طرف اشارہ کیا تھا، جس سے سلوای کے رونے میں مزید تیزی آچکی تھی۔۔
اب رو مت پر آئندہ شکایت کا موقع مت دینا۔۔
صائب نے اپنی شرٹ اتار کر اسے کے کندھوں پہ ڈالی جسے سلوای نے فورا سے پہن لیا۔۔
پھر صائب نے اونلاین ہی سلوای کے لیے ایک خوبصورت شارٹ فراح آرڈر کیا جو کچھ ہی دیر میں آفس پہنچ چکا تھا۔۔۔
صائب نے اسے ڈریس پکڑایا یہ چینج کرلو واشروم جا کر صائب نے آفس کے ساتھ بنے اٹیچ واشروم کی جانب اشارہ کیا تو سلوای وہ پہن کر آگئ۔۔
ہمم بہت پیاری لگ رہی ہو بس ایسی ہی ڈریسنگ کیا کرو۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*
صبح جب نرس سوزین کے روم میں پہنچی تو اسے وہ ہی گلابوں کا بکے سائڈ ٹیبل پر پڑا ملا جو ہمیشہ کی طرح سرخ پھولوں کا تھا۔۔
یہ نرس جب صبح سوزین کے روم میں آتی تو یہ بکے اسے اسی جگہ پڑا ملتا اور روز فرش پھول ہوتے یعنی روز کوئی تازہ بکے وہاں لاکر رکھتا تھا۔۔
آج سولہ دن سے یہ ہی سلسلے جاری تھا۔۔
اس کے علاوہ ایک خوبصورت پرفیوم کی بھی خوشبو کمرے میں بسی ملتی جیسے پوری رات کوئی اس پرفیوم کو لگائے یہاں بیٹھا رہا ہو۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
جی مس روما میں ہوں رضا مجھے کےزڈ سر نے آپ کے پاس بجھا ہے۔۔
یہ ماسک ہٹاو روما نے اس کے چہرے پہ ماسک دیکھ کر کہا۔۔
سوری میڈم یہ ماسک میں نہیں ہٹا سکتا میرا چہرا آج تک کسی نے نہیں دیکھا سوائے کےزڈ کے اس لیے آپ کام کی بات کریں۔۔۔
ہمم اوکے۔۔
اس آدمی سے جا کر ملو اور اسے ہمارے اڈے پہ لے جاو وہاں کچھ مال اسے لے جانا ہے اور تم اس کی مدد کرنا اور پھر اڈے پہ مت رہنا وہاں سے چلے جانا۔ ۔۔
روما نے اسے ایک آدمی کی پکس دیکھا کر سمجھایا۔۔۔
اوکے میڈم اور رضا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
آج آئی جی پی صاحب نے میٹنگ میں بتایا ہے کہ سترا اٹھارہ دن بعد انڈیا اور پاکستان کے پرائم منسٹر کی ملاقات ہوگئ پاکستان میں جہاں وہ پاکستان اور انڈیا اپنی دوستی کا پہلا قدم بڑھایں گئے۔۔۔
جس کے بعد پاکستان اور ہندوستان میں ایک موٹروے نکلالی جائے گئ جہاں سے باآسانی پاکستانی عوام ہندوستان جاسکے گئ اور ہندوستانی عوام پاکستان آسکے گئ۔۔
آئی جی سر نے ابھی یہ خبر اپنے ڈیپاٹمنت کے ساتھ شیئر کی تھی۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*
جاری ہے۔۔
