Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode26

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode26

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
تمام لوگ ہی اس وقت ہوسپٹل میں موجود تھے۔۔
ڈاکٹر ہماری بہو ٹھیک تو ہے نا شعیب صاحب نے ڈاکٹر سے پریشانی سے پوچھا؟؟
دیکھیں پیشنٹ گہرے شاک سے گزری ہیں بہتر یہ ہی ہوگا مذید انہیں کسی بھی شاک سے دور رکھا جائے اور دوسری بات جس وجہ سے ان کی یہ حالت ہوئی ہے اس بات کا ذکر انکے سامنے دوبارہ مت کیجئے گا۔۔۔
باقی کچھ دیر تک آپ انہیں لے جاسکتے ہیں ڈاکٹر پیشہ وارانہ مسکراہٹ سے ان بتاتا ہوا آگئے چلا گیا۔۔۔۔
ارے آپ کیوں ہاتھ پہ ہاتھ دہرے بیٹھے ہیں میرے صائب کا کچھ پتہ کریں نا۔۔
زینب بیگم نے روتے ہوئے پریشان بیٹھے شعیب صاحب سے کہا۔۔
ارے بیگم میں کچھ نہیں کرسکتا اس معاملے میں. تابی کو کال کی ہے لیکن اس کا نمبر نہیں لگ رہا اب وہ ہی کچھ کرسکتا ہے صائب کے لیے شعیب صاحب نے دکھ سے بتایا۔۔
زینب بیگم یہ سن کر خاموش ہوگئ۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ارے یہ کیا کیا تم نے دائس نے حیرانی سے سوزین کو دیکھا جو مزے سے اسکی بازو پکڑے مسکرا رہی تھی پہلے تو وہ زور زور سے ہنسنے لگی بالکل پاگلوں کی طرح پھر اس نے دائس کی بازو کو مذید اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ کہاں جاریے ہیں۔۔۔؟؟
ارے یار چھوڑو تو میں تمہارے پاس ہی ہوں اپنے اوپر سے تو ہٹنے دو اوکے بٹ میں نے آپ کو چھوڑنا نہیں ہے آپ چلے جاو گئے دائس اٹھ کر کھڑا ہوا تو سوزین نے دوبارہ اس کا بازو پکڑتے ہوئے کہا تو دائس کو مجبورن اس کے ساتھ بیڈ پہ بیٹھنا پڑا۔۔۔
سوزین کو بری طرح نشے نے متاثر کیا تھا جبھی تو وہ ہوش میں نہیں تھی نشے میں وہ دائس سے لگی بیٹھی تھی۔۔
دائس بھی سمجھ گیا تھا سوزین ہوش میں نہیں ہے۔۔۔
مجھے پانی دیں نا سوزین نے دائس سے کہا تو اس نے پانی کا کلاس اٹھا کر اسے دیا ۔
نہیں مجھے پورا جگ چاہئے ہے سوزین ضد کرنے لگی تو دائس نے اسے پورا جگ پکڑا دیا سوزین نے جگ کے ساتھ منہ لگا لیا لیکن یہ کیا جگ تو سوزین کے اوپر الٹ گیا اور وہ پھر سے ہنسنے لگی۔۔ ہاہاہا۔۔ پانی گرا دیا میں نے ہاہاہا
ارے یہ کیا کیا پاگل لڑکی دائس نے غصہ سے اسے کہا لیکن سوزین کو کہاں پروا تھی ۔۔
اب وہ دائس کے کندھے پہ سر رکھے خاموش تھی اور تھوڑی دیر میں ہی سوگئ۔۔۔
دائس نے اسے بہت کہا کے جاکر چینج کر لو لیکن وہ نہیں مانی اب جب کے وہ سردی سے کانپ رہی کیوں کے اے سی بھی کافی دیر سے چل رہا تھا۔۔۔
دائس نے اے سی تو بند کردیا تھا لیکن کمرا کافی ٹھنڈا ہوگیا تھا اور ان دنوں یہاں کا موسم بھی کچھ ایسا ہی تھا دن کو شدید گرمی ہوتی اور رات پڑتے ہی کافی ٹھنڈ ہوجاتی تھی پھر اوپر سے اے سی لگا رینے کی وجہ سے اور سوزین کے کپڑے گیلے ہونے کی وجہ سے کمرے کا درجہ حرارت جافی گر گیا تھا تبھی تو وہ سوتے میں کانپ رہی تھی۔۔۔
دائس کو ڈر تھا وہ کہیں بیمار ہی نہ ہوجائے سردی سے دائس سوچنے لگا کے کیا کرئے پھر اس کے ذہن میں ایک خیال آیا تو اس نے فورا اس پہ عمل کیا اس سوزین کو ٹھنڈ سے بچانے کا یہ ہی حل نظر آیا۔۔۔
اس نے جاکر لائٹ آف کی اور اندھیرے میں ہی سوزین کی فراح کی زیپ کھولی اور کھنچ کر اس کی فراح اس کے جسم سے الگ کردی اور اس پہ بلیکنٹ ڈال کر کمرے سے نکل گیا۔۔ اور سوزین کے کمرے میں جا کر سو گیا۔۔۔ .
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
پیپ۔۔۔۔۔۔ پیپ۔۔۔۔۔۔ پیپ۔۔۔۔۔۔
صبح کے دس بجے اس کا موبائل رنگ کرنے لگا اس نے بیزار ہوتے ہوئے کال رسیو کی کیوں کے وہ رات کو کافی لیٹ سویا تھا اور اب موبائل کی بجتی گھنٹی نے اس کی نیند میں خلل ڈالا تھا۔۔۔۔
السلام علیکم!!
وٹ!!! ددوسری طرف. کی خبر سن کر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
یہ کیا کردیا باربی ڈول نے اففف خدایا اس نے پریشانی سے پیشانی مسلی۔۔
اوکے اوکے آپ پریشان نہ ہوں اور ممی جان کو تصلیدیں میں اج کی فلائٹ سے پاکستان آرہا ہوں آکر کچھ کرتا ہوں۔۔
جی جی اوکے الله حافظ۔۔۔۔
شاہد ناشتہ کرنے کے بعد جب اپنے کمرے میں آیا تو اس کے موبائل پہ ایک وائس نوٹ آیا ہوا تھا اس نے اوپن کیا اور سننے کے بعد سکون کا سانس لیا اور اپنے کپڑے اٹھا کر واشروم کی طرف چلا گیا۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
وہ جب کمرے میں آیا تو وہ ابھی بھی سو رہی تھی دائس نے کپڑے اس کے پاس بیڈ پہ رکھے جو وہ سوزین کے روم سے لایا تھا اور سوزین کا موبائل اس کے کان کے پاس رکھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔
دائس نے تازہ ناشتے کا آرڈر کیا اور موبائل اٹھا کر سوزین کا نمبر ملایا۔۔۔
کان کے پاس سے اچانک آواز آنے پہ پہلے تو سوزین کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا پر جب اس کی نظر بجتے موبائل پہ پڑی تو اس نے کال پک کرلی۔۔۔
ڈریس پہن کر جلدی سے نیچھے آو میں ناشتے پہ ویٹ کررہا ہوں تمھارا۔۔
دائس نے کہہ کر فون بند کر دیا۔۔۔
سوزین نے جب اپنا بلیکنٹ ہٹایا تو دنگ رہ گئ۔۔
میرے کپڑے۔۔۔؟؟؟
کل اُس ڈرنک میں کچھ ملا ہوا تھا سوزین کو جیسے کچھ یاد آیا۔۔
اور میں دائس سر کے کمرے میں سوزین کو دوسرا جھٹکا لگا۔۔؟؟؟
اووو خدایا میرے اور دائس سر کے بیچ۔۔۔۔ یہ سوچ آتے ہی وہ بہت پریشان ہوگئ۔۔۔
وہ بہت مشکل سے تیار ہوکر نیچھے پہنچی لیکن وہ دائس سے نظریں نہیں ملا پارہی تھی۔۔
اس نے ناشتہ بھی تھوڑا کیا تھا اس کے حلق سے نوالہ اتر ہی نہیں رہا تھا پریشانی کے مارے۔۔۔
کیا بات ہے مس آفندی ؟ دائس نے اسکی خاموشی کو محسوس کر لیا تھا۔۔
کچھ نہیں سر اس نے نظر ملائے بغیر کہا۔۔
سوزین اگر کوئی بات پریشان کررہی ہے تو مجھ سے شیئر کرلو۔۔
دائس کے کہنے کی تھوڑی دیر بعد سوزین مشکل سے بولی
سر ہمارے بیچ رات کو کیا۔۔ وہ اتنا ہی بول پائی آگئے بولنے کی اس میں ہمت نہیں رہی۔۔۔؟؟
اووو اچھا اچھا وہ یار رات کو تم بھی نشہ میں تھی اور میں بھی نشہ میں تو ہمارے بیچ سب ہوگیا دائس نے باظاہر سنجیدگی اپناتے ہوئے کہا۔۔
سوزین یہ سنتے ہی منہ پہ ہاتھ رکھ روتے ہوئے اوپر بھاگ گئ۔۔۔۔
ارے سوزین سنو۔۔۔ لیکن سوزین بھاگتی ہوئی چلی گئ۔۔
سوزیں اوپن دی ڈور۔۔۔۔ دائس نے دروازہ کو بجاتے ہوئے کہا۔۔۔
نہیں کبھی نہیں دائس میں نے آپ سے پاکیزہ محبت کی تھی جب ہمارے بیچ ناجائز رشتہ بن چکا ہے تو میں کبھی خود کو معاف نہیں کرو گئ نہ ہی میرا رب مجھے معاف کرئے گا سوزین کی روتی ہوئی آواز اسے سنائی دی۔۔۔
سوزین ایسا کچھ نہیں ہوا پلیز اوپن دی ڈور!!
نو دائس اب میں اس ہوٹل کی بلڈنگ سے کود کر اپنی جان دے رہی ہوں سوزین کی انتہائی کرب میں ڈوبی آواز اسے سنائی دی۔۔
اوووو میرے خدایا یہ کیا کردیا میں نے سوزین میرے مزاح کو اتنا سیریس لے گئ میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔
مسٹر تم نے مزاح ہی اتنا گھٹیا کیا ہے کیا کوئی پاکدامن لڑکی ایسا مزاح برداشت کرسکتی ہے کیا ؟؟ اس کے ذمیر نے چلا کر اسے سے سوال کیا۔۔۔
بالکل بھی نہیں سوزین کی جگہ کوئی بھی ہاک دامن لڑکی ہوتی اس کا یہ ہی روعمل ہوتا۔۔
نو سوزین آئی سے اوپن دی دائس اس خیال سے ہی دہل گیا کے اگر سوزین کو کچھ ہوگیا تو وہ کیسے جیے گا یہ سوچ آتے ہی دائس کا دماغ تیزی سے چلنے لگا اور اس نے فورا سے کمرے کی چابی لائی اور دروازہ کھولا۔۔۔
آگلے ہی پل سوزین بس کودنے ہی والی تھی کے دائس نے اسے پکڑ کر گرنے سے بچا لیا۔۔۔
کیوں بچایا میرے ناپاک وجود کو سوزین دونوں ہاٹھ منہ پہ رکھ کر رونے لگی۔۔۔
نہیں نہیں میری جان باخدا ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہمارے بیچ میں نے مزاح کیا تھا تمہارے ساتھ۔۔۔
دائس نے اسے گلے لگاتے ہوئے وضاحت دیتے ہوئے کہا۔۔
تو پھر آپ نے ایسا کیوں کہا اور وہ میرا فراح۔۔۔؟؟
تمہیں ٹھنڈ لگنے کے ڈر سے میں نے تمہارا فراح تمہارے جسم سے الگ کیا تھا بٹ آئی سویور لاٹٹ آف تھی اور میرا منہ تمہاری طرف بھی نہیں تھا…
دائس بچوں کی طرح اسے بتانے لگا۔۔
آپ سچ کہہ رہے رہے ہیں نا دائس؟؟
بالکل سچ میری جان میں تمہارا محافظ ہوں لٹیرا نہیں جو رخصتی سے پہلے تمہارے ساتھ تعلق قائم کرو گا دائس نے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔۔۔
رخصتی کی بات پہ سوزین جی بھر کر شرمندہ ہوئی کیوں کے وہ تابی کی منکوخہ تھی اور دائس کے ساتھ محبت اسے تابی کے ساتھ بہت زیادہ غلط لگ رہا تھا۔۔۔
اچھا سوزین جلدی سے ساری پیکنگ کرلو ہمیں پاکستان کے لیے نکلنا ہے دو گھنٹے تک وہ مذید کچھ سوچتی دائس اسے پیکنگ کا کہہ گیا تھا اور وہ اپنی پیکنگ کرنے لگی۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
شاہد کدھر جارہے ہو ؟ ابھی کچھ دیر میں لنچ کا وقت ہوجائے گا۔۔۔
اج تو تابی بھی آرہا ہے لنچ پہ ٹی وی لانچ میں بیٹھی زینب بیگم نے جاتے ہوئے دیور + کزن سے پوچھنے کے بعد تابی کے آنے کا بتایا۔۔۔
وہ بھابھی جان ایک ضروری کام سے جارہا ہوں آپ بےفکر رہیں میں لنچ تک پہنچ جاو گا۔۔
اوکے پھر ٹھیک ہے خیر سے جاوُ۔۔۔
صبح شاہد کو ایک وائس نوٹ موصول ہوا تھا کے اگر اپنی مجرم اپنی بیوی سے آخری بار ملنا چاہتے ہو تو فلاں جگہ پہنچو وہ ابھی اسی جگہ جارہا تھا۔۔۔.
سوزین اور دائس ارمہ کے ہمرا ہاکستانی ایئر رپورٹ پہ اتر چکے تھے۔۔۔
باہر لیڈی کونسٹیبل اور باقی ان کو اسکیوڑٹی دینے لیے بھی ان کے ڈیپارٹمنٹ نے بھجے تھے۔۔
بھی وہ باہر ہی پہنچے تھے کے انھیں میڈیا والوں نے گھیر لیا تھا ان دونوں نے تھوڑی دیر میڈیا والوں سے بات کی اور ہھر ارمہ کو لے کر آگئے بڑھے لیکن ابھی وہ مذید آگئے بڑھتے اس سے پہلے ہی شاہد نے دائس سے کہا پلیز مجھے تھوڑی دیر بات کرنے دیں بیوی ہے میری شاہد کی بات سنتے ہی تمام میڈیا والوں نے کیمرون کا رخ شاہد کی طرف کیا کیوں کے دائس نے اجازت دے دی تھی۔۔۔
شاہد مجھے بچا لو دیکھو نا مجھ پہ کیسے کیسے الزامات لگائے جارہے ہیں ارمہ ایکٹنگ کرتے ہوئے شاہد کے کندھے پہ سر رکھتی لیکن شاید نے اسے جھٹکے سے پیچھے کر کے اس کے دونوں گالوں پہ تھپڑوں کی بارش کردی۔۔
ذلیل عورت تم جیسی بے وفا سے میں نے کوئی رشتہ نہیں رکھنا میں شاہد کاظمی تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق طلاق۔۔۔ یہ کہتے ہی شاہد نے دوبارہ سے ارمہ کو اس کے بالوں سے پکڑ کر مارنا شروع کر دیا پولیس نے ارمہ کو شاہد سے چھڑوایا اور ہولیس ارمہ کو ساتھ لے گئ۔۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
کچھ دن بعد۔۔۔
یہ عدالت ملزم صائب کاظمی کو دہشتگردوں کا ساتھ دینے اور ان کی مدد کرنے کے جرم میں تین سال قید بامشقت کی سزا سناتی ہے۔۔
صائب کو تین سال کی سزا ہوگئ تھی لیکن صائب نے بغیر کسی ریمانڈ کے تمام سچ اور اپنا گناہ قبول کیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ کمال زوبیر کے خفیہ اڈوں کے بارے میں بتایا تھا جہاں سے بہت سی لڑکیاں اور مختلف عمروں کے بچے بازیاب کروائے گئے تھے اور صائب کی مدد سے اور بہت سے جرائم پیشہ افراد کو بھی پولیس نے خراست میں لیا تھا۔۔۔۔۔
اس لیے پولیس کی مدد کرنے اور کچھ تابی کے تعلقات کو لے کر صائب کے ساتھ ریائت برتی گئ تھی۔۔۔۔
ادھر سلوای بری طرح صائب سے دور ہوچکی تھی وہ صائب کا نام بھی سننا نہیں چاہتی تھی اگر اس کا کوئی نام لیتا تو وہ شروع ہوجاتی تھی۔۔۔
اس کے خیال میں صائب نے ملک کے ساتھ بےوفائی کی تھی دہشتگردوں کا ساتھ دے کر اگر وہ ملک سے بے وفائی کرسکتا تھا تو میرے ساتھ بھی کرسکتا ہے۔۔۔
ارمہ کو کمال زوبیر کی بیوی کے قتل کے جرم اور باقی غیر قانونی کام کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی دی گئی تھی۔۔۔
کمال روبیر دوبئی سے کسی دوسرے ملک فرار ہوگیا تھا لیکن وہ کس ملک میں تھا اس کا فل حال کچھ پتہ نہیں چل سکا تھا۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
حرہ تیار ہوکر نیچھے جارہی تھی فل ہیل پہنے وہ لاپرواہی سے موبائل یوز کرتی سیڑھیاں اتر رہی تھی تابی نے جیسے ہی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھا تھا حرہ کی ہیل سلیپ ہوگئ تھی جس وجہ سے وہ لڑکڑاتی ہوئی نیچھے گرتی اگر بروقت تابی اس تھام نہ لیتا۔۔۔
تابش تو حرہ کو چھوڑ چکا تھا لیکن حرہ ابھی بھی تابش کے بازوؤں کو مظبوطی سے ہکڑے ہوئی تھی۔۔۔
ارے حرہ اب چھوڑ دو مجھے تم اب ٹھیک ہو تابش کے کہنے پہ حرہ نے آہستگی سے اس کے بازو چھوڑ دیئے۔۔
تابش۔۔۔ تابی اوپر کو جانے لگا تو حرہ نے اس کا نام لیا۔۔
ہممم اس نے مڑ کر کہا۔۔۔۔
کہیں باہر چلو نا میرے ساتھ لونگ ڈرائو پہ۔۔
سوری حرہ پر میرے ہاس فری ٹائم نہیں ہے جب فری ہوں گا تو ضرور چلے گئے وہ کہہ کر اوپر چلا گیا۔۔۔
آپی یہ آپ تابی بھیا کو کیسے نام سے پکار رہی تھی؟؟ وہ ہم سے بہت بڑے ہیں عمر میں بھیا کہا کریں انہیں۔۔
آفس سے آئے شارب نے جو حرہ کی بات سن چکا تھا بہن کو ٹوکتا ہوا بولا۔۔
اپنا کام سے کام رکھو بہت جلد وہ تمہارا بہنوئی بن جائے گا حرہ نے دڑلے سے کہا تھا۔۔۔۔
آپی۔۔۔۔ !! شارب نے ضبط سے مٹھی بند کرتے ہوئے غصے سے حرہ کو دیکھا شرم کریں وہ نکاح شدہ ہیں ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں آپ؟؟
تم نا زیادہ بڑے مت بنو میں اچھے سے جانتی ہوں اپنا اچھا برا اور وہ ٹک ٹک کرتی باہر نکل گئ شارب نفی میں گردن ہلاتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ارمہ اور شاہد کی طلاق اور اس کو سزائے موت کا تمام گھر والوں کو معلوم ہوچکا تھا۔۔
شاہد نے اپنا لیے الگ گھر لینا چاہا تھا لیکن شعیب صاحب اس بات پہ کافی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مستقبل اپنے ساتھ رہنے پہ آمادہ کرلیا تھا۔۔۔۔
شارب اور حرہ کو یہاں پہ بہت پیار ملا تھا زینب تو بالکل ماں کی طرح ان کا خیال رکھتی اور شعیب صاحب بھی بہت پیار کرتے تھے۔۔۔۔۔
شاہد نے بھی اب فکٹری جانا شروع کردیا تھا اور شارب آفس سنبھال رہا تھا اب جب کے صائب جیل میں اور تابش اپنی جاب میں مصروف رہتا ایسے میں سارا بزنس شارب ہی سنبھل رہا تھا۔۔
شارب افس جارہا تھا اج وہ کافی لیٹ ہوگیا تھا۔۔ اور اج ایک ضروری میٹنگ بھی تھی تبی وہ بار بار گھڑی پہ وقت دیکھتا سگنل پوئنٹ پہ رکا بے صبری سے سگنل اوپن ہونے کا انتظار کر رہا تھا کے سامنے ایک سنٹر سے لڑکی نکلتی ہوئی دیکھائی دی۔۔۔
سر پہ حجاب پہنے لونگ فراح پہنے ہاتھ میں کوئی ڈاکومنٹ اٹھائے بہت خوش دیکھائی دے رہی تھی۔۔
ابھی وہ مذید اسے دیکھتا کے سگنل اوپن ہوگیا تو شارب کو گاڑی آگئے بڑھنی پڑی۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
بھیا۔۔۔ میں بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوئی ہوں اس نے خوشی سے بتایا۔۔۔
سچ بہت بہت مبارک ہو گڑیا۔۔۔
اس نے مٹھانی اٹھا کر اس کے منہ میں ڈالی جسے وہ خوشی سے منہ میں ڈال گئ۔۔۔
یہ رہا تمہارا گفٹ اس نے ایک چین نکال کر اس کے گلے میں ڈالی۔۔۔
بھیا آپ پہلے سے ہی گفٹ لے آئے۔۔
کیوں کے مجھے پتہ تھا تم بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوگئ۔۔
وہ مسکراتے ہوئے اپنا گفٹ دیکھنے لگی ۔۔
اچھا شیزا گڑیا آو دروازہ لاق کرلو مجھے جانا ہے کام سے ارے بھیا میں نے کھانا بنایا تھا آپ کے لیے بیٹا دو دن بعد اپنی شہزادی بہنہ کے ساتھ ڈنر کرو گا ابھی ضروری کام سے جانا یے۔۔۔
اوکے بٹ بات کرنی تھی آپ سے ہاں بولو نا بیٹا؟؟
بھیا میں جاب کرنا چاہتی ہوں آپکی اجازت ہو تو۔۔۔
کیوں شیزا کیسی چیز کی ضرورت ہے تو مجھے بتاو؟؟
نہیں نہیں بھیا پہلے یونی جاتی تھی تو اور بات تھی اب میں گھر میں بور ہو جاو گئ اس لیے۔۔
اچھا ٹھیک ہے اگر بوریت کی بات ہے تو ضرور جاب کرو ۔۔۔
تھنکس بھیا کوئی بات نہیں گڑیا الله حافظ۔۔
اللہ حافظ بھیا اس نے آیاتلکرسی کا خسار اس پہ کیا اور وہ چلا گیا۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
اج اس کا دل آفس میں نہیں لگ رہا تھا کل سے ہی اس کو وہ گرئے آنکھوں والی لڑکی بار بار آنکھوں کے سامنے آرہی تھی اس کا دل شدت سے چاہا کاش ایک بار پھر خدا اس سے ملا دے۔۔۔
ٹک ٹک۔۔۔۔
یس.۔۔
سر انٹرویو کا ٹائم ہوگیا ہے۔۔
اوکے آپ گرلز کو اندر بجھنا شروع کریں۔۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد شارب نے انٹرویو لینا شروع کیا وہ دس سے پندرہ لڑکیوں کا انٹرویو لے چکا تھا لیکن ایک بھی اسے کام کے لیے ٹھیک نہیں لگی۔۔
اس نے سوچ لیا تھا یہ آخری لڑکی کو بلائے گا اسی لیے تھکے ہوئے انداز میں چیئر پر سر رکھے چھت کو گھور رہا تھا کے ایک کومل آواز اس کے کانوں کو سنائی دی۔۔
سر آئی کم ان اس نے جب نظر اٹھا کر دیکھا تو واپس نظر پلٹنا بھول گیا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔🌊

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *