Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode05

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode05

صائب نے جب گھڑی دیکھی تو دس ہونے والے تھے۔۔
صائب نے انٹرکام اٹھا کر۔۔
مس سلوای عمر آفندی کو میرے آفس بھجئے۔۔
سر وہ تو ابھی تک افس نہیں آئی ہیں۔۔
نہیں آئی صائب نے دوبارہ وہ ہی لفظ دورائے۔۔
یس سر۔۔۔
اوکے جب وہ آجایں تو اسے میرے آفس بھجنا۔۔
اوکے سر۔۔
جیسے ہی صائب نے فون رکھ ایسے ہی سلوای آکر اپنے کیبن میں بیٹھی۔۔۔
مس سلوای آپ کو سر آفس میں بلا رہے ہیں۔۔
اوکے سلوای منہ بناتی آفس چلی گئ۔۔
آئی کم ان سر؟
یس آجاو۔۔
گڈ مورنگ سر سلوای نے مسکرا کر کہا..
مورنگ۔۔
ٹائم کیا ہوا ہے؟؟ صائب نے اپنے بازوں کو ٹیبل پہ رکھ کر اپنے ہاتھوں کو تھوڑی کے نیچھے رکھتے ہوئے پوچھا۔۔
سلوای نے لاپروائی سے سامنے لگی گھڑی پہ دیکھ کر صائب کو بتا دیا۔۔۔
وہ تو مجھے بھی نظر آرہا ہے، میرا کہنا کا مطلب ہے یہ وقت ہے آفس آنے کا، صائب نے گھور کر سلوای کو دیکھا۔۔۔
اوو سررر نیکسٹ نہیں ہوگا۔۔
اوکے جاو۔۔ رکو سلوای جانے لگ کہ صائب نے اسے روکنے کو کہا۔۔
یس سر؟؟
یہ کپ لے جاو۔۔
میں سلوای نے اپنی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔
جی تم ہی صائب نے بھی اس کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔
آفس میں میرا یہ کام ہے کیا؟؟
سلوای کپ اٹھا کر جاو۔ سلوای کو ناچارہ کپ اٹھا کر جانا پڑا۔۔۔
پیپ۔۔۔ پیپ۔۔۔
صائب نے اپنا موبائل دیکھا جہاں ڈیلر کی کال تھی۔۔۔
اسلام کاظمی صاحب۔۔۔
و علیکم اسلام سر کیسے ہیں آپ؟؟
بس آپ کی دعا ہونی چایے۔۔
وہ دراصل میں نے اس لیے کال کی کے ہماری کمپنی کو آپ کی فیکٹری کا کپڑا بہت پسند آیا ہے، جس وجہ سے ہم آپ کے ساتھ دو مزید کونٹریک کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
یس سر صائب نے خوشی سے کہا۔۔۔
ہمم تو آپ پھر دو منتھ بعد آجائے تھائی لینڈ۔۔۔
اوکے سر تھنکس سی یو کہہ کر صائب نے کال رکھ دی۔۔۔
*°°°°°°*
آج سوزین کو جلدی پولیس اسٹیشن پہنچنا تھا اسی لیے وہ گھر سے جلدی نکل گئی۔۔۔
وہ ابھی پولیس اسٹیشن سے تھوڑا دور تھی کہ کچھ آدمیوں اسکی کار کے سامنے آ کر رک گئے ان میں سے ایک نے سوزین کو گن سے نیچھے اترنے کو کہا، سوزین ڈش بورڈ پہ پڑا اپنا ریوارول اٹھنے لگی تب ہی سامنے سے دیکھتے آدمی نے ہوائئ فائر کرکے سوزین کو ریوارول اٹھنے سے منع کیا، بہت زیادہ صبح ہونے کی وجہ سے روڈ پہ کوئی نہیں تھا۔۔
سوزین ریوارول چھوڑ کر باہر نکلی، چلو گاڑی میں بیٹھو اس آدمی نے سوزین کو گن پوانٹ پر رکھ کر گاڑی میں بیٹھنے کو کہا۔۔۔
کون ہو تم لوگ؟ میں گاڑی میں نہیں بیٹھو گئ، سوزین نے ان سب کو دیکھ کر کہا کیوں کہ سب آدمی ماسک پہن ہوئے تھے۔۔۔
سوزین نے گن پکڑے آدمی کو زود دار لات رسید کی وہ آدمی اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا جبہی دور جا گر جس وجہ سے اس کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر دور جا گری، سوزین پھرتی کی سی تیزی سے گن اٹھنے کو لپکی لیکن دوسرے آدمی نے پیچھے سے ریوارول نکال کر سوزین کے سر پہ مارا، سوزین کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ سر پکڑ کر گر گئ۔۔۔
وہ آدمی سوزین کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالتے کے ایک اور نقاب پوش سامنے سے آیا۔۔۔
چھوڑ دو لڑکی کو اس نقاب پوش نے آنکھوں اور گن کی مدد سے انھیں روکا۔۔۔
ابے تو کون ہے جا اپنا راستہ ناپ۔۔
میں نے کہا لڑکی کو ہاتھ لگایا تو مجھے سے برا کوئی نہیں ہو گا، اس نقاب پوش نے للکار کر کہا۔۔۔
اچھا یہ لے ہاتھ لگایا، اس آدمی نے بے ہوش پڑی سوزین کی گردن پہ ہاتھ پھیر کر کہا۔۔۔
نقاب پوش گن اس کی طرف کی اور اس کے اسی ہاتھ پہ فائر کیا جس سے اس نے سوزین کو چھوا تھا۔۔
دوسرا فائر اس نے اس آدمی کے ٹانگ پر کیا جس سے وہ آدمی درد سے بلبلانے لگا، اس کے ساتھی اس کا یہ حال دیکھ کر فورا سے پہلے گاڑی میں بیٹھے اور اپنی ساتھی کو چھوڑ کر بھاگ گئے، اس آدمی نے جب دیکھا میرے ساتھی تو مجھے چھوڑ کو بھاگ نکلے ہیں تو وہ اپنی زخمی ٹانگ سے لنگراتے ہوئے وہاں سے بھاگ گیا۔۔۔
نقاب پوش سوزین کے پاس پہنچا تو دیکھا سوزین کی پیشانی پر چوٹ آئی تھی، نقاب پوش نے اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا، اسے اٹھنے سے سوزین کی کیپ سر سے اتر گی اور اس کے بالوں کا بنا چوڑا کھل گیا ، اور اس کے سلکی بال کھل کر نقاب پوش کی بازوں سے نیچھے لٹکنے لگے۔۔۔
نقاب پوش اسے اٹھے اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا جو کچھ پیچھے اس نے روک دی تھی۔۔۔۔
نقاب پوش نے سوزین کی چہرے پہ برپور نظر ڈالی، تو اس کی نظر سوزین کے ہونٹ کے پاس تل پہ ٹھہر گئ، اسی محسوس ہوا جیسے ہواوں میں بہت خوبصورت سی خوشبو اٹھ رہی ہے، جب اس نے غور کیا تو وہ خوشبو سوزین کے سر سے کنڈیشنر کی آرہی تھی، وہ اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈال کر پلٹنے لگا کی اس کے گلے میں پڑی چین سے سوزین کی نیم پلیٹ اٹک گئ، نقاب پوش نے اپنی چین اس کی نیم پلیٹ سے نکالی اور ساتھ ہی نیم پلیٹ پہ لکھا نام زیر لب پڑھا۔۔ سوزین نائس نیم کہتے ہوئے وہ فرنٹ سیٹ پر آگیا۔۔
ہوسپیٹل کے پارکنگ میں گاڑی روک کر نقاب پوش نے دوبارہ سے سوزین کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا اب کی بار سوزین نے بے ہوشی میں ہی نقاب پوش کی شرٹ کو پکڑ لیا تو نقاب پوش کی نظر پھر سے بھٹک کر سوزین کے تل پہ چلی گئ، نقاب پوش نے اپنے ناک سے اس کے تل کو مس کیا نقاب پوش نے اپنے دل میں آئی بات کو پورا تو کر لیا تھا لیکن اب اس کا دل زور سے دڑکا تھا۔۔۔ نقاب پوش سوزین کو ہوسپیٹل پہنچا کر خود واپس چلا گیا۔۔۔
سوزین کو جب ہوش آیا تو اس نے خود کو ہوسپیٹل کے روم میں پایا درد کے باعث اسے کا ہاتھ اپنے ماتھے تک گیا جہاں بینڈج موجود تھی۔۔۔
سوزین کو وہ سب یاد آنے لگا، لیکن اسے ہہاں کون لے کر آیا اور ان لوگوں نے مجھے چھوڑ کیسے دیا۔۔
یہ سب اس کے دماغ میں سوال اٹھ رہے تھے۔۔۔
ہوسپیٹل سے عمر صاحب کو کال آئی تھی کہ سوزین ہوسپیٹل ہے جس کو سنتے ہی انیلا بیگم اور عمر صاحب دونوں ہوسپیٹل پہنچے۔۔۔
آپ دونوں کو ڈاکٹر صاحبہ اندر بلا رہی ہیں، وارڈ بوائے نے آ کر کہا۔۔۔
عمر صاحب اور انیلا بیگم ڈاکٹر کے پاسں پہنچے، یہ انکی فیملی ڈاکٹر تھی،
عمر صاحب دیکھے جس بات کا ہم پیچھلے سترہ سال سے انتظار کررہے تھے مجھے لگتا ہے اب جلدی ہی وہ سب سوزین کو یاد آجائے گا، اسکے دماغ کی وہ میمری جو کسی خادثے کے تحت اس کے ذہن سے غائب ہوگی تھی اب آہستہ آہستہ واپس آجائے گئ۔۔
ڈاکٹر صاحبہ سوزین کی مکمل طور پہ یاداشت کب تک واپس آئی گئ، انیلا بیگم نے پوچھا۔۔
مکمل میں پکا تو نہیں کہہ سکتی لیکن، زیادہ چانسز ہیں سال ڈیڈھ لگ جائے گا۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سن کر دونوں ہسبنڈ وائف خاموش ہو گئے۔۔
*°°°°°°*
آج دیا کو اس دنیا سے گزرے دو منتھ گزر چکے تھے، ننھی دعا کو دیکھ کر نانی کو سارا غم بھلانا پڑا اب دیا کی ایک ہی نشانی تھی ان کے پاس دعا، جس انھوں نے پال پوس کر اچھی تعلیم و تربیت دینی تھی اس لیے فرحت بیگم نے جلد ہی اپنی صحت سنبھل لی تھی، رعا ان دو منتھ میں اپنی نانی ماں سے بہت مانوس ہوگئ تھی، فرحت بیگم کو دیکھتے ہی منہ سے مختلف آوازیں نکالنے لگتی فرحت بیگم میں بھی دعا کی جان بستی تھی۔۔۔
دعا پورا دن زینب کے پاس ہوتی تھی اور زینب بھی دعا کو اپنی بیٹی کی طرح سنبھلتی تھی آخر کو زینب کو ایک بیٹے کے علاوہ کوئی اولاد جو نہیں تھی، دعا بھی زینب کے ساتھ خوشی سے پورا دن گزارتی لیکن جہاں سے اس کے سونے کا وقت ہوتا وہاں سے دعا زینب کے پاس سے رونے لگتی اسے اپنی نانی ماں کے پاس جانا ہوتا اور جیسے ہی زینب دعا کو فرحت بیگم کو دیتی دعا خوشی سے کلکاریاں مارنے لگتی، جسے دیکھ کر فرحت بیگم اسے اپنے سینے میں چھپا لیتی ۔۔
*°°°°°°*
میرے آفس میں آو، جیسے ہی سلوای نے رسیور اٹھایا تو صائب کی آواز اسے سنائی دی۔۔۔
اوکے سر آتی ہوں کہہ وہ رسیور رکھ کر آفس کی جانب بڑھ گئ۔۔
ناق کی آواز پہ صائب نے یس کیا تو سلوای اندر داخل ہوگی۔
سٹ سلوای۔۔
یس سر آپ نے بلایا تھا جی ہاں یہ ورک کرکے دیں مجھے ابھی صائب نے پیپرز والی فائل اس کے سامنے رکھی، سلوای اٹھا کر جانے لگی۔۔
کہاں؟ یہاں کرنا ہے ورک میرے سامنے صائب نے جاتی سلوای کو کہا تو سلوای اپنی آنکھوں گھماتے ہوئے دوبارہ بیٹھ گئ۔۔۔
دو کافی بجھو، صائب نے انٹرکام اٹھا کر کہا۔۔
تھوڑی دیر بعد ایک لڑکا آیا اور کافی رکھ کر واپس چلا گیا۔۔۔
صائب نے ایک سلپ لے کر کپ رکھ دیا، تو سلوای نے بے دھیانی میں صائب کا کپ اٹھا کر منہ کے ساتھ لگا لیا۔۔۔
مس سلوای آپ میری کافی ہڑپنا چاہتی ہیں ایسا بلکل نہیں چلے گا، یہ کہتے ہی صائب نے اس سے کافی کا کپ لے کر اپنی ہونٹوں کے ساتھ لگا لیا۔۔۔
نہیں آپ میری جھوٹی کافی نہیں پی سکتے یہ کہتے ہی سلوای نے صائب سے کپ چھنا جس کی بدولت کاقی کا کپ الٹ کر پیپرز فائل پہ گرگیا۔۔۔
یہ کیا کردیا پاگل لڑکی صائب نے غصہ سے سلوای کو کہا، جو منہ پہ ہاتھ رکھے آنکھیں نکال کر کافی میں ڈوبے پیپرز کو دیکھنے لگی۔۔۔
سوری سر سلوای نے شرمندہ ہونے کی نا کام کوشش کی جسے دیکھ کر صائب کو اور بھی غصہ آیا، اور وہ غصہ سے آفس سے باہر نکل گیا۔۔۔
پیچھے سلوای نے آفس صاف کروایا اور وہ پیپرز دوبارہ بنوانے کے لیے دے دیئے۔۔۔
آج سلوای کو دو منتھ ہوچکے تھے صائب کے ساتھ کام کرتے ہوئے، وہ وقفے وقفے سے اپنی حرکتوں سے صائب کو غصہ دلاتی اور پھر سوری بولنا کی بھرپور ایکٹنگ بھی کرتی۔۔۔
پاگل لڑکی۔۔۔
صائب اپنے کمرے کی بلکونی میں کھڑا سلوای کے متعلق سوچ رہا تھا، اب اسے اس کی یہ حرکتیں اچھی لگنے لگی تھی، وہ نہ چاہتے ہوئے بھی روز اسے ایسے ہی سوچتا تھا۔۔۔
وہ چھوٹی سی لڑکی اسے بہت کیوٹ لگنے لگی تھی۔۔۔
آج صائب آفس تھوڑا لیٹ آیا تھا، جب وہ آفس پہنچا تو اس کے کان میں اپنے آفس کے دو لڑکوں کی آواز پڑی۔۔
یار آج وہ مس پٹاہا آفس نہیں آئی۔۔
ہاہاہا ہاں یار آج آنکھیں ترس رہی ہیں اس کے دیدار کے لیے، یار کیا ڈریسنگ کرتی ہے، ہاں یار آفس میں اور جو لڑکیاں ایسی ڈریسنگ کرتی ہیں لیکن وہ بہت سیکسی لگتی ہے یار، ارے یار یہ ڈریسنگ کا کمال نہیں بلکہ یہ تو جوانی کا کمال ہے جو ابھی نیئ نیئ اس پہ آرہی ہے، چھوٹی سی تو ہے ہاہاہا۔۔۔
ارے گائز کس کی بات ہورہی ہے تیسرے لڑکے نے آکر کہا۔۔۔
یار اپنی مس سلوای عمر آفندی کی پہلے والے نے آنکھ مار کر کہا۔۔۔
صائب نے ضبط سے مٹھی بند کی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ان تینوں کا منہ توڑ دے۔۔
اوو ابھی وہ کچھ کہتا کہ صائب سامنے آگیا تو سب اس کے آنے پہ خاموش ہوگئے۔۔۔
میر، ثانی، وہاب۔۔ آپ تینوں میرے آفس آو، صائب کہہ کر اپنے آفس میں چلا گیا۔۔
لو آگئ سحتی ہماری۔۔ ثانی نے کہا۔۔۔
ابے کیوں آگئے گئ؟ میر نے کہا۔۔
آنی تو ہے ہم سر کی چہیتی کے بارے میں جو کہہ رہے تھے وہ سر نے سن لیا ہے، وہاب نے کہا۔۔۔
ہم تو سچ ہی کہہ رہے تھے نا میر نے کہا، اچھا چلو یار آفس میں۔۔۔
یس آو جاو، ناق کی آواز پہ صائب نے کہا۔۔
یس سر۔۔۔۔
تم تینوں کو میں ابھی فائر کرتا ہوں، صائب نے غصہ سے کہا۔۔۔
بٹ سر ہوا کیا ہے؟ ثانی نے پوچھا۔۔
جو لوگ ہمارے آفس کی لیڈیز کی عزت نہیں کرسکتے ان کے لیے میرے آفس میں کوئی جگہ نہیں۔۔۔
جاو جا کر نعمان سے اپنا خساب لے لو۔۔
سوری سر پلیز ہمیں معاف کر دیں پلیز ۔۔
تینوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔۔۔
صائب کو ان تینوں پہ ترس آگیا، کیوں کے وہ ان تینوں کو ابھی طرح جاتنا تھا کہ ان کے گھر کے چولہے ان کی سیلری سے ہی جلتے تھے۔۔۔
اوکے لاسٹ وارنگ ہے آئندہ اگر میں نے ایسی ویسی کوئی بات سنی تو میں ایک منٹ سے پہلے آپ تینوں کو نکال دو گا۔۔
نو سر آئندہ شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔۔۔
اوکے جاو اور نعمان کو بجھو۔۔
یس سر آپ نے بلایا تھا نعمان نے آفس میں آکر کہا۔۔
ہاں نعمان ایسا کریں آپ میرے آفس کے ساتھ والا کیبن کس کا ہے؟؟
سر میرا ہے۔۔
آپ ایسا کریں آپ مس سلوای آفندی کے کیبن میں اپنا سامان رکھوا لیں اور مس سلوای کا آپ اپنے والے میں رکھوا دیں آج سے آپ ادھر بیٹھا کریں۔۔۔۔
اوکے سر نعمان باہر نکل گیا۔۔۔
پیپ۔۔۔
ہیلو۔۔
سلوای تم آفس کیوں نہیں آگئ اور کوئی لیو بھی نہیں دی۔۔
سر مجھے بہت تیز فیور ہے اس لیے۔۔۔
صائب کو اس کی آواز سے ہی انداز ہوگیا تھا کہ وہ بیمار ہے۔۔۔
ہمم اوکے گٹ ویل سون مکمل ٹھیک ہو کر آفس آئے گا۔۔۔
جی سر۔۔ اور ہاں ایک بات اور ہمیں ایک ویک تک تھائی لینڈ جانا ہے وہاں ڈیل فائنلز کرنی ہیں،، تو تم گھر پہ بتا دینا۔۔
اوکے سر اللہ حافظ۔۔۔
*°°°°°°*
فرحت بیگم شاہد کی شادی کی تیاریوں میں لگی ہوئی تھی، جو دیا کے مرنے کی وجہ سے ڈیلئے ہوگئ تھی۔۔۔
پھر کچھ دنوں میں ارمہ بیگ ارمہ شاہد کاظمی بن کر فرحت بیگم کے گھر آگئ۔۔
شاہد اور ارمہ کی لوو میرج تھی، ارمہ کو شاہد کالج ٹائم سے پسند کرتا تھا، جب شاہد نے ارمہ کو پرپوز کیا تو اس نے فورا اکسپٹ کرلیا، پھر شاہد کی پسند کو دیکھتے ہوئے، فرحت بیگم بھی ارمہ کو شاہد کی دولہن بنا کر لے آئئ۔۔۔
ارمہ کی شادی کو پندرہ دن گزر چکے تھے لیکن ارمہ نے کبھی دعا کو اٹھا کر پیار نہیں کیا تھا ارمہ کا کہنا تھا کہ اسے بچے پسند نہیں ہیں۔۔
اور دوسرے گھر والوں کے ساتھ بھی ارمہ کا رویا بس لیا دیا ہی تھا ایک فرحت بیگم سے وہ ٹھیک طرح بات کرلتی تھی۔۔۔
یا تو وہ شاہد کے ساتھ اپنے کمرے میں رہتی یا پھر شاہد کے ساتھ باہر نکل جاتی۔۔
شادی کے منتھ بعد ارمہ کو جب اپنی پریگننسی کا پتہ چلا تو اسے نے بچا ضائع کروانا چاہ لیکن شاہد کی منٹ سناجٹ پہ بڑی مشکل سے اس بات سے ہٹی لیکن وہ ایسا ہر کام کرتی جس سے بچا ضائع ہونے کا ڈر ہو۔۔
ارمہ کا کہنا تھا کہ ابھی تو شادی ہوئی ہے ابھی سے بچا نہیں ہونا چاہے، یہ تو ہمارے انجوائے کرنے کے دن ہیں، حیر جیسے تیسے ارمہ کو شاہد نے سنبھل لیا تھا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *