Tarbiyat by Tawasul Shah NovelR50819 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode20
Rate this Novel
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode01 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode02 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode03 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode04 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode05 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode06 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode07 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode08 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode09 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode10 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode11 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode12 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode13 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode14 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode15 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode16 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode17 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode18 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode19 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode20 (Watching)Tarbiyat by Tawasul Shah Episode21 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode22 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode23 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode24 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode25 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode26 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode27 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode28 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode29 Tarbiyat by Tawasul Shah Last Episode
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode20
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode20
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
سوزین کاظمی فیملی سے بس ایک بار ملی تھی، سلوای کے نکاح پہ وہ بھی بس دو ہی افراد سے ایک سلوای کی ساس زینب بیگم جو اسے بہت اچھی لگی تھیں، محبت پیار کا مکمل نمونہ تھیں، اور اتنے پیارے انداز میں مخاطب کرتی کے سوزین کا دل چاہتا کے بس وہ باتیں کرتی رہیں اور وہ انھیں سنتی رہے۔۔
اور دوسرا اپنے بہنوئی صائب سے ملی تھی۔۔
سلوای کے سسر مردوں میں تھے جس وجہ سے ان سے اس کی ملاقات نہ ہوسکی تھی۔۔۔
اور ان کا ایک اور بیٹا جو بہرونے ملک اپنے کام سے گیا ہوا تھا اس کے بارے میں اس نے بس سنا ہی تھا۔۔
سوزین جب زینب بیگم سے ملی تو اسے وہ بہت اپنی اپنی لگی جب سوزین کو انھوں نے جاتے وقت لگے سے لگایا تو اسے ایسا محسوس جیسے وہ اس کی پرانی پناہ گاہ ہو اور جیسے وہ بہت عرصے بعد اس پناہ گاہ میں آئی ہو،اسے بہت سکون ملا تھا ان کی آغوش میں۔۔۔
سلوای اور صائب دونوں ہی کراچی سے صبح ہی واپس آئے تھے، اسی لیے زینب بیگم نے سلوای کی عیدی اور جو شاپنگ سلوای کے لیے کی تھی وہ آج دینے آنے والی تھیں۔۔
آج عید کا بڑا دن تھا، ہر انسان عید کی خوشیاں منا رہا تھا۔۔
آج رات کے کھانے پہ کاظمی فیملی نے آفندی ہاوس آنا تھا۔۔
سلوای!!.. انیلا بیگم اسے تیار ہونے کا کہنے آئئ تو وہ پہلے ہی مرر کے سامنے کھڑی تیار ہورہی تھی۔۔۔۔
گرئے شارٹ فراح کے ساتھ ٹائٹ جینز پہنے گلے میں ہم رنگ دوپٹہ ڈالے وہ میک آپ کرنے میں مصروف تھی۔۔۔
انیلا بیگم نے مرر میں ہی اس کی جھلک دیکھ کر دل ہی دل میں ماشااللہ کہا۔۔۔
نکاح کے بعد سے ہی سلوای کی ڈریسنگ میں بہت چینج آگیا تھا وہ اب پہلے والی ڈریسنگ بالکل بھی نہیں کرتی تھی، بلکہ وہ کمیز شلور اور فراح وغیرہ زیادہ پہنا کرتی تھی، جس پہ انیلا بیگم بہت خوش تھی۔۔۔۔
ارے میں تو تمھیں تیار ہونے کا کہنے آئی تھی لیکن میری بیٹی تو خود سے ہی تیار ہورہی ہے۔۔۔
ماں میں نے سوچا اب میں بڑی ہوگی ہوں اس لیے آپ کے کہے بغیر تیار ہوجاو۔۔
شاباش میری گڑیا۔۔
اور یہ جو ڈریسنگ میں چینج آیا ہے نا بہت اچھا ہے، بہت اچھی لگتی ہو اس ڈریسنگ میں، آنیدہ بھی صائب کی ایسے ہی بات ماننا۔۔۔
ماں کہیں آپ نے تو صائب سے نہیں کہا تھا میری ڈریسنگ کو لے کر؟؟
سلوای نے منہ بنا کر ماں کو دیکھا۔۔
ارے نہیں پگلی میں کیوں کہنے لگی وہ مرد ہے اور مردوں کو برداشت نہیں ہوتا ان کی بیوی ایسی ڈریسنگ کرئے جس سے دوسرے مردوں کی نظر ان کی بیوی پہ پڑے، انیلا بیگم نے اسے سمجھانا ضرور سمجھا۔۔۔
پر ماں!!…
سلوای نے انھیں دوبارہ پکارا۔۔۔
ہممم اب کیا بات ہے انیلا بیگم دوبارہ پلیٹی۔۔
آپ نے سوزین آپی کو تو کبھی منع نہیں کیا ایسی ڈریسنگ سے؟؟
بیٹا تمھیں منع کیا تھا تم نے میری بات کون سا سنی اسی لیے زینی کو بھی نہیں کہا۔۔
اب جیسے تم نے صائب کے کہنے پہ ڈریسنگ چینج کی ہے نا ایسے ہی زینی بھی اپنے شوہر کے کہنے پہ کرلے گئ۔۔۔
انیلا بیگم اسے لاجواب کھڑا چھوڑ کر سوزین کے کمرے میں چلی گئ۔۔۔
زینی بیٹا جلدی سے تیار ہو جاؤ سلوای کے سسرال والے آرہیں ہیں۔۔
انیلا بیگم نے سوزین کو کسی سوچ میں ڈوبا پا کر اسے کہا۔۔۔
اچھا رانی ماں ہوتی ہوں۔۔
وہ جیسے کسی خواب سے جاگی تھی۔۔
یہ رہا ڈریس یہ پہن لینا آج میرے لیے یہ ڈریس ضرور پہنا زینی بیٹا اسپیشل تمھارے لیے بنوایا ہے۔۔
انیلا بیگم نے ڈریس بیڈ پہ رکھ کر کہا۔۔۔
لائٹ پنک کلر کا کُرتا تھا جس پہ تلے کا خوبصورت کام تھا، پنک ہی دوپٹہ جس کے چاروں طرف تلے کا کام اور گولڈن ٹروزر، یہ تو بہت پیارا ڈریس ہے رانی ماں میں ضرور پہنو گئ سوزین نے ڈریس دیکھ کر کہا۔۔۔
اچھا بیٹا جلدی سے تیار ہو جاؤ وہ لوگ آتے ہی ہوگئے۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
شاہد اور ارمہ ڈائنگ ٹیبل پہ ناشتہ کررہے تھے۔۔۔
گڈ مورنگ ممی بابا!!..
گڈ مورنگ بیٹا، شاہد نے مسکرا کر شارب کو کہا کیوں کہ وہ آفس ڈریس میں تھا۔۔۔
شارب کہاں جارہے ہو ارمہ نے شارب سے پوچھا؟؟
ممی میں آج سے بابا کے ساتھ آفس جوائن کررہا ہوں، شارب نے شاہد کی طرف دیکھ کر بتایا۔۔
کوئی ضرورت نہیں آفس جانے کی بیٹھ کر پڑھائی کرو ارمہ نے ٹوس پلیٹ میں رکھ کر شارب کو پکڑائی۔۔
ممی میں پڑھائی بھی کرو گا اور آفس میں بابا کی ہلپ بھی کرو گا، آج کے بعد سب ایکٹیوٹیز بند بس آفس جایا کرو گا اور پھر پڑھائی کرو گا۔۔۔۔
شاباش میرا بیٹا شاہد نے خوشی سے کہا۔۔
جی بابا اب میں آپ کا اچھا بیٹا بن کر دیکھاؤ گا، شارب نے شاہد کے ہاتھ چوم کر کہا۔۔
پھر ناشتہ کرکے دونوں باپ بیٹا آفس کے لیے نکل گئے۔۔۔۔۔
آج دو ویک ہوگئے تھے شارب کو ہوسپیٹل سے گھر آئے ہوئے، اب وہ بالکل ٹھیک ہوچکا تھا بلکہ اب وہ سدھر بھی چکا تھا۔۔
کچھ لوگ محبت میں چوٹ کھانے کے بعد سنوار جاتے ہیں، اور کچھ لوگ مزید بگھڑ جاتے ہیں۔۔۔
کچھ لوگ محبت کے دھوکا دینا پہ سوچتے ہیں سب ختم ہوگیا ہے، ان کی محبت کے علاوہ انھیں کچھ نظر نہیں آتا اور وہ اس دھوکے کی سزا اپنے سے چڑے رشتوں کو بھی دیتے چلے جاتے ہیں۔۔۔
کچھ لوگ محبت میں دھوکا کھانے کے بعد بھی لائف میں موو اون کرتے ہیں اپنے سے جڑے رشتوں کے لیے شارب نے بھی یہ ہی کیا تھا محبت میں چوٹ کھا کر اسے معلوم ہوا ماں باپ سے زیادہ دنیا میں کوئی سچی محبت نہیں کرسکتا۔۔
اس لیے وہ سدھر گیا اور اپنے باپ کا دل جیتنے میں لگ گیا۔۔۔
ارمہ ناشتہ کی ٹرے اٹھاتی حرہ کے کمرے میں چلی گئ تاکے اسے ناشتہ کروا سکے۔۔۔
ارمہ نے دروازہ کو تھوڑا سا بش کیا تو وہ کھلتا چلا گیا۔۔
سامنے شراب کی دو بوتلیں اور دو کلاس ٹیبل پہ پڑے ہوئے تھے۔۔۔
یہ ایک کمرے کے دو پورشن تھے،، یہ ٹی وی روم تھا، اس کے آگئے بیڈ روم تھا۔۔
ابھی ارمہ مزید آگئے بڑھتی لیکن کسی کپڑے سے الجھ کر رک گی دیکھا تو دو کپڑے پڑے ہوئے تھے۔۔
ایک حرہ کا ڈریس تھا اور دوسرا جینٹس شرٹ تھی، یہ شارب کی شرٹ یہاں کیا کررہی ہے، اور کیا حال بنا رکھا ہے اس لڑکی نے کمرے کا ارمہ ان دو کپڑوں کو صوفہ پہ اچھلتی ہوئی آگئے بڑھ گئ۔۔۔
روم میں جب بیڈ پہ ارمہ کی نظر پڑی تو اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔
وہ اپنی جوان بیٹی کو اس نا زیبہ حالت میں دیکھ کر منہ پہ ہاتھ رکھ چکی تھی۔۔۔
حرہ اور روہیل نا زیبہ حالت میں بیڈ پہ مجود تھے۔۔
ارمہ بیٹی کو ایسی حالت میں دیکھ کر فورا کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔
ارمہ نے حرہ کے موبائل پہ کال کی کے میں ابھی تمھارے کمرے میں آرہی ہوں، تب جاکر اس نے روہیل کو فوار کمرے سے نکالا اور کمرے کی حالت ٹھیک ہونے پہ ارمہ کو بلا لیا۔۔۔
حرہ میں نے سنا ہے روہیل روز تمھارے کمرے میں آتا ہے تم سے ملنے؟ حرہ ناشتہ میں مصروف تھی جب ارمہ نے اس سے پوچھا؟؟
جی ممی آتا ہے، حرہ ایک منٹ کو ناشتے سے ہاتھ روک کر ارمہ کی جانب دیکھ کر نڈر انداز میں بولی۔۔۔
کیوں آتا ہے وہ، ارمہ نے سخت لہجے اپناتے ہوئے کہا۔؟؟
ممی ہم دونوں پیار کرتے ہیں ، اب بابا نے مجھے یہاں کمرے میں بند کردیا ہے تو وہ مجھے ملنے تو آئے گا ہی نا ہم دونوں ملے بغیر نہیں رہ سکتے۔۔
حرہ روہیل سے کہوں اپنی فیملی کو لے کر آئے ہمارے گھر تمھارا پرپوزل لے کر اگر شاہد کو معلوم ہوا نا روہیل کا یہاں آنے کا تو تم جانتی ہوں کیا خشر کرئے گا وہ تمھارا ساتھ میں میری بھی خیر نہیں اس لیے روہیل کو منع کردو ادھر آنے سے جب تک پرپوزل لے کر نہیں آتا۔۔۔
ارمہ اسے سمجھاتے ہوئے کمرے سے نکل گئ۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
انیلا بیگم، عمر صاحب، سوزین اور سلوای سب لوگوں ڈراینگروم میں موجود تھے۔۔۔
ابھی مہمان آچکے تھے۔۔
صائب اور زینب بیگم سے سب ملے۔۔
بھابھی شعیب کدھر ہے؟
عمر صاحب نے زینب بیگم سے پوچھا۔۔
بھائی صاحب شعیب بھی آرہے ہیں بس، لیں آگئے آپ کے دوست زینب بیگم کے بتانے پہ سب نے شعیب کی طرف دیکھا۔۔
سوزین فرسٹ ٹائم شعیب کو دیکھ رہی تھی۔۔
وہ شیعب کو دیکھتے ہی ماموں شیبی۔۔۔۔
سوزین زور سے چلائی اور بھاگ کر شعیب کر گلے لگ گئ۔۔۔
م۔۔ماموں م۔۔ میں آپ کی دعا۔۔۔
سوزین نے جب دیکھا شعیب خیرانی سے سوزین کو دیکھا رہے ہیں تو اس نے روتے ہوئے بتایا۔۔۔
ماموں میں آپ کی دیا کی بیٹی ہوں جو سترہ سال پہلے مامی ارمہ کی وجہ سے پاکستان آگئ تھی سوزین نے مزید روتے ہوئے کہا تو ڈرائنگروم میں بیٹھے تمام سوزین اور شعیب کی طرف لپکے۔۔۔
میرا بیٹا دعا!!.. میری آپی دیا کی بیٹی شعیب نے سوزین کو سینے سے لگا کر خود. بھی روتے ہوئے کہا۔۔۔
میری بیٹی دعا اپنی ممی سے نہیں ملے گئ؟ زینب بیگم نے آنکھوں میں آنسو لیے کہا۔۔
زینب ممی؟؟
سوزین نے زینب کو کہا۔۔
ہاں میری گڑیا میں تمھاری ممی ہی ہوں۔۔
تو سوزین زینب بیگم کے ساتھ بھی لپٹ کر رونے لگی۔۔۔
ممی!!..
مامی ارمہ نے میرے ساتھ بہت برا کیا تھا، میرا نکاح اپنے دوست زوبی سے کروا کر پاکستان بھج دیا۔۔۔
یہ کہتے ہی سوزین زینب بیگم کی باہوں میں جھول گئ۔۔
سوزین!!!…
انیلا بیگم اور عمر صاحب سوزین پکارہ
دعا!!!…..
جب کے زینب، شیعب نے دعا، اور صائب اور سلوای بھی سوزین کی جانب بڑھے۔۔۔
صائب گاڑی نکالو دیکھو تو دعا کو کیا ہوگیا ہے، شعیب کاظمی نے سوزین کا چہرا تھپتپھیا لیکن سوزین جوں کی توں تھی۔۔۔۔
شعیب نے سوزین کو اٹھا کر صوفہ پر لیٹایا تو انیلا بیگم نے جک میں پڑے پانی سے سوزین کے چہرے پہ چھیٹیں مارے تو سوزین نے آنکھیں کھولی۔۔۔
سوزین اب ٹھیک تھی۔۔
ماں بابا۔۔ مہمانون کو کھانا تو کھالا دیں نا سوزین نے مسکرا کو انیلا بیگم اور عمر صاحب سے کہا۔۔
چلو بھئ شعیب، صائب، بھابھی کھانا کھا لیں ہماری زینی نے کہہ دیا اب تو آپ سب کو کھانا پڑے گا۔۔۔
پھر سب نے خشگوار ماخول میں کھانا کھایا اور اب سب باتوں میں مصروف تھے۔۔۔
سلوای مجھے تو کافی پیلا دو بہت طلب ہورہی ہے، صائب نے سلوای سے کہا۔۔
ہاں بیٹا اور ہم سب کے لیے چایے عمر صاحب نے کہا۔۔
جی اچھا میں ابھی لاتی ہوں اور سلوای کچن میں چکی گئ۔۔۔
اب سوزین نے اپنے ساتھ ہونے والا قصہ سنایا انگلینڈ نکاح سے لے کر، زوبی کے گھر سے بھاگنے تک اور پھر انیلا بیگم اور عمر صاحب کو کیسے ملی وہ سب بھی بتایا۔۔۔
بہت برا کیا ارمہ نے ہماری بچی کے ساتھ شعیب نے کہا۔۔
تایا ابو جو ہیں ہی برے انھیں یاد ہی کیوں کرنا اب اس ٹاپک کو یہاں ختم کریں، شکر ہے ہمیں ہماری دعا اور بھیا کئ باربی ڈول مل گئ صائب نے کہا تو سب خاموش ہو گئے۔۔۔
ارے سالی صاحبہ آپ نے سب کو پہچان لیا مجھ غریب کو اب تک نہیں پہچان سکی جو آپ کا سب سے اچھا دوست ہوا کرتا تھا۔۔
صائب نے سوزین سے کہا۔۔
تم تو مجھے ایئر پوٹ پہ ہی بہت اپنے اپنے لگے تھے۔۔
وہ تو میری یاداشت اس وقت نہیں تھی اسی لیے پہچان نہیں سکی۔۔۔
سوزین نے مسکرا کر صائب سے کہا۔۔
ویسے مجھے پتہ نہیں تھا تم زندگی میں بھی میری بہن سے شادی کرو لو گئے جیسا تم بچپن میں کہا کرتے تھے، کہ کاش تمھاری کوئی چھوٹی بہن ہوتی جیسے میں شادی کرلینا۔۔
ہاہاہا ہاں یہ تو واقع میں سچ ہوگیا سلوای تمھاری چچا زاد بہن تو ہے، صائب نے کہا تو سوزین بھی مسکرا دی۔۔
انیلا بیگم ہوسپیٹل سے آنے پہ ہی سوزین کو سب بتاچکی تھی کہ وہ اس کی چچا چچی لگتے ہیں اور سلوای اس کی کزن۔۔۔
میں آتا ہوں ابھی۔۔
صائب اٹھ کر کچن میں چلا گیا تو سوزین نے پیچھے سے آواز لگائی میری بہن کو تنگ مت کرنا، صائب نے سوزین کو گھور کے دیکھا کیوں کے سوزین کے ایسے کہنے سے سب کی توجہ صائب کی طرف ہوگئ تھی۔۔۔
جاؤ جاؤ کوئی نہیں روکے گا تمھیں بیوی ہے تمھاری، سوزین بڑوں کے بیچ بیٹھ کر آرام سے صائب کی ٹانگ کھنچ رہی تھی۔۔
صائب ابھی بھی سوزین کو گھورے جارہا تھا جس پہ اب بڑوں کا قہقہا ڈراینگروم میں گونج گیا۔۔۔
سب وہاں باتیں میں لگے ہیں اور میری جان یہاں کام میں لگی ہے۔، صائب نے کافی میں دودھ شامل کرتی سلوای کو پیچھے سے ہگ کرتے ہوئے کہا۔۔
سسرال والا آئے ہیں تو کام تو کرنا ہی پڑے گا نا سلوای نے مصروف انداز میں جواب دیا۔۔
ہممم یہ بھی ہے۔۔
ویسے بہت پیاری لگ رہی ہو دل کرتا ہے آج ہی رخصتی کروا لو۔۔
پیچھے ہوں اور لیں پکڑیں آپ کی کافی سلوای نے کپ اسے تھماتے ہوئے کہا۔۔۔
جسے لے کر صائب سامنے چیئر پہ بیٹھ گیا۔۔۔
اب سلوای سب کے لیے چایے بنا رہی تھی۔۔
سلوای “چینی روک کے اور پتی ٹھوک کے”
کیا مطلب صائب اس کا سلوای نے نہ سمجھی سے کہا؟؟
مطلب چایے میں چینی کم اور پتی زیادہ ڈالنا ہمیں ایسی چاہے پسند ہے۔۔
اچھا اچھا۔۔
ویسے کسی ہلپ کی ضرورت ہے تمھیں صائب نے مصروف سلوای سے کہا؟
اب یاد آرہی ہے آپ کو ہلپ کی سلوای نے کپ میں چایے ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔
آااوچ۔۔۔
سلوای کا ہاتھ جل گیا تو اسے نے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا۔۔
اففف میری جان دیکھ کر صائب نے سلوای کی ریڈ ہوئی جگہ پہ اپنے ہونٹ رکھے۔۔
اچھا اب ہٹیں ٹھرکی بوائے میں چایے دے کر آؤ۔۔
ایک تو تمھارا درد کم کررہا تھا اوپر سے ٹھرکی کہہ رہی ہو صائب نے برا مانتے ہوئے کہا۔۔
ہاں ہاں سارا درد کم کرنے کا ٹھیکا آپ نے اٹھا رکھا ہے نا۔ اور وہ چایے کی ٹرے اٹھا کر باہر چلی گئ۔۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
جاری ہے۔۔۔
