Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode22

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode22

:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-
سب بڑے ڈرائنگروم میں موجود باتوں میں مصروف تھے۔۔۔۔
ارے یہ سلوای کہاں رہ گئ ملنے بھی نہیں آئی اب تک انیلا بیگم نے عمر صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
تھوڑی دیر پہلے ہی انیلا بیگم سلوای کو شادی کی ڈیٹ فکس ہونا کا بتاکر آئئ تھیں ساتھ یہ بھی کہا تھا کے فورا تیار ہوکر نیچھے آؤ وہ تھی کے ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔۔
جایں بیگم آپ دوبارہ دیکھ آیں اسے، عمر صاحب نے انیلا بیگم سے کہا تو وہ اٹھ کر جانے لگی تو صائب نے کہا ارے آنٹی آپ رہنے دیں میں بلا لاتا ہوں سلوای کو۔۔
جی بھابھی آپ بیٹھیں ہم کچھ مزید باتیں تہہ کرلیتے ہیں صائب لے آتا ہے سلوای بیٹی کو، شعیب صاحب کے کہنے پہ انیلا بیگم دوبارہ صوفہ پہ بیٹھ گئ۔۔۔
سلوای شاور لینے کی عرض سے واشروم گئ ہوئی تھی تاکے وہ تیار ہوکر نیچھے جا سکے۔۔ لیکن جب وہ شاور لیے چکی تو اسے خیال آیا کے وہ اپنا ڈریس تو جلدی جلدی میں اپنے روم میں ہی بیڈ پہ چھوڑ آئی ہے۔۔۔
یہ سوچ کر سلوای نے اپنے بالوں کا جوڑا بنایا اور جسم پہ ٹاول لپیٹ لیا اور واشروم سے باہر آگئ۔۔۔
صائب جب روم میں پہنچا تو وہ اسے روم میں کہیں دیکھائی نہیں دی پر اس کا ڈریس بیڈ پہ پڑا ہوا تھا۔۔
صائب کو جب کلک کی آواز سے واشروم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو وہ بیڈ روم کا کھلا دروازہ ہاتھ سے آگئے کو کرنے لگا جس سے دروازہ بند ہوگیا۔۔۔
سلوای اپنے دھیان میں واشروم سے. باہر نکلی تو سامنے کھڑے صائب کو دیکھ اس کا ٹاول گرتے گرتے بچا جو وہ سختی پکڑ چکی تھی، وہ کبھی ٹاول کو اوپر کی طرف کھنچ رہی تھی کبھی نیچھے لیکن ٹاول کی لمبائی بڑھنے سے تو رہی۔۔۔
صائب سلوای کی ٹنشن والی کنڈیشن کو بہت دلچسبی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
ارے یار کیا ہوگیا ہے میں ہسبنڈ ہوں تمھارا خدا نہ خواستہ کوئی دوسرا مرد نہیں جو تم اتنی ٹنشن میں ہو، صائب اسے کمر سے پکڑ کر خود سے قریب کرتے ہوئے بولا۔۔۔
پ۔۔پر آپ جایں نا میں نے ڈریس پہنا ہے، سلوای نے ٹوٹے پوٹے لفظ منہ سے ادا کیے کیوں کے وہ صائب کی قربت اور کچھ اپنی کنڈیشن پہ بھلکھا گئ تھی۔۔۔
اچھا جی ہم چلیں جاتے ہیں پہلے آپ کو سکون سے دیکھ تو لیں، صائب نے سلوای کے ہونٹوں پہ اپنا انگوٹھا مس کرتے ہوئے اس کے جوڑے میں بندھے بال کھول دیئے اور سلوای کو مزید قریب کرتے ہوئے اس کے نم ہونٹوں پہ جھکا۔۔۔۔
صائب اختجاج کرکے صائب کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے مشکل سے صائب کی قربت برداشت کرنے لگی۔۔۔
ایک دو منت بعد جب صائب نے سلوای کے ہونٹ آزاد کیے تو سلوای کے ہونٹوں کا نشہ اس کے سر چڑھ چکا تھا۔۔۔۔
صائب نے اسے پکڑ کر ڈریسنگ کے مرر کے ساتھ پش کرلیا، وہ اس کے کمرے پہ بکھرے بال آگئے کرتا ہوئے وہ سلوای کے کندھے سے نیچھے اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا صائب سلوای کی قربت سے مزید دیوانہ ہوتے ہوئے سلوای کا پہنا ٹاول تھوڑ مزید سرکا چکا تھا۔۔۔
سلوای کو جب اپنی کمر کے درمیان میں صائب کے ہونٹ محسوس ہوئے تو اس نے ٹرپ کر صائب سیدھی ہوئی اور صائب کے سینے سے لگی گئ۔ پلیز صائب مزید کچھ نہیں سلوای کے منت بھرے لہجے نے صائب کو ھوش کی دنیا میں واہس لایا تو وہ ایک منٹ میں سلوای کے روم سے نکل گیا۔۔۔
سلوای اپنا روم لاق کرنے گئ تو سوزین اس کی کمرے میں داخل ہوئی آپی میں ڈریس پہن لو پھر آپ کی بات سنتی ہوں سلوای اپنا ٹاول ٹھیک کرتے ہوئے اپنا ڈریس اٹھاکر ڈریسنگ روم میں چلی گئ ۔۔
سوزین جو سلوای کو خقیقت بناتے آئئ تھی وہ پہلے ہی صائب کو ہڑبڑی میں سلوای کے روم سے جاتا دیکھ چکی تھی اب سلوای کو صرف ٹاول میں دیکھ کر اپنا کچھ بھی بتانے کا ارادہ ترک کر چکی تھی۔۔۔
وہ سلوای کو سچ نہیں بتا سکتی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد سلوای ڈرائنگروم میں داخل ہوئی سب کو مشترکہ السلام کیا سب سے ملنے کے بعد وہ صائب کے سامنے والے خالی صوفے پہ بیٹھ گی، صائب مسلسل اسے ہی دیکھے جارہا تھا لائٹ پنک اور وائٹ کلر کے ڈریس میں وہ کوئی معصوم سی گڑیا صائب کو لگی۔۔
وہ بار بار اسی کو دیکھ رہا تھا لیکن سلوای کچھ دیر پہلے والے روم کے منظر کو سوچ کر صائب سے نظریں بھی نہ ملا پارہی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر اور بیٹھنے کے بعد کاظمی فیملی اجازت لیتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ کر کاظمی والا کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:
صائب نے تابی کو کال کرکے ارجنٹ ملنے کو بلایا تھا۔۔
تابی بھیا میں نے جو بھی کیا مجبوری میں کیا اور کل اگر میں آپکی باربی ڈول کے ہاتھ آجاتا تو مجھے ویپن اسمگلنگ کے جرم میں جیل ہوجاتی اور میں وظن کی دشمنوں میں الگ جانا جاتا، صائب نے نہایت پرشان لہجے میں کہا۔۔
یار کیا تو تم نے غلط ہے، بےشک تو نے یہ سب کیا نہیں لیکن برائی کا ساتھ دے کر غلط کیا تم نے، چلوں میں کچھ سوچتا ہوں اچھا کیا مجھے اب بھی بتا دیا تابی نے اپنی پیشانی پہ آئے بال پیچھے کرکے کہا۔۔۔
چل ٹھیک ہے اب میں چلتا ہوں صبح ہونے میں کچھ ہی وقت باقی ہے اور مجھے اپنا میشن مکمل کرنا ہے آج پھر میں گھر آؤ گا، تابی اس سے ملتے ہوئے اپنے موبائل پہ کسی کا نمبر ملانے لگا۔۔
جی آپ نے ٹھیک پہچان مجھے سر۔۔
جی جی ایک فیور چائی تھی آپ سے۔۔
سر بات کچھ یوں ہے کے دوبئی میں ایک لیڈی آئئ ہوئی ہیں میں چاہتا ہوں جب تک آپ کو میں نہ کہوں انھیں پاکستان کی ٹیکٹس الاؤ نہیں کی جائے۔۔
جی جی میں آپ کو مکمل ڈیٹیل وٹس ایپ کردیتا ہوں دوسری جانب سے سکون بخش جواب ملنے پہ اس نے کہا اور ساتھ ہی کال کٹ کرکے اس نے وٹس ایپ کردیا جو انفارمیشن اسے سے مانگی گئ تھی۔۔۔
تابی یہ کرنے کے بعد ایک اور کال دوبئی ملانے لگا۔۔۔
ہممم کرنا یہ ہے کہ، دوسری جانب سے کال پک ہونے پہ تابی نے بولنا شروع کیا۔۔
اس کے سیٹھ کے ساتھ بیڈ روم میں جانے سے پہلے ہی کیمرہ سیٹ کردینا۔۔۔
اوکے سر ٹھیک ہے، تابی اپنی بات بتاکر موبائل کو پاکٹ میں ڈالتے ہوئے اپنے میشن کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:
ملازمہ کے بتانے پہ کے ڈنر لگ چکا ہے شاہد کاظمی اور شارب ٹیبل پہ آگئے۔۔۔
فاخرہ جاؤ حرہ کو بولو کے آکر ڈنر کرلے، شاہد نے ملازمہ سے کہا تو وہ اسے بلانے چلی گئ۔۔
حرہ جو شاہد اور شارب کے آنے سے دو منت پہلے گھر آئی تھی جلدی سے نیچھے آگئ تاکے اس کے باپ کو اس پہ۔کوئی شک نا ہو۔۔
کیسی ہیں آپی؟ شارب نے چیئر کھنچ کر بیٹھتی حرہ سے پوچھا..
میں ٹھیک ہوں تم کیسے ہو،؟ اب تو بڑے بزنس مین بنے بیٹھے ہو؟؟
ہاں بس اب بابا کے ساتھ کام کرنا اچھا لگتا ہے، شارب نے مسکرا کر شاہد کو دیکھا۔۔
ہممم ہو ہی نا جائے تم سے یہ چاپلوسی، حرہ نے طنز کا تیر چلایا جو واقع میں ہی شارب کے دل میں لگا تھا، کے اس کی بہن اسے اس کی پرانی نالائقی کا تانہ دے رہی ہے۔۔۔
حرہ۔۔!! یہ کیا بکواس ہے ایسے لفظ استعمال کرتے ہیں اپنے بھائی کے لیے، شاہد نے ضبط کرتے ہوئے کہا۔، جس پہ حرہ خاموشی سے کھانا کھانے لگی۔۔۔
ارمہ ابھی تک نہیں آئی؟ کال لگاؤ شارب اسے شاہد نے بیٹے سے کہا۔۔۔
کوئی ضرورت نہیں ہے شارب کال کرنے کی، حرہ نے کال ملاتے شارب سے کہا۔۔
کیوں آپی؟؟
وہ اس لیے کے ممی پاکستان میں نہیں ہیں وہ دوبئی گئ ہیں اپنے کسی کام سے انھوں نے کہا تھا کے بابا کو بتا دینا ایک منتھ تک واپس آجائے گئ، حرہ نے کھانا کھاتے ہوئے تفصیل سے بابا کو آگاہ کیا۔۔۔
حد ہوتی ہے لاپروائی کی مجھے معلوم نہیں اور وہ دوبئی جا پہنچی ہے، شاہد غصہ سے کھانا چھوڑ کر جاچکا تھا۔۔۔
ویسے ممی کو بابا سے تو پوچھ کر جانا چائے تھا نا، شارب نے حرہ کو دیکھ کر کہا۔۔
اچھا جی آپ کو بڑا جلدی پتہ چل گیا کے کیا کرکے جانا چائے تھا ممی کو کیا نہیں، حرہ نے دوبارہ چوٹ کرتے ہوئے شارب سے کہا۔۔۔
آپی آپ کے بھی بہت پر نکلے ہوئے ہیں، میری مانیں تو انھیں خود ہی کاٹ دیں ورنہ میں بھول جاؤ گا کے میں آپ کا چھوٹا بھائی ہوں، شارب نے حرہ کی چیئر پہ وزن ڈال کر کہا۔۔
چھوٹے ہو تو چھوٹے رہو میرے باپ بننے کی ضرورت نہیں اوکے حرہ نے اسے اپنی چیئر سے پیچھے کر کے کہا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا چھوٹا ایک گھنٹے کا فرق ہے ہم میں یہ تو میرا بڑا پن ہے کہ میں آپ کی عزت میں آپی کہتا ہوں ورنہ اب کی بار آپ نہیں سمجھی تو پھر دیکھنا وہ کہتا ہوا رکا نہیں بلکہ کمرے میں چلا گیا۔۔۔
شاید کمرے میں چکر کاٹتے ارمہ کی حرکت اور حرہ کی بدتمیزیوں کے بارے میں سوچ رہا تھا کے اس کے موبائل کے ٹیکسٹ کی رنگ ہوئی۔۔
شاہد نے اوپن کیا تو وہ وٹس ایپ پہ کسی اننوئن نمبر سے ویڈیو اور وائس ریکاڈنگ تھی۔۔۔
شاہد نے ویڈیو کھول کر دیکھی۔۔
یہ ان کا انگلینڈ والا گھر تھا۔۔
جہاں پہلے اسے اپنی ماں فرحت بیگم کے کمرے کا منظر دیکھائی دیا، جہاں وہ لیٹی ہوئی دیکھائی دی۔۔
اب کچن سے ارمہ جوس کا کلاس لاتی دیکھائی دی اب ارمہ نے کلاس کو رکھ کر اس میں کافی زیادہ مقدار بےھوشی کی گولیاں ڈالی اور فرخت بیگم کو پیلا دیا۔۔۔
پھر تقریبا آدھے گھنٹے بعد اسے دعا اپنی بانجھی دیکھائی دی۔۔
سفید لہینگا پہن کر وہ واشروم سے نکلی جو تھوڑی دیر پہلے ارمہ اسے زبردستی تھما کر گئ تھی، جو شاہد دیکھ چکا تھا۔۔۔
اب اس نے دیکھا ایک چالیس سالہ مرد تھا جس سے ارمہ کی اجازت پہ معصوم دعا کا نکاح کروا دیا گیا پھر دعا کے روتے بلکتے اسے اس انسان کے ساتھ زبردستی ارمہ نے بھج دیا۔۔
شاہد یہ دیکھ کر بیڈ پہ گر سا گیا، اسے وہ سب یاد آیا اس کی ماں کا مرنا،. ارمہ کا دعا پہ بھاگ جانے کا الزام لگانا اور پھر شیعب بھائی اور زینب بھابھی سے میرا بدتمیزی کرنا کیا کیا نہیں کیا اس ارمہ نے میرے اپنوں کے ساتھ، سب لاکھ کہتے رہے ارمہ جھوٹ بول رہی ہے لیکن میں نے ہی نہیں مانا ، شاہد نے روتے ہوا خود سے کہا۔۔۔
کبھی معاف نہیں کرؤ گا میں تمھیں ارمہ تم میری ماں کی قاتل ہوں قاتل ہو میرے سارے رشتوں کی شاہد نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اس انسان کا وائس سنا جس نے یہ ویڈیوز اسے بجھی تھی۔۔
اپنی بیوی کے مزید کرتوت دیکھے کے لیے مجھے سے کونٹیکٹ میں رہنا، ایک بھاری مردانہ آواز موبائل سے ابھری۔۔
شاہد نے میسج کرنا چاہا لیکن اس نے شاہد کو بلاک کردیا تھا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
آج ہمارا ٹارگٹ ہوگا انڈیا کا پرائم منسٹر ہاہاہا اور الزام لگئے گا پاکستان فورسز پہ کےزڈ نے اپنے خطرناک عظم بتاتے ہوئے کہا۔۔۔
کےزڈ سر وہ جو آپ نے پاکستان کے کونے کونے سے لڑکیاں اٹھانے کو کہا تھا وہ بھی تیار ہے لڑکیاں کہا لانی ہیں؟؟
وٹ یہ کب ہوا سر رضا نے حیرانی سے کےزڈ کا نیے پلین پہ اسے دیکھا۔۔
رضا کے ایسے کہنے پہ کےزڈ نے بھی حیرانی سے رضا کو دیکھا۔۔
میرا مطلب ہے سر یہ پلین آپ نے مجھے سے شیئر نہیں کیا تو اس لیے پوچھ رہا ہوں۔۔
یہ پلین روما کا تھا وہ اب دوبئ ہے اس لیے سامنے لانا پڑا۔۔۔
تم ایسا کرو اسی جگہ لانا لڑکیوں کو کاظمی شیپ پہ ہاہاہا اس بار کاظمی کا بھی کھیل ختم کرتے ہیں۔۔۔
رضا اس بار تم جانا ساتھ لڑکیاں جب شیپ میں منتقل ہوجائے تو اس کاظمی کو گولی مار دینا اب اس کی ہمیں ضرورت نہیں رہی۔۔۔
ٹھیک ہے سر، رضا نے کہا۔۔
ادھر انڈیا کا پرائم منسٹر پلین میں بیٹھے گا اور جب پلین اس دائرے میں آئے تو ادھر پلین پہ فائر کرنا کےزڈ کیلر کو سمجھا رہا تھا۔۔۔
رضا تم جاؤ ان کے ساتھ۔۔
تم لوگ لڑکیاں شیپ میں منتقل کرو میں ذرا کاظمی صاحب سے بات کر لو رضا صائب کو لے کر ایک طرف چلا گیا۔۔۔
شکر ہے آپ آگئے ورنہ آج میں تو مارا جاتا آپ نے ہی بتایا نا کے وہ کےزڈ مجھے ماروانا چاہتا تھا۔۔۔
صائب پرشانی سے بولا۔۔
صائب میری بات دھیان سے سنو تم اس لوکیشن پہ پہنچ کر اس کیلر کو کیسے بھی روکو میں ان سب کو پولیس کے حوالے کرکے آتا ہوں۔۔۔
ہیپ پیپ۔۔۔
ہیلو سوزین نے رسیور اٹھایا کر کہا،؟؟
میڈم فورا اپنی فورس لے کر اس پتہ پہ پہنچو، اس نے سوزین کو اطلاع دی تو وہ فوار سے پہلے وہاں پہنچی۔۔۔
ہزاروں لڑکیوں کو بازیاب کروایا گیا تھا اور ان تمام آدمیوں کو بھی اریسٹ کرلیا گیا تھا۔۔
سب کام ہوگیا اب مجھے بھی چلنا چایے ہے، وہ جانے لگا تو سوزین نے اسے گن پونٹ پہ رکھ لیا تم یہاں تم بھی ان کاموں میں ملووس ہو نا سوزین نے اس کو باغور دیکھ کر کہا۔۔۔
میں نے پہلے بھی کہا تھا کے مجھے تم مت کہا کرو اوکے، اس نے ہاتھ آگئے بڑھایا ہی تھا کے سوزین نے اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈال دی اور اسے اپنے ساتھ لے جانے لگی۔۔
تم۔ میرا مطلب ہے آپ سوزین ہمیشہ اس کی پرسنیلٹی کے آگئے دب جاتی وہ ایسے کیوں دب جاتی یہ اسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔۔
آپ نے پہلے بھی دو مرڈر کیے تھے اس لیے اب آپ کو ان کے خساب میں میں جیل ڈالو گئ، سوزین تمام مجرموں کے ساتھ اسے بھی لے گئ۔۔۔
میڈم ڈی آئی جی صاحب آفس میں آپ کا ویٹ کررہے ہیں ٹھیک میں جاری ہوں جب میں بیل دو تو ان کو لے کر آنا اندر، وہ خاموشی سے سوزین کی کروائی دیکھنے لگا اب تو اس نے ماسک پہن لیا تھا تاکے اسے کوئی پہچان نہیں سکے۔۔۔
سر ہم نے دو ہزار لڑکیاں اور تین جرائم پیشہ افراد اریسٹ کرلیے ہیں سوزین نے تمام باتیں ڈی آئی جی کو بتائی۔۔۔
ویری گڈ سوزین آپ نے ہمیشہ کی طرح پھر سے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے۔۔۔
تھنکس سر۔۔
سر ایک خاص بندا بھی پکڑا ہے وہ ان جرائم پیشہ افراد میں موجود تھا۔۔
کہاں ہے وہ بلاؤ اسے ڈی آئی جی نے کہا تو سوزین اسے اندر لے آئی۔۔۔
ڈی آئی جی اسے دیکھ کر پہلے حیران ہوئے اور پھر جب انھوں نے اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی دیکھی تو ان کے چہرے کے تاثرات سخت ہوگئے۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *