Tarbiyat by Tawasul Shah NovelR50819 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode25
Rate this Novel
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode01 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode02 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode03 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode04 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode05 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode06 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode07 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode08 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode09 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode10 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode11 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode12 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode13 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode14 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode15 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode16 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode17 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode18 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode19 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode20 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode21 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode22 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode23 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode24 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode25 (Watching)Tarbiyat by Tawasul Shah Episode26 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode27 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode28 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode29 Tarbiyat by Tawasul Shah Last Episode
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode25
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode25
سوزین ابھی ابھی باتھ لے کر نکلی تھی اور وہ ابھی تک باتھ گاؤں میں ہی موجود مرر کے سامنے کھڑی اپنے بال سلجھا رہی تھی کے فورا سے لائٹ آف ہوگئ۔۔
وہ اپنی جگہ سے حرکت کرتی اس سے پہلے ہی کسی نے اسے پیچھے سے آکر ہگ کرلیا ابھی وہ کوئی آواز نکالتی کے اس کے کان میں تابی کی سرگوشی سنائی دی۔۔
وائف جی اپنے ہسبنڈ سے بھی کوئی ایسے ڈرتا ہے کیا ؟؟ تابی کی آواز سن کر اسکے حرکت کرتے ہاتھ رک گئے۔۔
آپ!! یہاں سوزین نے اس کے ہاتھ اپنے پیٹ سے ہٹاتے ہوئے حیرت سے پوچھا؟؟
ہاں میں یہاں کسی کام کے سلسلہ میں آیا تھا مجھے معلوم ہوا میری باربی ڈول بھی اسی ہوٹل میں رکی ہے تو تمھیں دیکھنے چلا آیا تابی نے سوزین کے مزاحمت کرتے ہاتھوں کی پروا کیے بغیر اس کی کمر پہ بکھرے بال اٹھا کر آگۓ کیے اور اسکی نم گردن پہ اپنے ہونٹ رکھ دیۓ۔۔
سوزین جانتی تھی تابی آپنی مرضی سے ہی اسے چھوڑے گا کیوں کے اس کے قریب آنے کا اس کے پاس شرعی اور قانونی حق تھا اور ویسے بھی اس کی شروع سے ہی تابی کے سامنے نہیں چلتی تھی۔۔
لیکن دائس کا خیال آتے ہی سوزین کا تابی کی قربت میں دم گھٹنے لگا۔۔
مجھے تابی سے ابھی بات کرلینی چائے ڈائوارس کے بارے میں سوزین نے کچھ سوچتے ہوئے لب کھلنے چائے ہی تھے۔۔۔ کے تابی کے ہونٹ سوزین کے کندھے سے ہوتے ہوئے آگئے گردن کی جانب بڑھنے لگے ساتھ ہی اچانک اس نے سوزین کے گاؤں کی بیک زیپ کھول دی جو کے کھل کر سوزین کی کمر تک پہنچ گئ تھی جس سے سوزین کے ذہن میں آئی بات فوراً نکل گئ کیوں کے اب اسے اپنے فکر ہونے لگی تھی۔۔
تابی کی بڑھتی ہوئی بےتابیوں نے سوزین کو مزاحمت کرنے پہ مجبور کر دیا جو شاید تابی کو پسند نہیں آئی اسی لیے وہ سوزین کو غصے سے چھوڑ کر چلا گیا۔۔
ارے سوزین تم ایسے کیوں کھڑی ہو دائس نے کمرے میں آتے ہوئے کسی بت کی طرح کھڑی سوزین سے کہا تو سوزین دائس کو سامنے دیکھ کر فوراً اپنی بیک زیپ بند کرنے لگی۔۔
آآپ کب آئے؟ اور یہ کیا ہے سوزین نے دائس کے ہاتھ میں پکڑے کارڈ کی جانب اشارہ کیا؟؟
مجھے آئے ہوئے تو پانچ منٹ گزر چکے ہیں جب تم پتھر کی مورت بنی ہوئی تھی۔۔
بائی دی آوے یہ انوٹیشن کارڈ ہے ہمیں شام میں اس پارٹی میں جانا ہوگا تم ریڈی رہنا یہ ہمارے مشن کا اہم حصہ ہے۔۔
اوکے میں ٹائم پہ ریڈی رہوں گئ اس نے کہا اور جانے کے لیے مڑ گئ۔۔
مس آفندی!۔۔۔
دائس نے اسے پکارا۔۔۔
جی سوزین نے مڑ کر کہا۔
مجھے تم پریشان لگ رہی ہو؟ اگر کوئی مسلہ ہے تو مجھ سے شیئر کرسکتی ہو۔۔
نن نہیں سر ایسی تو کوئی بات نہیں وہ صاف مکر گئ۔۔
دیکھو سوزین۔۔۔ تب ہی سوزین کے موبائل پہ کال آنے لگی۔۔
اوکے تم کال لو شام میں ملاقات ہوتی ہے اور وہ اس کے کمرے سے نکل گیا۔۔۔
ہاں بولو کیا رپورٹ ہے؟
سوزین نے اپنے جونیئر کی کال ریسیو کر کے کہا۔۔
میڈم آپ کا شک ٹھیک ثابت ہوا آپ نے جو صائب کاظمی کے بارے معلومات حاصل کرنے کو کہا تھا وہ سب میں نے حاصل کرلی ہے۔۔۔
رپورٹ کے مطابق مسٹر صائب کاظمی جو کے کاظمی ٹیکسٹیکسٹائل کے اونر بھی ہیں انھوں نے نہ صرف دہشت گردوں کا ساتھ دیا ہے بلکہ ان کے غیر قانونی کاموں میں مدد کرکے ان کے جرم میں برابر کے شریک ہیں اس کے علاوہ یہ بھی سامنے آیا ہے لے اس لڑکے نے آپ کو گن پوائنٹ پہ رکھتے ہوئے کتنے ہی جرائم پیشہ افراد کو قانون کی نظر اور پہنچ سے دور کرنے کا بھی سگین جرم کیا ہے۔۔
ہمممم اچھا سوزین نے اسکی ساری بات سن کر ٹھنڈی سانس خارج کی۔۔
اب میرے لئے کیا حکم ہے میڈم؟؟
تم ایسا کرو اس کے گھر ریڈ ڈال کر فوراً اسے اریسٹ کرو۔۔۔
اوکے میڈم اور اس نے ساتھ ہی رابطہ منقطع کر دیا
سوزین سلوای کے بارے میں سوچتے ہوئے اپنے کام میں مصروف ہوگئ۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ہیلو سلوای کہاں پہ ہو جلدی پہنچو میں تمہارا ویت کررہا ہوں۔۔
بس صائب میں پہنچ رہی ہوں۔۔
صائب سلوای کو لیکر کاظمی ہاوس میں داخل ہوا۔۔۔۔
حال میں داخل ہوتے ہی دونوں نے بلند آواز میں سب کو السلام کیا جس کا سب نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔
ہاں تو بھئ جیسے کے آپ سب جانتے ہیں یہ محترمہ سلوای صائب کاظمی ہیں اس گھر کی سیکنڈ بہو
جی تو بہو صاحبہ کچھ نیئے چہروں سے آپ کا تعارف کرواتے ہیں صائب کے کسی نیوز چینل کے رپورٹر کے طرح کہنے پہ سب ہی مسکرانے لگے۔۔
لیکن سلوای کنفیوز ہوکر تین نیئے چہروں کو دیکھ رہئ تھی جن میں وہ بدتمیز لڑکی بھی تھی یہ کون ہے کیا لگتی ہے صائب کی سلوای نے سوچ کے گھوڑے دوڑائے ہی تھے کے صائب اس کا ہاتھ پکڑ کر شاید کے پاس لے گیا۔۔
یہ ہیں تمھارے سسر میرے بابا شاید کاظمی اور یہ ہے تمھارا دیور شارب شاید میرا چھوٹا بھائی اور یہ ہے تمھاری نند حرہ شاید اور باقی سب کو تو تم پہلے سے جانتی ہی ہو صائب کے تعارف کروانے کے بعد سلوای باری باری سب سے ملنے لگی اور سب اسے بہت اچھی طرح ملے۔۔۔
ہیلو حرہ سلوای نے اس سے گلے ملنا چاہا۔۔
!!پیچھے رہ کر بات کرو مجھے تم جیسی لڑکی کو گلے لگانے کا کوئی شوق نہیں ہے حرہ نے برا سا منہ بنا کر کہا اور وہاں سے چلی گئ۔۔۔۔
سوری بھابھی جان آپی کی طرف سے میں معافی چاہتا ہوں۔۔
شارب نے انسلٹ سے سرخ ہوتے فیس لیے کھڑی سلوای سے معزرت کی۔۔
ارے نہیں شارب کوئی بات نہیں اتنی دیر میں ملازمہ چائے لیکر آگئ تو سب ہلکی پھلکی باتوں میں چائے پینے لگے۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ہنی تم کہاں غائب ہو اتنے دنوں سے مس یو یار اس نے جیسے ہی کال رسیو کی دوسری طرف سے فورا پوچھا گیا۔۔
روحیل یار میں تمھیں انفارم کرنے ہی والی تھی یار ماما دوبئی چلی گھیں بابا کو انفارم کیے بغیر بابا اور شارب گھر بند کر کے ادھر مظفر آباد آگئے اپنے رشتہ داروں کے ہاں اسی لیے میں تمھیں بتا نہیں سکی حرہ نے اس ساری بات سے آگاہ کیا۔۔۔
اووو یار واہ اووو یہ تو بہت اچھا ہوا روحیل نے پرجوش انداز سے. کہا تو حرہ نے بھی اس کی خوشی کی وجہ پوچھ لی۔۔۔
وہ اس لیے کیوں کے میں بھی مظفر آباد ہی ہوں یہاں میں اپنی آنی کے گھر۔۔۔
ارے یہ تو واقع میں بہت خوشی کی بات ہے حرہ نے بھی مسکرا کر کہا۔۔۔
حرہ ڈارلنگ آجاو نا باہر ہمیں ملے ہونے کتنے دن گزر گئے۔۔
اووو مائی سویٹ ہارٹ میں ابھی آرہی ہوں حرہ کو بھی ملنے کی طلب جاگی تو اس نے فورا آنے کی حامی بھر لی۔۔
وہ نک سک سے تیار ہوکر باہر نکل گئ۔۔۔
صاحب جی باہر پولیس آئی ہے اور صائب بابا کو بلا رہئ ہے۔۔
ملازم نے آکر اطلاع دی تو ڈائننگ حال میں بیٹھے تمام افراد نے کھانے سے ہاتھ روک کر ملازم کی بات سنی۔۔
کیوں خیر تو ہے نا صائب نے کھڑے ہو کر کہا اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔
صائب کے پیچھے باقی سب بھی باہر آگئے۔۔
یو آر انڈر اریسٹ مسٹر صائب کاظمی آپ کے خلاف اریسٹ وارنٹ ہے
واٹ۔۔۔ سلوای نے بات سن کر اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا۔۔۔
اب پولیس صائب کے جرائم بتا رہئ تھی اور سلوای کے آنسو بند توڑ کر باہر آرہے تھے۔۔
چلیں مسٹر صائب ۔۔
نہیں میرے صائب ایسا کچھ نہیں کرسکتے سلوای نے چلا کر کہا۔۔
میری آپی ڈی ایس پی ہیں سوزین عمر آفندی یہ کہتے ہی سلوای نے سوزین کو کال ملا کر اسپیکر اوپن کردیا
سوزین نے سلوای کی ساری بات سن کر کہا سوری سلوای میں تمھاری کوئی ہلپ نہیں کرسکتی اور صائب پہ کوئی الزامات نہیں ہیں بلکے سب سچ ہے اس کی گوائی میں بھی دیتی ہوں اور رہی بات میری گوائی کی تو تم اچھی طرح جانتی ہو تمھاری آپی کبھی غلط بیانی نہیں کرئے گئ اور اس وقت میں ڈیوٹی پہ ہوں اس لیے صائب کو جانا ہوگا سوزین نے صائب کو لے جانے کا حکم دیا تو سلوای نے بے یقینی سے صائب کو دیکھتے ہوئے کہا یہ امید نہیں تھی آپ سے اور ساتھ ہی بے ہوش. ہو کر زمین پر گر پڑی۔۔۔
شاہد اور شارب پریشان کھڑے تھے کے باہر آئی حرہ نے تمام کروائی دیکھی تھی۔۔۔
بابا یہ آپ کے وہ ہی بیٹا ہے نا جس پہ آپ کو فخر تھا
آپ کا مجرم بیٹا حرہ نے باپ کو چوٹ پہنچائی تھی۔۔۔
آپی .۔۔۔۔
شارب چلایا ۔۔۔
چلاوٴ نہیں جو سچ ہے وہ ہی کہا ہے وہ کہہ کر باہر نکل گئ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سوزین تم ریڈی ہو دائس نے کمرے میں آتے ہی سوزین کو آواز لگائی۔۔
یس سر میں ریڈی ہوں سوزین یونفارم پہ نیم پلیٹ سیٹ کرتی ہوئی باہر نکلی۔۔۔۔
ارے یہ کیا تم نے یونفارم کیوں پہن لیا؟؟
تو کیا پہنا تھا سوزین نے چونک کر اس سے پوچھا۔۔؟؟
ارے ہم خفیہ مشن پہ جارہے ہیں یونفارم میں نہیں جاسکتے کوئی اور ڈریس پہن کر فورا نیچھے آو میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔
وہ کہہ کر باہر چلا گیا۔۔
وہ ٹروزر کے اوپر ٹی شرٹ پہنے دائس کو آتی ہوئی دیکھی ارے یار اسے کا ڈریسنگ سنس کہاں رہ گیا
اس نے اسے دیکھ کر افسوس سے اسٹیرنگ پہ مکاہ مارا۔ ۔۔
وہ خاموشی سے آکر بیٹھ گئ تو دائس نے بھی گاڑی آگئے بڑھا دی۔ ۔
چلو آترو دائس نے ایک شاپنگ مال کے سامنے گاڑی روک کر اسے اترنے کو کہا۔ ۔۔
بٹ یہاں کیوں ؟؟ ۔دائ۔ ۔ سر۔ ۔۔ اس نے کوفت سے اس سے پوچھا۔
اترو بتاتا ہوں۔۔
دائس اسے لے کر مال کے۔ اندر چلا گیا تم ادھر رکو میں آتا ہوں۔ ۔
دائس واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھا جو اس نے سوزین کو تھما کر چینجگ روم میں بھج دیا کے اس ڈریس کو فورا پہن کر باہر آو اٹس مائی آرڈر۔۔
سوزین کو ناچارا جانا پڑا کیوں کے وہ اپنے دائس سر کو انکار نہیں کرسکتی تھی اور نہ وہ ایسا کرنا چاہتی تھی۔ ۔
بلیک باربی فراح پہن کر جب وہ باہر نکلی تو دائس کی نظر اک منٹ کو اسی پہ رک گئ لیکن وہ جلدی ہی سنبھل گیا۔۔
اب میرے ساتھ چل سکتی یو یہ کہتے ہی دائس نے سوزین کے کیچر میں قید بال کیچر سے آزاد کردیئے بال کھل کر اس کے شانوں پہ پھیل گئے تو دائس اس رک کر نظر بھر کے دیکھنے لگا۔۔
اب لگ رہی ہو نا میری “باربی ڈول” سوزین کے حیرانی سے دیکھنے پہ وہ۔ فورا سنبھل کر بولا میرا کہنے کا مطلب ہے باربی فراح پہن کر ڈول لگ رہی ہو خیر چلو کافی لیٹ ہوگیا ہے۔ ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
اس پاڑٹی میں دائس اور سوزین بالکل دوسرے لوگوں کی طرح گھوم رہے تھے لیکن دائس اور سوزین اپنے مشن پہ بھی مکمل فوکس کر رہے تھے۔۔
سوزین بہت پیاری لگ رہی تھی وہاں ہر لڑکے کی نظر اسی پہ تھی سوزین سارا جائزہ لے کر ایک چیئر پہ بیٹھ گئ سامنے ہی دائس تھا۔۔۔
اس نے ایک کلاس میں سٹنگ ڈالی اور چھوٹے چھوٹے سلپ لینے لگی۔ ۔۔
دائس نے اسے اشارے سے بلایا تو وہ اپنا گلاس وہیں چھوڑ کر دائس کی طرف چلی گئی ۔۔
۔
بس سوزین ان لوگوں کا گروپ پہنچنے والا ہے تم ریڈی رہنا میں سگنل دو گا تو فورا ادھر کے حالات دیکھ لینا اوکے بوس سوزین نے مسکرا کر کہا اب جاوٴ ادھر ہی بیٹھو۔ ۔
ابے وہ دیکھ کیسا مال ہے سوزین کے اٹھ کر جانے پہ لڑکوں کے گروپ میں سے ایک آوارہ لڑکے نے ہوس خور لہجے میں کہا تو باقی سب نے بھی سوزین کو آنکھوں میں. ہوس لیے دیکھا۔۔
واہ یار کیا مست مال کی تاک لگائی ہے۔۔
مانتا ہے نا پھر چلو چلو اس کی ڈرنک میں یہ ملاتے ہیں لڑکے نے سب سے زیارہ نشے والی بوتل کی طرف اشارہ کیا۔۔
ہاہاہاہا پھر خود ہی مدھوش ہوکر ہماری باہوں میں چلی آئے گئ ہاہاہا اور پھر ان سب نے سوزین کے آنے سے پہلے اس کے گلاس میں وہ نشہ کافی مقدار میں. ملا دیا۔۔۔
سوزین نے ایک ہی سلپ لیا تھا کے دائس نے اسے اشارہ کیا وہ فورا وہاں بھاگی دائس نے اسے بتایا کے اس ٹیرارسٹ گروپ میں ایک عورت بھی ہے ہمیں انفارمیشن ملی ہے کے وہ عورت اوپر کمروں میں ہے یہ رہی اسکی فوٹو دیکھو اور جاوٴ دائس نے اسے پکس دیکھائی سوزین کو اپنا سر ہلکا ہلکا گھومتا ہوا محسوس ہوا لیکن وہ اس کی پروا کیے بغیر اوپر کی جانب بھاگی۔۔۔
زوبیر میں آج پاکستان جارہی ہوں باقی کے انتظام تم دیکھ لینا ہینڈز آف سوزین نے گن دیکھا کر کہا تو تو۔وہ دودونوں ہی ڈر گئے۔۔۔
ارمہ گڈ بائے اب تمھاری ضرورت نہیں رہی مجھے کمال زوبیر نے گن نکالتے ہوئے کہا اور ارمہ کی بازو پہ۔گولی چلا کر بھاگ گیا سوزین زوبیر کے پیچھے بھاگی لیکن چکرا کر وہی رک گئ ورنہ وہ گر جاتی۔۔
دائس گولی کی آواز سن کر فورا اوپر کو بھاگا جہاں بہت مشکل سے سوزین ارمہ پہ گن تانے کھڑی تھی اگر ارمہ زخمی نہ ہوتی تو کب کی فرار ہوچکی ہوتی لیکن ابھی وہ اپنے بازو پہ ہاٹھ رکھے خون روکنے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔۔۔۔
سوزین نے آنکھیں اٹھا کر ارمہ کو دیکھا تو بے اختیاط اس کے منہ سے نکلا ارمہ مامی آپ۔۔؟؟
ت۔تم کون ہو ارمہ اس کے منہ سے مامی لفظ سن کر ارمہ اپنا درد بھول کر بولی۔۔
میں دعا ہوں وہی دعا جس کے ساتھ آپ نے زبردستی اپنے اس دوست کا نکاح کروایا تھا جو آپ کو نقصان پہنچا کر بھاگ گیا۔۔
خیر میں قانون کی غلام ہوں اور میرا آپ سے کوئی واسطہ نہیں اب وہ بالکل خاموشی ہوچکی تھی کیوںکہ وہ دائس کو نہیں بتانا چاہتی تھی کے اس کے رشتہ دار ایسے ہیں۔۔۔
دائس کے حکم پہ ارمہ کو ہوسپیٹل لے جایا گیا تھا تاکے اس کی ڈریسنگ ہوسکے تاکے وہ پاکستان جاسکے ۔۔۔
سوزین آر یو اوکے دائس نے سوزین کو دیکھ کر کہا؟؟۔
سر بس چکر آگئے تھے آپ اس کے پیچا کریں وہ اس طرف بھاگا ہے۔۔
اوکے اوکے میں جارہا ہوں تم نیچھے جاکر میرا ویٹ کرو۔۔۔
سوزین آکر واپس چیئر پہ بیٹھ گئ۔۔
ہیلو بیبز اسی گروپ کا لڑکا سوزین سے آکر بولا۔۔
ہائی سوزین نے بھی کہا ۔۔
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟؟ اس نے سامنے پڑی چیئر کی طرف اشارہ کیا۔۔
ہاں بیٹھ جاو۔۔
تمھاری طبیعت ٹھیک ہے نا؟؟۔
ہممم سر میں درد ہے تھوڑا۔۔
اچھا یہ ڈرنک پی لو شاید گرمی کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے اوو اچھا سوزین نے ڈرنک لی تو ٹھنڈی ہونے کی وجہ سے اسے اچھا فیل ہوا تو وہ پورا گلاس پی گئ۔۔
پانچ منٹ میں ہی سوزین پہ ڈرنک کا اثر ہونے لگا تھا وہ لڑکھڑتے قدموں سے چلتی ہوئی اسٹیج تک پہنچ گئی. اور دوسری لڑکیوں کی طرح ڈانس کرنے لگی۔۔۔۔
بیبز کین آئی ڈانس وڈ یو؟؟ لڑکے نے سوزین سے پوچھا؟؟۔
ہاہاہا یس یس وائے ناٹ سوزین نے پاگلوں کی طرح قہقہہ لگایا اور اس کے ساتھ ڈانس کرنے لگی۔۔
اتنے میں دائس آگیا اور جب اسکی نظر سوزین کی کمر پہ ہاتھ رکھے لنگور پہ پڑی تو اس کا پاڑا ہائی ہوگیا۔۔۔
لیوو ہر دائس نے کھنچ کر سوزین کو اس سے پیچھے کیا ۔۔۔
اور سوزین تمھیں بہت شوق یورہا ہے کپل ڈانس کرنے کا تو میں تمھیں نظر نہیں آیا کیا دائس نے اس سے غصے سے کہا۔۔
وہ ۔۔ وہ مجھے نا یہ زبردستی یہاں لے آیا سوزین نے معصومیت سے کہہ کر اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا تو دائس سمجھ گیا سوزین کو ڈرنگ پلائی گئ ہے ورنہ خود سوزین تو سٹنگ کے علاوہ کوئی ڈرنک تک نہیں پیتی۔۔۔۔
سوزین دائس سے اردو میں بات کررہی تھی اس لڑکے کو اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن جو سوزین نے اس کی طرف اشارہ کرکے دائس کو بتایا تھا کے یہ زبردستی مجھے ہیاں لایا ہے اسے وہ لڑکا پتہ نہیں کیا سمجھ کر مسکرا کر بولا شی از مائی گرلفرنڈ یہ کہہ کر اس نے سوزین کی بازو پکڑنا چاہی تو دائس نے کھنچ کر اس کے منہ پہ مکاہ رسید کیا باسٹڈ شی از مائی وائف اور سوزین کو ہاٹھ سے پکڑ کر لے جانے لگا لیکن وہ لڑکھڑا کر زمین پر بیٹھ گئ تو داٙئس نے اسے بازوؤں میں اٹھا لیا اور اپنی گاڑی کی طرف چل پڑا۔۔۔
سوزین اب بےھوش ہوچکی تھی کیوں کےاس نے کبھی ڈرنک نہیں کی تھی دائس اسے اٹھا کر اپنے ہی روم میں لے آیا ابھی ٹائم بھی کافی ہوچکا تھا رات کے تین ہوچکے تھے دائس نے سوزین کو بیڈ پر لیٹایا تو جس کی وجہ سے وہ ھوش میں آئی دائس ابھی اس سے پیچھے ہی ہوا تھا کے سوزین نے اسکا بازو پکڑ کر کھنچا تو دائس اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے اس کے اوپر جاگرا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
