Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode28

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode28

نہایت پریشانی میں وہ چکر کاٹ رہا تھا کے اس کے موبائل پہ بیل ہوئی۔۔
اسکرین پہ نظر ڈالتے ہی اسے حیرت ہوئی اگر کوئی اور موقع ہوتا تو اسے خوشگوار حیرت ہوتی لیکن اس وقت وہ بہت پریشان تھا۔۔۔
آج سے پہلے سوزین نے کبھی خود سے تابش کو کال نہیں کی تھی اس لیے اسے حیرت ہوئی۔۔
نہایت پریشانی میں بھی اس نے کال پک کرکے موبائل کان کے ساتھ لگایا۔۔۔
زبردست میں کہتی ہوں آپ میڈل کے حقدار ہیں اپنی کزن سے نکاح کرکے اب باپ بنے کے اشتہار بھی لگ چکے آپ کے اور آپ ابھی بھی میرے ساتھ رشتہ قائم کیے بیٹھے ہیں۔۔۔
سوزین نے نہایت تلخ لہجہ اپناتے ہوئے سوال کیا وہ خود بےشک اس کے ساتھ رشتہ نہیں رکھنا چاہتی تھی لیکن آج صبح جب اسے کسی نے ان نوٙئن نمبر سے تابش کے بارے میں بتایا تو اس سے بالکل برداشت نہیں ہوا بلکہ اسے آگ لگ گئ تھی یہ سن کر اس نے سوچا وہ تابش کے نکاح میں یے اس بارے میں سوچ کر میں دائس سے کبھی کبھار کیسا برتاؤ کر جاتی ہوں اور تابش نے یہ سب کردیا۔۔۔
تمہیں تو مسلہ نہیں ہونا چائے نا تم تو ویسے بھی میرے ساتھ رخصتی نہیں کرنا چاہتی تابش نے پریشانی کو ایک سائڈ رکھتے ہوئے اسے چیڑنا ضروری سمجھا۔۔۔
اووو اچھا یعنی میں رخصتی کے لیے نہیں مانو گئ تو آپ نکاح پہ نکاح کرتے جائے گئے اور میں پوچھو تک نہیں سوزین نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔
تو میں مرد ہوں نکاح پہ نکاح چھوڑ کر چار چار نکاح کرسکتا ہوں تم میری بیوی بنے کی کوشش مت کرو اور حرہ میری بیوی ہے اب تابش کو لگا سوزین جیلس ہورہی ہے تو اس نے اسے مذید جیلس کیا۔۔۔
وہ آپ کی بیوی ہے اس کا ثبوت تو مل گیا آپ نے جو چاند چڑھایا ہے۔۔۔
اب مجھے اس رشتہ سے آزاد کردیں میں نہیں رکھنا چاہتی مذید اس رشتہ کو سوزین نے کہتے ہی کال ڈسکینٹ کردی۔۔۔
موبائل دور پھینک کر اوندھے منہ بیڈ پہ لیٹ کر رونے لگی۔۔۔
سوزین یہ کیا ہے ہاں!؟؟
ادھر تم دائس سے محبت کا دعویٰ کرتی ہو ادھر تابش کو بھی کسی اور کا ہوتا نہیں دیکھ سکتی؟؟ اس کے زمیر نے اس سے جھنجھوڑ کر سوال کیا؟؟۔
دو کشتیوں کا مسافر ہمیشہ منہ کے بل گرتا ہے سوزین عمر آفندی اوو سوری اب تو تم سوزین تابش کاظمی ہو نا تو فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے دائس یا تابش لیکن ان دونوں میں ایک کا انتخاب کرنے کا وقت آگیا ہے سمجھی تم۔۔
نہ۔۔ نہیں نہیں میں نکاح جیسے مقدس رشتہ کو طلاق جیسی لعنت سے ختم کرکے کبھی زندگی میں خوش نہیں رہ سکو گئ ہاں اب میں دائس سے بات کرو گئ اس نے دل میں عہد کیا تھا۔۔
میرے ہاتھ میری بےگناہی کا سرا تو آگیا ہے لیکن حرہ جیسی ذلیل لڑکی کا بھی کوئی پرمنینٹ حل تلاش کرنا پڑے گا۔۔۔
حرہ کی اگر صرف عادتیں ہی بری ہوتی تو میں اس سے کبھی اپنا نام نے چھنٹا لیکن حرہ کی نہ صرف عادتیں بری ہیں بلکے اس کا کردار بھی بہت برا اور داغدار ہے میں اسے کبھی بیوی کی صورت قبول نہیں کرسکتا۔۔
تابش کو کل حرہ کے دوستوں سے نہ صرف اپنی بے گناہی کا ثبوت ملا تھا بلکے اس کے کریکٹرلیس ہونا کا پتہ بھی چلا تھا۔۔۔
وہ ایسے یقین بھی نہ کرتا لیکن اس کی ایک نہیں کوئی سو کے قریب ویڈیوز دیکھائی گئ تھی اسے ایسا روحیل نامی لڑکے نے کیا تھا اس نے تابش کو یہ بھی بتایا کے حرہ نے مجھ سے شادی سے انکار کردیا اس لیے میں بھی اب حرہ کو برباد کردو گا۔۔۔
حرہ مزے سے بیڈ پہ بیٹھی فروٹ کھا رہی تھی جو زینب بیگم اس کے لیے لائی تھیں کیوں کے وہ سمجھتی تھی وہ دادی بننے والی ہیں۔۔۔
حرہ۔۔۔ حرہ۔۔۔ تابش نے گھر میں داخل ہوتے ہی اسے پکارا۔۔۔
چلو تابش نے اسے بازو سے ہکڑ کر اٹھایا اور ساتھ لے جانے لگا۔۔۔
تابش میں کہتی ہوں چھوڑو حرہ کو زینب بیگم نے تابش سے کہا۔۔۔
ممی آپ اسے میری بیوی کہتی ہیں تو تھوڑی دیر کے لیے میاں بیوی سمجھ کر خاموش ہوجائیں تابش کہتے ہی حرہ کو لے کر چلا گیا۔۔۔
چلو نکلو تابش نے گاڑی رک کر کہا یہ آپ مجھے کہاں لے کر جارہے ہیں؟؟ حرہ نے سامنے گائنی کالجسٹ شفان کا بورڈ پڑھتے ہوئے کہا۔۔
چلو اندر پتہ چل جائے گا تابش اسے اندر لے کر چلا گیا۔۔۔
تابش نے حرہ کو لاکر شفان کے ٹیبل پہ دھکا دیا شفان اس کا چک اپ کرو اور بتاو کے کیا اس کے بیٹ میں پلنے والا بچا میرا ہے
اوکے تابش میں چک کرتی ہوں۔۔
نن۔۔۔ نہیں جانا میں نے میں نے کہا نا یہ آپ کا بچا ہے۔۔۔
خاموش تابش نے ایک چھوڑ کر اس کے منہ پہ دی اور اسے شفان کے ساتھ بھج دیا۔۔
شفان تابش کی کالج فرنڈ تھی اس لیے شفان تابش کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھ کر سمجھ گئ تھی کے کوئی بڑا مسلہ ہے ورنہ تابش کو وہ بہت اچھی طرح جانتی تھی وہ عورت ذات کی عزت کرنے والا مرد تھا۔۔۔
تابش یہ رہی رپورٹس اور تمہارا شک سچ ثابت ہوا یہ تمہارا بچا نہیں ہے۔۔۔
بہت شکریہ شفان اور وہ حرہ کو لے کر گھر آگیا۔۔۔
تابش نے اسے گھر لا کر زینب بیگم کی طرف دھکا دیا۔۔
تابش۔۔۔ شعیب صاحب نے غصے سے کہا بابا بس اب آپ سنے میری تابش نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔۔۔
چاچو۔۔۔ شارب جلدی سے باہر آیں۔۔
حرہ شعیب کے گلے لگ کر رو رہی تھی جب شاہد اور شارب بھی آگے تو شعیب صاحب حرہ کو چھوڑ کر تابش کی قریب ہوئے۔۔۔
تابش نے بولنا شروع کیا۔۔
یہ رہا میری بےگناہی کا ثبوت تابش نے اپنا موبائل ال ای ڈی کے ساتھ کونیکٹ کیا اور وہاں ویڈیو چلنے لگی تابش کی شکل کا ماسک پہنے ایک لڑکا حرہ کے کمرے میں آیا سب کو لگا یہ تابش ہی ہے لیکن جب اس نے اپنا ماسک اتارا تو وہ کوئی اور لڑکا تھا لیکن باڈی بالکل تابش جیسی تھی اور اس پہ تابش کی شکل کا ماسک کوئی بھی دھوکا کھا سکتا تھا۔۔
یہ حرہ کے کمرا کا سی سی ٹی وی ہے جو میں نے لگایا تھا جس کا آپ سب کو پتہ نہیں تھا۔۔۔
اور یہ رہی رپورٹس یہ میرا بچا نہیں ہے جو اس کے پیٹ میں پل رہا ہے تابش نے غصے سے کہا اور رپورٹس ہوا میں اچھل دی جو اڑ کر فرش پہ بکھر گئ۔۔
جب ہمارے بیچ ایسا رشتہ ہی نہیں تو بچا ناممکن ہے نا تابش یہ کہتے ہوئے غصے سے حرہ کی جانب مڑا ۔
میں تابش رضا کاظمی اپنے ہوش و ہواس میں حرہ شاہد کو طلاق دیتا ہوں۔۔۔
نہیں حرہ کانوں پہ ہاتھ رکھے چلائی نہیں تابش پلیز مجھے معاف کردیں مجھ سے غلطی ہوگئ لیکن مجھ اپنی زندگی سے مت نکالیں وہ روتی ہوئی تابش کے قدموں میں بیٹھ گئ لیکن تابش اسے تین طلاق دے کر. گھر سے باہر چلا گیا۔۔۔
افسوس۔۔ تابش کے جانے کے بعد شعیب صاحب نے کس کر حرہ کے منہ پہ تھپڑ مارا اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔
ذلیل لڑکی میرے بیٹے کی زندگی خراب کرنے چلی تھی اور اپنا یہ گناہ بھی میرے بیٹے کے سر ڈالنا چاہا۔۔
زینب بیگم نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے باری باری دونوں گالوں پہ اپنا غصہ نکالا اور شعیب صاحب کے پیچھے چلی گئ۔۔
تو بھی اپنی ماں جیسی نکلی نا آج میرے خاندان کے سامنے میری عزت خاک میں ملا دی تو نے شاہد نے اس کے پاس آتے ہوئے کہا بابا پلیز مجھے معاف کردیں۔۔
مت کہہ اپنی ناپاک زبان سے مجھے بابا میں تجھے زندہ نہیں چھوڑ گا یہ کہتے ہوئے شاہد نے اس کا گلہ دبانا شروع کردیا۔۔
حرہ کی بری حالت ہوچکی تھی سانس بند ہونے سے۔۔
بابا چھوڑیں آپی کو شارب نے آکر حرہ کی گردن سے شاہد کے ہاتھ ہٹائے۔
اور حرہ کھانستے ہوئے نیچھے زمین پہ گر گئ۔۔
چلیں کمرے میں آپ کی طییعت خراب ہوجائے گی شارب شاہد کو اس کے کمرے میں لے گیا حرہ وہیں بے ھوش پڑی رہی کسی گھر والے نے اسے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
بیٹا تابی ہمیں معاف کردو ہم نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا تمہاری بات کا یقین نہیں کیا۔۔
ممی بابا پلیز مجھ سے معافی مانگ کر مجھ پہ دوزخ واجب مت کریں۔۔۔
تابش نے ماں باپ کے جڑے ہوئے ہاتھ دیکھ کر کرب سے کہا۔۔۔
الله نہ کرئے بیٹا کیسی باتیں کرتے ہو زینب بیگم نے اس کے ہونٹوں پہ اپنا ہاتھ رکھا۔۔
تو میرے پیارے ممی بابا مجھ یوں شرمندہ مت کریں پلیز۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔
ممی بابا بیٹھیں نا آپ دونوں سے بہت ضروری بات کرنی ہے میں نے ہاں ہاں کہو بیٹا شعیب صاحب نے صوفہ پہ بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔
بابا ممی میری رخصتی کردیں اب آپ عمر انکل سے بات کریں نا تابش نے دونوں کے سامنے اپنی بات رکھی۔۔۔
پر بیٹا صائب کی رہائی میں ابھی چھ ماہ ہیں تو میں چاہ رہی تھی دونوں کی رخصتی اگھٹی کردو۔
ہاں بیٹا تمہاری ممی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے شعیب صاحب نے بھی بیوی کی ہاں میں ہاں ملائی
ممی جی بابا آپ چاہ کر بھی صائب کی رہائی کے فوراً بعد ان کی رخصتی نہیں کرسکتے کیوں کے سلوای کو میڈیکل میں ابھی اڑھائی سال ہوئے ہیں اور صائب کی رہائی کے بعد سلوای کے تین سال مکمل ہوں گئے آپ لوگ صائب کی رہائی کے مذید دو سال بعد رخصتی کرسکتے ہیں تابش نے دونوں کو تفصیل سے سمجھایا۔۔۔
ہاں یہ تو ٹھیک کہہ رہا بیگم اپنا تابی ش
شعیب صاحب نے زینب بیگم کی طرف دیکھا؟؟
ہممم تو ہھر تابش کی رخصتی کی ڈیٹ لینے چلتے ہیں کل آپ کیا کہتے ہیں زینب بیگم نے بات کرکے شوہر سے بھی پوچھا۔۔۔
ارے بھئ فیصلہ تو آپ کا ہوتا ہے ہمارے تو بس ساگنیچر چائے ہوتے آپ کو شعیب صاحب نے بیوی کو چیڑنا ضروری سمجھا۔۔۔
شعیب.۔۔۔
زینب بیگم نے ناراض ہوتے ہوئے کہا تو دونوں باپ بیٹا ہنسنے لگے۔۔۔
ارے ارے ممی ایک اور بات یاد آئی۔۔
زینب بیگم نے اٹھ کر جانا چاہا تو تابش کو کچھ اور بھی یاد اور اس نے انہیں دوبارہ بیٹھا لیا۔۔
ہاں بھئ اب بول بھی دو۔۔
وہ بات یہ ہے کے شارب نے ایک لڑکی پسند کی ہے اور خیر سے وہ لڑکی میرے جاننے والے کی بیٹی ہے جس کے ماں باپ مرچکے ہیں اور وہ میرے ہی دئے ہوئے فلیٹ پہ رہتی ہے۔۔
شارب نے مجھ سے بات کی تھی کے وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔
اوو میرا بیٹا تم نے بے سہارا کو چھٹ دی مجھے فحر ہے اپنے بیٹے پہ زینب بیگم نے خوش ہوکر کہا۔۔۔
اچھا تو ہم اس کی بات کس سے کریں گئے شعیب صاحب نے پوچھا؟؟
ارے اس کا بڑا بھائی آپ کے سامنے ہے میں نے ہمیشہ شیزا کو بہن سمجھا ہے تابش کے کہنے پہ دونوں میاں بیوی مسکرانے لگے۔۔۔
ہممم تو پھر ہم شاہد سے بات کرلیتے ہیں شارب کی شادی بھی تمہارے ساتھ ہی کردیتے ہیں۔۔
ہمم یہ بسٹ رہے گا تابش نے کہا۔۔۔
اوکے بیٹا ہم چلتے ہیں تم بھی سو جاو اور دونوں باہر نکل گئے۔۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
تابش نے سوزین کو اپنی بے گناہی تمام ثبوتوں کے بارے میں بتایا تھا اور حرہ کو طلاق کا بھی بتایا تھا۔۔۔
تابش نے میرے لیے اپنی چچاذاد کو طلاق دے دی انہیں میری ہر بات سے فرق پڑتا ہے اور میں ان کی جائز اور پاکیزہ محبت پہ نامحرم محبت کو ترجیح دے رہی ہوں کتنی پاگل ہوں میں سوزین کتنی دیر سے تابش کو ہی سوچ رہی تھی۔۔
زینی بیٹا!۔۔ انیلہ بیگم نے سوزین کے کمرے میں آتے ہوئے اسے پکارا جو ان کی آواز سن کر واشروم میں بھاگ گئ تھی کیوں کے اس کی آنکھیں کبھی بھی برس سکتی تھی۔۔۔
زینی بیٹا جلدی سے تیار ہوکر نیچھے آو تابش کی فیملی آئی ہے ان سے مل لو انیلہ بیگم اس باہر سے ہی کہتی نیچھے چلی گئ۔۔۔
سوزین تیار ہوکر آئی سب سے ملنے کے بعد ان کے پاس بیٹھ گئ،۔۔
ہاں تو عمر پھر اس ہفتہ کو رخصتی رکھ لیتے ہیں کیا خیال ہے شعیب صاحب نے عمر صاحب سے اجازت چاہی۔۔۔
بہت اچھے خیال ہیں بھئ شعیب لیکن آپ لوگ میری لاڈلی بیٹی کو اتنی جلدی لے کر جارہے ہو عمر صاحب نے سوزین کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ارے یار وہ بھی تو آپ سب کا اپنا گھر ہے جب دل چاہے بیٹی سے مل لیا کرنا شعیب صاحب نے مسکرا کر. کہا اتنے میں ملازمہ مٹھائی اور دیگر لازمات لے آئی اور سوزین اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔
شرما گئ ہماری زینی انیلہ بیگم نے اسے جاتا دیکھ کر کہا۔۔۔
کتنے خوش ہیں سب میں رخصتی سے انکار نہیں کرسکتی میں انکار کرکے ان سب کی خوشیوں کی قاتل نہیں بن سکتی۔۔۔
مجھے جانا ہوگا سوزیں نے موبائل اٹھا کر ایک نمبر ملایا۔۔۔
جلدی مجھ سے فلاں جگہ ملو ہمم میں آرہی ہوں۔۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
شاہد بات کچھ یہ ہے۔۔۔۔
اب بتاو تمہاری کیا رائے ہے شعیب اور زینب نے شارب کے متعلق شاہد کو بتاکر اس سے رائے مانگی۔۔۔
بھائی صاحب آپ اور بھابھی جان مجھ سے بڑے ہیں جب آپ دونوں خوش ہیں سب سے بڑھ کر شارب خوش ہے تو مجھے بھی کوئی مسلہ نہیں میں تو اپنے بچے کی خوشی چاہتا ہوں بس۔۔
شاہد نے پریشان ہوکر حرہ کے کمرے کی طرف دیکھا مت پریشان ہو شاہد سب ٹھیک ہوجائے گا شعیب صاحب نے اسے تصلی دی۔۔۔
حرہ بالکل اپنے آپ میں نہیں رہی تھی ہر وقت تابش کی تصویر کو گلے لگائے روتی رہتی تھی سب سے معافیاں مانگتی اور بس یہ ہی کہتی میں تابش کے بغیر نہیں جی سکتی مجھے تابش چائے ہیں۔۔
سب اس کی حالت دیکھ کر یہ تو جان گئے تھے کے حرہ کو سچ مچ تابش سے شدید قسم کی محبت ہوگِئ ہے پہ اب ہو بھی کیا سکتا تھا جب بھی کبھی اس کا تابش سے آمنا سامنہ ہوتا وہ اسے دیکھ کر نیم پاگل سی ہوجاتی اور جب تابش اسے نظرانداز کرکے گزر جاتا تو اس سے برداشت نہیں. ہوتا اور وہ چلا چلا کر بےھوش ہوجاتی۔۔…
زینی تم نے مجھے اتنی ہڑبڑی میں اس وقت کیوں بلایا دائس نے کڑکتی دھوپ کو دیکھ کر درخت کے نیچھے چلتے ہوئے کہا۔۔۔
دائس آپ مجھے بھول جائیں۔۔
تمہارا دماغی توازن تو درست ہے نا کہیں گرمی دماغ کو تو نہیں چھڑ گئ دائس کا لہجہ مزاح اڑانے والا تھا۔۔
میرا دماغی توازن بالکل درست ہے بلکے ابھی ہی تو ٹھیک ہوا ہے۔۔
میں آپ سے اب کوٙئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتی سوزین کہہ کے جانے لگی۔۔۔
روکو زینی مجھے جب تک ٹھوس وجہ نہیں بتاو گئ اس انکار کی تب تک میں تمہیں جانے کی اجازت نہیں دو گا دائس نے اس کا بازو پکڑ کر کہا۔۔۔
وجہ ہے بہت بڑی وجہ ہے بلکے آج سے نہیں ہے بہت پہلے سے ہے لیکن میں پتہ نہیں کیا سوچ کر آپ کے ساتھ محبت کا کھیل کھیلتی رہی سوزین نے اپنا بازو چھڑوا کر غصے سے کہا۔۔۔
آپ کو وجہ چائے نا تو وجہ میں بتاتی ہوں میں اڑھائی سال سے کسی کے نکاح میں ہوں میں اس وقت بھی نکاح میں تھی جب آپ میری زندگی میں آئے میں اتنے عرصے سے اپنے رشتہ کے ساتھ بےوفائی کرتی رہی لیکن اب نہیں کرسکتی میں نے طلاق کے بارے میں بھی بہت سوچا لیکن ایک مقدس رشتہ کو میں نامحرم کے لیے ختم کرکے کبھی خوش نہیں رہ سکو گئ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کے اب آپ کو بھول جانا ہی میرے رشتہ کے لے بہتر ہے۔۔۔
اگلے ہفتہ میری رخصتی ہے بہتر ہوگا اب آپ مجھ سے رابطہ مت کیجئے گا وہ کہہ کر رکی نہیں بلکے بھاگتی ہوئی اپنی گاڑی میں بیٹھ گئ اور گاڑی کو گھر کے راستہ پہ ڈال دیا۔۔
پیچھے کھڑا دائس پہلے تو خاموشی سے اسے جاتا دیکھتا رہا پھر مسکراتے ہوئے۔ ۔۔
” سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے”
“دیکھنا زور کتنا بازو قاتل میں ہے”
یہ شعر کہہ کر وہ بھی اپنی منزل کی طرف چل پڑا۔۔
. . . . . . . . . .. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
آج بروز جمعہ شارب اور شیزا کا نکاح اور رخصتی تھی۔۔۔
تابش نے بڑوں سے کہا تھا کے شیزا میری بہن ہے اس لیے میری رخصتی سے پہلے شیزا اور شارب کی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
تمام مہمان آچکے تھے تھوڑی دیر بعد تابش شیزا کو پکڑ کر لایا اور شارب کے ساتھ بیٹھا دیا کیوں کے نکاح ہوچکا تھا شارب اور شیزا ہہت کیوٹ لگ رہے تھے مذید کچھ دیر بعد شیزا رخصت ہوکر کاظمی ہاوس آچکی تھی ۔۔
اج ہفتہ تھا فروزی کلر کے لہنگا پہنے وہ آج تابش کے دل پہ چھریوں چلا رہی تھی تابش اس کے حسن سے گائیل تو ہوا تھا لیکن آج بھی منہ چھپانا نہ بھولا تھا۔۔
سوزین آج بھی اپنے دولہے کو دیکھ نہ سکی تھی کیوں کے تابش نے سہرا ہی ایسا پہنا تھا کے چہرے پہ پھولوں کی لڑیاں آرہی تھی اور اس کا چہرا چھپ گیا تھا۔۔۔
سوزین نے جب سٹیج کی طرف آتے تابش کو دیکھا تو منہ لٹکا لیا۔۔
اففف انھوں نے آج بھی مجھے چہرا نہیں دیکھانا۔۔
سوزین تو تو لٹ گئ یار بغیر دیکھے ہی شادی ہورہی ہے سوزین کے دل نے دہائی دی۔۔۔
سوزین عمر صاحب اور انیلہ کی دعاؤں میں روتے دھوتے تابش کے سنگ رخصت ہوکر کاظمی ہاوس پہنچ گئ۔۔
اسے تابش کے کمرے میں لاکر بیٹھایا گیا کمرا پھولوں اور کینڈلز سے پھرا ہوا تھا۔۔۔
تابش کمرے میں آیا اور بیڈ پہ بیٹھ گیا السلام علیکم خوش آمدید ڈئیر وائفی۔۔
و علیکم السلام یہ سہرا تو ہٹا دیں اب تو دیکھا دیں اپنا چہرا سوزین نے دانت ہیستے ہوئے کہا کیوں کے تابش نے ابھی تک سہرا پہن رکھا تھا۔۔۔
ہاہاہا مانا کے میں بہت خوبصورت ہوں اور میری بیوی مر جا رہی ہے مجھے دیکھنے کے لیے لیکن میں ابھی تمہیں یہ چہرا نہیں دیکھا سکتا۔۔ تابش نے ہنسی کو مشکل سے روکتے ہوئے کہا۔۔
بٹ اڑھائی سال کا جمع شدہ پیارا تم پہ نچھاور ضرور کرو گا تابش کے معنی خیر جملے پہ اس کی آنکھیں حیا سے جھک گئ اور گال لال سرخ ہوچکے تھے اچھا ایک منٹ یہ سہرا تنگ کررہا ہے مجھے اسے اتار دو تابش کے کہنے پہ سوزین دوبارہ خوش ہوگئ۔ کے اب وہ اپنے سرتاج کا دیدار کرسکے گئ۔۔۔
لیکن۔۔۔
تابش نے پاکٹ سے ایک بلیک کلر کا چھوٹا سا ربین نکالا اور اسے سوزین کی آنکھوں پر باندھ دیا۔۔
ارے ارے یہ کیا کررہے ہیں آپ سوزین نے بولنا چاہا لیکن وہ اس کی آنکھوں پہ ربین باندھ چکا تھا۔۔۔
تابش نے کہا تم سے پیار میں یہ سہرا اور تمہاری آنکھیں تنگ کر رہی تھی اس لیے یہ سہرا اتار دیا اور تمہاری آنکھوں پہ پٹی باندھ دی یہ کہتے ہوئے تابش نے سوزین کا دوپٹہ اتار کر سائڈ پہ رکھا اور ساتھ ہی اس کے کانوں کے نیچھے اپنے ہونٹ رکھ لیے وہ ساتھ ساتھ اس کی جولیری اتار رہا تھا ساتھ ساتھ سوزین کو شرمانے پہ مجبور کررہا تھا۔۔
ساری جولیری اتارنے کے بعد اس نے سوزین کو بیڈ پہ لیٹایا اور اس کی تعریف اپنے عمل سے کرنے لگا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *