Tarbiyat by Tawasul Shah NovelR50819 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode14
Rate this Novel
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode01 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode02 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode03 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode04 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode05 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode06 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode07 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode08 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode09 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode10 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode11 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode12 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode13 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode14 (Watching)Tarbiyat by Tawasul Shah Episode15 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode16 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode17 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode18 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode19 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode20 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode21 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode22 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode23 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode24 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode25 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode26 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode27 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode28 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode29 Tarbiyat by Tawasul Shah Last Episode
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode14
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode14
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
تھوڑی دیر پہلے سلوای اور صائب کا نکاح ہوچکا تھا، سلوای عمر آفندی سے سلوای صائب کاظمی بن چکی تھی۔۔
سلوای نے ابھی تک اپنے دولہے کو نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اسے یہ معلوم تھا یہ یہ وہ ہی صائب ہے جو اس کا بوس ہے۔۔
اس نے جب سب کو اتنا خوش دیکھا تو وہ بھی سب کو دیکھ کر خوش ہوگی کہ میری وجہ سے پہلی بار سب اتنے خوش ہیں۔۔
آج نکاح کے دوسرے دن ہی وہ آفس کے لیے تیار ہورہی تھی۔۔
ارے تم آج ہی آفس جارہی ہو؟ انیلا بیگم نے کہا؟؟
ماں آپ کو نہیں پتہ میرے بوس کتنے کھڑوس ہیں، آج اگر آفس نہیں گئ تو بلا وجہ میں باتیں سنے کو ملے گئ، کہ سلوای سے یہ نہیں ہوتا وہ نہیں ہوتا، وہ برا سا منہ بناتی صائب کے بارے میں بولے جارہی تھی، اور سوزین جیسی سنجیدہ بندی نیچھے منہ کیے اپنی ہنسی کو کنٹرول کر رہی تھی۔۔۔
ارے سلوای عزت سے نام لو وہ تمھارا۔۔۔
انیلا بیگم کچھ کہتی اس سے پہلے سوزین نے انھیں چٹکی کاٹی جس سے وہ خاموش ہوگئ۔۔۔
کیا ماں سلوای نے ماں کی طرف لاڈ سے دیکھا، ارے میری گڑیا میں کہہ رہی تھی کہ وہ تمھارے بوس ہیں ایسے نہیں کہتے۔۔۔
جب سے سلوای نے انیلا بیگم اور عمر صاحب کی پسند دیکھ کر نکاح کو لے کر شور شرابہ نہیں کیا تھا اور خاموشی سے نکاح کے لیے راضی ہوگئ۔۔
تب سے ہی انیلا بیگم اپنی بیٹی کے صدقے واری جارہی تھیں۔۔۔
صائب اور سلوای کے نکاح میں بس فیملی ممبرز شامل تھے ایک آفندی فیملی اور دوسری کاظمی۔۔
دوسرے لوگوں کو کم ہی ان کے نکاح کے بارے میں معلوم تھا۔۔۔
اچھا ماں اب میں. چلتی ہوں، سلوای نے جوس کا آخری سلپ لیتے ہوئے کہا۔۔
اللہ حافظ آپی بائے ماں بابا وہ بائے کہتی ہوئی باہر نکل گئ۔۔۔
زینی بیٹا کیوں بتانے نہیں دیا سلوای کو کہ صائب اس کا بوس ہی اس کا ہسبنڈ ہے کوئی اور صائب نہیں ہے، انیلا بیگم نے سوزین سے کہا۔۔۔
ماں صائب نے کہا تھا کہ وہ خود سے سلوای کو بتانا چاہتا ہے اس لیے آپ کو روک دیا۔۔
اچھا پھر تو اچھا کیا روک کر عمر صاحب نے سوزین کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔
جی بابا بس اسی لیے ماں آپ کو منع کیا، میری سمجھ دار بیٹی انیلا بیگم نے اس کی پیشانی چومی اور وہ اپنے کمرے میں چلی گئ آج اس کی نائٹ سفٹ تھی اور کل رات کو کاظمی فیملی کی دعوت جس کے لیے سوزین نے لیو لے رکھی تھی۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
موسم نے اپنا پہلو بدلا اور سردی نے اپنی آمد کا پتہ دیا جس وجہ سے رات میں تھوڑی ٹھنڈ ہونے لگی تھی۔۔۔۔
آج سوزین کی نائٹ سفٹ تھی، اس کی آج کچھ طبیعت ٹھیک نہیں تھی، سر بھاری ہورہا تھا، اور آنکھیں بار بار بند ہورہی تھیں۔۔
رات دو بجے کا وقت تھا، جب وہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی نیند میں چلی گئ، باقی کا عملہ بھی سوتے ہوئے پایا جارہا تھا۔۔۔
ایک نقاب پوش پولیس اسٹیشن میں داخل ہوا، وہ سارے عملے کو سوتا ہوئے دیکھ کر ڈی ایس پی کے آفس کی جانب بڑھ گیا۔۔
وہ نقاب پوش جب کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔
تو سوزین کرسی کے ساتھ سر ٹکائے نیند میں تھی، اور سردی سے سمٹ رہی تھی، نقاب پوش نے اپنی پہنی جیکٹ اتاری جو وہ آتے وقت سردی محسوس ہونے پہ ساتھ لے آیا تھا۔۔۔۔
جیکٹ اتر کر اس نے سوزین کے اوپر ڈال دی اور اس کے ہاتھ بےاختیات اس کی پیشانی پہ چلی گئے۔۔۔
جس سے اسے معلوم ہوا کہ اسے تو بخار ہورہا ہے۔۔۔
نقاب پوش نے اپنے پاکٹ کی جیب سے ایک ٹیبلٹ نکالی ٹیبلٹ اور پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھا اور ایک چیٹ لکھی اور وہ بھی ٹیبل پہ چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
سوزین کو جب جیکٹ کی گرماہت سے زیادہ سردی محسوس ہوئی تو اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا جہاں پہ اس کے اوپر کسی کی جیکٹ پڑی ہوئی ملی، سوزین نے فورا سے جیکٹ اپنے اوپر سے اٹھائی اور مشکوک انداز میں جیکٹ کو ٹٹولنے لگی جب اسے جیکٹ سے کچھ نہیں ملا تو اسے کی نظر سامنے ٹیبل پہ پڑی،، اس نے وہ چیٹ اٹھا کر پڑھی۔۔۔
“بائے اللہ میڈم صاحبہ آپ تو اپنا خیال ہی نہیں رکھتی، دیکھو تو کیسے بخار اور ٹھنڈ میں پڑی ہیں، اچھا جیکٹ کو تلاش لیا ہو تو اب سامنے رکھی ٹیبلٹ کھا لو ورنہ مزید بیمار ہوجاو گئ”
سوزین نے سامنے رکھی ٹیبلٹ اور پانی کو دیکھا۔۔
“ارے ٹیبلٹ اور پانی کو ایسے مت دیکھو ہم کوئی دہشتگرد تو ہیں نہیں آرام سے کھا لیں اور ہاں اب اپنا خیال رکھنا ہے ورنہ پھر سے مجھے آنا پڑے گا آپ کا خیال رکھنے”
کون تھا ہہاں؟؟
سوزین نے بیل بجائی تو چپراسی آنکھیں ملتا ہوا داخل ہوا۔۔
یس میڈم!!
ہہاں کون آیا تھا ابھی؟؟
مجھے نہیں پتہ میڈم۔۔ او میرا مطلب میں نے کوئی نہیں دیکھا آتے ہوئے۔۔
دیکھا نہیں۔۔ کیسے دیکھتے جاگ رہے ہوتے تو دیکھتے نا ، سوزین اسے غصہ سے کہتی ہوئی اپنا ریوارول لے کر باہر نکل گئ۔۔۔
سوزین نے سب جگہ دیکھا اور وہ کافی آگئے آ گئ تھی لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا، اسے جب سردی لگنے لگی تو وہ واپس اپنے کمرے میں آگئ اور سامنے پڑی جیکٹ اٹھا کر پہن لی۔۔
تھوڑی دیر گزری تھی سوزین کو اب زیادہ سردی کے ساتھ ساتھ سر دور بھی ہونے لگا اور اس نے سامنے پڑی ٹیبلٹ اٹھا کر دیکھی جس پہ بینڈول لکھا ہوا تھا اس نے ٹیبلٹ کو پانی کے ساتھ اپنے خلک میں اتار اور کرسی کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئ چار ہونے کو تھے اور اس کی ڈیوٹی ختم ہونے میں ابھی دو گھنٹے باقی تھے۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
کےزڈ سر ہمارے دو آدمیوں نے پولیس کے سامنے خود کو شوٹ کر لیا ہمارے وفادار تھے، رضا نے آ کر کےزڈ کو اطلاع دی۔۔۔
اچھا نزاکت سے کہوں کے کچھ سامان ان کے گھر والوں کو بجھوا دو کےزڈ اپنی کہئ بات سے پیچھے نہیں ہوتا۔۔۔
اب کیا ہوگا سر پولیس نے تو اس شیپ پہ پہرا لگا دیا ہے۔۔۔
ہاں کچھ سوچتا ہوں۔۔
ہیلو روما ہاں یار کچھ کرو ہمارا کام رک گیا ہے، کےزڈ نے ایک کال ملائی۔۔
اوکے میں کچھ سوچ کر بتاتی ہوں۔ دوسری جانب سے کہا گیا۔۔۔
مجھے پتہ ہے تو سب کرلے گئ میری جان تو پیدائشی کمینی ہے، ایسی لیے تو جوانی سے اب تک کےزڈ کے ساتھ ہے۔۔
اوکے ٹھیک ہے دوسری جانب سے کچھ کہا گیا تو کےزڈ نے کال بند کر دی۔۔
پیپ۔۔ رضا کے موبائل پہ میسج ٹون بجی تو وہ میسج دیکھ کر فورا سے موبائل پاکٹ میں ڈال چکا تھا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
رائمہ تم مجھے بہت اچھی لگی ہو یار شارب نے اس کے پہلو میں لیٹے ہوئے کہا۔۔
یار ابھی بھی تمھیں فرق نہیں پڑا؟؟ رائمہ نے اپنے جسم پہ نظر ڈال کر کہا۔۔۔
رائمہ یہ سب تو انجوائمنٹ ہے یار تمھیں پتہ ہے، میں تم سے پیار کرتا ہوں۔۔
میں جو تم سے چاہتا ہوں وہ کب مانو گئ یار، شارب نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔۔
یار شارب اس بات کو چھوڑ دو، مجھے اسے رشتے پسند ہی نہیں جس میں کسی ایک کے ساتھ بندھ جاو بس، رائمہ نے بےزار لہجے میں کہا اور اپنا گاٶں پہنے لگی۔۔۔
شارب اس کی بات پہ پھر سے خاموش ہوگیا تھا، وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔۔
اچھا شارب اب میں گھر کے لیے نکلتی ہوں مما کی کالز آرہی ہیں، رائمہ نے گھڑی پہ نظر ڈالی جہاں صبح کے سات بج رہیے تھے۔۔۔
تم بھی گھر جا کر نیند پوری کر لو رات رانو کی پارٹی ہے یاد ہے نا تمھیں، ہاں یاد ہے یار شارب نے اپنی شرٹ پہنی اور بال ٹھیک کرکے باہر نکل گیا۔۔۔
ہمیشہ ایسے ہی ہوتا تھا جب بھی شارب اس ٹاپک پہ رائمہ سے بات کرتا وہ اسے ایسے ہی خاموش کروا دیتی اور اس کا موڈ خراب ہوجاتا۔۔۔
پیپ۔۔ پیپ۔۔۔
اس نے نیند میں ہی تھوڑی سی آنکھیں کھول کر سائڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور کان کے ساتھ لگا لیا۔۔
ارے یار کب آو گی رات بھی تم نے میرا موڈ خراب کردیا تھا۔۔
کیا ہوگیا ہنی،وہ نیند کو بھاگتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئ۔۔
رات کو تم ڈرنک کرکے ٹلی ہوگئ اور اوپر سے وہ تمھارا بھائی آگیا اور مجھے پھر تمھیں اس کے ساتھ بھجنا پڑا۔، خود تو وہ رائمہ کے ساتھ ڈیٹ پہ چلا گیا میری ڈیت خراب کرکے۔۔
اچھا سوری ہنی میں آج تمھیں وقت دو گئ میں ڈرنک بھی نہیں کرو گئ اب تو اپنا موڈ ٹھیک کرو، اس نے روہیل سے کہا جو اسے ناراض لگ رہا تھا اور وہ کسی صورت اس کی ناراضگی برداشت نہیں کرسکتی تھی۔۔
سوری کو چھوڑو حرہ یار جلدی نکلو وقت دیکھو دن کا ایک بج چکا ہے۔۔
اوکے اوکے میں آتی ہوں بس ناشتہ کرکے۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
سلوای ابھی کچھ دیر پہلے ہی آفس پہنچی تھی۔۔۔
وہ اپنے کام میں مصروف تھی کہ اسے آیان نے بتایا کہ اسے صائب آفس میں بلا رہا ہے۔۔۔
لو آگیا بلاوا کھڑوس کا اب سوال ہوگئے کہ جب ایک چھٹی کا بتایا تھا تو دو کیوں کی، سلوای سوچتے ہوئے صائب کے آفس چلی گئ۔۔۔۔
ناق کی آواز پہ صائب نے کہا آجاو سلوای..
مارنگ سر! سلوای نے منہ پہ مسکرہٹ سجاکر کہا۔۔۔
مارنگ مسسز صائب!
مبارک ہو تم نے بتایا ہی نہیں اپنے نکاح کا، صائب کہتا ہوا اسے کے قریب چلا آیا۔۔
سر میں نے کسی کو نہیں بتایا لیکن آپ کو کس نے بتایا ہے؟؟، صائب اسے کے قریب آتا جارہا تھا اور سلوای اسے سے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتی جارہی تھی۔۔۔
مجھے تو تم سے بھی پہلے پتہ تھا۔۔
صائب نے اس کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔۔۔
س۔۔سر یہ کیا کررہے ہیں آپ ؟؟
صائب کے اس قدر قریب آنے پہ سلوای نے بلکھا کر کہا۔۔۔
کیا کررہا ہوں میں سلوای اب دیوار کے ساتھ چپک گئ تھی؟؟
وہ یہ ہی سوچ رہی تھی کہ صائب چاہے کتنا بھی کھڑوس کیوں نہیں لیکن وہ ایسا غلط انسان نہیں تھا، اس کی نگاہوں میں وہ اپنے لیے پاکیزگی دیکھتی آتی تھی تو پھر آج صائب کو کیا ہوگیا تھا وہ کیوں اسے کے اس قدر قریب آرہا تھا…
سر۔۔ پلیز پیچھے ہوں یہ سب ٹھیک نہیں ہے میں کسی کے نکاح میں ہوں، سلوای نے صائب کی سانسیں اپنی گال پہ محسوس کر کے کہا۔۔۔
سلوای کچھ اور کہتی اس سے پہلے صائب اپنے پیار کی پہلی چھاپ اس کے گال پہ چھوڑ چکا تھا۔۔۔
صائب۔۔۔ سلوای نے اسے پیچھے دھکا دیا۔۔
میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں،اس نے ضبط اور غصے سے کہا۔۔۔
صائب نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔
کولڈوئن سلوای میں کوئی غیر مرد نہیں ہوں، تم بیوی ہوں میری سلوای صائب کاظمی ہو۔۔۔
کیا کہہ رہے ہیں آپ؟؟
میں سچ کہہ رہا ہوں سلوای ہمارا نکاح ہوا تھا کل۔۔۔
نہیں میں نہیں مانتی اس رشتہ کو۔۔۔ مجھے کام ہی نہیں کرنا آپ کے ساتھ پتہ نہیں کیسے کیسے مزاق کرتے ہیں آپ۔۔
اچھا چلو تمھیں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔
صائب اسے پکڑ کر اپنے ساتھ باہر لے گیا اور اپنی گاڑی میں بیٹھا کر آفندی ہاوس لے آیا۔۔۔۔
صائب اسے لیے جب اندر آیا تو انیلا بیگم اسے دیکھ کر اس کی جانب آگئ۔۔۔
السلام علیکم آنٹی جی!!
و علیکم السلام بیٹا جیتے رہو انیلا بیگم نے اس کی پیشانی چوم کر کہا۔۔۔
آو بیٹا نکاح کے بعد پہلی بار گھر آئے ہو۔۔
انیلا بیگم اسے لیے اندر آگئ۔۔۔
ابھی تو سلوای آفس گئ تھی ابھی ہی واپس آگئ؟؟
نہیں آنٹی جی وہ سلوای کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی میں اسی لیے چھونے آگیا، صائب نے حیران بیٹھی سلوای کو دیکھ کر کہا۔۔۔
اچھا بیٹا آپ بیثھو میں چائے لے کر آتی ہوں٬ نہیں آنٹی جی ابھی مجھے آفس جانا ہے اور رات کی دعوت ویسے بھی آپ کی طرف ہے تو ابھی مجھے اجازت دیں۔۔
اچھا ٹھیک ہے بیٹا اللہ حافظ، صائب باہر نکل گیا۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے شعیب، زینب اور صائب نے آفندی ہاوس میں ڈنر کیا تھا، چائے وغیرہ پینے کے بعد زینب اور شعیب تو چلے گئے لیکن صائب کو کچھ گھنٹے اور عمر اور سوزین نے روک لیا تھا۔۔۔
ابھی ایک گھنٹا مزید عمر صاحب اور انیلا بیگم صائب کے پاس بیٹھے رہئے لیکن اب دونوں اٹھ گئے یہ کہہ کر کے سوزین بیٹا اب آپ بچے بیٹھو ہم اب چلتے ہیں۔۔
سلوای کو جب صائب کا معلوم ہوا کہ وہ ہی اس کا ہسبنڈ یے اس کا دل کہیں بہت مطمعن تھا لیکن ابھی اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ صائب کو اچھے سے ٹھیک کرئے گئ۔۔۔
یہ رہی ہماری فیملی البم صائب آجائے دیکھتے ہیں۔۔ سوزین البم اٹھے اندر آئی جہاں سلوای صائب سے تھوڑی دور ہو کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
سوزین کیا ایک کپ کافی مل سکتی ہے اپنی بڑی سالی کے ہاتھ کی، صائب نے سوزین سے کہا۔۔
وئے ناٹ جیجو مجھے بھی طلب ہورہی تھی۔۔
سوزین نے مسکرا کر صائب کو جیجو کہا اور کچن میں چلی گئ۔۔
صائب اٹھ کر سلوای کے قریب چلا گیا۔۔
کیا بات ہے سلوای ایسے چپ کیوں بیٹھی ہو۔۔
آپ مجھے سے بات مت کریں، سلوای نے منہ بنا کر کہا۔۔۔
ارے اب تو بات کیا سب کرنے کے حقوق اپنے نام لکھوا لیے ہیں یار، صائب نے اس کی گردن کے پیچھے بالوں میں ہاتھ رکھ کر سلوای کا چہرا اپنے سامنے کرکے کہا۔۔۔
ٹھرکی کھڑوس سلوای نے اس کے ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا۔۔۔
لیکن صائب نے اس کے کھڑوس کہنے پہ آنکھیں نکال کر اسے دیکھا اور اس کے ہونٹ کے ساتھ اپنے ہونٹ مس کرکے کہا اب دوبارہ کہا نا تو ہونٹ مس نہیں کرو گا بلکہ مس کے بجائے کس کرو گا پھر تم نے لال پیلا ہوجانا ہے۔۔
صائب نے اس کی پیشانی کے ساتھ اپنی پیشانی لگا کر اپنے ناک سے اس کے ناک کو مس کیا۔۔۔۔
اہم۔۔اہم۔۔۔ گائز یہاں کنواے بھی موجود ہیں، سوزین کمرے میں داخل ہوئی تو صائب کو سلوای کے اتنے قریب دیکھ کر کہا۔۔۔
سلوای تو سوزین کی آواز پہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہوئی، ارے سالی صاحبہ مجھے لگتا ہے میں نے غلطی کر دی، صائب نے کافی کا کپ ہاتھ میں اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔
کون سی غلطی؟ سوزین نے کافی کا سلپ
لیتے ہوئے کہا۔۔۔
یہ ہی نکاح کے ساتھ ہی رخصتی کروا لینی چایے تھی۔۔
ارے ارے جیجو جی ابھی ہماری بہن سے نکاح ہوئے 77 گھنٹے ہی ہوئے اور آپ اتنے اوتاولے ہورہے ۔۔۔
ارے نہیں نہیں میں نہیں کہہ ریا یہ آپ کی بہن کہہ رہی تھی مجھے کے نکاح کے ساتھ رخصتی بھی کروا لیتے نا، اسی لیے تو میرے اتنے قریب آئی ہوئی تھی۔ صائب نے سیریس ہونے کی ایکٹنگ کی۔۔۔
میں نے کب کہا صائب سلوای نے حیرانی سے اسے دیکھ کر پوچھا تو سوزین اور صائب کی ہنسی چھوٹ گئ اور سلوای بچاری مسکین شکل بنائے کھڑی رہی۔۔۔
اچھا یہ البم تو دیکھے صائب نے البم اٹھائی۔۔
فرنٹ پہ انیلا بیگم اور عمر صاحب کی شادی کی پیکس سیٹ تھی۔۔
سوزین یہ ہماری منکوحہ صاحبہ تو سیم آنٹی کی طرح ہیں، صائب نے دولہن بنی انیلا کو دیکھ کر سامنے بیٹھی سلوای کو دیکھا۔۔
ہممم یہ ماں جیسی ہی لگتی ہے شروع سے۔۔
اس کے بعد گیارہ سالہ لڑکی کی پکس تھی، یہ میں ہوں صائب سوزین نے اس پیکس کی طرف اشارہ کیا جیسے دیکھ کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا، لیکن صائب نے خود کو نارمل شو کروایا وہ سوزین اور سلوای پہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
ساری پکس دیکھنے کے بعد صائب نے کہا سوزین آپ کی بچپن کی پکس نہیں ملی جب کے سلوای کی تو فرسٹ ڈے سے اب تک کی ہیں؟؟
وہ صائب یہ سلو کی ساری پکس میں نے لی ان میں سے بہت کم ماں بابا نے لی ہیں اور میری ٹائم ماں تھی ماں کو اتنا شوق نہیں پکس لینے کا بس اسی لیے۔۔
ہممم اچھا گائز میں اب چلتا ہوں بہت رات ہوگئ ہے، صائب نے کافی کا کپ رکھ کر اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔
اوکے جی ٹھیک ہے، سلو جاٶ صائب کو دروازے تک چھوڑ کر آو، سلوای سوزین کی بات سن کر صائب کو دروازے تک چھوڈنے چلی گئ۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
جاری ہے۔۔۔
