Tarbiyat by Tawasul Shah NovelR50819 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode15
Rate this Novel
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode01 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode02 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode03 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode04 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode05 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode06 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode07 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode08 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode09 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode10 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode11 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode12 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode13 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode14 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode15 (Watching)Tarbiyat by Tawasul Shah Episode16 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode17 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode18 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode19 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode20 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode21 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode22 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode23 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode24 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode25 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode26 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode27 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode28 Tarbiyat by Tawasul Shah Episode29 Tarbiyat by Tawasul Shah Last Episode
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode15
Tarbiyat by Tawasul Shah Episode15
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
ہاں صائب کیوں بلایا مجھے ؟ ادھر اتنی ایمجنسی میں، تمھیں پتہ ہے کتنا ضروری کام چھوڑ کر آیا ہوں۔۔ ؟؟
اس نے صائب کے بغل گیر ہونے کے بعد کہا۔۔
آرام سے آرام سے تابی بھیا، ادھر آپ کے کام کے لیے ہی بلایا ہے میں نے۔۔
ویسے مانا کہ آپ مصروف آدمی ہیں، آپ کو جلدی ہے، لیکن ایسی بھی کیا جلدی کے آپ اپنے بھائی کو مبارک بات دینا ہی بھول جایں، ابھی تازہ تازہ نکاح ہوا ہے بندے کا، اس نے گلہ کرنے کے بعد معصوم شکل بنائی۔۔
ہاہاہا یہ معصوم شکل کہاں سے بنانا سیکھی تُم نے تابی نے اس کی شکل دیکھ کر ہنسی کو کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن ایک بار وہ سب ٹنشن بھولا کر کھل کر ہنسنے لگا ۔۔
تابی کے اس طرح ہنسنے پہ صائب دوسری جانب منہ کرکے کھڑا ہوگیا یہ اس کی طرف سے ناراضگی کا اظہار تھا، یہ اس کی بچپن کی عادت تھی۔۔
اچھا نہیں ہنستا یار یہ تو بتا یہ شکل کس کی کاپی کی ہے، تابی نے منہ کے آگئے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔
بتا نا یار۔۔۔
یہ شکل بھی آپ کی تازہ تازہ بھابھی کی کاپی کی تھی پر آپ نے میرا جلوس نکال دیا۔۔
صائب نے چھوٹ کے آنسو صاف کیے۔۔
سچ یار تجھ پہ ذرا سوٹ نہیں کی، شاید بھابھی پہ اچھی لگتی ہو۔۔
ویسے مبارک ہو بہت بہت،کس کی قسمت پھوٹی ہے جو تیرے پلے بندھ گئ؟؟
خیر مبارک صائب نے شرمانے کی بھرپور ایکٹنگ کی۔۔۔
بس بس زیادہ شرما مت ویڈنگ ٹائٹ کے لیے بچا کر رکھ، تابی نے آنکھ مار کر کہا۔۔
آپ غلط بول گئے بھیا اس رات اسے شرمانا ہوگا مجھے نہیں صائب نے بھی آنکھ مار کے کہا۔۔
شرم کر بڑے بھائی کے ساتھ بات کررہا ہے، تابی نے اسے تھپڑ سے نوازہ۔۔
کہاں کے بڑے میں آپ سے بڑا ہوں شادی شدہ ہو گیا اور آپ اب بھی کنوارے ہیں، صائب نے کالر جھاڑ کر کہا۔۔۔
اچھا تُو تو بڑا فاسٹ نکلا یار شادی سے شدہ بھی ہوگیا دو دن میں ہی تابی نے ہونٹ باہر نکل کر اور آئی برو اونچا کرکے کہا۔۔۔
مطلب نکاح شدہ ہوا ہوں، شادی شدہ نہیں صائب نے جملہ درست کیا
اچھا اور باتیں چھوڑ یہ بتا کیوں بلایا ہے؟ تابی اصل بات کی جانب آیا۔؟
ہمم تو وہ بات یہ ہے کہ آپ کی باربی ڈول کا پتہ چل گیا ہے، صائب کے ایک دم باربی ڈول کہنے پہ تابی کا دل زور سے دڑکا تھا۔۔
کیا سچ میں صائب تابی کی آنکھوں میں پانی سا آگیا تھا۔۔
ارے ارے بھائی یہ آنکھوں کو کیا ہوا، صائب نے تابی کی آنکھوں کو دیکھ کر اسے گلے لگا لیا۔۔
صائب یار پلیز جلدی بتا میرا دل پھٹ جائے گا، تابی نے کمزور لڑکیوں کے جیسے کہا۔۔
ارے تابی بھیا آپ مرد ہیں مرد رویا نہیں کرتے۔۔
تُو نہیں جانتا صائب میں باربی ڈول سے کتنا پیار کرتا ہوں، یہ سوچتا ہوں کہ وہ میرے پاس نہیں تو دل پھٹنے سا لگتا ہے۔۔۔
ویسے بہت خوش قسمت ہے، سوزین جیسے آپ جیسا پیار کرنے والا ملا۔۔۔
سوزین؟؟ تابی نے اس کی جانب دیکھا۔۔
میرا مطلب آپ کی باربی ڈول۔۔
اچھا یہ دیکھے آپ کی بھابھی، صائب نے سلوای کی نکاح کی پیکس تابی کو دیکھائی۔۔
ارے یہ تو چھوٹی سی گڑیا ہے کمینہ کیسے بچی کو پھسا لیا۔؟. تابی نے خیرانی سے اسے دیکھا۔۔
توبہ کریں بچی دیکھنے میں ہے ورنہ پوری چڑیل ہے، وہ بھی دل نکال کر لے گئ آپ کے بھائی کا،، خیر یہ دیکھے، صائب نے سلوای کے ساتھ بیٹھی سوزین پہ انگلی رکھی۔۔
ارے یہ تو ڈی ایس پی سوزین عمر آفندی ہے۔۔ تابی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔۔
ہاں جی یہ سلوای کی بڑی بہن ہے اور یہ ہی آپ کی باربی ڈول ہے۔۔
کیا مطلب ہے تیرا صائب مجھے ایسا مزاق بالکل پسند نہیں کہ تو کسی بھی لڑکی کو میری باربی ڈول کہہ دے۔۔؟؟
ارے نہیں سنے تو یار بھیا ۔۔
جو ہمارے گھر دعا کی پکس ہیں نا ممی جی کے روم میں اسی بچی کی پکس میں نے ان کے فیملی البم میں دیکھی۔۔
اچھا تو تیرے کہنے کا مطلب یے، وہ لڑکی باربی ڈول کے جیسے لگتی ہے تو وہ میری باربی ڈول ہی ہے۔۔؟
ارے نہیں بھیا میری پوری بات سن لیں۔۔
اس کی پکس اسی ایج سے ہے جس ایج سے دعا غائب ہوئی ورنہ سلوای کی پکس البم میں بچپن سے لے کر اب تک کی تھی پر سوزین کی بس اسی ایج سے ہیں اگے ۔۔
یہ کوئی اتفاق نہیں ہو سکتا بھیا، لیکن اگر آپ کا شک دور ہوجائے تو میں آنٹی انیلا (سلوای کی مما)سے پرسنلی بات کرلو گا۔۔۔
اوکے تو بات کرکے مجھے انفارم کرنا پھر۔۔
تابی تھکے ہوئے انداز میں اٹھ گیا۔۔
اوکے ٹھیک ہے بھیا اللہ حافظ۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
آج رمضان المبارک کا چاند نظر آجایے گا، صبح یکم رمضان المبارک ہے، آج مارکیٹ میں عورتوں کی بہت بھیڑ ہوگی گئ۔۔
تم لوگوں کو یہ کرنا ہے، عیش مارکیٹ پہ حملہ کرنا ہے وہاں سے صرف 40 سے 60 سالہ عورتوں کو اٹھنا ہے۔۔
اس بار میہنک کی پارٹی نے اتنی عمر کی عورتوں کی ڈیمانڈ کی ہے، یہ کام کرو اور پھر چاند رات کو لڑکیوں کو اٹھنا ہے فلحال یہ کام ہے۔۔
مائکل کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چایے سمجھ آرہی ہے نا میری بات کےزڈ نے انھیں کو سمجھایا اور خود اوپر والے کمرے میں چلا گیا۔۔۔
ہاں روما کچھ حل ملا ؟ کےزڈ نے روما کو کال کر کے پوچھا؟
ہاں کےزڈ ایک ہی حل ہے اس ڈی ایس پی کو اٹھوا لو پھر ہم پولیس سے کوئی بھی کام کروا سکتے ہیں۔۔
ایک بار یہ مال سمندر پار پہنچ گیا تو پھر تم انگلینڈ چلے جانا اپنے آدمیوں کو لے کر کچھ منتھ کے لیے پیچھے میں سب سنبھل لو گئ۔۔
پھر جب پولیس خاموش ہو جائے تو دوبارہ پاکستان آ جانا۔۔۔۔
ہاں روما بات تو تمھاری ٹھیک ہے، میں آدمی بجھوانا ہوں اس ڈی ایس پی کو اٹھوانے کے لیے۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
اسلام علیکم آنٹی جی!
صائب نے انیلا بیگم کو کال ملائی۔۔
و علیکم السلام کیسے ہو صائب بیٹا؟؟
اللہ کا شکر ہے آنٹی جی ایک کام تھا آپ سے؟؟
جی جی بیٹا بولیں آپ؟
آنٹی میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔۔
جی بیٹا تو آپ گھر آجاو نا۔۔
پر آنٹی سوزین جی اور سلوای گھر پہ موجود نہ ہوں تب میں آسکتا ہوں۔۔
بیٹا سلوای تو ابھی آفس کے لیے نکل گئ اور سوزین بھی ابھی نکلی ہے، آپ جاٶ۔۔
آنٹی جی میں گھر ہوں ابھی آپ کی طرف آرہا ہوں، اگر انکل جی آفس نہیں گئے ابھی تو انھیں بھی روک لیں۔۔
اوکے بیٹا میں تمھارے انکل کو روک لیتی ہوں آپ جلدی آو۔۔
جی۔۔
آو بیٹا بیٹھو، صائب انیلا بیگم اور عمر صاحب سے مل کر صوفہ پر بیٹھ گیا۔۔
خیر تو ہے نا بیٹا کوئی پرشانی کی بات تو نہیں نا؟ انیلا بیگم نے صائب سے پوچھا؟
نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔
انکل یہ پکس دیکھے، صائب نے کوٹ کے اندر سے ایک بڑا سا فوٹوگراف نکلا کر دیا۔۔
ارے یہ تو ہماری سوزین ہے عمر صاحب کے منہ سے بے اختیات نکلا۔۔
جی آپ کی سوزین اور ہماری دعا۔۔
کیا مطلب صائب بیٹا؟ انیلا بیگم نے صائب کو دیکھ کر کہا۔۔
آنٹی جی آپ کو سوزین سترہ سال پہلے کہاں ملی تھی؟؟
پلیز مجھے سے کچھ نہیں چھپائے گا، صائب نے ریکوسٹ کی تو انیلا بیگم کی آنکھیں جھلک پڑی۔۔
آنٹی جی پلیز روئے مت بتایں۔۔
آپ کو نہیں پتہ سوزین کے بغیر میرے بھیا کیسے زندگی گزار رہیں ہیں، صائب کی بھی آنکھیں نم ہوچکی تھیں۔۔
یہ دیکھ رہی ہیں آپ سوزین کی بازویوں پہ جس لڑکے نے اپنے ہاتھ رکھے ہیں وہ میرے بھیا ہیں۔۔۔
جب سے ان کی لائف سے ان کی باربی ڈول گئ ہے نا وہ بس زندگی جی رہیں ہیں ہم سب کے لیے ورنہ تو دعا کے گم ہو جانے کی صورت میں وہ مر کے ہی آئے تھے۔۔
آپ کو پتہ نہیں ہے نا، تابی بھیا دعا کے لیے دو ماہ بیمار رہے، ڈاکٹرز کا کہنا تھا انھوں نے کوئی صدمہ دل پہ لگا لیا ہے، بہت مشکل سے وہ ٹھیک ہوئے اس آس پہ کے دعا ایک دن ضرور انھیں ملے گئ۔۔
ہاں صائب بیٹا ہمیں سوزین سترہ سال پہلے سڑک پہ ملی تھی۔۔۔
پھر عمر صاحب اور انیلا بیگم نے سترہ سال سے لے کر اب تک کی ساری کہانی صائب کو سنائی۔۔۔
ہاں یاداشت چلی گئ تھی سوزین کی، پھر اب ڈاکٹر نے بتایا تھا سوزین کی یاداشت جلدی ہی واپس آئے گئ۔۔
ہممم۔۔
بہت شکریہ آنٹی جی انکل جی آپ نے مجھے سب سچ بتایا، صائب نے باری باری دونوں کے ہاتھ چوم لیے۔۔۔
جو سچ تھا وہ بتانا تو تھا نا بیٹا۔۔
اچھا جو ہوا سو ہوا۔۔
اب کیا مجھے نہیں بتاو گئے ہماری سوزین کا آپ کے ساتھ کیا رشتہ ہے،؟
انیلا بیگم نے صائب سے پوچھا۔۔
آنٹی جی میں آپ کی سوزین کا ماموں کا بیٹا ہوں، بہت دوستی تھی ہم دونوں میں، ہمارا بچپن ساتھ گزرا۔۔
بہت اچھے دوست تھے ہم ایک دوسرے کے لیے جان دینے والے۔۔۔
صائب نے مسکرا کر بتایا کیوں کے وہ سترہ سال پیچھے جا چکا تھا تصور میں۔۔
اچھا بیٹا زینی کے ماں بابا کدھر ہیں؟؟.
اب کی بار عمر صاحب نے پوچھا؟
میری پھپھو دیا کی شادی ان کی پسند سے عظم آفندی سے ہوئی تھی، عظم آفندی اپنے گھر والوں سے لڑ جھگڑ کر دبئئ شفٹ ہوگئے۔۔
کچھ عرصہ تو دونوں نے ہنسی خوشی زندگی گزاری، لیکن جب روپیا پیسا ختم ہوا تو دونوں میں لڑائی جھگڑا رہنے لگا، اسی بیچ دعا اس دنیا میں آئی۔۔
لیکن عظم آفندی سوزین کے بابا نے میری پھپھو کو طلاق لیے لینے کو کہا لیکن پھپھو طلاق کا داغ نہیں لگوانا چاہتی تھیں اسی لیے۔۔۔
اس انسان کی مار سہتی رہھیں پھر جب میری پھپھو کو اپنی مرض کا معلوم ہوا تو انھوں نے شوہر کو بتایا لیکن اس سنگدل انسان نے میری پھپھو کو بری طرح مارنے کے بعد طلاق دے دی اور چھ ماہ کی دعا کو اور پھپھو کو چھوڑ کر گھر سے چلا گیا۔۔۔
صائب بتانے کے بعد اپنی آنکھیں صاف کرنے لگا صائب نے وہ سب بتایا جو زینب بیگم نے اس کے اسرار کرنے پہ اسے بتایا تھا۔۔۔
صائب بیٹا سوزین ہمارا بھی خون ہے، عمر صاحب نے بھی اپنی نم آنکھیں صاف کی۔۔
کیا کہہ رہے ہیں آپ عمر؟ وہ ہماری بیٹی نہیں ہے انیلا بیگم نے دکھ سے کہا…
انیلا بے شک وہ ہماری بیٹی نہیں لیکن وہ میرا خون ہے، میرے بھائی غظم اور دیا بھابھی کی بیٹی۔۔
صائب نے خیرانی سے عمر صاحب کی جانب دیکھا۔۔
ہاں صائب بیٹا جو کچھ آپ نے جس انسان کے لیے بتایا وہ کوئی اور نہیں میرے بڑے بھائی ہیں۔۔
اس طرح سوزین میری بھتجی ہے۔۔
انیلا آپ کو نہیں پتہ کیوں کے یہ سب ہماری شادی سے پہلے ہوا تھا اور غظم بھائی دیا بھابھی کو لے کر دبئئ شفٹ ہو گئے۔۔۔۔
اچھا میری سوزین پھر تو ہماری اپنی ہی ہے میں چچی ہوں اس کی رشتہ میں، انیلا بیگم نے خوشی سے سوچا۔۔
کیوں کے آج تک وہ یہ سوچ کر دکھی ہوتی تھی کہ وہ ان کی رشتہ سے کچھ نہیں لگتی پھر آج انھیں معلوم ہوا تھا کہ ان کی زینی ان کی خاندان کی بچی ان کی اپنی ہے، تو ان کے دل میں اطمنان سما گیا تھا۔۔
اچھا انکل جی آنٹی جی میں اب چلتا ہوں اجازت دیں مجھے ابھی آفس بھی جانا یے۔۔
ٹھیک ہے بیٹا اللہ حافظ۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
گھر میں کوئی بھی مجود نہیں تھا، آج سنڈے ہونے کی وجہ سے شاہد کو چھٹی تھی لیکن خالی گھر اس کا منہ چھڑا رہا تھا۔۔
ارمہ صبح کی گھر سے نکل تھی، اور اس کے دونوں بچے بھی باہر تھے کہاں تھے یہ تو شاہد بھی نہیں جانتا تھا۔۔
ابھی دن کے دو کا وقت تھا کہ ڈور بیل ہوئی، شاہد نے جب دیکھا تو ساتھ والا گھر کا بچا تھا جو کہ دو خاکی لفافے دے رہا تھا۔۔
یہ کیا ہے بیٹا شاہد نے لفافے لیتے ہوئے بچے سے پوچھا؟؟
انکل کل ڈاکیا آیا تھا، یہ لفافے آپ کے گھر پہنچانے، لیکن آپ کے گھر کوئی مجود نہیں تھا اس لے ہمیں دے گیا تاکہ ہم آپ کو دے دیں۔۔
اچھا شکریہ بیٹا شاہد نے مسکرا کر کہا اور وہ بچا باہر بھاگ گیا۔۔۔
شاہد نے پہلے ایک لفافہ کھولا تو اس پہ حرہ شاہد کاظمی نام تھا۔۔۔
اچھا اچھا حرہ کا رزلٹ ہے، شاہد نے خود کلامی کی۔۔
حرہ مشکل سے تین سبجیکٹ میں پاسنگ مارکس سے پاس ہوئی باقی سبجیکٹ میں وہ بری طرح سے فیل ہو گئ تھی، شاہد نے ناگوارگی سے مارکس شیٹ کو دور پھینکا اور دوسری مارکس شیٹ کھولی۔۔
شارب شاہد کاظمی نام پڑھنے کے بعد شاہد نے جب سبجکٹ پہ نظر ماری تو شاہد کا غصہ سے برا حال ہوگیا، کیوں کہ شارب نے فل فیل کا اسٹمپ لگاوا کر شاہد کی مزید عزت بڑھائی تھی، وہ مارکس سیٹ کو وہی چھوڑ کر خود اپنے موبائل پہ کسی کا نمبر ملانے لگا۔۔۔
دوسری جانب بیلز جاتی رہی لیکن کسی نے موبائل اٹھانے کی زحمت نہیں کی تھی۔۔
شاہد کو آج بہت غصہ آرہا تھا ارمہ پر پھر اپنے بچوں پہ کیوں کے تینوں میں سے کوئی بھی کال پک نہیں کررہا تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد ہی حرہ اور اس کے ساتھ روہیل گھر میں داخل ہوئے۔۔
حرہ سامنے باپ کو دیکھ کر تھوڑی گھبرا گئ جیسے وہ یہاں پاپ کو اکسپکٹ نہیں کر رہی تھی۔۔۔
حرہ یہ کون ہے؟؟ شاہد نے اپنی جوان بیٹی کے ساتھ کھڑے لنگور کو دیکھ۔۔۔
بابا ی۔۔ یہ میرا فرنڈ ہے روہیل۔۔۔ حرہ نے اٹک اٹک کر کہا۔۔
شاہد گھر موجود نہیں ہوتا تھا، اس لیے جب وہ آفس سے آتا بچوں کا پوچھتا تو ارمہ کہتی وہ اپنے کمرے میں ہیں۔۔
شاہد بھی کبھی کبھار ہی پوچھا کرتا وہ آفس سے آتا اور اپنے کمرے میں ہی رہتا۔۔ نہ اس نے بچوں پہ کبھی توجہ دی نہ ارمہ نے اور تو اور شاہد باپ ہوتے ہوئے بھی اپنے بچوں کی تمام سرگرمیوں سے غافل تھا۔۔۔
کاظمی خاندان کی لڑکیاں کے لڑکے فرنڈ کبھی سے ہونے لگے؟ حرہ شاہد نے غصہ سے اس کی طرف دیکھا۔۔
بابا اب وقت بدل چکا ہے، چپ بالکل چپ حرہ شاہد نے زور سے کہا تو حرہ باپ کا ایسا روپ پہلی بار دیکھ کر دب گئ۔۔
اینڈ یو آوٹ۔۔ شاہد نے روہیل کو کہا تو وہ بھی فورا باہر نکل گیا۔۔
اپنا رزلٹ دیکھا ہے تم نے شاہد نے مارکس شیٹ اس کے منہ پہ ماری۔۔۔
تم ماں بچوں سے بس گھومنا پھرنا ہوتا ہے پڑھائی نہیں ہو سکتی بس پارٹیز ہی تم لوگوں کی دنیا ہے شاہد آج پھٹ ہی تو پڑا تھا۔۔
حرہ باپ کو شدید غصہ میں دیکھ کر اپنے کمرے میں بھاگ گئ۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
جاری ہے۔۔۔۔
