Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode21

Tarbiyat by Tawasul Shah Episode21

:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-
آج عید کا دوسرا دن تھا اور کےزڈ اپنے آدمیوں کے ہمراہ اپنے اڈے پہ پہنچ چکا تھا۔۔۔
آو آو رضا کےزڈ اس کے بغل گیر ہوتے ہوئے ہولا۔۔
کیسے ہیں سر، رضا نے مسکرا کر کہا۔؟؟
میں فٹ تم سناؤ؟؟
میں تو ٹھیک ہوں لیکن آپ کو بہت مس کیا سر میں نے، رضا نے اس دیکھ کر کہا۔۔
آوووو چلو یار اب ہم واپس آگئے ہیں تو آؤ گپ شپ ہوجائے، کےزڈ رضا کو لیے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
وہ آج بھی اپنے ماسک میں موجود تھا جو وہ کبھی نہیں اتارتا تھا۔۔۔۔۔
کےزڈ صاحب وہ پیٹر کا مال دو بجے پہنچ جائے گا، رنجیت سیٹھ کا کہنا ہے آپ اپنے عتبار کے بندے کو مال دیں جو ہمارے پاس دوبئ پہنچا سکے۔۔
اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ اور مال گاڑیوں میں لوڈ رکھو، پھر جب میں کہوں تب مال لے کر روانہ ہوجانا وہ آدمی کےڈز کی بات سن کر باہر نکل گیا۔۔۔
سر کون سا مال؟؟ کیا بات کررہا تھا یہ؟؟ رضا نے کےزڈ سے پوچھا؟؟
رضا میں نے ایک نئا بزنس شروع کیا ہے۔۔
دراصل رضا میں نے اب سے ویپن اسمگلنگ بھی شروع کر دی ہے، دوبئی میں میری ملاقات رنجیت سیٹھ سے ہوئی جس نے مجھے اپنے ساتھ ہتھیاروں کا دھندا کرنا کی صلا دی جو مجھ پسند آئی اور میں نے بھی ہاتھ ملا لیا اب ڈرگز اسمگلنگ اور گرلز اسمگلنگ کا دھندا ٹھیک سے چل نہیں رہا اس لیے اب سے یہ سب بھی ہوگا۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں ایک کال کرکے آتا ہوں، کےزڈ اسے سب بتاتا ہوا کسی کا نمبر ملاتا ہوا ہاہر نکل گیا
ہیلو کاظمی صاحب۔۔
جی جی آج پھر سے مال بجھوانا ہے، ہممم آپ کا ساتھ ہونا بہت ضروری ہے مال کسی اور کی نگرانی میں نہیں رکھوا سکتا، کروڑوں کا مال ہے آپ کو خود ہی آنا ہوگا میں کوئی رسک نہیں لے سکتا کاظمی صاحب۔۔
ہمممم۔۔
ہاں صبح پانچ بجے شیپ روانہ کرنا ہوگا، کےزڈ جب دوسری جانب سے مطمعن ہوا تو کال بند کر کے کمرے میں چلا گیا۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-
سوزین کے موبائل پہ رات بارہ بجے ایک میسج آیا۔۔۔
جو کے اس کے سینر کا تھا جس میں کوئی انفارمیشن اسے موصول ہوئی۔۔
لیکن اس وقت سوزین سو رہی تھی۔۔
ساڈھے چار بجے سوزین کی آنکھ کھلی تو اس نے ٹائم دیکھنے کی عرض سے موبائل اٹھایا سامنے میسج کا نایٹیفکیشن دیکھا کر وہ میسج ریڈ کرنے لگی۔۔
میسج دیکھنے کے بعد سوزین فورا اٹھ گئ واشروم سے آنے کے بعد اس نے نماز فجر ادا کی اور اپنا یونیفارم پہن کر انیلا بیگم کے کمرے میں چلی گئ۔۔
ماں میں آفس کے لیے نکل رہی ہوں آج جلدی جانا ہے مجھے، سوزین نے قران پاک کی تلاوت کرتی انیلا بیگم سے کہا۔۔۔
بیٹا ناشتہ تو کرکے جاتی نا اور آج اتنی جلدی کیوں جارہی ہو،؟ انھوں نے قران پاک کو عقیدت سے بند کرنے کے بعد کہا۔۔
ماں میں آفس میں کچھ کھا لو گئ، آج کچھ ضروری کام ہے اس لیے جلدی جانا پڑ رہا ہے، سوزین نے اپنی کیپ ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔۔
اچھا ماں اب میں نکلتی ہوں دیر ہورہی ہے سوزین نے موبائل پہ ٹائم دیکھ کر کہا اور موبائل کو اپنی پنٹ کی پاکٹ میں ڈال دیا۔۔
اللہ نگہبان زینی بیٹا۔۔
اور سوزین فورا باہر نکل گئ وہ تیزی سے ڈرائو کرتی ہوئی مطلوبہ جگہ پہ پہنچی۔۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-
روہیل ممی کہہ رہی تھی کہ تم اب اپنے گھر والوں کو ہمارا پرپوزل لے کر بھج دو ، ممی کا کہنا ہے اگر بابا کو ہمارے ریلیشن کا علم ہوگیا ہو تو میرے ساتھ ساتھ ممی کو بھی نہیں چھوڑیں گئے۔۔۔
حرہ یار ابھی ہماری عمر ہی کیا یہ شادی جیسے جھنجھٹ میں پڑنے کی؟؟
روہیل نے بدمزا ہو کر حرہ کی نیک سے اپنا ہونٹ ہٹا کر کہا۔۔۔
روہیل سمجھا کرو یار مجھے بھی پتہ ہے یہ سب لیکن بابا کو ہمارے ریلیشن کی بھنک بھی پڑی تو تم نہیں جانتے ہنی ہمارا ساتھ کیا ہوگا، حرہ نے ناراض ہوتے روہیل کے بالوں میں انگلياں ڈالتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔۔
اچھا حرہ میں گھر بات کرو گا اب خاموش ہو جاؤ مجھے پیار کرنے دو، اور وہ اس کے کے گھر میں بات کرنے کو سچ سمجھ کر وہ خاموش ہو گئ۔۔۔
آج دو متھ ہوگئے تھے شارب کو آفس آتے ہوئے وہ بہت محنت کرتا تھا آفس میں اور اس کے بعد اپنی پڑھائی وہ اچھی تیاری کررہا تھا،جن سبجیکٹ میں وہ فیل ہوا تھا وہ بھی اس نے دوبارہ سے دے دیئے تھے۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-
سارا مال رکھ دیا شیپ میں؟ اس نے ان آدمیوں سے کہا جو شیپ میں اسلحہ سے بھری پیٹیاں رکھ رہے تھے۔۔۔
جی صاحب رکھ دی ہیں۔۔
اچھا ٹھیک ہے تم لوگ اب نکلو اس نے ریسٹ واچ دیکھ کر کہا۔۔۔
ابھی وہ سب نکل ہی رہے تھے لیکن پولیس وین کا سائرن بجا بھاگو۔۔ پولیس آگئ۔۔۔
خبردار۔۔۔ تم سب کو پولیس نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے بھاگنے کی کوشش کرنے والے کو پولیس انکونڑر کردیا جائے گا، اسپیکر میں ایک پولیس والے نے کہا تو سامنے کھڑے آدمیوں کے بھاگنے پاؤں کو بریک لگ گئ اور اتنی سردی میں بھی ان کے پسینے چھوٹ گئے۔۔۔
شیپ میں رکھا تمام اسلحہ پولیس کے ہاتھ لگ چکا تھا اور تمام آدمی بھی پولیس اپنی حراست میں لے چکی تھی۔۔
سوزین چلتی ہوں اس آدمی کے پاس پہنچی جو چہرے پہ ماسک چڑائے آنکھوں میں پرشانی لیے کھڑا تھا۔۔۔
سوزین آہستہ آہستہ چلتی اس کے قریب پہنچی۔۔
اتارا اس ماسک کو سوزین نے حکم دیتے ہوئے کہا، سوزین کو یہ آنکھیں جانی پہچانی لگ رہی تھی، پھر سوزین نے اس خیال کو یہ سوچ کر جھٹک دیا کہ اس کا آئے دن مجرموں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے شاید اسے بھی پہلے وہ دیکھ چکی ہو۔۔
اس لڑکے نے ہاتھ میں پہنے اپنے بریسلیٹ کو گھمایا۔۔
یہ وہ ہی بریسلیٹ تھا جو سوزین پہلے بھی ایک بار کہیں دیکھ چکی تھی، پر اس وقت اسے یاد نہیں پڑ رہا تھا۔۔
میں نے کہا اتارو اسے!!
سوزین نے اب کی بار تھوڑے سخت لہجے میں کہا۔۔
اس لڑکے نے گردن ہلا کر اپنا ماسک اتارنے سے انکار کیا۔۔
سوزین غصہ سے اپنا ہاتھ اس کے چہرے تک لائی تاکہ خود اس کا چہرا دیکھ سکے۔۔۔
سوزین ماسک ہٹانے ہی والی تھی کہ اس لڑکے نے سوزین کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ مارا جس سے سوزین کے ہاتھ میں پکڑی گن دور جا گری وہ سنبھلتی اس سے پہلے ہی اس نے سوزین کو دبوچا لیا اس کے گلے پہ ایک چھوٹے سائز کا چاقو رکھ دیا،جو اس کے بریسلیٹ میں موجود تھا۔۔۔۔
ڈی ایس پی صاحبہ ہلنے کی غلطی بھی مت کرنا ورنہ تمھاری گردن پہ یہ چاقو چلاتے ہوئے میرے ہاتھ ذرا بھی نہیں کانپیں گئے، اس لڑکے نے سوزین کے کان میں کہا۔۔۔
سوزین کی گن گرنا اور پھر اس کے گلے پہ چاقو رکھنا اتنی جلدی ہوا کے سوزین سنبھل نہ سکی۔۔۔
اپنے پولیس والوں سے کہوں اپنے ہتھیار سارے دریا میں پھنک دیں ورنہ تم خود سمجھ دار ہو۔۔
نہیں کبھی نہیں تم بےشک میری گردن کاٹ دو لیکن تم یہاں سے بچ کر نہیں جاسکتے سوزین نے نڈر انداز میں کہا۔۔۔
میں نے کہاں اپنے ہتھیار پھنکو اس لڑکے نے مزید سوزین کی گردن پہ چاقو دبا کر چلا کر کہا
تو پولیس والوں نے اپنی گنز دریا میں پھنکنی شروع کر دی۔۔۔
میں کہتی ہوں رک جاؤ مت پھنکو۔۔۔ سوزین ابھی بھی اپنی جان کی پروا کیے انھیں روک رہی تھی۔۔
میڈم وہ آپ کو نقصان پہنچا دے گا یہ کہتے ہی تمام نے اپنی گنز دریا میں پھنک دی۔۔
اب میرے تمام آدمیوں کو چھوڑو اس نے کہا تو تمام اریسٹ کیے مجرموں کو پولیس والوں نے چھوڑ دیا، وہ سب پولیس کے پنچھے سے آزاد ہوتے ہی سر پہ پاؤں رکھ کر بھاگ گئے۔۔۔
اب اس نے سوزین کو پیچھے دھکا دیا اور خود بھی وہاں سے فرار ہوگیا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-
صاحب پولیس نے ہمارا سارا مال پکڑ لیا ہے بہت مشکل سے ہم کاظمی صاحب کی بدولت وہاں سے بھاگنے میں. کامیاب ہوئے ہیں ورنہ آج ہم سب جیل میں ہوتے، ایک آدمی نے کےزڈ کو خبر دی۔۔
گدھے ہو تم سب کے سب میرا لاکھوں کروڑوں کا مال پولیس کو نظرانہ کر کے خود منہ اٹھا کر آگئے ہو۔۔
کےزڈ نے غصہ سے ہاتھ میں اٹھایا کلاس اس آدمی کے منہ پہ دے مارا، جس وجہ سے اس آدمی کا منہ زخمی ہوگیا۔۔۔
کےزڈ نے موبائل پہ آتی رنجیت سیٹھ کی کال دیکھ کر مزید غصہ سے سامنے کھڑے دو اور آدمیوں کو دیکھا جو پولیس سے بچ کر آئے تھے، کےزڈ نے غصے سے گن نکالی اور دونوں پہ فائر کرتے ہوئے کال ریجیکٹ کی اور اوپر چلا گیا۔۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-
ہیلو میاں جی کہاں پہ تھے آپ؟
صبح سے کالز کیے جارہی تھی میں سلوای نے صائب کے کال پک کرتے ہی منہ لٹکا کر کہا۔۔۔
ارے یار میں سو رہا تھا نا صائب نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی جمائی رک کر کہا۔۔۔۔
پر اتنا کیوں سو رہے تھے آپ اور آج آفس بھی نہیں آئے تھے آپ؟؟
یار کل آفس سے میں رات تین بجے گھر گیا اور پھر کسی اور کام سے نکل گیا تھا پھر جب واپسی ہوئی تو صبح کے چھ کا وقت تھا میں سو گیا ابھی ابھی دس منٹ پہلے آنکھ کھلی تو موبائل چیک کیا۔۔
ہمممم اچھا جی جناب ابھی تین بجے آپ رات کی نیند پوری کرکے اٹھ رہے ہیں، یہ عادتیں ٹھیک نہیں میں شادی کے بعد ایسا نہیں کرنے دو گئ، سلوای نے مسکرا کر صائب کے نیند سے جاگی آنکھوں میں جھنک کر کہا۔۔۔
کیا نہیں کرنے دو گئ ہاں صائب نے سلوای کی عام سی بات کو معنی حیز بات میں بدلتے ہوا مسکرا کر کہا۔۔۔
ارے ایسا ویسے کچھ نہیں کہا ہے صائب آپ بھی نا سلوی نے گھور کر کہا تو صائب نے ہنستے ہوئے موبائل کو فریم میں لگایا اور خود بیڈ سے اٹھ گیا، اب سلوای صائب کو مکمل دیکھ رہی تھی ویڈیو کال میں۔۔
ارے ارے صائب یہ کیا آپ ابھی تک شرٹ لس گھوم رہے ہیں، سلوای کو جب صائب ویڈیو میں بغیر شرٹ کے نظر آیا تو اس نے دوسری طرف منہ کرکے کہا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا یار دیکھ لو شوہر ہوں تمھارا حق بنتا ہے تمھارا صائب نے سلوای کا دوسری جانب منہ کرنے پہ ہنسنے ہوا کہا۔۔۔
چپ ہو جایں ٹھرکی پیا، اور جلدی سے شرٹ پہنے ورنہ میں کال کٹ کردو گئ۔۔
اچھا اچھا یار پہن لی شرٹ تم یہ بتاؤ، آج دو گھنٹے پہلے ہی آفس سے واپس اگئ تم ؟؟، صائب نے شرٹ پہنتے ہوئے ساتھ ہی سوال کیا۔۔
آپ کو پتہ ہے صائب آج مجھے آفس میں آپ کے بن اچھا نہیں لگ رہا تھا، مشکل سے اتنا وقت نکالا اور پھر آگی واپس، اس نے صبح سے بور ہوتے آفس کا منظر سوچ کر کہا۔۔
ہممم یعنی منکوحہ صاحبہ ہمیں مس کر رہی تھیں ہیں نا؟؟
جی نہیں ایسا ویسی کوئی بات نہیں آپ ایسے ہی خوش فہمیاں مت پالیں سلوای نے منہ تیڑا کر کے کہا۔۔۔
جس پہ صائب کا جاندار قہقہا کمرے میں گھونج گیا۔۔۔
اچھا سلوای ٹھیک ہے رات میں ملاقات ہوتی ہے تمھارے گھر ابھی میں کچھ کھا پی لو، صائب نے بائے کرتے ہوئے کہا۔۔
ہمارے گھر خیر ہے نا صائب؟؟ سلوای نے حيرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے کہا۔۔۔
ارے یار بتایا تو تھا نا تمھیں ہماری رخصتی کی بات کرنے ممی جی نے آنا ہے میرے ساتھ۔۔
اووو اچھا اچھا سوری یار میں تو سچ میں بھول گئ تھی، سلوای نے اپنے سر یہ چپت لگائی۔۔
ہممم چلو کوئی بات نہیں اب میں رکھتا ہوں۔۔
اللہ حافظ صائب۔۔
اللہ حافظ، سلوای، اور وہ موبائل رکھ کر واشروم میں گھس گیا۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
ہاں روما یار ان کمبحتوں نے آج میرا کروڑوں کا مال پولیس کے متھے مار ریا ہے۔ کےزڈ نے دوبارہ غصہ سے لال پیلا ہوتے ہوئے روما کو بتایا۔۔
یہ تو بری خبر ہے زوبی، رنجیت سیٹھ تو بہت برہم ہوگا۔۔۔
ہاں روما تم ٹھیک کہہ رہی ہو، اسی لیے میں نے سوچا ہے اب تم رنجیت سیٹھ کے پاس جاؤ مجھے لگتا ہے اس کا بڑھتا ہوا غصہ صرف تم ہی کول کرنے کی صلاحيت رکھتی ہو، کےزڈ نے کمینگی سے روما کو سلا دی۔۔۔
ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو، روما نے ادا سے اپنے سامنے آئے بال پیچھے کیے۔۔
ٹھیک ہے میں جانے کی تیاری کرتی ہوں تم ٹیکٹس کا ارینج کرو۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے مائی لیڈی، کےزڈ نے سکون کی سانس جارج کرتے ہوئے کہا اور کال بند کردی۔۔۔
ممی آپ نے بلایا تھا مجھے؟؟
حرہ نے ارمہ کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ارمہ کو مخاطب کیا جو دوسری طرف منہ کیے کال پہ مصروف تھی۔۔۔
ہاں بیٹھو، ارمہ نے موبائل بند کرکے سائڈ ٹیبل پر رکھ کر کہا۔۔۔
اب ارمہ بھی حرہ کے برابر بیڈ پہ بیٹھ گئ تھی۔۔
حرہ تم نے روہیل سے بات کی تھی؟؟
جی ممی کی تھی روہیل نے کہا ہے کے اسے کچھ ٹائم چائے ہے۔۔
۔
ٹائم کیوں چائے اسے وہ اتنے کلوز تو ہے تمھارے اب اور کیا کرنا ہے ٹائم کا،؟؟
ارمہ نے پیشانی پہ بل نمایا کرکے کہا۔۔۔
ممی یار اب اسے ٹائم چایے ہے تو آپ کو کیا تکلیف ہونے لگی حرہ نے بدتمیزی سے ارمہ کو کہا۔۔۔
حرہ۔۔۔
چلایایں مت ممی یہ میری لائف ہے مجھے ابھی خود ہی شادی نہیں کرنی ہے سمجھی آپ۔۔
حرہ کہہ کر جانے لگی۔۔۔
رکو، شاہد جب آفس سے واپس آئے تو بتا دینا کے میں ایک منتھ کے لیے دوبئ جارہی ہوں اپنے کام کے سلسلے میں اس نے جاتی ہوئی حرہ کو کہا تو وہ اس کی بات سن کر بغیر کچھ کہے چلی گئ۔۔۔
بالکل مجھ پہ گئ ہے ارمہ حرہ کو جاتے دیکھ کر سوچتی ہوئی اپنی ورڈروب کی جانب بڑھ گئ تاکہ پیکنگ کرسکے۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
آج آفندی ہاوس میں کاظمی فیملی شادی کی ڈیٹ فکس کرنے کو آئے ہوئی تھی۔۔
مہینے بعد کی ڈیٹ فکس کردی گئ تھی، جس پہ سلوای پرشان اور صائب بہت خوش نظر آرہا تھا۔۔
ایسا نہیں تھا کے سلوای کو شادی سے کوئی مسلہ تھا بات یہ تھی کے سلوای صائب کی دیوانی والا روپ کراچی میں چاند رات کو تھوڑا دیکھ چکی تھی، جب کے رخصتی کا سوچ کر ہی وہ پرشان ہو گئ تھی۔۔۔
سب خوش گپوں میں مصروف تھے کے سوزین گھر میں داخل ہوئی، وہ سب سے ملنے کر بعد صائب کے سامنے والے صوفے پہ بیٹھ گئ۔۔،
باتوں کے دوران سوزین کی نظر صائب کے بازو میں پہنے بریسلیٹ پہ گئ تو وہ حیرانی سے اپنی نظر واپس نہ پلٹ سکی۔۔۔
مزید کچھ دیر اور بیٹھنے کے بعد وہ طبیعت خرابی کا کہہ کر اپنے روم میں آگئ کیوں کے وہ وہاں بیٹھ کر بھی کچھ اور سوچنے پہ مجبور تھی۔۔
کمرے میں آنے کے بعد سوزین وہ سب یاد کرنے لگی جو اسے شک گزرا تھا،
سوزین کو جب یقین ہوگیا تو وہ فورا اپنی ورڈروب کی طرف بڑھی اور اپنی دماغ کی سوچ کو سچ ثابت کرنے لگی۔۔۔
اس نے اپنے لیے اسکیچ پیپر نکالا اور پنسل گھومانے لگی۔۔۔
وہ ایک مرد کا اسکیچ بنانے کے بعد اب اس کے چہرے پہ ماسک بنانے لگی۔۔۔۔
اسکیچ مکمل کرنے پہ سوزین کو بہت دکھ ہوا کیوں کے جس کا اسکیچ اس نے بنایا تھا، اس سے اس کا گہرا رشتہ تھا، وہ اسکیچ پہ افسوس اور دکھ سے ہاتھ پھرنے لگی۔۔۔۔
:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*:-*
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *