Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
دراب کا کیس ایک مہینے میں ہی ختم ہو گیا تھا اور آج نہ صرف اسے با عزت بری کیا گیا تھا بلکہ اسکی پوسٹ بھی اسے واپس کر دی گئی تھی۔ بادشاہ چلاتا رہا تھا کہ شایان شاہ ہی دارا ہے لیکن یہ بات ثابت کرنا اس کے لیے نا ممکن تھا۔دارا کا تو آج تک کسی نے چہرہ بھی نہیں دیکھا تھا اسکے خلاف ثبوت کہاں سے آتا۔
بادشاہ ایک جاسوس تھا جس کا مقصد ہمارے ملک میں رہ کر اسے کھوکھلا کرنا تھا لیکن اب اسے ساری زندگی کال کوٹھری میں گزارنی تھی۔
شاہرام پر غداری اور ایک ایماندار افسر کو پھسانے کا جرم عائد ہوا تھا جس کی وجہ سے اسے فلحال تو جسمانی ریمانڈ پر رکھ کر باقی کے غداروں کے بارے میں معلومات حاصل کی جانی تھی اور اس کے بعد اس کے بارے میں کوئی فیصلہ لیا جانا تھا۔
دراب سب فیصلے سن کر کٹہرے سے نکل رہا تھا جب حسن صاحب اس کے سامنے آئے تھے۔
‘شایان۔’ دو سال بعد یہ نام سن کر دراب کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور حسن صاحب نے اسے گلے سے لگا لیا۔
‘مجھے معاف کر دو بیٹا میں نے تم پر یقین نہیں کیا۔صرف اس پر یقین کیا جو اس وقت مجھے سامنے نظر آ رہا تھا۔ایک بار نہیں سوچا کہ میرا شایان ،میرا غرور ایسا نہیں کر سکتا۔’ حسن صاحب اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر رونے لگے۔
‘نہیں بابا۔آپ کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا۔’ دراب نے ان کے بندھے ہوئے ہاتھوں کو پکڑا تھا۔
‘شایان پلیز شاہرام کو بچا لو وہ تمہارا بھائی ہے غلطی ہو گئی اس سے پلیز میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔’ فریحہ بیگم روتے ہوئے دراب کو کہہ رہی تھیں لیکن اس سے پہلے کہ دراب ان کو کچھ کہتا حسن صاحب بولے تھے۔
‘نہیں فریحہ وہ شایان کا نہیں اس ملک کا گناہ گار ہے اور اسے سزا ملنی ہی چاہیے۔غداری کی کوئی معافی نہیں ہوتی۔’ حسن صاحب نے ایسا کہا تو فریحہ بیگم ان کے پیروں میں بیٹھ گئی تھیں۔
‘ایسا نہیں کہیں خدا کے لیئے اسے بچا لیں بیٹا ہے وہ آپ کا’۔ حسن صاحب نے انہیں دیکھا۔
‘بیٹا تو میرا شایان بھی تھا لیکن تب تم نے ہی کہا تھا کہ غدار کو سزا ملنی ہی چاہیے اور اب ایسا ہی ہو گا۔’
حسن صاحب ان سے پاؤں چھڑوا کر وہاں سے چلے گئے۔دراب نے انکے بازو پکڑ کر انہیں کھڑا کیا تھا اور انہیں اپنے ساتھ لیئے حسن صاحب کے پیچھے چل دیا۔راستے میں فوجی شاہرام کو لے کر جا رہے تھے۔ فریحہ بیگم اپنا بازو چھڑوا کر اس کے پاس گئی تھیں لیکن فوجیوں نے ان کو شاہرام سے ملنے نہیں دیا تھا۔دراب ان کے پاس گیا اور آفسر کو اشارہ کیا تو اسنے فریحہ بیگم کو راستہ دے دیا۔انہوں نے شاہرام کے پاس جاتے ہی اسے گلے سے لگا لیا لیکن شاہرام کی نظریں دراب پر تھیں اور ان میں اس بار نفرت کی بجائے ہار تھی۔
شاہرام نے بے دردی سے خود کو چھڑوایا تھا اور آرمی کے ساتھ چلا گیا۔جبکہ فریحہ بیگم وہیں بیٹھی روتی رہی تھیں ۔ان دونوں کی بے جا نفرت نے انہیں برباد کر دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان صاحب سب کی توجہ پا کر کافی بہتر ہو گئے تھے۔وہ اپنی پچھلی ہر غلطی کو سدھارنے کے لیئے سب کے ساتھ بہت محبت اور توجہ سے پیش آتے اور حمنہ کو اس بات کی بہت خوشی تھی۔
وہ آج کافی دنوں کے بعد سلمان صاحب کے گھر سے واپس اپنے گھر آئی تھی۔عثمان نے اسے کافی دفعہ واپس بلایا تھا لیکن حمنہ اسے ٹال دیتی۔اب یہاں آ کر حمنہ کو پتہ چلا تھا کہ عثمان اس سے بہت زیادہ ناراض ہے۔حمنہ نے کافی دیر اسکے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا لیکن اس نے دروازہ نہیں کھولا۔
حمنہ سلامت بابا سے چابی لے کے دروازہ کھول کر اندر آئی تھی۔عثمان اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ کر بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔
‘عثمان۔’
‘چلی جاؤ اب کیوں واپس آئی ہو۔’
عثمان نے غصے سے کہا تھا۔حمنہ مسکراتےہوئے اس کے پاس آئی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر چہرے سے ہٹانا چاہا تو عثمان نے بے دردی سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔
‘میری جان اتنا غصہ ہیں تو پھر ٹھیک ہے میں واپس چلی جاتی ہوں۔’
حمنہ نے شرارت سے کہا تو عثمان نے اسکے بازو پکڑ کر جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔
‘ٹانگیں توڑ دوں گا تمہاری اب اگر تم نے میری اجازت کے بغیر گھر سے قدم بھی نکالا تو۔’
حمنہ مسکرائی تو عثمان نے اسے خود میں بھینچ لیا۔ابھی کچھ دن پہلے ہی پولیس والوں نے ردا اور اسکے شوہر کو پکڑا تھا جن کا عثمان نے وہ حال کروایا تھا کہ دونوں اسے موت کی بھیک مانگنے لگے تھے۔جتنا انہوں نے حمنہ کو مارا تھا ،اتنا ہی روزانہ پولیس والے ان کو مارتے تھے ۔عثمان نے سوچ لیا تھا کہ وہ انہیں آزاد نہیں ہونے دے گا اور اس کے الیکشن جیتنے سے یہ کام اور بھی آسان ہو گیا تھا۔
‘میں آپ سے کیسے دور جا سکتی ہوں عثمان،آپ ہی تو میرا سب کچھ ہیں۔آپ کے بغیر میں کچھ بھی نہیں۔’ حمنہ کے ایسا کہنے پر عثمان مسکرایا تھا۔
‘اچھا تو اتنے دن سے تمہیں نا میرا خیال آیا تھا نہ میری محبت کا۔’ عثمان نے جل کر کہا تو حمنہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔
‘چلیں چھوڑیں یہ سب آئیں کھانا کھاتے ہیں۔’
حمنہ اتنا بول کر اٹھنے لگی تو عثمان نے اسکی نازک کمر میں ہاتھ ڈال کر خود پر گرایا۔
‘تمہیں ہی نا کھا جاؤں میں۔’ عثمان نے شرارت سے کہتے ہوئے اسکی سانسوں کو خود میں قید کر لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عثمان ڈاکٹر کے ساتھ اس اندھیرے کمرے میں داخل ہوا تو کرسی سے بندھا وجود خوف کے مارے کانپنے لگا۔
‘نن۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں عثمان پلیز مجھے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔کروانا اا۔۔۔۔۔۔اپنا علاج ۔’
ردا نے بری طرح سے روتے ہوئے کہا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اسکے ٹھیک ہوتے ہی یہ اذیتیں اس واپس دی جانی تھیں۔
‘ارے تم تو ابھی سے گھبرا گئی۔ابھی تو تمہیں ساری زندگی یہیں پر اسی طرح سے گزارنی ہے۔’
عثمان نے ہنستے ہوئے اسے کہا اور ڈاکٹر کو اشارہ کیا تو وہ ردا کی ڈریسنگ کرنے لگا۔جس طرح سے ردا نے حمنہ کو مارا تھا روزانہ ایک پولیس آفسر اسکو اتنا ہی مارتی اور اسکے بے سدھ ہونے پر اسکا علاج کروایا جاتا تا کہ وہ ساری اذیت واپس برداشت کر سکے۔مگر عثمان کے مطابق اس کے لئے یہ سزا بھی کم تھی۔اسکا کمزور سا خاوند تو ایک ہفتہ بھی ٹک نہ سکا لیکن عثمان تو ردا کو موت بھی نصیب نہیں ہونے دے رہا تھا۔
‘عثمان پپ۔۔۔۔۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دو۔’ ردا کی روز والی بات پر عثمان کا قہقہہ بلند ہوا۔
‘تمہیں معاف کر دوں؟اپنی محبت کی ستم گر کو؟اپنے بچے کی قاتل کو؟’نہیں ردا بی بی تمہیں مجھ سے معافی تو کیا موت بھی نصیب نہیں ہو گی۔’ عثمان نے ایک حقارت سے بھری نگاہ اس پر ڈالی اور ڈاکٹر کے ساتھ باہر کی طرف چل دیا۔
‘عثمان پلیز مزید ایسا نہیں کرو مار دو مجھے پلیز خدا کے لیئے مجھے مار دو۔’
وہ لوگ تو اس اندھیرے کمرے سے باہر آ چکے تھے لیکن ردا کی آہ و پکار ابھی بھی وہیں گونج رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان کو مہینہ ہو گیا تھا دراب کا انتظار کرتے ہوئے لیکن وہ نہیں آیا تھا اور اس وجہ سے وہ اب اس سے بہت ناراض تھی۔کچھ دن پہلے ہی اسے حمنہ کی کال آئی تھی اور اس نے بتایا تھا کہ بابا کی طبیعت خراب ہے۔یہ جانتے ہی جانان رونے لگی تھی اسکا دل کیا کہ اڑ کر وہاں پہنچ جائے لیکن دراب سے ملے اور معافی مانگے بغیر وہ کہیں جانا نہیں چاہتی تھی ۔اس لیئے اس نے حمنہ کو بتایا تھا کہ شایان کام پر گئے ہیں اور ان کے واپس آتے ہی وہ وہاں آئے گی۔حمنہ نے اسکی بابا سے بھی بات کروائی تھی۔سلمان صاحب جانان سے بھی روتے ہوئے معافی مانگ رہے تھے جبکہ جواب میں جانان بھی رونے لگی تو ہاشم صاحب نے اس سے فون لے کر اپنے پرانے دوست کی ٹھیک سے ٹھکائی کی جو کہ ایک واقعے کے بعد ان کو چھوڑ چکے تھے۔جبکہ اتنے سالوں کے بعد اپنے پرانے دوست سے بات کر کے سلمان صاحب کو بھی اچھا لگا تھا۔
رات ہو چکی تھی جانان ابھی عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی جب کسی نے کمرے کا دروازہ بند کر کے لاک لگایا تھا۔جانان نے مڑ کر دیکھا تو شایان دروازے کے پاس آرمی یونیفارم میں کھڑا مسکرا رہا تھا۔جانان بھاگ کر اس کے پاس آئی تھی اور اسے اس طرح سے پاس آتے دیکھ کر شایان نے اسکے لیئے اپنے بازو کھولے تھے۔جانان نے پاس آتے ہی اسکے سینے پر زوردار مکوں کی برسات شروع کر دی تھی۔
‘آپ بہت برے ہیں میں آپ سے بلکل بھی بات نہیں کروں گی۔اتنے دنوں بعد واپس آتا ہے کوئی۔’ شایان نے ہنستے ہوئے اسے اپنی باہوں میں تھاما تھا۔
‘ہاں تو جانان شاہ تم نے بھی تو اتنا کچھ مجھے سنایا تھا میرا بھی تو حق بنتا تھا نا تمہیں تڑپانے کا۔’شایان نے اسے خود میں بھینچتے ہوئے کہا تھا۔
‘میں نے آپ کو سوری بولنا تھا لیکن اب نہیں بولوں گی۔’ جانان نے منہ پھولا کر کہا تو شایان مسکراتے ہوئے اسے اٹھا کر بیڈ پر لا کر بیٹھایا اور اپنی ٹوپی اتار کر سائیڈ پر رکھ دی۔جانان نے اسکی طرف دیکھا تو اسکا اور منہ پھول گیا۔
‘آپ نے بال کٹوا لیئے اور داڑھی بھی ہٹا دی! آپ کو پتہ تھا نا کہ آپ مجھے ویسے ہی اچھے لگتے ہیں ۔’جانان کے ایسا کہنے پر شایان نے قہقہہ لگایا۔
‘آرمی میں الاؤڈ نہیں ہوتے نا لمبے بال لیکن کوئی بات نہیں میں ان سے لڑ کر لمبے کر لوں گا آخر میری بیوی کو پسند ہیں۔’
شایان نے شرارت سے کہا تو جانان نے شرما کر نظریں جھکا لیں۔جبکہ اسے ایسا کرتے دیکھ کر شایان کا دل بے ایمان ہونے لگا۔اس نے جانان کا چہرہ اوپر کر کے جگہ جگہ اپنی محبت کی مہر ثبت کرنا شروع کر دی۔
‘دراب۔’ جانان نے اسے بلایا تو وہ اس سے دور ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
‘آپ کا نام دراب بھی ہے اور شایان بھی میں آپ کو کیا بلایا کروں گی۔’جانان نے معصومیت سے پوچھا تو شایان نے اسکے ماتھے کو چوما۔
‘جو بھی تم چاہو جانانِ شاہ۔’دراب نے اسکی آنکھوں پر ہونٹ رکھتے ہوئے کہا۔جانان نے کچھ دیر سوچا اور پھر بولی۔
‘میں دونوں نام ملا کر آپ کا نام بناؤں گی۔’
‘اچھا وہ کیا۔’شایان نے اسکے ہونٹوں کے پاس جاتے ہوئے پوچھا تھا۔
‘دراب اور شایان کو ملا کر شاداب۔’ شایان یہ سن کر ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوا تھا۔
‘بلکل بھی نہیں اس سے بہتر ہے کہ تم مجھے شاہ بلا لیا کرو۔’شایان نے منہ بنا کر کہا۔
‘لیکن ایسے تو شاہ اور خان کو مکس کر کے خاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
اس سے پہلے کہ جانان اپنا جملہ مکمل کرتی شایان نے اس کے ہونٹوں کو اپنے لبوں میں قید کر لیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شایان جانان اور ہاشم صاحب کو سلمان صاحب اور باقی سب سے ملانے لایا تھا اور اتنے عرصے کے بعد اپنوں کو دیکھ کر جانان بہت زیادہ خوش ہوئی تھی۔اس نے سلمان صاحب کو محسوس ہی نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ ان سے ناراض تھی بلکہ دو گھنٹے ان کے پاس بیٹھ کر اوٹ پٹانگ باتیں کرتی رہی۔
شایان بھی سلمان صاحب کی حالت دیکھ کر اپنے سارے گلے بھول گیا تھا۔اپنے باپ کی طرح وہ سلمان صاحب کو مکمل قصور وار نہیں مانتا تھا بلکہ شایان کے مطابق اس سب میں غلطی دونوں کی برابر تھی۔
حمنہ بھی شایان سے مل کے بہت خوش ہوئی تھی۔چاہے وہ بچپن میں جانان کی وجہ سے بہت لڑتے تھے لیکن اب جانان کی خوشی دیکھ کر حمنہ شایان سے بہت خوش تھی۔
عثمان کو بھی یہ پتہ چل گیا تھا اسکے ماں باپ کے اصلی قاتلوں کو پکڑ لیا گیا تھا۔مگر وہ شایان کے بارے میں سب کچھ نہیں جانتا تھا۔اپنے ماں باپ کی موت سے وہ اتنا ٹوٹ چکا تھا کہ وہ عدالت یا اس سب کے چکر میں نہیں پڑا تھا۔لیکن اب اسے یہ جان کر خوشی ہوئی تھی کہ اصلی گناہ گار اپنے انجام کو پہنچ گئے تھے۔
شام کو اسے پتہ چلا تھا کہ سلمان صاحب نے جانان اور حمنہ کے ولیمے کا فیصلہ کیا تھا جس میں ہاشم صاحب کی رضا مندی بھی شامل تھی۔عثمان اور شایان کو یہ اچھا لگا تھا اور اسی طرح ولیمے کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی تھیں۔
شایان نے سعد اور وجدان کو بھی لاہور بلا لیا تھا۔بلایا تو اس نے حسن صاحب کو بھی تھا لیکن انہوں نے آنے سے انکار کر دیا تھا وہ آج بھی سلمان کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔
جانان اور حمنہ کو ایک جیسے جوڑے میں سجایا گیا تھا اور وہ دونوں اتنی پیاری لگ رہی تھیں کہ فاطمہ بیگم بار بار دونوں کی بلائیں لیتیں۔ شایان تو جانان پر سے نظریں ہی نہیں ہٹا پا رہا تھا اور یہی حال عثمان کا بھی تھا۔حمنہ کے گھورنے کے باوجود وہ بار بار اسی کو دیکھ رہا تھا۔
شایان کو خوشگوار حیرت تب ہوئی تھی جب اس نے حسن صاحب کو آتے ہوئے دیکھا تھا۔وہ جانان کا ہاتھ پکڑ کے فوراً سے اسے حسن صاحب کے پاس لے گیا۔شایان ان کے گلے لگا تو حسن صاحب مسکرا دیے۔
‘ایسا ہو سکتا تھا کہ میں اپنے بیٹے کی سب سے بڑی خوشی میں شامل نہیں ہوتا؟’ شایان سے ملنے کے بعد انہوں نے جانان کے سر پر پیار دیا۔جانان ان کے بیٹے کی محبت اور عائشہ کی پسند تھی اس لیئے انہیں بھی وہ بہت عزیز تھی۔فریحہ اور شاہرام نے اس معصوم بچی کے ساتھ جو سلوک کیا تھا اسکا انہیں کافی دکھ بھی تھا۔لیکن وہ دونوں اپنے گناہوں کی سزا بھگت رہے تھے۔
جانان حسن صاحب کو اپنے ساتھ سب سے ملوانے چلی گئی تھی۔
تبھی وجدان اور سعد شایان کے پاس آئے تھے۔
‘شایان میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں وجدان کے ساتھ کام کروں گا۔’سعد نے شایان کو بتایا تھا۔
‘آر یو شور؟’ شایان اسکا فیصلہ جان کے حیران ہوا تھا۔
‘بلکل دارا کے ساتھ کام کرنا کافی انٹرسٹنگ تھا تو وجی کے ساتھ بھی ہو گا۔’ سعد نے وجدان کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
‘تمہاری اپنی مرضی ہے کپتان بس بعد میں شکلیں بدلنے سے اکتا نہ جانا۔’ وجدان نے سنجیدگی سے کہا تھا لیکن شایان اور سعد اسکی بات پر ہنسنے لگے تھے۔
‘خان!’ عثمان کی بات پر سب نے اسے دیکھا تھا جو کہ وجدان کو دیکھنے میں مصروف تھا۔
‘تم یہاں کیا کر رہے ہو؟’ عثمان نے حیرت سے پوچھا تھا۔
‘ وجدان بھائی ہے میرا ۔’ شایان نے اسے بتایا تو اس نے ایک مشکوک نظر سے وجدان کو دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلایا۔
‘تمہارا شکریہ ،تمہاری وجہ سے ہی میں وقت پر حمنہ کے پاس پہنچ سکا تھا۔اگر آج وہ میرے ساتھ ہے تو اسکا کا کریڈٹ تمہیں بھی جاتا ہے۔’ عثمان نے وجدان کا شکریہ ادا کیا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا۔
شایان کی نظریں بھی جانان کو ڈھونڈنے لگی تو وہ ویل چیر پر بیٹھے سلمان صاحب کے سامنے حسن صاحب کا بازو تھامے دونوں سے مسکراتے ہوئے باتیں کرنے میں مصروف تھی۔اب اسکی محبت کا سفر مکمل ہو چکا تھا۔اسکا سفر جتنا مشکل تھا اسکی منزل بھی اتنی ہی حسین تھی اور وہ اسکی ہمت اور زیست کا نتیجہ تھی۔وہ خود بھی مسکراتا ہوا اپنی منزل کی جانب چل دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عثمان بہت ذیادہ خوش تھا آخر کار اتنے عرصے کے بعد اسے اسکی بیوی آخر کار واپس مل گئی تھی اور اس پل کے لیئے اس نے بہت خاص انتظامات کئے تھے۔حمنہ گاڑی سے باہر نکلی تو عثمان نے اسے اپنے بازؤں میں اٹھا لیا۔
‘عثمان کیا کر رہے ہیں کوئی دیکھے گا تو کیا سوچے گا۔’ حمنہ نے اسے ڈپٹا تو عثمان مسکرانے لگا۔
‘دیکھنے دو جان جہاں میں بھی تو یہی چاہتا ہوں کہ سب کو میری محبت کا اندازہ ہو جائے۔’ عثمان نے شرارت سے کہا تو حمنہ اپنے آپ کو چھڑانے لگی۔
‘فکر مت کرو کوئی نہیں ہے گھر پہ آج ہم دونوں کے علاوہ۔اس دن ایک سرپرائز تم نے دیا تھا تو سوچا کہ آج ایک میں دے دیتا ہوں۔’ عثمان اسے اپنے کمرے میں لے کر گیا جسے پھولوں اور موم بتیوں سے بہت ذیادہ خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔عثمان نے حمنہ کو کھڑا کیا اور خود میوزک آن کرنے چلا گیا تھوڑی دیر بعد کمرے میں میوزک کی آواز گونجی تو عثمان نے حمنہ کو پیچھے سے خود میں سمیٹ لیا اور آہستہ سے موو کرنے لگا۔
دل مانگ رہا ہے مہلت تیرے ساتھ دھڑکنے کی
تیرے نام سے جینے کی تیرے نام سے مرنے کی
تیرے سنگ چلوں ہر دم بن کر کے پرچھائی
اک بار اجازت دے مجھے تجھ میں ڈھلنے کی
کمرے کا ماحول اس قدر رومانوی تھا کہ حمنہ اور عثمان مکمل طور پر اس میں ڈوب چکے تھے۔
‘عثمان آپ سے کچھ پوچھوں؟’ حمنہ نے عثمان کی طرف اپنا چہرہ کر کے پوچھا تو عثمان نے اسے اپنی باہوں میں تھام لیا۔
‘ہاں ضرور میرے جہان۔’ عثمان نے اسکے ماتھے کو چومتے ہوئے کہا۔
‘آپ جانان سے شادی کیوں کرنا چاہتے تھے؟’ جب حمنہ کو اسکے سوال کا جواب نہ ملا تو وہ اپنا چہرہ اوپر کر کے عثمان کو دیکھنے لگی۔
‘ردا نے مجھے تب چھوڑا تھا جب میں مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا۔جب مجھے کسی اپنے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ اس نے تو کئی بار دھوکے سے میری جائیداد حاصل کرنے کی مکمل کوشش کی تھی لیکن کامیاب نہیں ہو سکی۔ُ عثمان کچھ دیر خاموش ہوا ۔
‘میرے باپ نے مجھے ہمیشہ عورت کی عزت کرنا سکھایا تھا لیکن ردا کے جانے کہ بعد مجھے یہ لگنے لگا کہ عورت عزت کے قابل نہیں ہوتی۔لیکن پھر ایک دن میری نظر جانان پر گئی۔وہ بلکل میری ماں جیسی تھی۔سیدھی سادی کسی سے بھی محبت سے پیش آنے والی۔’ حمنہ اپنا دم سادھے عثمان کو دیکھ رہی تھی۔
‘مجھے لگا کہ وہ میری زندگی میں آ کر میری محرومیاں ختم کر دے گی۔میں جانتا تھا کہ وہ مجھ سے کافی چھوٹی ہے اور کسی کی منکوحہ ہے ۔اسی لئے میں نے سلمان صاحب کو وہ لالچ دیا تھا۔’ عثمان نے حمنہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑا۔
‘لیکن پھر تم نے خود کو میری ضد بنا دیا اور پھر میری زندگی میں شامل ہو کر مجھے جینا سکھایا،پھر سے محبت کرنا سکھایا۔تم مجھے اپنے رب کا دیا ہوا انتہائی قیمتی تحفہ لگتی ہو حمنہ جس کا شکر میں ساری زندگی بھی ادا نہیں کر سکتا۔’ عثمان نے اتنا کہہ کر اسکی آنکھوں کو چوما جہاں اب آنسو آگئے تھے۔
‘اب رو کر اس حسین شام کو برباد نہیں کرو جان جہاں آج میں صرف تمہارا پیار چاہتا ہوں۔’ عثمان اسکے ہونٹوں پر جھکنے لگا تو حمنہ نے اپنا چہرہ پھیر لیا۔
‘پہلے منہ دکھائی دیں۔’ حمنہ کی بات پر عثمان نے قہقہہ لگایا اور پھر اسے اپنی باہوں میں اٹھا کر بیڈ تک لے آیا۔سائڈ ٹیبل کو کھول کر اس نے ایک مخمل کی ڈبیا نکالی اور ایک پیاری سی پائل نکال کر حمنہ کے پیر میں پہنانے لگا۔
‘آئی لو یو سو مچ حمنہ۔۔’ عثمان نے شدت سے کہہ کر اسے اپنی باہوں میں لے لیا تو حمنہ نے بھی مسکراتے ہوئے اپنا آپ اسکے سپرد کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شایان کمرے میں آیا تو خالی کمرہ اسکا منہ چڑا رہا تھا۔ابھی وہ پریشانی سے واپس پلٹا ہی تھا جب اسے پردے کے پیچھے سے کھلکھلانے کی آواز آئی۔شایان مسکراتے ہوئے اندر آیا اور دروازہ لاک کر کے بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔تھوڑی دیر کے بعد جانان منہ بسورتے ہوئے اسکی طرف آئی اور کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھنے لگی۔
‘اگر کوئی چھپتا ہے تو اسے ڈھونڈتے ہیں نا کہ یوں چپ کر کے بیٹھ جاتے ہی کیا بنے گا آپ کا۔’ جانان نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا تو شایان مسکرا دیا اور اسے کھینچ کر خود پر گرا لیا۔
‘میں جانتا ہوں جانان شاہ کہ تم لوٹ کر مجھ تک ہی آؤ گی کیونکہ تمہاری منزل ہی میں ہوں۔’ شایان نے اسکے سجے سنورے روپ پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
‘آپ نا بہت ہی بورنگ ہیں ادرک کہیں کے۔’ جانان نے منہ بنا کر کہا۔
‘ارے اب تو میں اتنا ادرک نہیں رہا تم نے اپنی مٹھاس جو گھول دی ہے میری زندگی میں۔سوچ رہا ہوں تھوڑی اور مٹھاس شامل کر لینی چاہئے۔’ دراب نے اسکے لبوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے کہا تو جانان نے شرما کر نظریں جھکا لیں۔
‘ آئی ایم سوری شایان میں نے آپ سے بہت بد تمیزی کی تھی اور آپکو کچھ بولنے کا موقع بھی تو نہیں دیا تھا۔آئندہ کچھ ایسا کروں تو ایک تھپڑ لگانا مجھے خودی عقل آ جائے گی۔’ شایان کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔
‘ٹھیک ہے بھئی جو حکم۔’شایان نے جانان کو کھینچ کر خود میں سمیٹا تو جانان نے اپنے ہاتھ میں موجود چیز اسے پکڑائی۔’ شایان نے انتہائی محبت سے اس لاکٹ کو دیکھا تھا۔
‘آپ مجھے اپنے ہاتھوں سے پہنائیں شایان میں وعدہ کرتی ہوں اب اسے کبھی بھی گم نہیں کروں گی۔’
شایان نے انتہائی نرمی سے اسکے گلے میں وہ لاکٹ پہنایا اور اسکے ماتھے کو چوما۔
‘میں نے تمہیں پا لیا جانان کیونکہ تمہیں میرے خدا نے میری قسمت میں لکھا تھا۔چاہے میرے عشق کا سفر بہت مشکل تھا لیکن میری منزل بھی تو اتنی ہی خوبصورت ہے اور یقین جانو جانانِ شاہ یہ سفر عشق میری زندگی کا سب سے حسین حصہ تھا۔’
اتنا کہہ کر شایان نے جانان کو خود میں سمیٹا تھا۔جبکہ باہر موجود چاندنی بھی انکے اس حسین ملن پر مسکرا دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
