Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
ان سب کی دعائیں رنگ لے آئی تھیں جانان کو دو دن کے بعد ہوش آ گیا۔یہ دو دن دراب چند پل کے لیئے بھی جانان سے دور نہیں گیا تھا۔ڈاکٹر فہد نے انہیں خوشخبری دی تھی کہ جانان اب خطرے سے باہر ہے۔
دراب جانان کے بلکل پاس کھڑا اسے غصے سے گھور رہا تھا۔جانان نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سعد کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔
‘سعد بھائی ان سے کہہ دیں کہ بیمار کو ایسے نہیں گھورتے گناہ ہوتا ہے۔’
سعد کے قریب ہوتے ہی جانان نے ہلکے سے اسے کہا تو سعد اس کی شرارتی باتیں سن کر مسکرا دیا۔سن تو دراب بھی چکا تھا لیکن اس کے ماتھے پر بل اور ذیادہ آئے۔
‘سعد اسے کہہ دو کہ آئندہ میرے لیئے اپنی جان خطرے میں ڈالی نا تو خود گلا دبا دوں گا اسکا۔’
اتنا کہنے کے بعد دراب کمرے سے چلا گیا اور جانان سعد کو منہ پھولا کر دیکھنے لگی۔
‘ایسے نہیں دیکھو دراب کے ساتھ ہوں میں اس معاملے میں ۔پتا ہے گڑیا جان نکال دی تھی تم نے ہماری۔’
جانان اس کی بات سن کے رونے والی ہو گئی۔
‘تو کیا آپ دونوں ناراض ہیں مجھ سے؟’
‘نہیں گڑیا صرف پریشان تھے۔دراب تو تمہارے پاس سے اٹھا ہی نہیں دو دن۔ مگر اب تم بلکل ٹھیک ہو۔’
سعد نے مسکرا کے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔لیکن جانان صرف یہ سوچ رہی تھی کہ دراب دو دن اس کے ساتھ کیوں رہا تھا اسے تو وہ اچھی بھی نہیں لگتی۔
‘چلو اب تم سو جاؤ اور جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ تا کہ ہم خوب باتیں کریں۔’
سعد نے اسے کہا تو جانان نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ ابھی عشاء کی نماز پڑھ کے جائے نماز رکھ رہی تھی جب عثمان اس کے پاس آ کے کھڑا ہوا۔حمنہ اسے حیرانی سے دیکھنے لگی کیونکہ اس دن ریسٹورینٹ والے واقع کے بعد عثمان سے اس کا آمنہ سامنا بہت کم ہوا تھا۔وہ بہت دیر سے گھر آتا اور حمنہ اسکا انتظار کیئے بغیر سو جاتی۔صبح وہ دیر سے اٹھتا اور ناشتہ کر کے باہر نکل جاتا۔
حمنہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو عثمان نے اس کے سامنے ایک فائل رکھی اور خود اپنا کوٹ اتارتا ہوا ڈریسنگ روم کی طرف چل دیا۔حمنہ نے فائل کھول کے دیکھا تو اس کے چہرے کو ایک مسکراہٹ نے چھوا۔
‘الیکشن پہ تو کھڑا ہو گیا اب مجھے ہرانا سسر صاحب کے تو کیا کسی کے بس میں نہیں۔’
وہ پھر سے حمنہ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔حمنہ وہاں سے جانے لگی تو عثمان نے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔
‘وہ الیکشن پر کھڑے ہونے کے بعد آپ نے کچھ تقاضے پورے کرنے تھے۔
عثمان مسکراتا ہوا حمنہ کو اپنے قریب کر کے بولا تو حمنہ اسے گھورنے لگی۔
‘ڈیل الیکشن جیتنے کی ہوئی تھی تب تک فاصلے پر رہو ذرا۔
حمنہ نے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا۔
‘بھئ الیکشن انسان سٹیپ بائے سٹیپ جیتتا ہے اس لیئے ہر سٹیپ پر کچھ نہ کچھ ملنا چاہیے۔اس طرح آہستہ آہستہ ہم دونوں کو ایک دوسرے کی عادت ہو جائے گی۔’
عثمان اس کے نازک لبوں کو دیکھتے ہوئے کہا تو حمنہ جلدی سے ہاتھ چھڑوا کے دروازے کی طرف چلی گئی اور مڑ کے عثمان کو گھورتے ہوئے بولی۔
‘میں آپ کے لیئے کھانا لے کر آتی ہوں۔’
جبکہ اس کے اس انداز نے عثمان کو اندر تک سر شار کیا۔وہ سمجھ گیا کہ حمنہ کا پہلا تقاضا اسے آپ کہنا ہے اور یہی چیز اس کی جیت کی پہلی نشانی تھی۔
‘تمہارے غرور کو ختم کر کے تمہیں اپنے پیروں میں بیٹھاؤں گا مسز عثمان ملک ۔’
عثمان اپنے پہلے منصوبے کی کامیابی پر خوش تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شان اب پاک آرمی کے پاس بھی نہیں تھا وہاں سے تو وہ فرار ہو گیا تھا لیکن اب نہ جانے وہ کہاں غائب ہو گیا تھا۔بادشاہ کو یہ بھی پریشانی تھی کہ اگر وہ دارا کے ہاتھ لگ گیا تو بادشاہ کے لیئے بہت مسلئہ ہو جائے گا ۔ لیکن بادشاہ کو دارا کی خاموشی پریشان کر رہی تھی ۔کافی عرصے سے دارا نے اس کے کام میں ٹانگ نہیں اڑائی تھی اور بادشاہ کو اس کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
‘بہرام ۔۔۔۔۔۔بہرام’
دارا اپنے سب سے خاص آدمی کو بلانے لگا۔جو اس کے لیئے اسکا دایاں ہاتھ تھا۔ملک کو تو وہ پہلے ہی کھو شکا تھا اب بہرام اس کے لیئے کافی قیمتی تھا اور اگر وہ دارا کے ہاتھ لگ گیا تو بادشاہ کا کافی نقصان ہو سکتا تھا۔
‘جی سردار !
‘دارا کو پھانسنا پڑے گا وہ ضرور کچھ بڑا سوچ رہا ہے۔اتنی خاموشی کی اور کیا وجہ ہو گی؟’ بادشاہ نے بہرام سے پوچھا۔
‘مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے سردار۔اس دفع ہتھیاروں کی سمگلنگ کے درمیان بھی رکاوٹ نہیں بنا۔’
‘پھر ہمیں کچھ سوچنا چاہئے اس کے بارے میں۔کچھ بڑا سوچ بہرام دارا کو پھنسانے کے لئے جس سے وہ زندہ ہمارے قبضے میں آ جائے۔’ بادشاہ کو بہرام کے چالاک دماغ پر پورا بھروسہ تھا۔
‘جی سردار بس کچھ وقت۔’
‘ٹھیک ہے۔لیکن دارا اس سے بچنا نہیں چاہئے۔’
بادشاہ اپنے چہرے پر وحشت سجائے بول رہا تھا۔بہرام ہاں میں سر ہلاتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان صاحب بہت غصے سے عثمان ملک کے آفس میں داخل ہوئے۔
‘یہ کیا حرکت ہے ہمارے درمیان سودا ہوا تھا اور اب تم پھر سے اس الیکشن پر کھڑے ہو۔’
سلمان صاحب کے انداز بے عثمان کا پارہ ہائی کر دیا۔
‘آواز نیچی رکھیں سلمان صاحب یہ میرا آفس ہے ۔رہی بات الیکشن کی تو اس پر آپ کی بیٹی ہی کھڑا کر رہی ہے مجھے ۔اب اپنی بیوی کا حکم تو ٹال نہیں سکتا۔’
عثمان چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا۔
‘لیکن تم اپنی بات سے پھر نہیں سکتے، میں حمنہ کو واپس لے آؤں گا۔’
اس بات پر عثمان ملک غصے سے مٹھیاں بھینچ کر سلمان صاحب کو دیکھنے لگا۔
‘آج کہ بعد میں ایسا سننا بھی برداشت نہیں کروں گا۔حمنہ میری ہے اب ۔صرف میری۔آپ تو کیا وہ خود بھی اب خود کو دور لے جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ عزت سے چلے جائیں اور الیکشن کے لیئے ذیادہ پیسے ضائع مت کریے گا ۔کیونکہ آپ کچھ بھی کر لیں جیت نہیں سکیں گے۔’
سلمان صاحب اس بات پر غصے سے وہاں سے چلے گئے ۔لیکن یہ وہ بھی جانتے تھے کہ حمنہ کو وہ قابو میں رکھ کے عثمان سے بات نہیں منوا سکتے ۔اس کی جگہ جانان یا زرش ہوتی تو بات کچھ اور تھی۔اب انہیں عثمان کو الیکشن سے ہٹانے کا کوئی اور طریقہ ڈھونڈنا پڑے گا کیونکہ وہ عثمان کے ہوتے ہوئے جیت نہیں سکتے ۔عوام بھی عثمان کے ساتھ تھی اور اس کی پارٹی بھی ذیادہ سٹرونگ تھی۔اب جیت کے لیئے انہیں کچھ اور سوچنا پڑے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان کی رکوری کافی اچھی طرح سے ہو رہی تھی کیونکہ اسکا بہت اچھے سے خیال رکھا جا رہا تھا۔دراب خود اس کے پاس بیٹھ کر اسے کچھ نہ کچھ کھلاتا اور اگر وہ منع کر دیتی تو اسے گھورنے لگتا۔جس کی وجہ سے جانان کو کبھی دلیہ تو کبھی فروٹس کھانے پڑتے جو اسے پسند بھی نہیں تھے لیکن دراب کے ڈر سے کھا لیتی۔
اس واقعے کو گزرے دو ہفتے ہو گئے تھے اور یہ سارا وقت دراب جانان کے پاس ہی رہا تھا۔جس کی وجہ سے اسکے بہت سے کام ادھورے رہ گئے تھے۔
‘تم باہر نہیں جا سکتی جانان باہر سردی ہے بہت۔’
جانان باہر جانے کی ضد میں تھی کیونکہ کمرے میں رہ کر وہ بور ہو گئی تھی۔دراب کے منع کرنے پر جانان نے منہ پھولا لیا ۔
‘آپ بلکل بھی اچھے نہیں ہیں سعد بھائی کو آنے دیں میں ان کے ساتھ چلی جاؤں گی۔’
اس سے پہلے کہ دراب اسے بتاتا کہ سعد دراب سے پوچھے بغیر کچھ نہیں کرے گا ،سعد کمرے میں آیا اور دراب کو وجدان کے بارے میں بتایا جو اس کا باہر انتظار کر رہا تھا۔
وجدان جانان کو گولی لگنے کے ایک دن بعد ہی اپنے کام کو چلا گیا تھا اور دراب جانتا تھا کہ وہ ضرور کسی ضروری کام کی وجہ سے اتنی دور آیا ہو گا۔ویسے بھی دراب کے برعکس وجدان پہچان بدلنے اور نئی پہچان بنانے میں ماہر تھا۔اس لیئے بس یا ٹرین کی بجائے جہاز سے سفر کرتا تھا ۔
دراب اس کے پاس چلا گیا اور جانان سعد کو دراب کی شکایتیں لگانا شروع ہو گئی۔
‘دراب مجھے تو لگتا ہے کہ اب تمہارا بادشاہ تک پہنچنے کا ارادہ نہیں رہا ۔کب تک یہاں رہو گے اپنے کام پھر سے شروع کر چکا ہے وہ۔ آگے سوچو کیا کرنا ہے۔’
وجدان نے بے زاری سے دراب کو کہا ۔دراب کے ماتھے پر بل پڑ گئے لیکن اس نے وجدان کو کچھ نہیں کہا کیونکہ وہ صحیح کہہ رہا تھا۔
‘ہم جانان کو پشاور لے کر جائیں گے اس کے بعد دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔’
تم اسے واپس نہیں بھیج رہے؟’
وجدان نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
‘نہیں وجدان میں نے سیکھ لیا ہے کہ اپنی قسمت سے لڑا نہیں جاتا اس لیئے اب میرا ارادہ جانان کو اپنا بنانے کا ہے ۔’
وجدان نے ہاں میں سر ہلایا اور ڈاکٹر فہد کے پاس جانے لگا۔دراب واپس گیا تو جانان ابھی تک سعد سے شکایتیں لگانے میں مصروف تھی۔
‘آپ کو پتا ہے سعد بھائی مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ ہاسپٹل نہیں جیل ہے اور آپ کے وہ ادرک دوست میرے جیلر۔’
‘فکر مت کرو جا رہے ہیں ہم اس قید خانے سے۔’
وجدان کی آواز پر جانان اپنی آنکھیں بڑی کر کے اسے دیکھنے لگی۔
‘کہاں؟
‘پشاور’
جانان کے پوچھنے پر دراب نے اسے جواب دیا جسے سن کے نا جانے کیوں جانان کو عجیب سا سکون ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ اس وقت سلامت بابا کے ساتھ کھانا بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ان دنوں میں حمنہ اس گھر میں سب سے ذیادہ سلامت بابا کے ساتھ وقت گزارتی۔انہیں بھی حمنہ اپنی بیٹی جیسی لگتی۔
‘ارے بیٹا اتنا نمک نہیں ڈالو عثمان بیٹے کو پسند نہیں۔’
ان کی بات پر چڑتے ہوئے حمنہ نے نمک تھوڑا سا ڈال کے واپس رکھ دیا۔عثمان آج کل الیکشن کمپنیز اور جلسوں وغیرہ میں بہت مصروف تھااور بہت دنوں سے گھر نہیں آیا تھا ۔اسی لیئے آج حمنہ اس کے لیئے کھانا بنا رہی تھی اور وہ ایسا کیوں کرنا چاہتی تھی یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی۔
‘آپکے اس بیٹے کو ہر کام سے ہی چڑ ہوتی ہے۔کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ سانس لینے والی ہوا کے بارے میں بھی کہیں گے کہ اچھی نہیں ہے چینج کرو اسے۔’ حمنہ نے عثمان کی طرح بھاری آواز میں کہا تو سلامت بابا ہنسنے لگے۔
‘او تو یہاں میرے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں مجھے بھی بلا لیا ہوتا تو اپنی رائے دے دیتا۔’
اپنے پیچھے سے عثمان کی آواز سن کر حمنہ چوک گئی اور مڑ کر اسے دیکھنے لگی جو آج ایک ہفتے کے بعد منہ دکھا رہا تھا۔پھر اپنی باتیں یاد آنے پر کنفیوز ہو گئی۔
‘آآ۔۔۔۔۔۔۔آپ جا کے فریش ہو جائیں میں کھانا لگاتی ہوں ۔’
حمنہ کے کہنے پر عثمان جانے لگا کیونکہ وہ بہت تھکا ہوا تھا۔ابھی وہ سڑھیاں چڑ کے کمرے کی طرف مڑا ہی تھا جب کوئی باہر کے دروازے سے جلدی میں داخل ہوا۔
‘عثمان ۔۔۔۔۔۔عثمان۔’
ردا کی آواز سنتے ہی عثمان غصے سے اس کے پاس جانے لگا جب اسکی نظر حمنہ پر پڑی جو ردا کے پاس جا رہی تھی۔
‘کون ہیں آپ؟’
حمنہ نے بہت عزت سے پوچھا تھا۔لیکن ردا اسے سر سے پاؤں تک دیکھنے لگی اور پھر چہرے پر حقارت لاتے ہوئے بولی۔
‘تو تم ہو وہ جس سے عثمان نے شادی کی ہے ۔مجھے نہیں پتا تھا کہ عثمان کا ٹیسٹ اتنا گر گیا ہے۔میں اس کی پہلی بیوی ہوں اس کی پہلی محبت۔تم بھیجو اسے میرے پاس۔’
حمنہ کا چہرہ غصے اور شرم سے لال ہو گیا۔
‘آپ انکی پہلی بیوی اور محبت ضرور ہوں گی لیکن اب آپ ماضی سے بڑھ کر کچھ نہیں جسے صرف یاد کیا جا سکتا ہے۔میں عثمان کا حال ہوں اور آپ اس وقت میرے گھر میں ہیں اس لیئے بہتر یہی ہو گا کہ آپ یہاں سے شرافت سے چلی جائیں اس سے پہلے کہ میں آپ کو یہاں سے نکلوا دوں۔’
ردا کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
‘تت۔۔۔۔تمہاری اتنی جرات۔’
اس نے حمنہ کو تھپڑ مارنے کے لیئے ہاتھ اٹھایا تھا جسے عثمان نے ہوا میں ہی تھام لیا۔
‘یہ غلطی مت کرنا نہیں تو تمہارا ہاتھ توڑنے میں ایک منٹ نہیں لگے گا مجھے ۔جیسا میری بیوی نے کہا ہے کرو اور دفع ہو جاؤ یہاں سے۔’
عثمان غصے سے پھنکارا تھا۔
‘عثمان۔۔۔۔۔۔’
“Get lost”
ردا نے ایک نظر دونوں کو دیکھا اور پھر پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی۔ عثمان حمنہ کو دیکھنے لگا جو واپس کچن کی طرف جا رہی تھی۔ردا کے سامنے حمنہ کا یوں کھڑے ہونا نہ جانے کیوں عثمان کو بہت اچھا لگا تھا۔
‘آ کے مجھے کپڑے نکال کر دو۔’
عثمان حمنہ کو حکم دیتا کمرے میں چلا گیا جو حمنہ کو اچھا تو نہیں لگا لیکن وہ چپ چاپ اسکے پیچھے کمرے میں چلی گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دراب جانان کو اپنے ساتھ پشاور لے آیا۔جانان کی حالت بہت بہتر ہو گئی تھی لیکن پھر بھی وہ سفر کی وجہ سے بہت تھک گئی تھی۔اس لیئے دراب نے پہنچتے ہی اسے گل کے ساتھ کمرے میں بھیج دیا اور خود ہاشم صاحب کے کمرے کا رخ کیا۔
‘آ گیا ہمارا شیر۔’
ہاشم صاحب اسے دیکھتے ہی خوش ہوئے اور اس کے قریب آتے ہی اسے گلے لگا لیا۔
‘کیسا ہے لالے کی جان اور وہ کہاں ہے جسے تم ساتھ لانے والا تھا۔وجی نے بتایا ہم کو اس کے بارے میں سب کچھ۔تم سے زیادہ تو ہم اس سے ملنا چاہتا تھا۔’
دراب ان کے انداز پر مسکرایا۔
‘وہ تھک گئی تھی اس لیئے گل کے ساتھ بھیج دیا کمرے میں۔’
‘لو تو یہ کونسا بڑا مسلئہ ہے چلو ہم وہاں چلتے ہیں۔چلو۔۔’
ہاشم صاحب اٹھ کر چل دیے تو دراب بھی ان کے پیچھے جانے لگا۔جانان کے کمرے کے باہر پہنچ کر انہوں نے دروازہ ناک کیا تو گل نے ہنستے ہوئے دروازہ کھولا۔ضرور جانان اسے اپنی باتوں میں لگا چکی تھی۔
‘ماشااللہ بہت پیارا ہے ہمارا بیٹی۔اگر اس نالائق نے ذیادہ تنگ کیا ہے تو بتانا ہمیں۔جوتے سے پٹائی کریں گے اسکی۔’
انہوں نے جانان کے پاس جا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو پہلے تو جانان انجان آدمی کو دیکھ کر گھبرا گئی۔لیکن ان کی باتیں سن کر ہنسنے لگی اور اسکا دل کیا انہیں دراب کی گن گن کر شکایتیں لگائے۔جبکہ ان کی بات پر دراب کا منہ بن گیا۔
ہاشم صاحب کا لہجہ اور مزاج بلکل پٹھانوں والا تھا جو جانان کو بہت اچھا لگ رہا تھا۔
‘آپ بیٹھ جائیں۔’
جانان نے ہچکچاتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دیے۔
‘نہیں ابھی تم آرام کرو لیکن بعد میں ہمارے کمرے میں آ جانا پھر خوب ساری باتیں بھی کر لیں گے اور لڈو بھی کھیل لیں گے۔’
جبکہ باتوں اور لڈو کا سن کے جانان بہت ذیادہ خوش ہو گئی۔یہاں آتے ہی اسکی ایک اچھی سی دوست بن گئی تھی اور دراب کے بابا تو بہت زیادہ اچھے تھے۔جانان اب یہ سوچ رہی تھی کہ اگر انکل اتنے اچھے ہیں تو ان کے بیٹے کس پر چلے گئے۔
‘میں نے اپنی آپی اور امی سے بات کرنی ہے ۔یہ آپ کے بیٹے مجھے بات نہیں کرنے دیتے-‘
جانان نے منہ بصور کے کہا تو ہاشم صاحب دراب کو گھورنے لگے اور یہ دیکھ کر جانان دل سے خوش ہوئی۔
‘تم فکر نہ کرو ہم خود بات کروائے گا ابھی بس آرام کرو ۔ٹھیک ہے؟
ہاشم صاحب مسکرا کر بولے تو جانان نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا ۔ہاشم صاحب نے اس کے سر پر پیار دیا اور باہر چلے گئے۔جانان کے کمرے سے باہر آتے ہی ہاشم صاحب دراب کو دیکھنے لگے۔
‘تو کیا سوچا ہے آپ نے؟’
‘میں اس سے نکاح کروں گا۔
ہاشم صاحب کے چہرے سے مسکان ایک پل کو غائب ہوئی۔
‘سب کچھ چھپا کر نکاح کرو گے۔اتنی چھوٹی بات نہیں ہے دراب سوچا ہے اگر اسے پتا چل گیا تو کیا ہو گا۔’
ہاشم صاحب اب بلکل صاف لہجے میں دراب سے بات کر رہے تھے جو ان کے سنجیدہ ہونے کی نشانی تھا۔
‘نہیں اسے کبھی بھی پتا نہیں چلے گا ۔آپ فکر نہ کریں ۔میرا ارادہ اسے یہاں پر رکھنے کا ہے ۔یہاں وہ محفوظ بھی رہے گی اور اسے کبھی سچ پتا نہیں لگے گا۔
لیکن اب اس کے بغیر نہیں رہوں گا۔’
دراب نے پختہ لہجے میں کہا تو ہاشم صاحب مسکرائے۔
‘او تو پھر تو اس کو نکاح کے لیئے منانا پڑے گا ۔’
‘وہ میرا نہیں آپ کا مسئلہ ہے کیونکہ اس سے آپ بات کریں گے۔’دراب نے مسکرا کر کہا تو ہاشم صاحب اسے آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھنے لگے۔
‘سہی ہے بھئی لڑکی تمہیں پسند آئے اور منانے کا معاملہ مجھ پر ڈال دو۔بلکل صحیح ہے۔’
دراب ان کی بات پر مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ باہر آتے ہی اسے سامنے وجدان اور سعد نظر آئے تو وہ ان کی طرف چل دیا۔
‘دراب بادشاہ کا کیا کرنا ہے ؟’وجدان نے اس سے پوچھا۔
‘فلحال کچھ نہیں ابھی میں جانان پر دھیان دینا چاہوں گا لیکن اگر بادشاہ کچھ خطرناک پلان بنائے تو مجھے اس کی خبر ہونی چاہئیے۔’
‘اور میرے تحفے کا کیا؟’
وجدان نے سپاٹ سا چہرہ بنائے پوچھا تو دراب اسے حیرانی سے دیکھنے لگا۔
‘کیسا تحفہ؟’
‘ہمارے ساتھ تو چلو دراب تحفہ تمہیں بہت پسند آئے گا۔’
جواب سعد کی طرف سے آیا تھا جو چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ دراب کو دیکھنے میں مصروف تھا۔
‘ٹھیک ہے چلو۔’
دراب اتنا کہتا ہوا وجدان اور سعد کے ساتھ چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
