Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
جب سے ردا گئی تھی ،حمنہ اور عثمان کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔عثمان بیڈ پر بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا اور لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے اس نے نظر کا چشمہ لگایا تھا جو وہ صرف پڑھتے ہوئے یا کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے لگاتا ۔
حمنہ کی ایک نظر اس پر پڑی تو اس کا دل کیا کہ عثمان کو بتائے کہ اسے گلاسز بہت سوٹ کرتے ہیں لیکن پھر خود کو ڈپٹتے ہوئے ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔
کپڑے بدل کر واپس آئی تو عثمان ابھی تک کام کر رہا تھا۔حمنہ کو لگا وہ سو گیا ہو گا لیکن آج تو لگ رہا تھا کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ ہی نہیں۔اس لیے خاموشی سے جا کے بیڈ کے بلکل کنارے پر لیٹ گئی۔
‘اتنا کنارے پر سو گی تو گر جاؤ گی ۔’
عثمان نے کہا تو حمنہ منہ بنا کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔
‘آپ کو مجھ سے نہیں اپنی اس پرانی بیوی سے تعلق ہونا چاہئے جا ابھی بھی آپ کے پیچھے آتی ہے’
حمنہ کی اس بات پر عثمان لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر اسے سائیڈ پر رکھا اور اپنی گلاسز بھی لیپ ٹاپ پر رکھ کرحمنہ کو دیکھنے لگا۔
‘جیلس ہو رہی ہو؟’
‘جی نہیں !بس ایک بات آپ کو بتانا چاہوں گی کہ جس طرح سے آپ مجھے اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اسی طرح سے آپ بھی میرے ہیں۔میں برداشت نہیں کروں گی آپ کو کسی اور کے ساتھ ۔اپنے دماغ میں بٹھا لیں یہ بات۔’
عثمان کی بات پر حمنہ بیٹھ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔عثمان کو توقع نہیں تھی کہ حمنہ ایسا کچھ کہے گی۔اس سے پہلے کہ حمنہ واپس لیٹتی عثمان نے اس کا بازو پکڑ کے اسے اپنی طرف کھینچا۔حمنہ بھی توازن قائم نہ رکھتے ہوئے اس پر گر گئی۔
اس سے پہلے کہ اسے کچھ سمجھ آتا عثمان نے اسکا چہرہ پکڑ کے اپنے قریب کیا اور اس کے نازک لبوں پر جھک کے اس کی سانسیں روک گیا۔حمنہ اپنے آپ کو چھڑانے لگی تو عثمان کے انداز میں مزید شدت آ گئی۔حمنہ کی سانسیں تھم رہی تھیں۔آخر کار اس پر رحم کھا کر عثمان نے اسے چھوڑ دیا۔
حمنہ پہلے تو آنکھیں بڑی کر کے اسے دیکھنے لگی پھر وہی آنکھیں چھوٹی کر کے سرخ چہرے کے ساتھ اسے گھورنے لگ گئی۔
‘سمجھتے کیا ہیں خود کو آئندہ میرے قریب مت آئے گا۔،’
حمنہ نظریں جھکاتی ہوئی بولی اور پھر دوسری طرف منہ کر کے سونے لگی۔عثمان کے دل میں اسے پانے کی تڑپ مزید شدت اختیار کر رہی تھی۔
بہت جلد تم مکمل طور پر عثمان ملک کی ہو جاؤ گی پھر تمہیں اپنی محبت میں اس قدر ڈوبا دوں گا کہ تم میرے سامنے خود جھکو گی ۔یہ وعدہ ہے تم سے۔عثمان حمنہ کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وجدان دراب کو ان کے کام والی جگہ پر لایا تھا ۔جو ان کا سیکرٹ پلیس تھا اور وہ وہاں پر ذیادہ تر لوگوں کو اغواء کر کے ٹارچر کرنے لاتے تھے۔اس کے علاوہ ان کا اسلحہ بھی یہیں پر ہوتا ۔دراب کو پتا نہیں تھا کہ وجدان اسے یہاں کیوں لایا تھا۔
وجدان نے ایک بند کمرے کی طرف اشارہ کیا۔
‘تمہارا تحفہ۔’
وجدان اتنا کہہ کے وہاں سے چلا گیا۔دراب کمرہ کھول کے اندر داخل ہوا جہاں ایک آدمی کو کرسی کے ساتھ باندھا گیا تھا۔دراب اسے دیکھتے ہی پہچان گیا تھا کہ یہی تو وہ آدمی تھا جس نے جانان کو گولی ماری تھی۔
دراب غصے سے اس کے پاس گیا اور بالوں سے پکڑ کے اسکا سر اوپر کیا۔شان نے جیسے ہی دراب کو دیکھا ڈر سے کانپنے لگا۔
‘د۔۔۔دارا۔۔۔۔۔۔معاف۔۔۔۔۔’
ابھی اس کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب دراب نے زور دار گھونسہ اس کے منہ پر مارا۔
‘تیرے ساتھیوں نے تو دارا کا کچھ بگاڑا بھی نہیں تھا۔تو ان کا میں نے وہ حال کیا ۔تو نے تو دارا کی زندگی ،اسکی جان پر ہاتھ ڈالا تو یہ سوچ کہ میں تیرے ساتھ کیا کروں گا۔’
وہ آدمی بری طرح سے رونے لگا۔دراب کمرے میں رکھے آلات کے پاس گیا اور اس میں سے ایک کٹر پکڑ کے لایا۔
‘فکر مت کر اتنی جلدی نہیں مرے گا تو ۔روزانہ جتنا درد ملے گا نہ اس کا علاج بھی ہو گا ۔ایک ایک کر کے اعضاء ختم ہوں گے تیرے اور جس دن مر جائے گا تیرے بادشاہ تک پہنچا دیا جائے گا۔وہ بھی تو دیکھ لے دارا سے بھڑنے کا انجام۔اسی ہاتھ سے چلائی تھی نا گولی میری جانان پر۔’
اتنا کہتے ہی دراب نے اس کا دائیاں ہاتھ پکڑا اور اس کی انگلیاں کاٹنا شروع کر دیں۔پورے کمرے میں اسکی چینخیں گونج رہی تھیں لیکن وہاں کسی کو پرواہ نہ تھی۔دائیں ہاتھ کی انگلیاں کاٹنے میں ہی وہ درد سے بے ہوش ہو گیا۔
‘سعد ہوش دلا اسے اور کل بائیں ہاتھ کی انگلیاں کاٹنا اور پھر پیروں کا رخ کر لینا۔’
دراب بے دردی سے اسکے انگلیوں کے بغیر ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے بولا،جہاں سے خون اب پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان یہاں پر بہت خوش تھی خاص طور پر گل اور ہاشم صاحب کی وجہ سے ۔ہاشم صاحب کی جانان سے بہت زیادہ دوستی ہو گئی تھی وہ ان کے کمرے میں بیٹھ کر یا تو ان سے باتیں کرتی رہتی یا پھر وہ دونوں لڈو کھیلتے۔جانان نے اپنے پلان کے مطابق دراب کی سب شکایتیں لگائی تھیں اور اب بس اسے جوتے پڑتے ہوئے دیکھنے کا انتظار تھا۔ہاشم صاحب نے اپنے وعدے کے مطابق اس کی حمنہ سے بات بھی کروائی تھی لیکن حمنہ کو کچھ بھی بتانے سے منع کیا تھا۔حمنہ کو ابھی بھی یہی لگتا تھا کہ وہ شایان شاہ کے پاس ہے۔جبکہ حمنہ نے جب اپنی شادی کے بارے میں بتایا تو جانان نے ناراض ہو کر فون بند کر دیا تھا۔تب سے وہ حمنہ سے ناراض تھی۔
ہاشم صاحب نے جانان کو جتنی توجہ اور پیار ان چند دنوں میں دیا تھا اسے ساری زندگی اسکے اپنے باپ سے نہیں ملا تھا۔یہی وجہ تھی کہ وہ اب ان کے بہت قریب ہو گئی تھی اور ان کے حکم کے مطابق انہیں بابا کہ کے بلاتی۔
‘بابا آپ کتنی چیٹنگ کرتے ہیں۔آپ کو دو آیا تھا میں نے خود دیکھا تھا۔’
جانان کے شکوہ پر ہاشم صاحب ہنستے ہوئے اسے دیکھنے لگے۔
‘اگر ایسا ہے تو تم ثابت کرو ہم بھی مان لے گا۔’
ہاشم صاحب کے ایسا کہنے پر جانان نے لڈو وہاں سے ہٹا کر سارا کھیل خراب کر دیا اور اب بہت فخر سے انہیں دیکھنے لگی۔
‘اچھا کیا ویسے بھی ہم تو جیت ہی گیا تھا۔’
‘بلکل چیٹنگ کر کے۔’۔
جانان نے منہ بسور کر کہا۔
‘اچھا تم چھوڑو اسے، ہمیں تم سے کچھ بہت ضروری پوچھنا ہے۔’ہاشم صاحب نے جانان سے کہا تو وہ ٹھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھے انہیں دیکھنے لگی۔
‘دیکھو جو تم سے پوچھیں گے نا اسے بہت آرام سے سننا اور سمجھنا۔ٹھیک ہے۔’
‘جی ٹھیک ہے۔’جانان نے جلدی سے کہا۔
‘تم ہمارا بیٹی ہے،اس لیئے ہم چاہتا ہے کہ یہں رہو تم ہمارے پاس اور اسکا ایک ہی طریقہ ہے۔’
‘وہ کیا؟’جانان جو بہت غور سے ان کی باتیں سن رہی تھی خوشی سے پوچھنے لگی۔
‘ہم تمہارا اور دراب کا نکاح کرنا چاپتا ہے۔’
‘جی۔’جانان حیرت سے اچھلی تھی۔
‘ایسا نہیں ہو سکتا ،انہیں تو میں اچھی ہی نہیں لگتی ۔وہ مانیں گے ہی نہیں۔’جانان اطمینان سے چہکتے ہوئے بولی۔
‘ہم نے تم سے تمہارا فیصلہ پوچھا ہے دراب کا نہیں۔تم اپنا بتاؤ ،کرو گی اس سے نکاح؟’
ہاشم صاحب کے ایسا کہنے پر جانان نے سر جھکا لیا۔پھر طویل خاموشی کے بعد بولی۔
‘میں کیا بتاؤں آپ میرے بابا ہیں تو یہ تو اپ کو پتا ہونا چاہیے نا۔لیکن میں آپ کو بتا دیتی ہوں کہ انہیں میں بلکل پسند نہیں۔ان کا بس چلے تو مجھے غائب کر دیں اور کبھی تو یوں غصے سے دیکھتے ہیں جیسے مجھے کھا ہی جائیں گے۔اس لیئے وہ تو ماننے ہی نہیں والے تو میں کیوں سوچوں۔’
دراب جو ہاشم صاحب سے بات کرنے آ رہا تھا اسکی باتیں سن کر وہیں رک گیا۔پہلے تو وہ بہت حیران ہوا پھر اس کے ہونٹوں پر ایک دلفریب مسکراہٹ آئی۔
تو تمہیں یہ لگتا ہے کہ تم مجھے پسند ہی نہیں ۔یہ تو اب میں تمہیں اپنی دسترس میں آنے کے بعد بتاؤں گا کہ تم مجھے کتنی اچھی لگتی ہو۔بس تم خود کو تیار رکھنا میرے لیئے جانانِ دراب۔
دراب سوچ کر مسکراتا ہوا وہیں سے پلٹ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان صاحب کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں ۔عثمان ملک بہت آسانی سے جیت سکتا تھا اور اسکا اندازہ انہیں اس کے جلسے دیکھ کر ہو گیا تھا ۔وہ اگر کوئی جھوٹ بھی اس کے بارے میں پھیلا دیتے تو عوام کو کچھ فرق نہیں پڑنا تھا اور ثبوت کے بغیر تو وہ ہی جھوٹے مانے جاتے۔وہ الیکشن کو دھوکے سے نہیں جیت سکتے تھے ،عثمان ملک کافی بڑی پارٹی کا حصہ تھا اور ان کے خلاف تو دھاندلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سوچ سوچ کر ان کا دماغ دکھنے لگا تھا۔آخر کار ان کے ذہن میں ایک ترغیب آئی ۔یہ سب عثمان صرف حمنہ کی وجہ سے کر رہا تھا انہیں کچھ ایسا کرنا تھا جس سے حمنہ اسے چھوڑ کر آ جائے اور عثمان پھر سے ان کے قابو میں آ جائے۔
وہ جان گئے تھے کہ انہیں کیا کرنا ہے ۔بس اس مقصد کے لیئے انہیں ایک لڑکی کی ضرورت تھی جو حمنہ اور عثمان کے درمیان دوری کی وجہ بنے۔پھر وہی ہو گا جو وہ چاہتے ہیں۔
یہ سوچتے ہی انہوں نے اپنے پی اے کو کال کی۔
‘باسط عثمان ملک کی پہلی بیوی کے بارے میں پتہ لگاؤ کہاں ہے ،کیا کرتی ہے ۔ایک گھنٹے میں مجھے ہر طرح کی انفارمیشن چاہئے۔
‘یس سر’
سلمان صاحب فون بند کر کے پھر سے عثمان ملک کو راستے سے ہٹانے کے بارے میں سوچنے لگے۔انہیں اپنا خواب اور اپنی جیت عزیز تھی ،ان کے لیئے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا ۔وہ اس بات سے انجان تھے کہ خود غرضی انکا ہر تعلق ختم کر رہی تھی اور بہت جلد وہ اکیلے ہونے والے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان حیرانی سے اپنے سامنے موجود عروسی جوڑے کو دیکھ رہی تھی جو ابھی گل نے اس کے سامنے رکھا تھا۔مختلف رنگوں کے امتزاج میں وہ جوڑا بہت زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔
‘ہائے جانان کتنا پیارا جوڑا ہے نا ۔تم تو شہزادی لگے گا یہ پہن کے۔’
گل اپنے مخصوص پختون لہجے میں جانان کے پاس کھڑی بول رہی تھی جبکہ جانان کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اتنی جلدی اسکا نکاح کیسے ہو سکتا ہے۔ابھی کل تو بابا نے اس سے پوچھا تھا اور آج اسے یہ پتا چل رہا تھا کہ وہ جانان دراب خان بننے جا رہی ہے۔
وہ کیسے یہ نکاح کر سکتی ہے اس میں تو کوئی اسکا گھر والا شامل نہیں اور ان سے پوچھے بغیر وہ کیسے اتنا بڑا قدم اٹھا سکتی ہے۔یہ خیال آتے ہی جانان رونے لگی۔اسے روتے دیکھ کر گل بہت زیادہ گھبرا گئی اور باہر جا کر دراب کو ڈھونڈنے لگی۔
‘لالا وہ جانان روتی جا رہی ہے۔’
گل کو جیسے ہی دراب ملا اس نے دراب کو بتایا جو فوراً اٹھ کر جانان کے کمرے کی طرف چل دیا۔
جانان نے دراب کو دیکھا تو اور زیادہ رونے لگی۔دراب اس کے پاس آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
‘کیا بات ہے جانان ایسے کیوں رو رہی ہو؟’
دراب نے پریشانی سے پوچھا۔تو جانان آنسو صاف کرتی اسے دیکھنے لگی۔
‘م۔۔۔۔میں کیسے آپ سے نکاح کر سکتی ہوں اپنے گھر والوں کے بغیر۔۔۔۔۔۔۔انہیں برا لگے گا۔’
‘تو مت کرو۔’
دراب نے اسے کہا تو وہ حیرانی سے دراب کو دیکھنے میں مشغول ہو گئی۔
‘تم منع کر دو ،کوئی مسئلہ نہیں ہے۔بس زیادہ سے زیادہ بابا کو ہی برا لگے گا نا کہ انہوں نے تمہیں اتنی محبت سے اپنے پاس رکھنے کے لیئے تمہیں کچھ کہا اور تم نے منع کر دیا۔دل ہی ٹوٹے گا نا ان کا،دکھی ہو جائیں گے لیکن کوئی بات نہیں میں سمبھال لوں گا۔’
جانان آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی ۔
‘میں ایسا نہیں کر سکتی میں بھی بابا سے بہت پیار کرتی ہوں۔’
‘تو پھر نکاح کر لو کیونکہ اگر نہیں کرو گی تو انکا دل ٹوٹ جائے گا آخر انہوں نے اتنے مان سے یہ فیصلہ کیا۔’
دراب نے ہاشم صاحب کو کس طرح سے نکاح کے لیئے منایا تھا یہ وہی جانتا تھا۔کیونکہ وہ جانان سے واضع طور پر جانے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔لیکن دراب کی ضد کے آگے جھک گئے۔
‘میں نے آپی سے بات کرنی ہے۔’
جانان نے کہا تو دراب نے موبائیل نکال کر اس کو دیا جسے جانان حیرت سے دیکھنے لگی۔
‘آپ کے پاس تو موبائیل تھا ہی نہیں۔’
‘اب لے لیا۔’
دراب نے مسکرا کے کہا تو جانان حمنہ کا نمبر ملانے لگی۔کچھ لمحوں کے بعد حمنہ نے فون اٹھا لیا۔
‘اسلام و علیکم۔ آپی کیسی ہیں آپ؟’
‘میں بلکل ٹھیک ہوں جانو تم بتاؤ سب ٹھیک ہے نا؟حمنہ بہت محبت سے بولی۔
‘آپی آپ سے کچھ پوچھوں؟’ جانان کسی مجرم کی طرح سر جھکائے بات کر رہی تھی۔
‘ہاں جانو بولو۔’
‘آپی اگر مجھے خود سے کوئی بہت بڑا فیصلہ کرنا ہو تو مجھے کیا کرنا چاہیئے؟
جانان نے ڈرتے ہوئے پوچھا تو حمنہ پریشان ہو گئی۔
‘کیا ہوا جانو سب ٹھیک ہے نا؟ہوا کیا ہے؟
‘آپی آپ کو نہیں بتا سکتی نا ،آپ بس میرے سوال کا جواب دیں۔
حمنہ پہلے تو خاموش رہی پھر گہرا سانس لیتے ہوئے بولی۔
‘جانان خود سے وہی فیصلہ لو جس میں تمہاری اور دوسروں کی خوشی ہو۔ایسا نہ ہو کہ خودغرضی سے اپنے تمام رشتوں کو خراب کر دو اور ایسا بھی نہ ہو کہ دوسروں کے لیئے اپنی خودی مٹا دو۔اس لیئے بہتر یہی ہے کہ دونوں میں توازن رکھو اور محبتوں کی قدر کرو۔کچھ پلے پڑا جھلی!’
حمنہ شرارت سے بولی تو جانان مسکرا دی۔
‘تھینک یو سو مچ آپی آپ سب سے بیسٹ ہو۔اچھا میں پھر بات کروں گی میں نے تیار ہونا ہے۔اللہ حافظ!’
جانان حمنہ کے مزید کچھ کہنے سے پہلے ہی فون بند کر چکی تھی اور پھر شرم سے سر نیچے کر کے موبائیل دراب کو دے دیا۔
‘آپ گل کو واپس بھیج دیں۔’
اسکی بات پر دراب بھی مطمئن ہو کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘تو آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بیٹی گھر آ جائے اور عثمان پر آپ قابو پا کر آسے الیکشن سے ہٹا دیں،وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اس میں میرا کیا فائدہ ہوا؟’
ردا سلمان صاحب کے آفس میں بیٹھی ان کا پلان سن رہی تھی۔سلمان صاحب اسے استعمال کر کے حمنہ کو عثمان کے خلاف کرنے کا سوچ رہے تھے۔
‘کیا چاہئے تمہیں؟۔’سلمان صاحب نے اسے پوچھا۔
‘ مجھے عثمان کی دولت چاہئے۔زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی تھی میں نے اسے ایسے ہی چھوڑ کر ۔لیکن اب وہ ساری دولت میں حاصل کر کے رہوں گی۔’
ردا ادا سے بولی تھی۔
‘ٹھیک ہے بس ہمیں کچھ ایسا کرنا ہو گا کہ عثمان ہماری مٹھی میں آ جائے اور ہماری ہر بات مان لے۔آخر عثمان نے مجھ سے بے زبانی کی ہے،اگر وہ وعدہ پورا نہیں کرے گا تو میں بھی حمنہ کو چھین لوں گا اس سے۔
‘میرے پاس ہے ایک طریقہ بس میں جیسا کہتی ہوں آپ کرتے جائیں۔کیونکہ میں نے عثمان کی آنکھوں میں آپ کی بیٹی کے لیئے بہت کچھ دیکھا ہے۔اس لئے وہ ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔’
سلمان صاحب نے ہاں میں سر ہلایا۔وہ عثمان ملک سے ہارنا نہیں چاہتے تھے اور اس کے لئیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘قبول ہے۔۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔۔’
یہ لفظ ادا کرتے ہوئے جانان کی نظریں دراب پر تھیں جو دنیا جہان کی محبت اور اطمینان اپنی آنکھوں میں سجائے اسے دیکھ رہا تھا۔ دراب سکن کلر کی شلوار قمیض پر براؤن ویسکاٹ پہنے بہت ذیادہ خوبرو لگ رہا تھا۔جانان کو لگا تھا کہ اس نے آج سے پہلے دراب کو کبھی غور سے دیکھا ہی نہیں تھا۔وہ سنہری آنکھوں والا لڑکا بہت زیادہ ہینڈسم تھا
اور جانان اب اس کے نام لکھ دی گئی تھی ۔سب لوگ اس نکاح سے بہت زیادہ خوش نظر آ رہے تھے۔خاص طور پر ہاشم صاحب، وہ بار بار جانان اور دراب کی نظر اتار رہے تھے۔جانان شرمائے جا رہی تھی۔سعد نے تو اسے صاف صاف کہ دیا تھا کہ وہ اب جانان کو گڑیا نہیں بلکہ بھابھی کہہ کے بلائے گا۔جس پر جانان نے منہ بنا کر کہا کہ ایک ہی تو بھائی ہے وہ بھی ان ادرک کو دے دیں آپ۔اس بات پر سب قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے سوائے وجدان کے۔
جانان کو وہ آدمی عجیب ہی لگتا تھا ۔اس کے چہرے پر کبھی بھی کسی طرح کا تاثر آیا ہی نہیں تھا۔جانان کو تو اس سے بات کرتے بھی ڈر لگتا تھا۔
کافی دیر سب لوگ بیٹھ کر باتیں کرتے رہے اور پھر ہاشم صاحب نے گل کے ساتھ جانان کو کمرے میں بھیج دیا تو جانان بہت زیادہ خوش ہو گئی کیونکہ وہ مسلسل دراب کی نظروں کا مرکز بنی ہوئی تھی اور اسکی معنی خیز نظروں کی تپش سے وہ بہت زیادہ گھبرا رہی تھی۔
لیکن اس کی یہ خوشی پل بھر کی ہی تھی ۔گل اسے اس کے کمرے کی بجاۓ دراب کے کمرے میں لے آئی تھی۔گل جیسے ہی جانے کے لیئے مڑی تو جانان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
‘گل کتنی ظالم دوست ہو تم مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر جا رہی ہو۔تم تو میری اچھی دوست ہو نا تو پھر یہیں رہو میرے ساتھ۔’
جانان بہت گھبرائی ہوئی آواز میں بولی تھی۔
‘ارے اکیلا کہاں ہے تم ابھی دراب لالا آ جائے گا تم گھبراؤ نہیں۔’
گل کے ایسا کہنے پر جانان اور زیادہ گھبرا گئی۔
‘انہیں کا تو ڈر ہے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کھا ہی جائیں گے۔جن کہیں کے۔بھلا کوئی اپنی دلہن کو ایسے بھی دیکھتا ہے؟’
جانان کے ایسا کہنے پر گل آنکھیں بڑی کر کے اسے دیکھنے لگی اور جلدی سے وہاں سے چلی گئی۔جانان نا سمجھی سے وہیں کھڑی اسے کوستی رہی۔
جانان کمرے کا جائزہ لینے لگی جو بہت زیادہ خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ۔ہر چیز کی سجاوٹ بہت ذیادہ کلاس سے کی گئی تھی اور ان سب چیزوں سے دراب کا انداز چھلک رہا تھا۔
جانان کھڑکی کے پاس جا کر باہر موجود چاند کو دیکھنے لگی جو کبھی بادلوں سے نکل کر دیدار کرواتا تو کبھی شرما کر دوبارہ چھپ جاتا۔جانان اس نظارے میں اتنا زیادہ کھوئی ہوئی تھی کہ اسے دراب کی آمد کا پتا ہی نہ لگا۔
دراب مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا اور پیچھے سے اسے خود میں بھینچ لیا۔جانان گھبرا کر بلکل ساکت ہو گئی۔
‘تو کیا کہا تھا تم نے بابا سے کہ میں تمہیں پسند نہیں کرتا اور اگر ہو سکے تو غائب کر دوں۔’
دراب کے ایسا کہنے پر جانان جلدی سے پلٹ کر اسے دیکھنے لگی۔تو دراب انتہائی محبت سے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسکے سجے سنورے روپ کو دیکھنے لگا۔افغان طرز کا لباس اور زیوات جانان کو ایک پری کی طرح سجانے کے لیئے کافی تھے۔
‘پسند نہیں جانانِ دراب ،دراب خان تم سے عشق کرتا ہے۔تم دراب خان کا سب کچھ ہو ۔اسکی دیوانگی،محبت،عشق،جنون،چاہت ہر جزبے کا مرکز ہو تم۔’
دراب اسکے سرخی مائل گال کو انگوٹھے سے سہلاتے بول رہا تھا ۔ جانان کے نظریں جھکانے پر دراب اس کے سجے ہوئے لبوں پر جھکا۔جانان کا وجود اسکی گرفت میں کانپنے لگا۔دراب کے عمل میں بہت نرمی تھی لیکن جانان کو لگ رہا تھا کہ اسکی سانسیں تھم جائیں گی۔کافی دیر بعد دراب نے رحم کھا کر اسے آزاد کیا ۔
جانان نظریں جھکائے بری طرح سانس لینے میں مصروف تھی۔دراب نے اسے باہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لا کر بہت نرمی سے بیٹھا کر اسکی جیولری اتارنے لگا۔
‘دراب۔۔۔۔۔’
جانان کچھ کہنے لگی تو دراب نے اس کے لبوں پر اپنی انگلی رکھ دی۔
‘آج نہیں جانان ،بہت بولی ہو تم ۔آج تم چپ رہو گی اور مجھے سنو گی ،مجھے محسوس کرو ۔اب ہمیں موت کے سوا کوئی جدا نہیں کر سکتا جانان تم بھی نہیں،یاد رکھنا یہ۔’
دراب اسکا چہرہ تھامے شدت سے بول رہا تھا۔
وعدہ کرو جانان مجھ سے ہمیشہ محبت کرو گی چاہے کچھ بھی ہو جائے وعدہ کرو۔’
‘وعدہ۔’ جانان نظریں جھکا کر اتنا ہی بول پائی تھی۔
دراب نے ایک بریسلٹ اسکی نازک کلائی میں پہنایا تو اسکی نظر جانان کی انگلی سے بندھے رنگین دھاگے پر گئی۔
‘یہ گل نے پہنایا ہے نا؟اسکا مطلب جانتی ہو تم؟’دراب نے اس دھاگے کو کھولتے ہوئے پوچھا تو جانان نے نہ میں سر ہلایا۔
‘اسکا مطلب ہے کہ دلہن کی سجاوٹ اور اسکا روپ ضائع نہیں گیا۔’
دراب نے اتنا کہ کر اس کا دوپٹہ اس سے جدا کیا تو جانان گھبرا کر اسکے سینے سے لگ کر اسی سے چھپنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانان دراب کے سینے پر سر رکھے سوئی ہوئی تھی۔لیکن دراب ساری رات نہیں سویا تھا ۔اسے سونے سے بہتر جانان کے معصوم چہرے کو دیکھنا لگا تھا۔وہ اضطراب میں بھی تھا کہ جانان کہیں اس کی وجہ سے کسی خطرے میں نہ پڑ جائے یا پھر باقی سب کی طرح وہ بھی اسکو غلط سمجھ کے اس سے نفرت نہ کرنے لگے۔
لیکن پھر خود کو حوصلہ دیتا کہ جانان اس سے کبھی بھی نہیں نفرت کرے گی۔وہ تو اس سے بہت ذیادہ محبت کرتی ہے۔مگر اس نے ابھی محبت کا اقرار بھی تو نہیں کیا تھا۔لیکن دراب نے اب سوچ لیا تھا کہ وہ جانان سے اظہار محبت کروا کر دم لے گا۔
نماز کا وقت ہوا تو دراب جانان کے سر پر بوسہ دے کر فریش ہونے چلا گیا۔
نماز پڑھ کر واپس آیا تو جانان ابھی بھی سوئی ہوئی تھی۔دراب مسکراتے ہوئے جانان کے ساتھ بلینکٹ میں لیٹ گیا اور اپنے ٹھنڈے ہاتھ اسکی کمر پر رکھ دیے۔
‘سونے دیں نا ۔’
جانان نے اسکا ہاتھ ہٹا کر کہا تو دراب مسکرا دیا۔میری نیندیں حرام کر کے محترمہ کو سونا ہے۔
دراب نے سوچا۔
‘جانان اٹھو نماز کا ٹائم جا رہا ہے۔’
دراب نے جانان کو ہلاتے ہوئے کہا تو وہ اسکے سینے میں چھپنے لگی۔
‘دراب سونے دیں نا پلیز بہت سردی ہے۔’
‘اچھا تو نماز نہیں پڑھنی کیا؟چلو اٹھو شاباش۔’
دراب نے اسکا چہرہ پکڑتے ہوئے پوچھا۔ اسکی آنکھیں نیند کی شدت سے بند ہو رہی تھیں۔
‘آپ میری طرف سے معافی مانگ لینا۔’
‘جانان شرافت سے اٹھ جاؤ کہہ رہا ہوں میں۔’
دراب نے زرا ڈراتے ہوئے کہا لیکن جانان پھر سے آنکھیں بند کیئے سو گئی۔دراب کو اب بس ایک ہی راستہ نظر آیا،اس نے جانان کا چہرہ اوپر کیا اور اپنے ہونٹ اسکے لبوں پر رکھ دیے۔جانان کرنٹ کھا کر اٹھی اور جلدی سے بیڈ سے اتر گئی۔
‘مجھے نماز پڑھنی ہے۔’
جانان اتنا کہہ کر بھاگتے ہوئے واش روم میں چلی گئی تو اسکی اس حرکت پر دراب قہقہہ لگا کر ہنسا ۔
جانان نماز پڑھ کے واپس آئی تو دراب کمبل میں گھسا سو چکا تھا۔جانان کچھ دیر کھڑے اسے دیکھتے رہی اور پھر شرارت سے اپنے گیلے بال کھول کر دراب پر جھٹکنے لگی۔دراب کی ابھی آنکھ لگی ہی تھی جب اسے اپنے اوپر پانی کی بوندیں محسوس ہوئیں۔ دراب کے اٹھتے ہی جانان جلدی سے ڈرائیر پکڑ کے بال سکھانے لگی۔دراب مسکراتا ہوا اٹھا اور جانان کے پاس جا کر اسے کمر سے پکڑ لیا۔جانان اپنی شرارت کو خود پر ہی پلٹتا دیکھ کر گھبرا گئی۔
‘دراب چھوڑیں مجھے۔’
‘کیوں جانانِ دراب میں تو آرام سے سو رہا تھا تم نے ہی جگایا مجھے اب بھگتو۔’
دراب نے اتنا کہہ کر اسے اپنے بازؤں میں اٹھا لیا۔
”نن۔۔۔۔۔نہیں دراب مجھے بال سکھانے ہیں۔نہیں تو سردی لگ جائے گی۔’
جانان نے گھبرا کے کہا تو دراب مسکراتا ہوا ہیئر ڈرائیر لے کر جانان کے پاس آیا اور پھر اسے بیڈ کے پاس موجود سوئچ میں لگا کر خود اسکے بال سکھانے لگا۔جانان اپنا بہانا کامیاب ہونے پر چہرہ نیچے کیئے مسکرا رہی تھی ۔
‘لو خشک ہو گئے تمہارے بال ۔’
دراب ڈرائیر سائیڈ پر رکھ کر جانان پر جھکا تھا۔جانان کی مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔
‘نن۔۔ہیں دراب وہ۔۔۔۔۔۔۔’
اس سے پہلے کے جانان کوئی اور بہانا بناتی ،دراب اسکے ہونٹوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لیتا اس کی بولتی بند کر گیا۔
