Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189

Safar Ishq By Harram Shah Readelle50189 Last updated: 24 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safar Ishq

By Harram Shah

رات ہو چکی تھی ۔سارا دن سفر میں رہنے کی وجہ سے جانان کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ٹرین میں سونے کی سہولت تو موجود تھی مگر بس میں بیٹھ کر جانان بہت تھک گئی تھی۔اب وہ راستے میں موجود ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے جو بہت مزے کا تھا۔ 'چائے پینے کا موڈ ہے کسی کا؟' سعد نے پوچھا تو جانان نے اسے یوں دیکھا جیسے وہ سب سے بڑا احسان کر رہا تھا یہ پوچھ کر۔ 'سچ میں آپ اس دنیا کے سب سے اچھے بھائی ہیں۔' 'اور تم سب سے پیاری بہن۔' سعد بھی دل سے تعریف کرتا چائے لینے جانے لگا۔ 'جلدی کرو بس گزر گئی تو مشکل ہو گی۔' دراب نے کہا تو سعد ہاں میں سر ہلا کے چلا گیا ۔دراب کی نظر جانان پے پڑی جو مزید سفر کے نام پر رونے والی صورت بنانے لگی۔دراب نے سوچا تھا کہ رات کہیں رک کے آرام کریں گے مگر انہیں کشمیر جلدی پہنچنا تھا۔ 'میں نے تو بتایا تھا کہ کشمیر بہت دور ہے اور ابھی بہت سفر باقی ہے۔'دراب نے جانان کی رونی صورت دیکھ کر اسے بتایا۔ 'میں پہنچوں گی تو شایان جی سے بہت ذیادہ جھگڑا کروں گی۔ میں اتنا تھک گئی اور وہ لینے بھی نہیں آ سکے۔بلکہ جھگڑا ہی کیوں تنگ بھی بہت کروں گی انہیں۔' جانان نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ 'جانان ۔' دراب کے بلانے پر وہ اس کی طرف دیکھنے لگی جو بہت سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔ 'اگر وہ شخص تمہارے قابل نہ ہوا تو۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ اچھا نہ ہوا تو کیا کرو گی۔تمہیں تو اس کے بارے میں کچھ یاد بھی نہیں۔' 'وہ اچھے نہیں بہت ذیادہ اچھے ہوں گے۔'جانان نے مسکرا کے کہا۔ 'اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟' 'کیونکہ میں اچھی ہوں اور آپ کو پتا ہے میری آپی نے بتایا تھا کہ اللہ تعالی اچھے لوگوں کے ساتھ برا نہیں ہونے دیتے۔اس لیئے مجھے پورا یقین ہے کہ وہ بہت اچھے ہوں گے اور مجھے دیکھتے ہی بہت زیادہ خوش ہو جائیں گے اور مجھے بتائیں گے کہ انہوں نے کتنا یاد کیا مجھے۔میں سوچتی تھی کہ وہ مجھے لینے کیوں نہیں آئے پھر خیال آیا کہ وہ تو آرمی میں ہیں نا اور ان کے پاس تو ٹائم ہی نہیں ہوتا اس لیئے میں خود چلی جاتی ہوں ۔ان کو میری وجہ سے مسئلہ بھی نہیں ہو گا۔' جبکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ اپنی باتوں سے وہ سامنے بیٹھے شخص کو کسی کی قسمت پر رشک کرنے اور اس آدمی کی جگہ پہ ہونے کی چاہ کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ دراب اتنا جانتا تھا کہ زندگی اتنی آسان نہیں جتنا جانان سوچتی ہے لیکن وہ اس کے معصوم دل کے لیئے دعا گو تھا کہ وہ اس دنیا کے اندھیروں سے دور رہے ۔وہ اندھیرے اس معصوم لڑکی کو ختم کر دیں گے۔ 'لو جی آگئی آپ کی چائے۔' سعد کی آواز نے دراب کو اس کے خیالوں سے نکالا ۔جانان بھی چائے دیکھ کر ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے کوئی خزانہ ہو۔ 'سعد بھائی آپ کو پتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔' اس سے پہلے کہ جانان بات مکمل کرتی سعد بولا۔ 'نہیں گڑیا مجھے نہیں پتا ۔بھلا تمہارے بتائے بغیر کیسے پتا ہو گا کوئی نجومی تو نہیں نا میں۔' جانان نے اس کی بات پہ منہ پھولا لیا اور اسکا چہرہ دیکھ کے سعد نے قہقہہ لگایا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔